कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شیشے کے گھر اور بارود کے سائے: دبئی کی معاشی چکاچوند کو درپیش وجودی خطرات

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور اس کے جغرافیائی و معاشی خدوخال میں حالیہ برسوں کے دوران جو ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، انھوں نے عالمی طاقتوں کے توازن کو یکسر نئی جہت دے دی ہے۔ ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں اور چونکا دینے والا پہلو متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بھارت اور اسرائیل کے درمیان ابھرنے والا نیا اسٹریٹجک اور عسکری گٹھ جوڑ ہے، جسے بعض تجزیہ نگار "انڈو ابراہمک اتحاد” کا نام دے رہے ہیں۔ جنوری 2026ء میں بھارت اور یو اے ای کے درمیان ایک باقاعدہ دو طرفہ اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کا معاہدہ طے پایا، جس میں مشترکہ دفاعی پیداوار، جدید فوجی ٹیکنالوجی، اسپیشل فورسز کے تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کی ہم آہنگی کا احاطہ کیا گیا۔ یہ سہ فریقی شراکت داری نہ صرف خطے کی روایتی صف بندیوں کو درہم برہم کر رہی ہے، بلکہ ایک ایسا خطرناک کھیل شروع کر چکی ہے جس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات یو اے ای کے لیے خاص طور پر سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ مضمون اس بات کا تنقیدی، متوازن اور حقائق پر مبنی جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح یو اے ای کا اسرائیل نواز جھکاؤ اور بھارت کے ساتھ مل کر تشکیل دی گئی یہ نئی سلامتی کی عمارت، خود اماراتی معیشت اور خصوصاً دبئی کے عالمی تشخص کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں کیا طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سنہ 2020ء میں طے پانے والے "ابراہم اکارڈز” کے بعد یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض سفارتی حد تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ایک گہرے عسکری، انٹیلی جنس اور معاشی اتحاد میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یو اے ای کو "آئرن ڈوم” اینٹی میزائل بیٹریاں اور انھیں چلانے کے لیے اہلکار فراہم کیے، جس کی تصدیق اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے مئی 2026ء میں تل ابیب یونیورسٹی میں ایک کانفرنس کے دوران کی۔ اس سے قبل بھی اسرائیل یو اے ای کو فضائی دفاعی نظام فراہم کر چکا ہے۔ یہ تعاون محض ہنگامی امداد نہیں، بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے جس میں دفاع، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی اور بحری سلامتی جیسے شعبے شامل ہیں۔
مارچ 2026ء میں امریکی سینیٹ میں "ابراہم اکارڈز ڈیفنس کوآپریشن ایکٹ” کا بل بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد ابراہم اکارڈز کے حامل ممالک کے ساتھ فوجی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے کر ایران اور اس کے پراکسیوں کی سرکوبی کرنا تھا۔ اس مساوات میں بھارت کی شمولیت نے اسے ایک مضبوط علاقائی بلاک کی شکل دے دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یو اے ای بھارت کی ابھرتی ہوئی مغربی ایشیائی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے، جبکہ اسرائیل ٹیکنالوجی، دفاع اور اختراع میں ایک اہم محرک (سرعت کار) کی حیثیت رکھتا ہے۔ فروری 2026ء میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورۂ اسرائیل جو سنہ 2017ء کے بعد ان کا پہلا اور غزہ جنگ کے بعد بھی پہلا دورہ تھا اس بات کا غماز ہے کہ یہ تینوں ممالک علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے اسٹریٹجک اتحاد کو ہر قیمت پر مستحکم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس دورے کے دوران مودی نے "بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری” (IMEC) میں سرمایہ کاری کی اپیل کی اور "آئی ٹو یو ٹو” (I2U2) یعنی بھارت، اسرائیل، امریکہ اور یو اے ای کے فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
لیکن اس بے لچک سفارت کاری اور نئی صف بندی کا سب سے بھاری اور فوری خمیازہ یو اے ای کو اپنی بقا کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026ء کو ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، اور حیرت انگیز طور پر اس جنگ کی سب سے زیادہ قیمت خلیجی ریاستوں، خصوصاً یو اے ای کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یو اے ای نے اپنی قومی سلامتی کو امریکی فوجی اثاثوں اور اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ مکمل طور پر نتھی کر رکھا ہے، جس نے اسے ایران کی نظر میں ایک جائز اور آسان ہدف بنا دیا ہے۔
ایرانی حملوں کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 8 مئی 2026ء تک یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام کو 551 بیلسٹک میزائلوں، 29 کروز میزائلوں اور 2,263 ڈرونز کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ اماراتی دفاعی نظام نے ان میں سے بیشتر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، لیکن مجموعی طور پر تین فوجی اہلکاروں کی شہادت اور دس شہریوں کی ہلاکت واقع ہوئی، جن کا تعلق پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، فلسطین، بھارت اور مصر سے تھا، جبکہ 230 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ایرانی قیادت نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر یو اے ای کی سرزمین سے ایران کے جزائر، بندرگاہوں یا ساحلی پٹی کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی گئی، تو اسے تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی تجزیہ کاروں نے برج خلیفہ کو گرانے، دبئی کے تمام کاروبار جلا دینے اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ مارچ 2026ء میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے راس الخیمہ کے رہائشیوں کو انخلاء کی وارننگ بھی جاری کی۔
یو اے ای کا موجودہ معاشی ماڈل اس کی جغرافیائی سیاست کا عکاس ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی عالمگیریت پر مبنی ماڈل اس کی سب سے بڑی اور مہلک کمزوری بھی ہے۔ سعودی عرب یا عمان کے برعکس، جو خطے کی کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافے کا معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دبئی کی معیشت کا کلیدی انحصار سیاحت، ریئل اسٹیٹ، بین الاقوامی ہوا بازی اور گلوبل فنانس پر ہے۔ 28 فروری 2026ء کو ایرانی ہتھیاروں نے دبئی پر حملہ کیا، ایک فائیو اسٹار ریزورٹ کو آگ لگا دی، دنیا کی بلند ترین عمارت کو خطرے میں ڈال دیا اور ابوظہبی کے ہوائی اڈے پر ایک شخص کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کا سبب بنا۔ یہ تمام شعبے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور خطے کے دیرپا استحکام کے محتاج ہیں؛ اور جب بیلسٹک میزائل دبئی کے آسمان پر اڑان بھر رہے ہوں، تو غیر ملکی سرمایہ دار، سیاح اور ماہرین سب سے پہلے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے محض ایک ماہ کے اندر دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں سے 120 ارب ڈالر کا بھاری سرمایہ ڈوب چکا ہے، جس نے انھیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مالیاتی منڈیوں میں شامل کر دیا۔ متحدہ عرب امارات کی کیپیٹل مارکیٹس اتھارٹی نے 2 اور 3 مارچ کو دبئی اور ابوظہبی کے اسٹاک ایکسچینجز کو ہنگامی طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی، 18,400 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ خلیج کے اہم ہوائی مراکز، جن میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے، عملاً بند ہو چکے ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے 2026ء میں مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ منافع بخش ہونے کی پیش گوئی کی تھی، لیکن یہ جنگ ان امکانات کو ملیا میٹ کر چکی ہے۔
دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ، جو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتہائی پرکشش اور منافع بخش منزل سمجھی جاتی تھی، اب شدید ترین بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں جائیداد کی فروخت میں 27.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جائیداد کی تلاش کے حجم میں 70 فیصد تک کی کمی آئی۔ دبئی فنانشل مارکیٹ کا ریئل اسٹیٹ انڈیکس 25 فیصد سے زیادہ گر چکا ہے۔ لگژری علاقوں میں جائیداد کی قیمتوں میں 26.7 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کی ہوٹلنگ اور مہمان نوازی کی صنعت، جو اس کی جی ڈی پی (GDP) کا ایک بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، مکمل طور پر بیٹھ چکی ہے۔ موڈیز اینالیٹکس کے مطابق، دبئی میں ہوٹل آکوپنسی فروری میں 80 فیصد سے گر کر دوسری سہ ماہی میں محض 10 فیصد رہ جانے کا تخمینہ ہے۔ عالمی سفر اور سیاحت کونسل (WTTC) کے مطابق، سیاحت کے روزانہ نقصانات 600 ملین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو مفلوج کر دیا ہے، اور مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک ایسا جدید شہر جو اپنے پرتعیش طرزِ زندگی، محفوظ ماحول اور ٹیکس فری مراعات کی وجہ سے دنیا بھر کے متمول افراد کی آماجگاہ تھا، اب ایک جنگی زون کے سائے میں سہم کر سانس لے رہا ہے۔
ایران کی جانب سے پیدا ہونے والا یہ وجودی خطرہ محض وقتی اشتعال انگیزی یا بیان بازی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی اور انتہائی موثر طویل المدتی اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ ایرانی حکمتِ عملی ساز بخوبی جانتے ہیں کہ دبئی مغربی دنیا کے مالیاتی اور اقتصادی ماڈل کا ایک انتہائی اہم اور حساس ستون ہے، اور اس پر معاشی حملہ دراصل امریکہ اور اس کے اسرائیلی حواریوں کے عالمی مفادات پر کاری ضرب ہے۔ ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو وہ یو اے ای کے توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، اور یہاں تک کہ یو اے ای اور بحرین پر زمینی حملے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
تاہم، یو اے ای کا دفاعی نظام بھی غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پاس تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ (Patriot) سسٹمز پر تعینات ایک ہزار تک انٹرسیپٹر میزائل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پینٹسر ایس-1 (Pantsir-S1) جیسے نظام بھی دفاعی قطار میں شامل ہیں۔ ایک موقع پر اماراتی دفاعی نظام نے 137 میں سے 132 بیلسٹک میزائلوں اور 195 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا، جس سے نقصانات معمولی مادی حدود تک محدود رہے۔ 10 مئی 2026ء کو وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ ایرانی ڈرون حملوں کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکہ نے بھی یو اے ای کے دفاع کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 8 بلین ڈالر کے اسلحہ پیکج کی منظوری دی، جس میں 4.5 بلین ڈالر کا تھاڈ سسٹم، ایف-16لڑاکا طیاروں کے لیے جی بی یو-39 بم اور جے ڈی اے ایم کٹس شامل ہیں۔ امریکہ کے جے پی مورگن کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ مارکو کولانووک نے خبردار کیا ہے کہ یو اے ای میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تباہ کن ہو سکتا ہے، جب تک کہ وہ ٹرمپ پر دباؤ نہ ڈالیں کہ وہ ایران کو تیزی اور فیصلہ کن طور پر شکست دیں یا فوراً پسپائی اختیار کریں۔
اس پوری بساط پر بھارت، جس نے اس تنازعے میں بظاہر ایک محتاط اور متوازن رویہ اپنانے کی کوشش کی ہے، دراصل اس تثلیث کا ایک اہم کردار ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے تہران کے ساتھ روایتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود، بھارت کا عملی جھکاؤ اور دفاعی انحصار واضح طور پر اسرائیل اور یو اے ای کے اسٹریٹجک بلاک کی جانب ہو چکا ہے۔ مئی 2026ء میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی اور توانائی، سرمایہ کاری، سپلائی چینز اور علاقائی استحکام جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم، بھارت کے لیے بھی یہ صورتحال سنگین خطرات سے خالی نہیں ہے۔ خلیج میں پیدا ہونے والے اس شدید عدم استحکام سے نہ صرف بھارت کی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، بلکہ یو اے ای میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکینِ وطن کی زندگیاں، ان کا روزگار اور ترسیلاتِ زر کا وہ وسیع نیٹ ورک بھی داؤ پر لگ چکا ہے جو بھارتی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ جب اماراتی معیشت ڈوب رہی ہو، کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہوں اور دبئی کے بازار ویران ہو رہے ہوں، تو وہاں محنت مزدوری کرنے والا غیر ملکی طبقہ، جس میں اکثریت بھارتیوں کی ہے، سب سے پہلے اس کا معاشی اور جانی شکار ہوتا ہے۔ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں میں بھارتی باشندے بھی شامل تھے۔ بعض تجزیہ کاروں نے بھارت کے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدے کو ایک زوال پذیر شراکت دار کے ساتھ "جوا” قرار دیا ہے۔
اس تمام تر سیاسی، جغرافیائی اور معاشی حقائق کا منطقی اور تنقیدی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی موجودہ خارجہ پالیسی اور اس کے تزویراتی فیصلے ناقص دور اندیشی اور علاقائی حرکیات سے لا علمی پر مبنی ہیں۔ ابراہم اکارڈز اور اس کے نتیجے میں بننے والا یو اے ای، بھارت اور اسرائیل کا یہ نام نہاد مضبوط گٹھ جوڑ شاید دفاعی کانفرنسوں، کاغذوں اور مشترکہ فوجی مشقوں کی حد تک بہت پرکشش اور ناقابلِ تسخیر نظر آتا ہو، لیکن جنگ کے دوران ابھرنے والے زمینی حقائق انتہائی تلخ اور ہولناک ثابت ہوئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات استوار کر کے اور اسے اپنا دفاعی اتحادی بنا کر، یو اے ای نے نہ صرف اپنے پڑوسی اور طاقتور حریف ایران کو براہِ راست مشتعل کیا ہے، بلکہ اس نے اپنے ہی پرامن گھر میں ایک نہ بجھنے والی آگ لگا لی ہے۔
دبئی کی بے مثال ترقی کا واحد راز اس کے پرامن، غیر جانبدار اور سرمایہ کار دوست ماحول میں پوشیدہ تھا، لیکن قیادت کی اندھی اسرائیل نواز پالیسی نے اسے مشرقِ وسطیٰ کی خونی کشمکش اور عالمی طاقتوں کے تصادم کا مرکز بنا دیا ہے۔ سیاحت اور سفر نے گزشتہ سال یو اے ای کی معیشت میں 70 بلین ڈالر کا حصہ ڈالا، جو اس کی جی ڈی پی کا 13 فیصد تھا، لیکن اب یہ شعبہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ جے پی مورگن کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو ایران کو تیزی سے شکست دی جائے یا پسپائی اختیار کی جائے؛ لیکن موجودہ حالات میں دونوں میں سے کوئی بھی آپشن آسان نظر نہیں آتا۔
متحدہ عرب امارات کا یہ شاندار سفر، جو معاشی ترقی، عالمی جدت اور تہذیبوں کے ملاپ کی منازل طے کر رہا تھا، اب ناقص پالیسیوں کے سبب ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایران کی مستقل، سنجیدہ اور اعلانیہ دھمکی، اس کی بے پناہ عسکری قوت اور اس کی جغرافیائی قربت، یہ سب عناصر مل کر ایک ایسا خطرناک شکنجہ تیار کر چکے ہیں جس سے نکلنا یو اے ای کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دبئی، جو کل تک عالمی سطح پر ایک ناقابلِ تسخیر معاشی معجزہ اور مشرقِ وسطیٰ کا فخر کہلاتا تھا، آج اپنی سلامتی، سرمائے اور بقا کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہے۔
تاہم، یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اماراتی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کے خلاف غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور 90 فیصد سے زائد حملوں کو ناکام بنایا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچا جا سکا۔ اس غیر فطری تثلیثی اتحاد کی بھاری قیمت چکاتے ہوئے، اماراتی قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ سپر پاورز سے مستعار لی گئی سیکیورٹی اور جارحیت پسند ریاستوں کے ساتھ اتحاد کبھی بھی پائیدار امن اور طویل المدتی معاشی ترقی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ کیا یو اے ای اس بحران سے نکل کر اپنی معاشی بالادستی کو بحال کر پائے گا، یا یہ اسی تثلیث کی نذر ہو کر رہ جائے گا؟ اس سوال کا حتمی جواب آنے والے مہینوں میں تاریخ کے اوراق پر لکھا جائے گا، لیکن موجودہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دبئی کی فلک بوس عمارتوں کی چمک دمک کے پیچھے ایک نازک اور کمزور بنیاد کام کر رہی ہے، جسے کوئی بھی علاقائی طوفان بکھیر سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے