कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ووٹ چوری کے خلاف! رام لیلا میدان سے حزب اختلاف کا مشترکہ عزم

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ: ۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

جمہوریت میں ووٹ عوام کی طاقت اور سیاسی خودمختاری کی بنیادی علامت ہے۔ یہی ووٹ نمائندوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتا، حکومتیں تشکیل دیتا اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ جب عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے تو اسی حقِ رائے دہی کے ذریعے اسے اقتدار سے بے دخل بھی کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ووٹ محض انتخابی عمل کا ایک حصہ نہیں بلکہ عوام کے سیاسی وقار اور جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ لیکن جب اسی بنیادی حق کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگیں، انتخابی فہرستوں سے اہل شہریوں کے نام حذف ہونے کی شکایات سامنے آئیں اور انتخابی اداروں کی غیر جانب داری زیرِ بحث آجائے تو معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے جمہوری مستقبل سے جڑ جاتا ہے۔
دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو حزب اختلاف کے اتحاد ’انڈیا‘ بلاک نے اسی حساس مسئلے پر اپنی اجتماعی آواز بلند کی۔ ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ کے نعرے کے تحت منعقدہ اس اجتماع میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مختلف نظریات اور سیاسی ترجیحات رکھنے والی جماعتوں کی ایک پلیٹ فارم پر موجودگی اس بات کا اظہار تھی کہ جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ تاہم کسی بھی جمہوری احتجاج کی حقیقی اہمیت اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے مطالبات، شواہد اور عملی نتائج سے متعین ہوتی ہے۔
اس احتجاج کے پس منظر میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا معاملہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ اس عمل میں شفافیت کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام بھی حذف ہوئے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد نقلی، دوہرے اور نااہل اندراجات کو ختم کرکے ووٹر لسٹوں کو درست بنانا ہے۔
بلاشبہ انتخابی فہرستوں کی اصلاح ضروری ہے۔ فوت شدہ افراد کے ناموں کا اخراج، نئے ووٹروں کا اندراج اور ایک سے زیادہ مقامات پر درج ناموں کی جانچ انتخابی نظام کا لازمی حصہ ہے۔ لیکن اصلاح کے نام پر لاکھوں اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ معاملہ خصوصاً غریبوں، مزدوروں، اقلیتی طبقات، خواتین اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے زیادہ حساس ہے۔ روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں میں رہنے والے مزدور، شادی کے بعد رہائش تبدیل کرنے والی خواتین اور عمر رسیدہ شہریوں کو دستاویزات کی پیچیدگیوں کے باعث مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس لیے نظرثانی کے عمل میں انسانی پہلو کو شامل رکھنا چاہیے۔ انتخابی اصلاح کا مقصد نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی شہری کے جمہوری حق کو مشکل میں ڈالنا۔
رام لیلا میدان میں اپوزیشن کی مشترکہ آواز:
رام لیلا میدان کے اجتماع کی اہم خصوصیت انڈیا اتحاد میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں کی مشترکہ شرکت تھی۔ اس سے ایک روز قبل، ۳۱ اکتوبر کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں ایک علامتی عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور الیکشن کمیشن کی خودمختاری سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ اس موقع پر بھی انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ دہرایا گیا۔
رام لیلا میدان میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھڑگے، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو، ڈی راجا، دیپانکر بھٹاچاریہ، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت مختلف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی موجودگی نے اجتماع کو قومی سیاسی اہمیت عطا کی۔ خاص طور پر ممتا بنرجی اور بائیں بازو کے رہنماؤں کی ایک ہی پلیٹ فارم پر شرکت اس بات کا اظہار تھی کہ جمہوری اداروں کے تحفظ کا سوال جماعتی رقابتوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان مختلف ریاستوں میں نشستوں کی تقسیم، قیادت اور انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات رہے ہیں۔ مغربی بنگال، اتر پردیش اور بہار میں ان کے سیاسی مفادات ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ ماضی میں بھی مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیے گئے، لیکن عملی سیاست کے اختلافات نے انہیں کمزور کیا۔ اس کے باوجود موجودہ اجتماع نے یہ پیغام دیا کہ بنیادی جمہوری مسائل پر حزب اختلاف متحدہ موقف اختیار کرسکتی ہے۔ تاہم اس اتحاد کی اصل آزمائش جلسوں سے آگے بڑھ کر عملی جدوجہد، متفقہ لائحۂ عمل اور عوامی مسائل پر مسلسل رابطے میں ہوگی۔
راہل گاندھی کے الزامات اور اپوزیشن کی ذمہ داری:
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں انتخابی شفافیت کے مسئلے کو کسی ایک جماعت کی سیاسی لڑائی کے بجائے ملک کے شہریوں کے جمہوری حقوق کا معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے اور مستقبل میں قانونی کارروائی کی بات کہی۔ ان کا الزام تھا کہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی کی اس کوشش کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ انتخابی شفافیت کی بحث کو پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے دائرے سے نکال کر عوامی تحریک کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے صرف سخت بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ حزب اختلاف کو اپنے الزامات کے حق میں حلقہ وار تفصیلات، ووٹر لسٹوں کے تقابلی اعداد و شمار اور متاثرہ شہریوں کی مستند شکایات بھی سامنے لانی ہوں گی۔ جمہوریت میں سوال اٹھانا اپوزیشن کا حق ہے، لیکن ان سوالات کو شواہد سے مضبوط کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح الیکشن کمیشن پر لازم ہے کہ وہ تنقید کو نظر انداز کرنے کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ اپنے موقف کی وضاحت کرے۔ کسی آئینی ادارے کی ساکھ محض دعووں سے نہیں بلکہ اس کے شفاف طرزِ عمل سے قائم ہوتی ہے۔ اگر کہیں انتظامی خامی یا بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
آئینی خودمختاری کے ساتھ جواب دہی بھی لازم:
ہندوستانی آئین نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو اہم آئینی ذمہ داری سونپی ہے۔ آئین کی دفعہ ۳۲۴ کے تحت انتخابات کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول کا اختیار اس ادارے کو حاصل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انتخابی عمل حکومت اور سیاسی جماعتوں کے اثر سے آزاد ہو اور ہر شہری کو بلاامتیاز اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملے۔
الیکشن کمیشن کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ اگر اس کے فیصلوں اور کارروائیوں پر مسلسل سوالات اٹھتے رہیں تو ادارے کی ساکھ متاثر ہونا فطری ہے۔ کسی آئینی ادارے کی خودمختاری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس کے فیصلے تنقید اور احتساب سے بالاتر ہیں۔ خودمختاری کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔ اسی طرح کسی ادارے پر سیاسی الزام عائد ہوجانا بذاتِ خود اس کے قصوروار ہونے کا ثبوت نہیں بن جاتا۔ دونوں صورتوں میں فیصلہ شواہد اور آئینی و قانونی طریقۂ کار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ حزب اختلاف کا سیاسی موقف ہے، جس پر کسی بھی کارروائی کا فیصلہ مقررہ آئینی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی ممکن ہے۔ تاہم اس مطالبے کو محض سیاسی شور سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے طریقۂ کار، حذف کیے گئے ناموں کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ اس سے شکوک و شبہات دور ہوں گے اور ادارے پر اعتماد برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
احتجاج سے نتیجہ خیز جدوجہد تکـ:
رام لیلا میدان میں مختلف ریاستوں سے آئے سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور عام شہریوں کی شرکت نے ووٹ کے تحفظ کے مسئلے کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تاہم کسی تحریک کی کامیابی کا اندازہ صرف جلسوں میں جمع ہونے والی بھیڑ سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ احتجاج کے مطالبات کو عملی اقدامات میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔
حزب اختلاف کو چاہیے کہ ہر ریاست میں متاثرہ ووٹروں کی شکایات جمع کرنے کے لیے منظم مہم چلائے۔ قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں کی مدد سے ایسے شہریوں کو رہنمائی فراہم کی جائے جن کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوئے ہیں۔ انہیں اعتراض درج کرانے اور اپیل کے قانونی طریقۂ کار سے واقف کرایا جائے۔ ساتھ ہی عوام کو اپنے اور خاندان کے دیگر اہل افراد کے نام ووٹر لسٹ میں جانچنے کے لیے بیدار کیا جائے۔
حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر حزب اختلاف کے الزامات بے بنیاد ہیں تو مستند اعداد و شمار کے ذریعے ان کی تردید کی جائے، اور اگر کہیں انتخابی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو اس کی اصلاح کے ساتھ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عوامی شکایات کو سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اس جدوجہد میں سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں اور باشعور شہریوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ووٹر بیداری کو صرف انتخابی موسم تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ شہریوں کو اپنے آئینی حقوق، انتخابی طریقۂ کار اور شکایت درج کرانے کے قانونی راستوں سے واقف ہونا چاہیے۔
ووٹ کا تحفظ ہی جمہوریت کا تحفظ ہے:
رام لیلا میدان کا مشترکہ مظاہرہ سیاسی اتحاد کی ایک اہم علامت ضرور ہے، لیکن اسے مستقل قوت میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مختلف جماعتوں کے اپنے سیاسی مفادات اور ریاستی ترجیحات ہیں۔ راہل گاندھی، ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت دیگر رہنماؤں کے درمیان مشترکہ جدوجہد کا اعلان اسی وقت بامعنی ہوگا جب وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر متفقہ لائحۂ عمل تیار کریں۔ عوام اب محض نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ انہیں یہ دیکھنا ہے کہ ان کے ووٹ، روزگار، تعلیم، مہنگائی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کیا عملی کردار ادا کرتی ہے۔ اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی جدوجہد محض اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ جمہوری حقوق کے تحفظ کی سنجیدہ کوشش ہے۔
ہندوستان کی جمہوریت کی اصل خوب صورتی اس کے تنوع اور عوام کی سیاسی شرکت میں پوشیدہ ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ذاتوں اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری اپنے ووٹ کے ذریعے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک غریب مزدور، کسان، خاتون، نوجوان یا صنعت کار، ہر شہری کے ووٹ کی آئینی حیثیت یکساں ہے۔ یہی برابری جمہوریت کی اصل روح ہے۔
رام لیلا میدان سے اٹھنے والی آواز کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کا فیصلہ عوام کے آزادانہ اور منصفانہ ووٹ سے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی انتظامی غفلت یا انتخابی بے ضابطگی سے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اور سیاسی جماعتیں کامیاب و ناکام ہوتی رہتی ہیں، لیکن انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد ایک بار مجروح ہوجائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اس لیے حکومت، الیکشن کمیشن اور حزب اختلاف، سب کو اپنی آئینی اور سیاسی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ الزام تراشی کے بجائے شفاف تحقیقات، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور سیاسی مفاد کے بجائے عوامی حق کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔ رام لیلا میدان کا مشترکہ اعلان اسی وقت تاریخ میں اہمیت حاصل کرے گا جب یہ انتخابی شفافیت، ووٹروں کے حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری کے لیے ایک مستقل، شواہد پر مبنی اور نتیجہ خیز جدوجہد میں تبدیل ہوگا۔
کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور عوام کی اس طاقت کا نام ووٹ ہے۔ ووٹ کا تحفظ دراصل آئین کی بالادستی، شہری مساوات اور جمہوری مستقبل کا تحفظ ہے۔ شفافیت، جواب دہی اور باہمی مکالمے ہی سے یہ ضمانت مضبوط ہوسکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے