कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اچھی نسل: حسب و نسب نہیں، تقویٰ اور کردار اصل پہچان ہے

تحریر: جمیل احمد

انسان کی اصل عظمت اس کے خاندان، قبیلے، دولت، عہدے یا آباؤ اجداد کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان، تقویٰ اور کردار میں ہے۔ آج بعض لوگ اپنے نانا، دادا، پردادا، خاندان اور خاندانی نسبتوں پر فخر کرتے ہیں۔ کوئی خان، شیخ، سید، ہاشمی یا انصاری ہونے کا حوالہ دیتا ہے، کوئی اپنے نسب کو صحابۂ کرامؓ یا رسول اللہ ﷺ سے جوڑتا ہے، تو کوئی اپنے بزرگوں کے عالمِ دین، بادشاہ، سیاست دان، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ادیب اور شاعر ہونے پر فخر کرتا ہے۔
یقیناً بزرگوں کی عزت اور ان کی خدمات کا اعتراف ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بزرگوں کا نام انسان کو بڑا بنا دیتا ہے؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
یعنی اللہ کے نزدیک برتری کا معیار حسب و نسب، قبیلہ، دولت یا خاندانی شجرہ نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
(صحیح مسلم)
ترجمہ: جس شخص کو اس کا عمل پیچھے رکھ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔
اس لیے اگر آپ رسول اللہ ﷺ کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو آپ کے اخلاق میں آپ ﷺ کی تعلیمات کی جھلک ہونی چاہیے۔ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی نسبت پر فخر ہے تو صداقت اور وفاداری اپنائیے، اگر حضرت عمر فاروقؓ کی نسبت بیان کرتے ہیں تو عدل و انصاف کو اپنی زندگی میں جگہ دیجیے۔ بزرگوں کی نسبت کا حقیقی حق ان کی اچھی صفات اور تعلیمات کو اپنانا ہے۔
حضرت بلالؓ غلام تھے، لیکن ایمان، صبر، قربانی اور اخلاص نے انہیں تاریخ میں ایسا بلند مقام عطا کیا کہ آج بھی دنیا احترام سے ان کا نام لیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی بلندی اس کی پیدائش سے نہیں بلکہ ایمان اور کردار سے ہوتی ہے۔
اچھی نسل کی سب سے بڑی پہچان تقویٰ اور خوفِ خدا ہے۔ تقویٰ صرف نماز، روزہ اور عبادات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے احکام کی پابندی کا نام ہے۔ انسان بولنے سے پہلے سوچے کہ اس کی بات سے کسی کو تکلیف تو نہیں ہوگی، دیکھنے سے پہلے اپنی نگاہ کی حفاظت کرے، قدم اٹھانے سے پہلے سوچے کہ یہ راستہ اللہ کو پسند ہے یا نہیں، اور کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے انصاف اور آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اتَّقِ اللّٰهَ حَيْثُمَا كُنْتَ
(جامع ترمذی: 1987)
ترجمہ: تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو۔
یہی تقویٰ انسان کے دل، زبان، نگاہ، سوچ اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے۔ حقیقی نیک انسان وہ ہے جو صرف لوگوں کے سامنے نہیں بلکہ تنہائی میں بھی اللہ کا فرمانبردار رہے۔
اچھی نسل صرف اچھے خاندان میں پیدا ہونے سے نہیں بنتی، بلکہ والدین کی تربیت، گھر کے ماحول، دینی شعور اور مسلسل محنت سے بنتی ہے۔ بچوں کو صرف ڈگری، دولت اور بڑا عہدہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ سچ بولنا، وعدہ نبھانا، امانت داری، دوسروں کی عزت اور اللہ کا خوف بھی سکھانا ضروری ہے۔
افسوس کہ بعض لوگ اپنے بڑے خاندان اور اعلیٰ نسب کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن ان کے کردار میں حسد، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، سازش اور دوسروں کی کردارکشی نمایاں ہوتی ہے۔ کسی کا دل توڑنا، کسی کی عزت اچھالنا اور دوسروں کو آپس میں لڑانا اچھی تربیت کی علامت نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
اور فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
یہی انسانیت، حسنِ اخلاق اور اچھے معاشرے کی بنیاد ہے۔
یاد رکھیے! کسی کے پردادا بادشاہ تھے تو ضروری نہیں کہ آج ان کی اولاد بھی بادشاہ ہو۔ کسی کے بزرگ عالم تھے تو ضروری نہیں کہ ان کی اولاد بھی علم و عمل میں بلند ہو۔ اصل وراثت دولت اور نام نہیں، بلکہ ایمان، علم، دیانت، اخلاق اور نیک کردار ہے۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو صرف بڑے خاندانوں کا وارث نہیں بلکہ بڑے کردار کا وارث بنانا چاہیے۔ ایسی نسل جو اللہ کے خوف سے سوچے، اللہ کے خوف سے بولے، اس کے احکام کی پابندی کرے، رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلے، دوسروں کے حقوق ادا کرے اور معاشرے میں محبت، امن اور سلامتی پھیلائے۔
اچھی نسل وہ نہیں جس کے بزرگ بڑے تھے، بلکہ اچھی نسل وہ ہے جس کے افراد اپنے کردار سے بڑائی ثابت کرتے ہیں۔
اللہ کے مقرب بندے وہ ہیں جن کے دل پاک، زبان صاف، نیت درست، نگاہ پاکیزہ اور کردار بلند ہوں؛ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے اور جن کے وجود سے دوسروں کو سکون اور سلامتی حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ایمان، تقویٰ، اخلاص اور بہترین اخلاق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے