कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کس کو یہ فکر ہے کہ قبیلے کا کیا ہوا؟

مراسلہ : محمد راشداللہ صدیقی ، ناندیڑ 
موبائل : 9767666833

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کا اعلان چند روز میں ہوجائے گا۔ مہاوکاس آگھاڑی، کانگریس، شیوسینا ( اُدھو)، راشٹروادی ( شردپوار) ان تینوں کے بیچ ابھی سیٹوں کی تقسیم کا اعلان بھی باقی ہے۔ سوال مسلم قیادت کا، مسلم نمائندگی کا ہے۔ مہاوکاس آگھاڑی 288 اسمبلی ممبران میں سے کتنے مسلمانوں کو اُمیدوار بناتی ہے یا صرف ہمیشہ کی طرح صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہے اگر ایسا ہوا تو اپنے آپ کو سیکولر پارٹیوں کا علمبردار سمجھنے والے مسلم قائدین جو پچھلے 40-30 برسوں سے ان سیکولر پارٹیوں سے کیا وابستہ رہیں گے یا اپنے نجی مفادات کی خاطر قوم کو گھیر کر پھر جھوٹے سیکولرازم کی بھینٹ چڑ ھ جائیں گے؟
مہاراشٹر کی 288 ممبران میں صرف 10 عدد نمائندے ہی مسلم ہیں۔ ملت کے مسائل پر اسمبلی میں 10 میں صرف ایک دو ہی قوم کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نا اہل، ان پڑھ، جاہل، نمائندگی سے بہتر ہے مسلمانوں کی قیادت ہی نہ ہو۔
بی جے پی اور اُس کے حواری جماعتیں تو نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک سے مسلمانوں کو ہی ہر فیلڈ سے دور رکھنا چاہتی ہیں۔ اپنے آپ کو سیکولر کہلانے والی جماعتوں کے نام نہاد سیکولر قائدین جب بھی مسلمانوں پر بی جے پی حکومت ظلم کرتی ہے مسلمانوں کی بربادی کے نت نئے منصوبے قوانین لاتی ہے یہ جھوٹے سیکولرازم کا مکھوٹا اوڑھے خاموش تائید کرتے ہیں۔ آزادی کے بعد سے آج تک ہندوستان کے مسلمانوں نے کبھی کسی مسلمان کو اپنا قائد نہیں مانا۔ مولانا آزاد وہ آخری نام ہے جس کی اس ملک کے مسلمان تھوڑی بہت عزت کرتے۔ اُن کی کہی کچھ باتیں مانتے بھی تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہماری غیور قوم اپنی قیادت کے لئے غوروفکر نہیں کرتی ہے اور فیصلے بھی کرتی ہے۔ راتوں میں گلی، نکڑ، چائے ہوٹلوں میں چبوتروں پر صبح 4 بجے تک بغیر کسی نتیجہ کے فجر سے پہلے اپنے گھروں میں جاکر سوجاتی ہے فیصلہ اگلی رات پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں ہماری تعداد کم از کم 25 سے 30 ممبران اسمبلی ہونی چاہئے۔ وہ بھی باشعور۔ یہ نہیں کہ جوئے کے اڈے چلانے والا، شراب کا سوداگر، معروف تاجر، بلڈر۔ اس قسم کے لوگ مسلمانوں کی قیادت کریں۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ساری ریاستوں میں آئے دن کچھ نہ کچھ زہریلے ہتھکنڈے حکومت کی نگرانی میں اپنائے جارہے ہیں۔
شانِ رسالتﷺ میں گستاخی ہو‘ مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزرس چلیں‘ معمولی باتوں پر فساد ہو‘ تبدیلی اوقاف بل ہو‘ عرض کہ کوئی بھی ذریعہ ہو مسلمانوں کو ذہنی، معاشی اذیتیں دینے کا کام ہر ریاست میں ہورہا ہے۔ یہ زہر اب مہاراشٹر میں بھی روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ اکابرین ملت کو خانقاہوں، مدرسوں، مسجدوں سے نکل کر ملت کی نمائندگی کے لیے آگے آنا چاہیے۔
’’ مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی‘‘
آج بھی 80 فیصد مسلمان علماؤں، اکابرین کی بات سنتے اور عمل کرتے ہیں، پچھلے پارلیمانی انتخابات کے نتائج گواہ ہیں۔ ہمارے شہر ناندیڑ میں پچھلے کئی مہینوں سے یہ چرچے عام ہیں۔ اس مرتبہ شائد کوئی سیکولر جماعت اس مرتبہ ناندیڑ شمال یا ناندیڑ جنوب سے کسی مسلم اُمیدوار کو ٹکٹ دے گی۔ حقیقتاً یہ شیخ چلی کا خواب ہی ہے۔ پہلے تو M.L.C کی آس دکھائی گئی۔ اس بار بھی یہی ہوگا۔ کانگریس کے مسلم لیڈران خواب غفلت سے نہیں جاگتے۔ کانگریس کے 22 کارپوریٹر، 3 دھڑوں میں بنٹے ہوئے ہیں۔ ایک ٹیم ٹکٹ مانگنے جیسے ہی ممبئی کانگریس کے ریاستی دفتر پہنچتی ہے 24 گھنٹوں کے اندر کانگریس ہی کی دوسری ٹیم اُس کی مخالفت میں ممبئی پہنچتی ہے۔ کوئی بھی سیاسی شعور رکھنے والا کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ کمان کسی مسلمان کو ٹکٹ دے گی؟
’’ کس کو یہ فکر ہے کہ قبیلے کا کیا ہوا
سب اس پر لڑرہے ہیں کہ سردار کون ہے‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے