कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہم مسلمان ہیں یا گروہوں میں بٹے ہوئے لوگ؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

آج ہمارے معاشرے میں تعصب ایک ایسی مہلک بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے شاید ہی کوئی شعبہ محفوظ رہ گیا ہو۔ علاقائیت، لسانیت، برادری، جماعت اور مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مخالفت اور بے جا حمایت کا سلسلہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس کہ اب حق و باطل کا معیار بھی اپنے اور پرائے کی بنیاد پر طے ہونے لگا ہے۔ جو اپنا ہے اس کی غلطی بھی درست اور جو دوسرا ہے اس کی درست بات بھی قابلِ اعتراض سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ خطرناک طرزِ عمل ہے جو امت کے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔
تعصب کا مطلب ہے کہ کسی فرد یا جماعت سے علاقائی صوبائی ،لسانی، برادری یا مسلک وغیرہ کی بنیاد پر ایسا تعلق و محبت رکھنا کہ حق و ناحق کی تمیز کیے بغیر اس کا ساتھ دینا، اس کو حق سمجھنا اور اس کے مقابلے میں دوسرے کی مخالفت کرنا۔ مذہب اسلام میں تعصب سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے، جس کے دنیاوی واخروی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ۔ جو گمراہ جھنڈے کے نیچے لڑائی کرے، تعصب کی دعوت دے، یا تعصب کی وجہ سے (دوسروں پر ) غصہ کرے، پھر وہ قتل ہو جائے، تو اس کا قتل ہونا جاہلیت کا قتل ہونا ہے (نسائی رقم الحدیث ۴۱۱۴)۔
معلوم ہوا کہ تعصب کی بنیاد پر لڑنا جھگڑنا اور اس پر مرنا سخت نقصان دہ ہے۔
اپنی قوم سے محبت رکھنا تعصب میں داخل نہیں، اور اس سے اسلام نے منع نہیں کیا لیکن اپنی قوم کی بے جا حمایت اور اس کے ظلم و زیادتی پر مدد کرنا یہ تعصب میں داخل ہے، جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ ارشاد مروی ہے کہ جس شخص نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے، جو کنویں میں گر پڑا، اب وہ اپنی دم سے میچ کر نکالا جائے گا (ابو داؤد، رقم الحدیث ۵۱۱۷) مطلب یہ ہے کہ اپنی قوم و جماعت کی ناحق مدد کرنے سے انسان ہلاکت میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس طرح سے کہ (کنویں میں ) گرا ہوا اونٹ جس کو دُم سے کھینچ کر نکالا جائے ، وہ بھی ہلاک ہو جاتا ہے، اور اس کا زندہ بچ پانا مشکل ہوتا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں اس طرح کا تعصب عام تھا، اور اس کو گناہ و جرم بھی نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ فخر و مباہات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے قتل و خون ریزی کا سلسلہ عام تھا، اور امن و امان کا فقدان تھا۔
کیوں کہ تعصب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق و سچ کی حمایت واعانت نہیں ہوتی ، اور باطل و ناحق کاموں اور باتوں کو ہوا ملتی ہے، جو فتنہ وفساد کا بڑا سبب ہے۔
ہم آج کے دور میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے تقریباً تمام ہی شعبوں میں کم و بیش طریقے پر تعصب پایا جاتا ہے، جس سے دین کے متعدد اہم شعبے بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔
چنانچہ ہمارے یہاں لسانیت اور صوبائیت وغیرہ کی بنیاد پر بڑے بڑے اختلافات رونما ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے قتل و قتال کی بھی نوبت آجاتی ہے، ایک مخصوص زبان بولنے یا ایک مخصوص علاقہ وصوبہ وغیرہ کے لوگ دوسری زبان اور دوسرے علاقے والوں کو پرایا اور اجنبی سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو اپنے علاقے کی قدرتی اشیا سے مستفید ہونے بلکہ اپنے علاقے میں رہنے سہنے کو بھی گوارا نہیں کرتے ۔ ان لوگوں کا یہ طرز عمل سراسر اسلام کے خلاف ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے بھی ہجرت فرمائی، تو مدینہ منورہ کے باشندوں نے مہاجرین کی ہر طرح سے اعانت و نصرت کی ، مہاجرین کو اپنا بھائی قرار دیا ، ان کو اپنے مال و دولت اور جائیداد وغیرہ میں شریک کیا، اپنے گھروں تک میں ان کو سکونت ورہائش فراہم کی، جس کی وجہ سے وہ انصار کہلائے ، اور یہ لقب قیامت تک کے لیے ان کے حق میں اعزاز واکرام کا باعث بن گیا ، اور قرآن و سنت میں انصار صحابہ اور ان کے اس طرز عمل کا عظیم اجر و ثواب بیان کیا گیا۔
مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایک علاقہ یا مخصوص زبان کے بہت سے مسلمان دوسرے علاقے اور دوسری زبان کے مسلمانوں کے ساتھ اعانت و نصرت تو کیا کرتے، الٹا ان کے خلاف صف بستہ ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں ، ان کے خلاف مختلف قسم کی تحریکات چلاتے ہیں، اسی بنیاد پر سیاسی جماعتیں قائم کرتے ہیں، اور اپنے مد مقابل دوسروں کے جان و مال پر ڈا کہ زنی کرنے کو جہاد اور اہم عبادت خیال کرتے ہیں، بعض اوقات یہ معاملہ اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ دوسرے مسلمانوں سے الگ سلطنت و حکومت اور اسٹیٹ بنانے کا بھی مطالبہ و تحریک شروع ہو جاتی ہے۔ آج کل کی سیاسی پارٹیوں میں بھی تعصب کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں، چنانچہ جس شخص کا جس سیاسی پارٹی سے تعلق اور وابستگی یا کوئی مفاد وابستہ ہوتا ہے، وہ ہمہ تن اس پارٹی کا حق و باطل میں تمیز کیے بغیر مدح خوانی کرتا ہوا نظر آتا ہے، اور اس کے مقابلے میں دوسری سیاسی پارٹی کے ہر قول و فعل پر حق و ناحق کی تمیز کیے بغیر تنقید کے لیے کوشاں رہتا ہے، جس کی وجہ سے ملک کو استحکام اور ترقی حاصل نہیں ہوتی۔
مختلف مذہبی مسالک سے وابستہ افراد و طبقات کا بھی کم و بیش یہی طرز عمل دکھائی دیتا ہے کہ اپنے مسلک یا اس سے وابستہ افراد و طبقات کے ہر قول و فعل کو سند جواز فراہم کرنے اور اپنے مد مقابل کے ہر قول و فعل کو غلط و نا جائز ٹھہرانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے اگر قرآن وسنت کی نصوص و تعلیمات میں بھی دور دراز کی تاویلات کرنی پڑیں، تو اس سے بھی اجتناب نہیں کیا جاتا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے مد مقابل مسالک واہلِ مسالک کے خلاف تردید کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، جو بعض اوقات تشدد اور قتل و غارت گری تک پہنچ جاتے ہیں، مساجد اور دینی مدارس و مراکز اور علمی و مذہبی شخصیات کو نشانہ بنا کر خون ریزی تک سلسلہ پہنچ جاتا ہے۔
اسی تعصب کا نتیجہ ہے کہ ایک مسلک سے وابستہ مختلف مذہبی و دینی شعبوں میں کام کرنے والے افراد، دوسرے شعبوں اور ان سے وابستہ افراد کے مد مقابل کھڑے ہو کر تردید کرتے ہیں، اور اپنے شعبے یا اس سے وابستہ افراد کی ہر صیح و غلط بات کو سند جواز فراہم کرنے کے درپے رہتے ہیں، اس طرز عمل میں جہاد، تبلیغ اور تعلیم و تدریس سے وابستہ بہت بڑا طبقہ بھی موجودہ دور میں محفوظ نہیں رہ سکا، الا ماشاء اللہ ۔
ان حالات میں اب اہلِ اسلام کے درمیان مطلوبہ اتحاد و اتفاق نظر نہیں آتا، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ کی وہ صلاحیتیں جو اغیار اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد و منظم انداز میں استعمال ہونا چاہیے تھیں، وہ اب خود مسلمانوں کی ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، اور حد یہ ہے کہ ذرا ذراسی باتوں اور اختلافات، بلکہ ذاتی شخصی تنازعات کی بنیاد پر دوسروں کو دائرہ اسلام سے خارج ، کافر و مرتد بلکہ زندیق قرار دینا اور بعض اوقات دوسرے کو قتل کر دینا ایک کھیل تماشا بن کر رہ گیا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں تعصب نے ایک عجیب صورت اختیار کر لی ہے۔ کسی کی علمی قابلیت کا اعتراف بھی اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق ہمارے حلقے سے نہیں، کسی کی دینی خدمات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے ادارے یا جماعت سے وابستہ نہیں، اور کسی کی اچھی تحریر کو بھی سراہنے میں بخل سے کام لیا جاتا ہے کہ کہیں اس کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو جائے۔ بعض لوگ دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھنے لگتے ہیں، حالاں کہ کسی مسلمان کی ترقی، علمی خدمات اور دینی کامیابی پوری امت کے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث ہونی چاہیے۔
تعصب کی ایک خطرناک شکل یہ بھی ہے کہ انسان اپنے ہم خیال لوگوں کی غلطیوں پر خاموش رہتا ہے، لیکن مخالفین کی معمولی لغزشوں کو بھی اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ اپنے لوگوں کی بڑی سے بڑی غلطی کو اجتہادی خطا قرار دیتا ہے، جب کہ دوسروں کی معمولی غلطی کو ان کے کردار اور عقیدے پر حملہ کرنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے اور اختلافِ رائے دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
امت کو اختلاف سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا تعصب سے پہنچتا ہے اختلاف علم کے دروازے کھول سکتا ہے، لیکن تعصب دلوں کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
اللہ ربّ العزت امت مسلمہ کو ہر طرح کے تعصبات سے نجات دلا کر متحد و متفق ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، اور باطل و ناحق کا ساتھ دینے اس کی اعانت و نصرت کرنے کے بجائے حق کا ساتھ دینے اور اس کے ساتھ وابستہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے