कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قافلۂ حجاز میں کوئی حسینؓ بھی نہیں

از قلم : محمد انس اسماعیل قاسمی اڈیشوی

اس دنیائے رنگ و بو میں ذاتِ حق جل مجدہ نے ذاتِ انساں کی دنیوی و اخروی سعادت سے بہرہ آوری کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا وہ سلسلۂ ذھبیہ جاری فرمایا جنھوں نے اس مردم خیز انسانیت کو علوم وہدایت کے وہ سرچشمے فراہم کیے جس کی آب پاشی سے انسان رفعت و منزلت کے اس اوجِ ثریا تک پہنچتاہے کہ وہ پھر رب العالمین کا مقرّب بندہ ہونے کی شہادت حاصل کرلیتاہے ۔ اور ذاتِ حق جل مجدہ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے سلسلہ پر ختم ِ نبوت کا سہرا ڈال ک کر انسانوں کے لیے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صورت میں روئے زمین پر وہ عظیم انقلابی جماعت کو پیداکیا جنھوں نے اس دینِ ربّانی کی نشر و اشاعت، تفہیم و تبلیغ کے لیے دشت و کہسار، صحراء و بیاباں کو عبور کرتے ہوئے اس فریضۂ خداوندی سے کامل و مکمّل طورپر عالمِ انسانیت کو آگاہ کیا ، اور اس مقدّس جماعت میں سے ہرایک وہ دُرّ نایاب اور چمنستانِ نبوّت کا وہ حسین و عنبرین گلدستہ ہے کہ انساں کسی بھی گلِ رعنا کی محو و جستجو میں سرگرداں ہوجائے تو وہ اس گلِ پژمردہ کو گلِ خنداں سے تحلیل کردیتاہے ، اور جس کے نتیجہ میں اس کی شمیم سے ہر ایک خوشہ چینی کا خواہاں ہوتاہے ، انہیں طبلۂ عطّار میں سے جنھیں نورِ قدسی کے تڑکے نے جاوداں بنادیا تھا ایک گوہر ِ نایاب جسے اس جہانِ رنگ و بو میں شہید ِ کربلا، امام الشّہداء سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے ۔
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کامل حیاتِ مستعار مسرّت آمیز و کرب انگیز احوال وواقعات سے معمور ہے ، ان واقعات و حوادث میں ایک واقعہ جسے تاریخ کے ان مقدّس صفحات سے تاقیامت نہیں مٹایا جاسکتا، اور وہ سانحہ ’’شہادتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ“ہے، حضرتِ سید نا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ اسی ماہِ محرّم الحرام کی دسویں تاریخ کو میدان کرب و بلا میں یزید کے حواریوں کے دستِ مجرمانہ سے معرضِ وجود میں آیا ۔ جس سانحہ کی تفاصیل کو اسلامی تاریخ کے ایک روشن باب سے معنون کرکے تاقیامت مؤرخین و مبصّرین اس پر خامہ فرسائی کرتے رہیں گے اور حبِّ حسین میں اپنی قرطاس و قلم کو جنبش دے کر ظالمین و مجرمین کے اس عظیم خانوادہ پر اندوہناک مظالم کی خونچکاں داستاں کو بیاں کرکے ان پر لعنتوں اور ہتک آمیز کلمات کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے ۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اس عظیم شہادت پر کئی صدیاں بیت چکی ہیں مگر آج بھی ذہنوں میں وہ تازہ ہے اور اسلام کے ان باہمّت و اصحابِ عزیمت جیالوں کے احساسات و جذبات کو مہمیز کرتاہے جو وقت کی طاغوتی قوتوں سے نبرد آزما ہیں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر برسرِ پیکار ہیں خاص طور پر آج جس طرح اسوۂ حسینی کی اتباع میں نونہالانِ فلسطین ، نوجوانانِ غزہ ، دخترانِ قدس ناجائز صہیونی طاقتوں سے رزم آرائی میں مصروف ہیں اور اسلام کے شجرۂ طوبیٰ کی آبیاری کے لیے قلّت ِ عدد و عُدَد کے باوجود اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ، جب کہ دوسری طرف ابنائے یزید اپنے عشرت کدوں میں جلوہ نما ہوکر شَکَر خوابی ، سوزومستی، تابِ گفتارسے عاری ہوکر ظالمین کے سائباں تلے ان کے ہم نوا بنے ہوئے ہیں ، اور اسلامی تقدّسات کی پامالی پر فضائے خموشاں میں مہر ِ سکوت توڑنے پر رضامند نہیں ہیں جو کہ ان کی کھلی بے حسی اور عیّاریت اور صہیونی الفکر ہونے پر دال ہے ۔ بقولِ شاعرِ مشرق علّامہ اقبال ؒ :
قافلۂ حجاز میں کوئی حسین بھی نہیں
تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یہ شہادت ہمیں ہر آن یہ درس دیتا ہے کہ جہاں حق اور صداقت کی معرکہ آرائی باطل اور طاغوتی طاقتوں سے ہو وہاں اپنی حفاظت جاں کے لیے مصالحت اور مفاہمت کی راہ کا انتخاب کرنا راہِ عزیمت نہیں بلکہ دینِ حق کی سربلندی کے لیے اور اعلاءِ کلمۃ اللہ کے عظیم فریضہ کی انجام دہی کے لیے اپنی جانِ عزیز کا نذرانہ پیش کرنا ہی اسلام کا صحیح راستہ ہے ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں خونِ شہادت پیش کرکے قیامت تک کے نوجوانانِ مسلم کو یہ اسوہ اور پیغام دیا کہ حق کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے اگر اپنی اس حیاتِ مستعار کی قربانی دینی پڑے تو بندۂ مومن کو لمحہ بھر بھی توقف و تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، اور جہاں جانِ عزیز کی قربانی سے حق کو سربلندی و زندگی ملے وہاں جان بچانے کی فکر اسلام کے فرزندوں اور اصحاب کے جیالوں اور حق کے شیدائیوں کا شیوہ نہیں ہے ۔
سرداد و نداد ست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین
اخیر میں ذاتِ حق جل مجدہ سے دعاگو ہوں کہ ہم سب کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے سچا اور مطلوب عشق نصیب فرمائے اور اس جہانِ رنگ و بو میں جہاں کہیں لوگ اس اسوۂ حسینی کی اتباع کررہے ہیں رب العالمین ہر ایک کو سرخ روئی و سربلندی نصیب فرمائے، اور ہمیں بھی اس عظیم اسوہ کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے