कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انبیاء کی سرزمین پر بہتے ہوئے لہو کی داستان (3)

تحریر:مدثر جمیل قاسمی
9823234064
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز پربھنی
9960451708

حال میں ہوئے ایران کے حملوں کے بعد اس لڑائی میں ایک نیا رخ پیدا ہوگیا، جہاں دنیا کے تمام مسلمان اس بات سے خوش ہیں کہ ایران نے اسرائیل ہر حملہ کردیا تو وہیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی حملہ کرنے کا کچھ فائدہ ہوا یا نہیں اور حملہ کرنے سے اسرائیل کا کچھ نقصان ہوا بھی یا نہیں، اسلئے کہ ایران فلسطین سے ہمدردی جتا رہا ہے یہ بات تو صحیح ہے لیکن یہ ہمدردی کیا واقعی مخلصانہ ہمدردی ہے؟ اگر اس پر غور کریں تو میرا تو یہ ماننا ہے کہ یہ صرف اور صرف چاپلوسی ہے، ایران کو فلسطین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ صرف ایران دنیا والوں کی توجہ اپنی جانب کرانا چاہتا ہے، اور اگر ہمدردی ہوتی تو اسماعیل ہانیہ کی موت ایران میں کیسے ہوئی؟ اسماعیل ہانیہ کی سیکورٹی فورسز اس وقت کہاں تھی؟ اور کیا ایران کے پاس ایک جانباز سپاہی اور مقبول لیڈر کیلئے ایک مکمل حفاظتی پناہ گاہ نہیں ہے ؟ ایسے بہت سے سوالات ذہن میں گھوم رہے ہیں اور اگر ہمدردی ہوتی تو اسماعیل ہانیہ کی موت پر ہی یہ حملے ہوجایا کرتے تھے اور اگر ہمدردی ہوتی تو ابھی فی الحال جو حملہ کیا وہ اس قدر ہلکا نہیں ہوسکتا تھا کہ جس سے اسرائیل کا کوئی نقصان بھی نہ ہو، دراصل ایران کبھی فلسطین کا ہمدرد نہیں ہوسکتا ، شاید اس بات سے ہر کوئی متفق نہ ہو لیکن فی الحال میرا تو یہی ماننا ہے، دوسری جانب ہم زرا غور کریں تو یہ بات بھی بڑی بے چین کرتی ہے اور حیرت میں ڈالتی ہے کہ ترکی اور دیگر اسلامی ممالک جو اسرائیل کے فلسطین پر حملوں کے شروع دن سے ہی اسرائیل کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور اپنے آپکو فلسطین کا ہمدرد بتا رہے ہیں تو کیا ان ممالک میں سے کسی نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب نفی میں آتا ہے، اگر ان ممالک کو بھی فلسطین سے ہمدردی ہوتی تو شروع دن سے ہی یہ فلسطین کو اکیلا نہ چھوڑتے اور اسرائیل کی اتنی ہمت نہ ہوتی جو وہ آج کررہا ہے، بے یار و مددگار فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ صرف اللہ رب العزت کا ساتھ ہے جسکے ہر فیصلے میں اور ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور یہی حکمت پر صبر کرکے آج فلسطینی مسلمان اپنے سچے پکے مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں – ہوسکتا ہے یہ جنگ طویل ہو اسکا اندازہ لگایا نہیں جاسکتا لیکن اپنے حقوق و انصاف کیلئے لڑنا اور اپنے حق کو حاصل کرنا یہی صحیح مسلمان کی پہچان ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے شروع زمانے میں بھی مسلمانوں کو بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اللہ نے بڑی آزمائش کے بعد کامیابی دی تھی اور وہی کامیابی کی بدولت آج ساری دنیا میں دین اسلام پھیلا ہوا ہے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب مسجد اقصٰی کو آزاد کرایا تھا تب بھی جنگ طویل ہی تھی لیکن مسلمانوں کی ہمت اور طاقت اور اللہ کی مدد نے کامیابی تک پہنچایا، اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسجد اقصٰی مسلمانوں کا قبلۂ اول رہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانب رخ کرکے کئی نمازیں ادا کی ہیں اور معراج کے مبارک سفر کی شروعات بھی اسی مقام سے ہوئی اسلئے دنیا کے ہر مسلمان کیلئے فلسطین اور خصوصاً مسجد اقصٰی نہایت اہمیت اور عظمت کی حامل ہے، آج جس طرح فلسطینی مسلمان ظلم و ستم کو سہ رہے ہیں انشاءاللہ ایک دن فتح کا دن بھی ہوگا اور اس دن خوشی صرف فلسطین کی حد تک نہیں ہوگی بلکہ دنیا کی تاریخ میں مسلمانوں کیلئے یہ بہت بڑی خوشی ہوگی، اللہ فلسطینی مسلمانوں کو مزید ہمت طاقت اور صبر و استقامت عطا فرمائے اور ظلم کا خاتمہ کر فتح نصیب فرمائے آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے