कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانہ:پردے کے اس پار

از : اطہر کلیم احمد

کچہری کے باہر کی دھول اور لیتھو پریس کی مسلسل کھٹ۔۔ کھٹ۔۔ فضا میں گھل رہی تھی۔۔ پرانی چٹائی پر بیٹھے میر ہاشم کے ہاتھ اب رعشے سے کانپتے تھے۔ وہ انگلیاں، جو کبھی کشمیری کاغذ پر خطِ نستعلیق کے موتی ٹانکتی تھیں، اب دو آنے کے عوض معمولی زرد کاغذ پر کچہری کی عرضیاں گھسیٹ رہی تھیں۔
ہاشم نے دوات میں سرکنڈے کا سستا قلم ڈبویا اور ایک سائل کی عرضی پر لفظ ’خاکستر‘ لکھنے لگا۔ قلم کی نوک نے خے کا دائرہ کھینچا ہی تھا کہ اس کے کانپتے ہاتھ ایک دم رک گئے۔
لیتھو پریس کی کھڑکھڑاہٹ اچانک دور ہوتی چلی گئی۔ کچہری کی کڑوی دھول میں کہیں سے زعفرانی روشنائی اور صندل کی مہک گھلنے لگی۔
حویلی کے بیرونی دالان میں دوپہر کی دھوپ جالی دار کھڑکیوں سے چھن کر فرش پر بچھی تھی۔ دالان کے عین وسط میں ایک بھاری سرخ چلمن لٹکی تھی جس پر سنہری تاروں کا کام تھا۔
چلمن کے اس پار، میر ہاشم دو زانو بیٹھا، صندل کی لکڑی کی چبوتریا پر کشمیری کاغذ پھیلائے موقلم تراش رہا تھا۔
پردے کے نیچے سے کنیز کا ہاتھ نمودار ہوا اور ایک تہہ شدہ کاغذ ہاشم کی طرف سرکا دیا۔ ہاشم نے کاغذ اٹھایا، اس پر لکھی غزل کو ایک نظر دیکھا اور دوات میں قلم ڈبو کر خطِ نستعلیق میں پہلا مصرع اتارنے لگا۔ دالان کی بوجھل خاموشی کو صرف بانس کے قلم کی دھیمی ’چرڑ۔۔۔ چرڑ‘ توڑ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد پردے کے اس پار سے ایک ٹھہری ہوئی آواز ابھری۔
’’میر صاحب۔۔۔‘‘
ہاشم کے ہاتھ کی حرکت رکی۔ قلم کی نوک کاغذ سے ذرا اوپر اٹھ گئی۔ اس نے نظریں جھکائے رکھا۔ ’’جی۔‘‘
’’تیسرے شعر میں لفظ ’خاکستر‘ کو ذرا کشیدہ لکھیے گا۔ مصرعے کا وزن اسی لفظ کی طوالت پر ہے۔‘‘
’’بہتر۔‘‘ ہاشم نے مختصراً جواب دیا اور قلم دوبارہ کاغذ پر چلنے لگا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب دلی کی فضاؤں نے توپوں کی گونج نہیں سنی تھی۔ سارا دن دالان کی خاموشی میں صرف قلم کی سرسراہٹ گونجتی۔ بظاہر یہ ایک کاتب اور اس کی مالکن کے درمیان ایک انتہائی خشک اور پیشہ ورانہ تعلق تھا، مگر برسوں کی اس خاموش مشق اور لفظوں کی مشترکہ تراش خراش نے ان کے لاشعور میں ایک ایسی ان دیکھی ڈور باندھ دی تھی جس کا بوجھ انہیں عمر بھر اٹھانا تھا۔
مہینے یونہی خاموشی سے سرکتے گئے۔ دیوان کے اوراق ایک ایک کر کے جزدان میں محفوظ ہوتے رہے۔ دالان کے اندر کی دنیا ساکت تھی، مگر حویلی کے باہر فضا رفتہ رفتہ بوجھل ہونے لگی تھی۔ ہوا میں صندل کی مہک کو اب ایک انجانی، بارودی کڑواہٹ کاٹ رہی تھی۔
پھر وہ دن بھی آ گیا۔ یہ اسی دیوان کا آخری ورق تھا جو ہاشم اس شام مکمل کر رہا تھا۔ اس نے ’مقطع‘ کی آخری لکیر کھینچی ہی تھی کہ ڈیوڑھی کے باہر ایک ہنگامہ سا ابھرا۔ گھوڑوں کی تیز ٹاپیں، بھاری بوٹوں کی آوازیں اور دور سے آتی گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے حویلی کے برسوں پرانے سکوت کو تار تار کر دیا تھا۔
پردے کے پیچھے اس دن معمول کی خاموشی نہیں تھی، بلکہ ریشمی کپڑوں کی سرسراہٹ اور تیز قدموں کی آہٹ سے ایک افراتفری عیاں تھی۔ چلمن کے نیچے سے کنیز کا ہاتھ نمودار ہوا۔ اس بار کوئی مسودہ نہیں، بلکہ ایک بھاری مخملی تھیلی تھی۔
’’میر صاحب۔۔۔‘‘ پردے کے پیچھے سے آواز آئی تھی، مگر اس بار اس میں کوئی حاکمانہ ٹھہراؤ نہیں تھا۔ ایک عجلت، ایک خوف تھا۔ "شہر کے حالات دگرگوں ہیں۔ نواب صاحب نے تاکید کی ہے کہ کام یہیں روک دیا جائے۔ یہ آپ کی اجرت ہے۔ آج سے حویلی کے دروازے بند ہیں۔ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔”
ہاشم نے اجرت کی تھیلی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اس نے تیزی سے دیوان کے اوراق سمیٹے، انہیں مخملی غلاف میں لپیٹا اور بغل میں دبا کر ڈیوڑھی سے باہر بھاگا۔ مگر باہر دلی کی سڑکیں خون سے سرخ ہو چکی تھیں۔
حویلی جلی تو محض ایک عمارت نہیں جلی، ایک پوری تہذیب راکھ ہو گئی۔ نواب شجاع الدین کو چاندنی چوک میں سرِ عام تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، اور نور العین سمیت اشرافیہ کی پردہ نشین عورتیں جان بچانے کے لیے رات کی تاریکی میں جانے کس نامعلوم سمت ہجرت کر گئیں۔
ہاشم برسوں اس مخملی غلاف کو سینے سے لگائے در در بھٹکتا رہا۔ وہ اجڑے ہوئے شہروں کی خاک چھانتا، ویران ڈیوڑھیوں پر دستک دیتا رہا، مگر نہ وہ حویلی دوبارہ آباد ہوئی اور نہ پردے کے پیچھے والی وہ آواز کبھی سنائی دی۔
پھر وقت گزرنے کے ساتھ دنیا بالکل بدل گئی۔ بغاوت کی راکھ ٹھنڈی ہوئی تو شہر پر ایک نئے، مشینی دور نے پنجے گاڑ لیے۔ جگہ جگہ لیتھو پریس کی مشینیں لگ گئیں۔ چھاپہ خانوں کی بے رحم کھڑکھڑاہٹ نے صدیوں پرانے کاتبوں کے قلم کی حرمت چھین لی۔ ہاشم، جس کے لکھے حروف کو درباروں میں تولا جاتا تھا، اب نئے دور کی تیز رفتاری میں بالکل غیر متعلق ہو کر رہ گیا۔
سرپرستی ختم ہوئی تو فن نے دم توڑ دیا۔ رفتہ رفتہ بھوک، بڑھاپے اور وقت کی سفاکی نے ہاشم کی انا توڑ دی، اور اسے شاہی موقلم کو کچہری کے دو آنے والے کھردرے سرکنڈے سے بدلنے پر مجبور کر دیا۔
’’میاں۔۔۔‘‘
ایک مدھم، تھکی ہوئی آواز نے ہاشم کو چونکا دیا۔
کچہری کے آس پاس کا بازار اب سنسان ہو رہا تھا۔ نومبر کی دھند اتر آئی تھی۔ ہاشم نے دھندلی آنکھوں سے دیکھا، اس کی چٹائی کے پاس ایک ادھیڑ عمر، بوسیدہ برقعے میں ملبوس عورت کھڑی تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے ایک پرچی آگے بڑھائی۔ ’’ایک کتبہ لکھوانا ہے۔ میرے مرحوم شوہر کی قبر کے لیے۔‘‘
ہاشم نے سر جھکائے، بغیر کچھ کہے پرچی لے لی۔ اس نے کتبے کی تختی نکالی، قلم سیاہی میں ڈبویا اور تختی پر نام کندہ کرنے لگا۔ رعشے کی وجہ سے اس کا ہاتھ ہلکا سا پھسلا اور لفظ ’’حسین‘‘ کے سین کا دائرہ تھوڑا سا بگڑ گیا۔
عورت، جو برقعے کی جالی سے اس کے قلم کی حرکت دیکھ رہی تھی، بے ساختہ بولی:
’’میاں۔۔۔ اس لفظ کا شوشہ ذرا یوں نہیں، یوں بنائیے۔‘‘
ہاشم کا قلم تختی پر رک گیا۔
اس نے آہستگی سے سر اٹھایا۔
برقعے کی جالی سے جھانکتی آنکھوں نے اس کے چہرے کو دیکھا، اور ہاشم کی نگاہیں ان آنکھوں پر ٹھہر گئیں۔ ایک طویل، بوجھل خاموشی۔
ہاشم کا کانپتا ہوا ہاتھ بے ساختہ چٹائی پر رکھے اپنے بوسیدہ جھولے کی طرف بڑھا، جہاں وہ مخملی جزدان آج بھی محفوظ تھا۔
عورت نے جلدی سے اپنی بوسیدہ آستین کو سمیٹا، نقاب کو ایک جھٹکے سے مزید نیچے کھینچا اور دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
ہاشم کا ہاتھ جھولے کے غلاف تک پہنچ کر رک گیا۔
اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ سر جھکایا، اور کانپتے ہاتھوں سے تختی کا آخری لفظ مکمل کیا۔
عورت نے دو آنے چٹائی پر رکھے، کتبہ اٹھایا اور اندھیری گلی کی دھند میں گم ہو گئی۔
ہاشم اپنی کمزور نظروں سے اس طرف دیکھتا رہا، پھر کچھ دیر بعد اس نے قلم صاف کیا اور دوات پر ڈھکن لگا دیا۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے