कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنِ ہجری (اسلامی سال) کا آغاز

مضمون نگار :رضی اللہ قاسمی خیر آبادی(سیتا پور ، یوپی)
شریک شعبہ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند 9415309707
بذریعہ محمد سرور شریف نامہ نگار اعتبار نیوز9960451708

سنِ ہجری اسلامی تاریخ کو کہتے ہیں ، شریعت میں بہت سے امور واحکام اسی پر معلّق ہیں ، اور یہ اسلامی تاریخ اہل اسلام کے لئے ایک امتیازی شان کا درجہ رکھتی ہے ،جس طرح دیگر اقوام کی اپنی اپنی تاریخیں ہیں اسی طرح اہلِ اسلام کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے اور وہ سنِ ہجری ہے ،
اس کا (اسلامی سال) کا آغاز امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا ۔ابتداء سے ہی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ چاھتے تھے کہ ہمارا اپنا ایک اسلامی سن اور تاریخی شناخت ہونی چاہئے ،چنانچہ حضراتِ صحابہ کرامؓ کے مشورے سےحضرت عمر فاروقؓ نے اس کا آغاز فرمایا-
اسلامی سال کا آغاز کیسے ہوا؟
واقعہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ حاکمِ یمن حضرت ابو موسٰی اشعریؓ نے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے پاس خط لکھ کر بھیجا کہ آپؓ کے خطوط پر تاریخ درج نہیں ہوتی ہے، جس سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ خط کب کا ہے ،اس لئے آئندہ خطوط تاریخ کے ساتھ لکھا کریں، چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ نے صحابہ کرامؓ سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا ،صحابہ کرام میں سے بعض کی رائے یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے اسلامی سال کا آغاز کیا جائے۔بعض صحابہ کرام کا مشورہ تھا کہ اعلان نبوت سے اور بعض نے کہا کہ آپؐ کی وفات سے سنِ ہجری کاآغاز ہو، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے اسے ناپسند فرمایا ،کہ وفات سے آپؐ کا صدمہ تازہ ہوگا اور بعثت کے وقت ہم ضلالتِ کفر میں تھے،اس لئے اس سے مناسب نہیں ،اسی درمیان دامادِ رسول سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اسلامی سال کا آغاز و ابتداء ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تاریخی واقعہ سے ہو، کیوں کہ یہ عظیم اور انقلابی واقعہ ہے۔اسی واقعہ کے بعد سے اسلام کو فروغ و قوت نصیب ہوئی اور یہ واقعہ حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے ،چناں چہ اس رائے کو حضرت عمر فاروق ؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے باتفاق پسند فرمایا اور یہ فیصلہ منظور کرلیا۔
چوں کہ سال کے بارہ مہینے پہلے سے موجود تھے ، تو اب یہ سوال پیدا ہوا کہ سال کی ابتدا کس ماہ سے ہو؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہجرت تو سترہ سال پہلے ربیع الاول کے مہینہ میں فرمائی تھی (اور یہ مشورہ ہجرت کے سترہ سال کے بعد یعنی ٢٠ جمادی الاخریٰ 17 ہجری ،٩ جولائی ٦٣٨ عیسوی کو ہورہا تھا) تو سال کا آغاز ربیع الاول سے ہونا چاہئے ، چنانچہ اس سلسلے میں بھی صحابہ کرامؓ کی کئی رائے تھیں ،لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ سال کا آغاز محرم سے کیا جائے کیونکہ وہ محترم مہینہ ہے اور لوگوں کے حج سے واپس آنے کا مہینہ ہے ، اس لئے ماہ محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ مقرر کیا جائے اور سن ہجری کا آغاز و ابتداء دو ماہ آٹھ دن پیچھے سے شمار کیا جائے۔
ابن حجر عسقلانیؒ نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ ہجرت کا واقعہ تو ماہ ربیع الاول میں پیش آیا تھا مگر آپؐ نے ہجرت کرکے مدینہ منورہ جانے کا عزم و ارادہ "ماہ محرم” میں ہی کرلیا تھا، اس لئے محرم ہی ہجرت کا مہینہ ہوا اگرچہ اس پر عمل ربیع الاول میں ہوا ،اس مناسبت سے سال کا آغاز محرم ہی سے ہونا چاہئے،
الغرض اس پر سب کا اتفاق ہوگیا اور تمام صحابہ کرامؓ نے سنِ ہجری کا آغاز یکم محرم ١؁ ہجری ، ١٦ جولائی ٦٢٢ عیسوی بروز جمعہ سے کیا ،حضراتِ صحابہ نے اسلامی تاریخ کو ہجرت سے وابستہ کرکے اور اسلامی سال کی ابتدا ماہِ محرم الحرام سے مان کر اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی وعظمت اور باطل کی شکست کا مظاہرہ کیا اور ہم تمام اہلِ اسلام کو یہ پیغام دیا کی اسلام کی سربلندی ،عظمت اور سرخروئی اسی بات میں منحصر ہے کی ہم مسلمان ہمیشہ اس کےلئے اللہ کے نبیؐ اور صحابہ کرام کی طرح قربانیاں دیتے رہیں ،
اللہ تعالی عمل کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے