कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لا نینا La nina: قدرت کا ایک موسمیاتی مظہر، عالمی موسم کے بدلتے تیور اور برصغیر پر اس کے اثرات

تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں

دنیا کا موسمیاتی نظام بظاہر ایک معمول کے مطابق چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ماحول، سمندروں، ہواؤں اور درجۂ حرارت کے درمیان ایک نہایت پیچیدہ اور گہرا تعلق موجود ہے۔ سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت میں معمولی تبدیلی بھی ہزاروں میل دور واقع علاقوں کے موسم پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی نوعیت کے ایک اہم قدرتی موسمیاتی مظہر کو ’’لا نینا‘‘ (La Niña) کہا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے عالمی موسمیاتی مباحث میں ال نینو اور لا نینا کا ذکر نمایاں طور پر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان دونوں مظاہر کا تعلق بارشوں، خشک سالی، شدید سردی، گرمی، سمندری طوفانوں اور زرعی پیداوار سے ہے۔
لا نینا کیا ہے؟:
لا نینا ہسپانوی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’چھوٹی لڑکی‘‘ کے ہیں۔ موسمیاتی سائنس میں اس سے مراد بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت کا معمول سے کم ہو جانا ہے۔ جب اس علاقے کا سمندری پانی کئی ماہ تک معمول سے زیادہ ٹھنڈا رہتا ہے اور اس کے ساتھ فضائی دباؤ، ہواؤں اور بارشوں کے نظام میں بھی مخصوص تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو اس کیفیت کو لا نینا کہا جاتا ہے۔
یہ محض سمندر کے ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک وسیع موسمیاتی نظام کا حصہ ہے، جسے سائنس دان ’’ال نینو سدرن آسیلیشن‘‘ (ENSO) کہتے ہیں۔ اس نظام کی تین بنیادی حالتیں ہوتی ہیں: ال نینو، لا نینا اور غیر جانب دار حالت۔
لا نینا کیسے وجود میں آتی ہے؟:
عام حالات میں بحرالکاہل کے استوائی علاقے میں مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی تجارتی ہوائیں گرم سطحی پانی کو ایشیا اور آسٹریلیا کے قریب مغربی حصے کی طرف دھکیلتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے مشرقی حصے، خصوصاً جنوبی امریکا کے ساحلوں کے قریب، نسبتاً ٹھنڈا گہرا پانی سطح پر آتا رہتا ہے۔
جب یہ تجارتی ہوائیں معمول سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہیں تو گرم پانی مزید مغرب کی طرف منتقل ہوتا ہے اور مشرقی بحرالکاہل میں ٹھنڈے پانی کے ابھرنے کا عمل زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس طرح سمندر کے درجۂ حرارت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ بادلوں کی تشکیل، فضائی دباؤ اور بارشوں کے مقامات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی صورت حال لا نینا کے نام سے جانی جاتی ہے۔
ال نینو اور لا نینا میں بنیادی فرق:
ال نینو اور لا نینا ایک ہی موسمیاتی نظام کے دو متضاد مرحلے ہیں۔ ال نینو کے دوران بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصے کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جب کہ لا نینا میں یہی پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
ال نینو کے دوران بعض خطوں میں خشک سالی اور بعض میں غیر معمولی بارشوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس لا نینا بعض علاقوں میں بارشوں میں اضافے اور بعض دوسرے علاقوں میں خشک موسم کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں کہ ال نینو ہمیشہ خشک سالی اور لا نینا ہمیشہ بارشوں کا باعث بنتی ہے۔ ان کے اثرات جغرافیائی محل وقوع، موسم، فضائی دباؤ اور دیگر موسمیاتی عوامل کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔
دنیا کے موسم پر لا نینا کے اثرات:
لا نینا کے اثرات کسی ایک ملک یا براعظم تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔
بحرالکاہل کے مغربی حصے، بالخصوص انڈونیشیا، ملائیشیا اور آسٹریلیا کے بعض علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ شمالی امریکا میں بھی موسم کے انداز میں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ امریکا اور کینیڈا کے بعض شمالی علاقوں میں سردی اور برف باری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ جنوبی حصوں میں نسبتاً گرم اور خشک موسم کا امکان رہتا ہے۔
بحر اوقیانوس میں لا نینا بعض حالات میں سمندری طوفانوں کی سرگرمی بڑھا سکتی ہے، کیونکہ اس کے دوران بالائی فضا میں ہواؤں کی ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو طوفانوں کی تشکیل کے لیے زیادہ سازگار ہو سکتی ہیں۔ تاہم ہر لا نینا کے دوران طوفانوں کی تعداد یا شدت یکساں نہیں ہوتی۔
ہندوستان کے مانسون پر لا نینا کے اثرات:
ہندوستان جیسے زرعی ملک کے لیے لا نینا خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ملک کی زراعت کا ایک بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر انحصار کرتا ہے۔ ہندوستانی موسمِ برسات کا تعلق بحرہند، بحرالکاہل، فضائی دباؤ اور مختلف موسمیاتی نظاموں سے ہے۔
ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ لا نینا کے دوران ہندوستان میں جنوب مغربی مون سون کے معمول سے بہتر رہنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں اچھی بارشیں، زرعی سرگرمیوں میں تیزی اور آبی ذخائر میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک میں یکساں بارش ہوگی۔ کہیں معمول سے زیادہ بارش، کہیں کم بارش اور کہیں شدید بارشوں کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی ساحلی علاقوں، مہاراشٹر، کرناٹک، کیرالہ اور وسطی ہندوستان میں بارشوں کی تقسیم مقامی موسمیاتی حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے