कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدا کی دریافت (Discovery of God)

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

واعظین لکھتے ہیں کہ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔ جس شخص نے اپنے آپ کو اور اپنے وجود کو سمجھ گیا، گویا کہ اس نے خدائے برتر کو پالیا۔ پڑھنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ علم اللہ کی صفت اعلیٰ ہے۔ اللہ نے ان صفات میں سے انسان کو کچھ بطور عطیہ عطا کیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم جو ایک انقلابی اور دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ جس میں سب سے پہلے علم سے متعلق بات کہی گئی ہے۔ اور اللہ نے پیغمبر اسلام کو پڑھنے کا حکم صادر کیا ہے۔ جو خدا کو پانے اور دریافت کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ اور ساری دنیا کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اللہ کو دریافت کرنے کی جستجو ہو تب ہی ہدایت کے راستے عیاں ہوتے ہیں۔ اے خدا اے خدا جس نے کی جستجو مل گیا اس کو تو کہ وہ علم کے ذریعہ خدا برتر کی معرفت کو حاصل کریں۔ اور جو اللہ کو پاتا ہے، گویا کہ وہ زندگی کی ہر چاشنی اور مٹھاس کو پالیتا ہے۔ جو اللہ کو پاتا ہے۔ پھر اس پر دنیا کی کوئی چیز اثر انداز یا غالب نہیں ہوتی۔ جو اللہ کو دریافت کرتا ہے۔ وہ ربانی انسان بن جاتا ہے۔ جو خدا کو دریافت کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے لیے نفع رسانی کا سبب اور خیر خواہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جو اللہ کو پالیتا ہے۔ اس کے عمل صالح اور نافع علم کی ضیاء پاشیاں لوگوں کی کامیابی اور کامرانی کا باعث بنتی ہے۔ جو لوگ ظاہری شان و شوکت اور گلیمر کی طرف دوڑتے ہیں، ان کا ظاہر بے چین اور مضطرب سا رہتا ہے۔ اور روحانیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، گویا کہ اس کی روحانیت (Spiritual Starvation) فاقہ کشی سے گزر رہی ہو، اور بھوکی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس فاقہ کشی اور بھوکی روحانی کو تازگی اور اطمینان بخشنے والی اگر کوئی چیز یا شے ہے تو وہ اللہ کا ذکر، اور جان لو کہ دلوں کی تازگی اور اطمینان صرف اور صرف اللہ کا ذکر اور اس کی یاد ہی کرا سکتی ہے۔ من کان للہ کان اللہ لہ۔ اس نصیحت آمیز قول سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے، اللہ اس کا ہوجاتا ہے۔ یعنی اللہ نے بندے کو چن لیا ہے، اور بندے نے اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو پاکر اس کی تخلیق اور قدرت میں غور و خوض کرکے اللہ کو دریافت اور اس کو پالیا ہے۔ اور جس نے اللہ کو پالیا اس نے زندگی میں سب کچھ پالیا۔ پھر اس کا بولنا، اس کا کھانا پینا، اس کا چلنا اور اس کا کان سے سننا اور زبان سے بولنا سب اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی رضا پاتا ہے۔ وہ انسانیت کے لیے سودمند ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ نے اپنی تخلیق کی نشانیوں پر غور و خوض کرنے کو کہا ہے۔ زمین جس پر ہم رہتے ہیں۔ وہ سورج کے اطراف چکر لگاتی ہے۔ جس سے دن اور رات نمودار ہوتے ہیں، اور موسم بدلتے ہیں۔ اور یہی نہیں ہم چوبیس گھنٹوں کے وقت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ یہ اگر گھومنا بند کردیں تو انسان کی زندگی خطرے میں پڑ جائے۔ لیکن اس خدائے برتر نے انسانوں کے لیے نعمتوں کی بھرمار کی ہے۔ کہ ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ اور وہ اس کے سبب نعمتوں کو اور مزید عطا کرتا ہے۔ اور اس کی نعمتوں پر ناشکری سنگین جرم ہے۔ آج انسان اللہ کی اس زمین پر اس کی بیش بہا نعمتوں کا استعمال کرتا ہے۔ اور اسی کی نافرمانی کرتا ہے۔ انسان کتنا مطلبی اور موقع شناس ہوتا ہے۔ جب وہ عیش و عشرت میں ہوتا ہے، تو خدائے برتر کو بھول جاتا ہے۔ اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ رب العزت کو یاد کرتا ہے۔ اللہ نے انسان پر ان گنت نعمتوں کا نزول کیا ہے۔ اگر آپ اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے۔ جب انسان ربانی انسان بن جاتا ہے، تو وہ خدا کے وجود کو پالیتا ہے۔ اس پر اللہ کی عظیم تخلیقات آشکار ہوتی ہے۔ وہ یہ جان جاتا ہے کہ یقیناً خدا نے انسانوں کے لیے اس کرہ ارض کو بچھونا بنایا اور پہاڑوں کو میخوں سے خاموش اور ساکت کیا۔ گویا کہ وہ خدا کے وجود کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ اس نے تمہارے لیے جوڑا یعنی مرد اور عورت کو وجود میں لایا۔ اور رات کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ اور دن کو ذریعہ معاش۔ اور سات مضبوط ترین آسمانوں کی تخلیق، اور پھر اس میں روشن چراغ جو ساری دنیا کو روشن اور مزین کیے ہوئے ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ گھنے بادلوں سے پانی کا نظم کیا۔ کہ تم اپنی کھیتی اور زراعت سے غلہ اگاؤ۔ یقیناً اللہ کی اس قدرت اور طاقت کو پہچاننا قدرت کو پانے کے مترادف ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب رات میں ایک سیارے کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا، یہ میرا رب ہے، جب وہ ڈوب گیا، فرمایا میں ڈوبنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا، تو فرمایا یہ میرا رب ہے، جب وہ بھی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، تو کہا یہ میرا رب نہیں ہو سکتا۔ اور پھر فرمایا اگر رب میری رہنمائی نہ کرے تو میں گمراہوں میں سے ہو جاؤں۔ جب سورج کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، کیونکہ یہ بہت بڑا ہے۔ جب سورج بھی غروب ہو گیا۔ کہا کہ اے قوم میں تمہارے اس شرک سے بیزار ہوں۔ پھر میں اطمینان اور یکسو ہو کر میرا چہرہ اس ہستی کی طرف کیا جس نے چاند ستارے اور کائنات کی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ چنانچہ سائنسی نظریے سے اگر ہم مشاہدہ کریں تو بہت سے بڑے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سائنس نے انہیں خدا سے قریب ترین کیا ہے دور نہیں۔ (Isaac Newton) آئزک نیوٹن کہتا ہے کہ یہ کائنات کا حیرت انگیز اور محیرالعقول نظام خوبصورت طریقہ کار، اور مضبوط سسٹم ایک ذہین اور (Omnipotent) قادر مطلق ہستی ہی (Create) تخلیق کرسکتی ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) کا کہنا ہے کہ ہر بڑا سائنس دان مذہب سے قریب ترین ہوتا ہے۔ اور مجھے یقین کامل ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ اور اس کا وجود اس کی خوبصورت تخلیق، اور بہترین قوانین میں جھلکتا ہے۔ فرانسس کولنز (Francis Collins) یہ ایک ملحد (Atheist) تھے (DNA) کی پیچیدگی کو دیکھ کر خدا پر ایمان لائے۔ ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام (The Language of God) قرآن میں سائنس سے متعلق سیکڑوں جگہ پر اشارہ کیا گیا ہے۔ جو سائنس کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ عظیم کائنات خدا کی ایک مکمل تخلیق (Perfect Creation) ہے، نہ کہ حادثہ۔ اور خدا کو دریافت کرنے والے لوگ اس دنیا کے نہایت ہی کامیاب ترین انسان ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے