कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پنسل کی کہانی

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی، کروکشیترا

پنسل انسان کی زندگی کی ایک ایسی ایجاد ہے جس نے علم، تعلیم، فن اور تخلیقی صلاحیتوں کو نئی پہچان دی۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو پنسل سے واقف نہ ہو۔ خاص طور پر بچوں کی تعلیم میں پنسل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب کوئی بچہ پہلی بار اسکول جاتا ہے تو اس کے ہاتھ میں سب سے پہلے پنسل ہی دی جاتی ہے۔ وہ پنسل سے الفاظ لکھنا سیکھتا ہے، تصویریں بناتا ہے اور اپنی سوچ کو کاغذ پر اتارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنسل کو بچپن کا سب سے اچھا دوست بھی کہا جاتا ہے۔
پنسل ایک سادہ سی چیز دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کی اہمیت بہت گہری ہے۔ اس کے بغیر لکھائی، ڈرائنگ اور ابتدائی تعلیم کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ بچے پنسل کو اس لیے بھی پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے لکھی گئی غلطی آسانی سے مٹائی جا سکتی ہے۔ اگر قلم سے غلطی ہو جائے تو صفحہ خراب ہو جاتا ہے، لیکن پنسل سے لکھی ہوئی تحریر صافی کی مدد سے صاف کی جا سکتی ہے۔ یہی سہولت بچوں کو بار بار مشق کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
پنسل کے ساتھ صافی اور شارپنر بھی بچوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ جب پنسل کی نوک موٹی ہو جاتی ہے تو شارپنر سے اسے دوبارہ تیز کیا جاتا ہے۔ نئی تیز نوک سے لکھنے میں مزہ آتا ہے۔ بچے اکثر اپنی رنگ برنگی پنسلوں کو بڑے شوق سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ آج کل بازار میں مختلف قسم کی خوبصورت پنسلیں دستیاب ہیں جن پر کارٹون، پھول، جانور اور دلچسپ تصویریں بنی ہوتی ہیں۔ کچھ پنسلیں خوشبو دار بھی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے انہیں خریدنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔
پنسل صرف لکھنے کے لیے نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ میں بھی بہت اہم ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مصور اپنی تصویروں کا آغاز پنسل سے کرتے ہیں۔ پہلے وہ ہلکا سا خاکہ بناتے ہیں، پھر اس میں رنگ بھرتے ہیں۔ اگر خاکے میں کوئی غلطی ہو تو اسے آسانی سے درست کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنسل فنکاروں کے لیے بھی ایک قیمتی اوزار ہے۔ انجینئر، معمار اور ڈیزائنر بھی ابتدا میں اپنے نقشے اور ڈیزائن پنسل سے بناتے ہیں۔
اگر ہم پنسل کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ تقریباً چھ سو سال پہلے جرمنی میں گریفائٹ کی چٹانیں دریافت ہوئیں۔ گریفائٹ ایک نرم اور سیاہ مادہ ہوتا ہے۔ جب اس کے ٹکڑے کو کسی سطح پر رگڑا جاتا تو نشان بن جاتے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ یہ چیز لکھنے کے کام آ سکتی ہے۔ اس کے بعد انگلینڈ میں خالص گریفائٹ کی بڑی مقدار دریافت ہوئی۔ چرواہوں نے سب سے پہلے اس کا عملی استعمال کیا۔ وہ اپنی بھیڑوں پر نشان لگانے کے لیے گریفائٹ کے ٹکڑے استعمال کرتے تھے تاکہ وہ اپنی بھیڑوں کو پہچان سکیں۔
شروع میں لوگ گریفائٹ کے ٹکڑوں کو کپڑے یا دھاگے میں لپیٹ کر استعمال کرتے تھے۔ بعد میں لوگوں نے سوچا کہ اگر اسے لکڑی کے اندر لگا دیا جائے تو اسے پکڑنا آسان ہوگا۔ اس طرح لکڑی والی پنسل وجود میں آئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری آتی گئی۔ فرانس کے نکولس جیک کانٹے نے پنسل بنانے کا ایک خاص طریقہ ایجاد کیا۔ انہوں نے گریفائٹ کو مٹی کے ساتھ ملا کر مختلف سختی والی پنسلیں بنائیں۔ اسی طرح آسٹریا کے جوزف ہارٹمتھ نے بھی اعلیٰ معیار کی پنسلیں تیار کیں۔ ان لوگوں کی محنت نے پنسل کو دنیا بھر میں مقبول بنا دیا۔
آج دنیا میں روزانہ لاکھوں پنسلیں بنتی ہیں۔ پنسل بنانے کے لیے خاص قسم کی نرم لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ لکڑی کو باریک تختیوں میں کاٹا جاتا ہے۔ پھر ان میں باریک نالیاں بنائی جاتی ہیں جن میں گریفائٹ کی سلیں رکھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد دوسری لکڑی چپکا کر پنسل کی شکل دی جاتی ہے۔ پھر انہیں رنگا جاتا ہے اور خوبصورت ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ آخر میں انہیں بازار میں فروخت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
پنسل کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ پنسلیں نرم ہوتی ہیں اور کچھ سخت۔ نرم پنسل گہرے نشانات بناتی ہے جبکہ سخت پنسل ہلکی لکھائی کرتی ہے۔ ڈرائنگ کرنے والے لوگ مختلف اقسام کی پنسلیں استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ تصویروں میں سایہ اور خوبصورتی پیدا کر سکیں۔ رنگین پنسلیں بھی بہت مشہور ہیں۔ بچے ان سے پھول، پہاڑ، جانور اور خوبصورت منظر بناتے ہیں۔ آج کل مکینیکل پنسلیں بھی عام ہیں جن میں بار بار نوک ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
پنسل انسان کو ایک اہم سبق بھی دیتی ہے۔ پنسل ہمیں سکھاتی ہے کہ غلطیاں کرنا بری بات نہیں، بلکہ غلطیوں کو درست کرنا ضروری ہے۔ جیسے صافی غلطی مٹا دیتی ہے، ویسے ہی انسان کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ پنسل کی نوک بار بار تراشی جاتی ہے، تبھی وہ اچھا لکھتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی محنت اور مشکلات کے بعد کامیابی حاصل کرتا ہے۔ پنسل باہر سے سادہ ہوتی ہے مگر اس کے اندر موجود گریفائٹ ہی اصل اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بات انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل خوبصورتی انسان کے کردار اور سوچ میں ہوتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں پنسل کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ دنیا کے کروڑوں بچے روزانہ پنسل سے علم حاصل کرتے ہیں۔ اگر پنسل نہ ہوتی تو شاید لکھائی سیکھنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ چھوٹے بچے پنسل پکڑ کر اپنے خوابوں کو شکل دیتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے، کوئی استاد، کوئی سائنسدان اور کوئی مصور۔ ان سب خوابوں کا آغاز اکثر ایک چھوٹی سی پنسل سے ہوتا ہے۔
پنسل ماحول دوست بھی سمجھی جاتی ہے کیونکہ اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ قدرتی چیزوں سے بنتی ہے۔ بہت سی کمپنیاں اب ایسی پنسلیں بنا رہی ہیں جن کے آخر میں بیج لگے ہوتے ہیں۔ جب پنسل چھوٹی ہو جائے تو اسے مٹی میں لگا دیا جاتا ہے اور اس سے پودا اُگ آتا ہے۔ اس طرح پنسل نہ صرف علم دیتی ہے بلکہ ماحول کی حفاظت میں بھی مددگار بنتی ہے۔
مختصر یہ کہ پنسل ایک چھوٹی سی مگر بے حد قیمتی ایجاد ہے۔ اس نے انسان کی تعلیم، فن اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، طالب علم ہوں یا فنکار، ہر شخص کسی نہ کسی وقت پنسل کا استعمال ضرور کرتا ہے۔ پنسل صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سیکھنے، سوچنے اور خواب دیکھنے کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنسل کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے