कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

معافی

تحریر: خان افراء تسکین بنت محبوب خان
9545857089

معافی مجموعہ ہے صرف پانچ حرف کا لیکن ان پانچ حروف میں اتنی طاقت ہوتی ہے جو بچھڑوں کو ملا سکے ،جو روٹھوں کو منا سکے جو رشتوں کو جوڑ دے ۔ معافی ہے کیا؟ اسکا استعمال کیا ہے ؟ چلیے جانتے ہیں!معافی کا مطلب ہے کسی غلطی یا خطا کو معاف کرنا یا بخش دینا۔ معافی دینا انسانیت کا ایک اعلیٰ  وصف ہے اور یہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں امن، محبت اور بھائی چارہ قائم رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
معافی کی اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے مذہب اسلام میں بھی معافی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے‘‘(سورہ آل عمران: 134)۔
معافی مانگنا بھی ایک فن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم معافی مانگتے وقت اخلاص اور سچائی کا مظاہرہ کریں۔ اگر ہم صرف زبانی معافی مانگتے ہیں اور دل سے اس کا اقرار نہیں کرتے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معافی مانگتے وقت ہمیں اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اللہ ایسے نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے ‘‘معافی دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو کمزور دکھا رہے ہیں، بلکہ یہ ایک عظیم انسان کی نشانی ہے جو دوسروں کی خطاؤں کو معاف کر کے دل کی بڑی وسعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے دل کو سکون دیتے ہیں اور اپنی روح کو بوجھ سے آزاد کرتے ہیں۔
معافی دینے کا عمل نفسیاتی لحاظ سے بھی بہت مفید ہے۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو ہمارا دل ہلکا ہو جاتا ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور ہم خود کو زیادہ پر سکون اور خوش محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم دل میں بغض اور غصہ رکھتے ہیں تو یہ ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
معافی دینے کی ایک خوبصورت مثال ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنے دشمنوں کو معاف کیا، چاہے وہ کتنی ہی بڑی خطا کیوں نہ کرتے۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کی فتح کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام دشمنوں کو معاف کر دیا، حالانکہ وہ لوگ آپ ؐکے اور آپؐ کے ساتھیوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک کر چکے تھے۔
معافی کا عمل صرف فرد واحد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ معاشرتی زندگی میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جب ایک فرد دوسرے فرد کو معاف کرتا ہے تو اس سے دونوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد ایک دوسرے کو معاف کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں تو گھر کا ماحول خوشگوار اور پرسکون رہتا ہے۔
معافی مانگنا بھی ایک فن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم معافی مانگتے وقت اخلاص اور سچائی کا مظاہرہ کریں۔ اگر ہم صرف زبانی معافی مانگتے ہیں اور دل سے اس کا اقرار نہیں کرتے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ معافی مانگتے وقت ہمیں اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
بہت سے رشتے جوڑ سکتے ہیں، صرف ایک لفظ کی دوری ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ کوئی ہم سے ناراض ہوں اور اس حالت میں ہم فوت ہو جائے ۔ معافی مانگ لے معاف کر دے ۔ اپنے درجات کو دنیا میں ہی بلند کر لے ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے