कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچے تو گھر میں ہیں، بچپن کہاں ہے؟

اسکرین کی گرفت، گم ہوتے آنگن اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

ہر نسل اپنے بچپن کو ایک جغرافیے کی صورت یاد رکھتی ہے۔ کسی کو نیم کا وہ پیڑ یاد ہے جس کی سب سے نچلی شاخ تک ہاتھ پہنچ جانا قد کا پہلا امتحان تھا؛ کسی کو وہ نکڑ جہاں شام ڈھلتے ہی اینٹیں جوڑ کر وکٹ بنتی تھی اور اندھیرا اترتے ہی، کسی ریفری کے بغیر، کھیل اپنے آپ ختم ہو جاتا تھا۔ ہماری یادداشت میں بچپن ایک مقام ہے: ایک گلی، ایک آنگن، ایک میدان۔ آج کا بچہ جب نصف صدی بعد اپنے لڑکپن کو یاد کرے گا تو شاید اسے کوئی مقام یاد نہ آئے۔ اسے ایک اسکرین یاد آئے گی، جس کے رنگ ہر لمحہ بدلتے رہے مگر جس کی جسامت کبھی نہیں بدلی۔
یہ محض یادوں کا فرق نہیں۔ جس بچپن کا کوئی جغرافیہ نہ ہو، وہ دراصل جلاوطن بچپن ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو کسی سرحد کے پار نہیں بھیجا؛ وہ ہمارے ہی گھروں میں، ہماری ہی آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔ مگر ان کی توجہ، ان کی راتیں اور ان کے خواب ایک ایسے دیس میں بسر ہوتے ہیں جس کا نقشہ ہمارے پاس نہیں، اور جس کے قوانین کسی دوسرے براعظم کے تجارتی دفتروں میں لکھے جاتے ہیں۔ یہ ہجرت بے آواز تھی، اسی لیے ہم نے اسے ہجرت ماننے سے انکار کر دیا۔
2010ء اور 2015ء کے درمیانی برسوں میں، جب فرنٹ کیمرے والا اسمارٹ فون، تیز رفتار انٹرنیٹ اور الگورتھم کے سہارے چلنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تقریباً ایک ساتھ نوعمروں کی جیبوں تک پہنچے، بچپن کی بنیادی ساخت ہی بدل گئی۔ وہ اس عمل کو "بچپن کی عظیم ازسرِنو تشکیل” (The Great Rewiring of Childhood) کہتے ہیں، جس میں کھیل پر قائم بچپن (play-based childhood) کی جگہ فون پر قائم بچپن (phone-based childhood) نے لے لی۔
یہ صورت حال ہم کو اپنے ہی گھر کا آئینہ دکھا دیتا ہے: ہم نے حقیقی دنیا میں بچوں کی حد سے زیادہ حفاظت کی اور مجازی دنیا میں انہیں تقریباً بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ دس برس کا بچہ محلے کی مانوس دکان تک اکیلا نہیں جا سکتا کہ زمانہ خراب ہے، مگر وہی بچہ آدھی رات کو بند کمرے میں ایک ایسا دروازہ کھولے بیٹھا ہے جس کے اُس پار دنیا بھر کے اجنبی، عریانی، تشدد، نفرت اور اپنے ہی وجود سے بیزار کر دینے والے موازنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ موجود ہے۔ ہماری احتیاط کم نہیں ہوئی؛ وہ غلط دروازے پر پہرہ دینے لگی۔
یہ کہنا آسان ہے کہ ایک آلے نے پوری نسل کا رخ موڑ دیا، مگر کوئی ایجاد خلا میں کامیاب نہیں ہوتی۔ اسمارٹ فون جس زمین پر اترا، وہ پہلے سے ہموار کی جا چکی تھی۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں باہر کی دنیا کا خوف والدین کے دلوں میں بتدریج بڑھتا گیا۔ اغوا اور حادثات کی خبریں ٹیلی وژن کے ذریعے ہر گھر میں پہنچیں، اور ان کا ذہنی حجم ان کے حقیقی امکان سے کہیں بڑا ہو گیا۔ بچوں کا آزاد کھیل سکڑتا گیا اور اس کی جگہ بڑوں کی نگرانی میں ہونے والی منظم سرگرمیوں نے لے لی۔ آنگن پہلے ہی خالی ہو چکا تھا؛ فون تو بس اس خالی جگہ میں آ کر بیٹھ گیا۔
دوسری جڑ معاشی ہے، اور عام بحثوں میں یہی سب سے کم دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے صارف سے فیس نہیں لیتیں؛ وہ اس کی توجہ اشتہار دینے والوں کے ہاتھ بیچتی ہیں۔ اس کاروبار میں کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ بچے نے کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی دیر ٹھہرا۔ جس صنعت کی آمدنی اس بات پر منحصر ہو کہ ایک کم سن ذہن نظر نہ ہٹائے، اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ خود بچے کو سونے کے لیے بھیج دے گی، اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔
تیسری جڑ خود ہمارے اندر ہے۔ تھکا ہوا باپ، دو محاذوں پر بٹی ہوئی ماں، اور مہمانوں کی موجودگی میں بچے کی خاموشی کی خواہش؛ ان سب نے مل کر فون کو گھر کی سب سے سستی آیا بنا دیا۔ اس آیا نے کبھی تنخواہ نہیں مانگی، کبھی چھٹی نہیں کی، کبھی یہ شکایت نہیں کی کہ بچہ بات نہیں مانتا۔ اس کی اجرت کہیں اور وصول ہو رہی تھی، اور ہمیں اس کا حساب برسوں بعد ملا۔
اس تبدیلی کے چار بنیادی نقصانات گنواتے ہیں: سماجی محرومی، نیند کی کمی، توجہ کا بکھراؤ اور لت۔ انہیں الگ الگ خانوں میں رکھنے کے بجائے ایک زنجیر کی صورت دیکھنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ ہر کڑی اگلی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
آمنے سامنے کی گفتگو میں بچہ بیک وقت سیکڑوں اشارے پڑھ رہا ہوتا ہے: آواز کا اتار، نگاہ کا جھکنا، ہونٹوں کا وہ لمحاتی تناؤ جو بتا دیتا ہے کہ مذاق حد سے بڑھ گیا ہے۔ یہ ایک ایسی زبان ہے جس کی کوئی قواعد کی کتاب نہیں؛ یہ صرف برت کر سیکھی جاتی ہے۔ پیغام رسانی کی دنیا یہ مشق چھین لیتی ہے اور اس کے بدلے ایک ایسی سہولت دیتی ہے جو درحقیقت محرومی ہے: ناگوار گفتگو سے ایک انگلی کی جنبش پر فرار۔ جو بچہ کبھی جھگڑا نبھانا نہیں سیکھتا، وہ صلح کرنا بھی نہیں سیکھتا، کیونکہ مصالحت کا ہنر اختلاف ہی کی آنچ میں پکتا ہے۔
نیند کو ہم آرام سمجھتے ہیں، حالانکہ نوعمر ذہن کے لیے یہ تعمیر کا وقت ہے۔ دن بھر کا سیکھا ہوا رات ہی کو یادداشت میں اپنی جگہ پاتا ہے، اور جذبات کا توازن بھی اسی خاموش کارخانے میں بحال ہوتا ہے۔ اسکرین اس کارخانے پر دو طرف سے حملہ کرتی ہے: ایک براہِ راست، کہ سونے کے گھنٹے نگل جاتی ہے؛ دوسرا بالواسطہ، کہ ذہن کو ایسا ہیجان زدہ چھوڑ جاتی ہے کہ آنکھیں بند ہونے کے بعد بھی اندر کچھ اسکرول ہوتا رہتا ہے۔ صبح کی پہلی گھنٹی پر جو بوجھل پلکیں جماعت میں داخل ہوتی ہیں، وہ کاہلی کی نہیں، ایک لٹی ہوئی رات کی گواہ ہیں۔
نیند سے محروم ذہن ویسے ہی منتشر ہوتا ہے؛ اس پر مختصر ویڈیوز کا لگاتار بہاؤ اسے ایسی خوراک کا عادی بنا دیتا ہے جس میں ہر چند ثانیے بعد نیا ذائقہ ہو۔ گہری توجہ ایک کنویں کی مانند ہے: اس کا میٹھا پانی اسی کو ملتا ہے جو دیر تک رسی کھینچنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جس نسل کو ہر وقت سطح پر تیرتا ہوا پانی میسر رہا، وہ کنویں کی گہرائی پر یقین ہی کھو بیٹھتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج معلومات کی قلت نہیں، فہم کی قلت ہے۔ بچہ بہت سی باتیں جانتا ہے، مگر کسی ایک بات کو اس کی آخری تہہ تک جاننے کا تجربہ اسے شاذ ہی نصیب ہوتا ہے۔
اور جب ذہن تھکا ہوا، بکھرا ہوا اور تنہا ہو تو وہ اسی شے کی طرف لپکتا ہے جو فوری تسکین دے۔ لائک، تبصرہ، اطلاع کی گھنٹی؛ یہ سب غیر یقینی انعامات ہیں، اور کرداری نفسیات کا پرانا سبق یہی ہے کہ جو انعام کبھی ملے اور کبھی نہ ملے، وہ سب سے پختہ عادت پیدا کرتا ہے۔ بچہ اپنی قدر کا فیصلہ اب اپنے اندر سے نہیں، اسکرین پر ابھرتے ہندسوں سے کرنے لگتا ہے۔ وہ ایک ایسی عدالت میں کھڑا ہے جس کے منصف گمنام ہیں، جس کی سماعت کبھی ملتوی نہیں ہوتی، اور جس کا فیصلہ ہر صبح نئے سرے سے سنایا جاتا ہے۔
یوں یہ چار دیواریں الگ الگ نہیں گرتیں؛ ایک کا ملبہ دوسری کی بنیاد کو کھوکھلا کرتا ہے۔
ایک گہرا نکتہ یہ ہے کہ بچہ کانچ کا برتن نہیں جسے ہر ٹھیس سے بچا کر رکھا جائے؛ وہ اس ہڈی کی مانند ہے جو بوجھ اٹھا کر مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے نسیم نکولس طالب کی اصطلاح "اینٹی فریجائل” (antifragile) مستعار لی ہے، یعنی ایسا وجود جو جھٹکوں سے ٹوٹنے کے بجائے ان سے سنبھلنا سیکھے۔ درخت پر چڑھتا ہوا بچہ گرنے کا ڈر، گرنے کی چوٹ اور دوبارہ چڑھنے کی جرأت، تینوں سبق ایک ہی سہ پہر میں سیکھ لیتا ہے۔ جب ہم یہ سب اس سے چھین لیتے ہیں تو اس کا خطرہ ختم نہیں کرتے، صرف اسے اس دن تک ملتوی کر دیتے ہیں جب وہ جوان ہو کر کسی ایسے دھچکے سے دوچار ہوگا جس کی کوئی مشق اس کے پاس نہیں ہوگی۔
اس سے بھی باریک ایک بات ہے جو عام طور پر نظر سے اوجھل رہتی ہے: اسمارٹ فون نے بچپن سے اکتاہٹ کو خارج کر دیا ہے۔ پہلی نظر میں یہ نعمت معلوم ہوتی ہے۔ مگر اکتاہٹ وہ خالی میدان تھی جس پر تخیل اپنا گھر بناتا تھا۔ گرمیوں کی وہ لمبی، بے مصرف دوپہریں جب کرنے کو کچھ نہ ہوتا، بچے کو مجبور کرتی تھیں کہ وہ ٹوٹی ہوئی چارپائی کو جہاز بنا لے، یا دیوار پر سرکتی دھوپ میں کہانیاں ڈھونڈے۔ جسے اکتانے کی مہلت ہی نہ ملے، اسے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ اسکرین نے بوریت کا علاج نہیں کیا؛ اس نے باطن کا دروازہ بند کر دیا۔
یہ زہر صنف کے لحاظ سے الگ الگ راستوں سے اترتا ہے۔ لڑکیوں کے لیے سوشل میڈیا ایک آئینہ خانہ ہے جس کا ہر آئینہ کسی اور کا تراشا ہوا، فلٹر شدہ چہرہ دکھاتا ہے اور ہر بار ان کے اپنے چہرے کو کم تر ٹھہراتا ہے۔ ہائٹ کے نزدیک یہی مسلسل تقابل، اور رشتوں میں چھپی جارحیت کا وہ ڈیجیٹل روپ جس میں کسی کو گروپ سے نکال دینا یا اس کا تمسخر اڑانا ایک کلک کا کام ہے، نوعمر لڑکیوں میں اضطراب اور افسردگی کے بڑھتے رجحان کا ایک اہم سبب ہے۔ لڑکوں کی کہانی دوسری ہے۔ وہ آئینہ خانے کے بجائے ایک فرضی میدانِ جنگ میں داخل ہوتے ہیں، جہاں ویڈیو گیم انہیں وہ سب کچھ فوراً دے دیتا ہے جو حقیقی زندگی برسوں کی ریاضت کے بعد دیتی ہے: مہارت کا احساس، فتح کا ذائقہ، ساتھیوں میں مرتبہ۔ مسئلہ کھیل نہیں، شرحِ مبادلہ ہے۔ جب ایک منڈی میں کامیابی سستی ہو اور دوسری میں مہنگی، تو نوجوان ذہن سستی منڈی کی طرف ہجرت کر جاتا ہے، اور حقیقی دنیا اسے رفتہ رفتہ ایک ناقابلِ عبور پہاڑ دکھائی دینے لگتی ہے۔
ساری توجہ اسکرین پر مرکوز کر دینے سے ہم ذہنی صحت کے ان اسباب سے غافل ہو سکتے ہیں جن کا علاج زیادہ دشوار اور زیادہ مہنگا ہے۔
تاریخ بھی احتیاط کا درس دیتی ہے۔ افلاطون کے مکالمے "فیدرس” میں سقراط فنِ تحریر پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگوں کی یادداشت کو کمزور کرے گا اور انہیں علم کے بجائے علم کا گمان عطا کرے گا۔ اٹھارویں صدی کے یورپ میں ناول کو نوجوان ذہنوں کے لیے خطرہ سمجھا گیا؛ بیسویں صدی کے وسط میں امریکہ میں کامک کتابوں کو کم عمری کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا؛ پھر یہی فردِ جرم ٹیلی وژن پر عائد ہوئی۔ ہر نئے ذریعۂ ابلاغ کے ساتھ ایک اخلاقی سراسیمگی (moral panic) نے جنم لیا، اور ان میں سے بیشتر وقت کے ساتھ مبالغہ ثابت ہوئیں۔
تو کیا یہ بھی محض ایک اور مبالغہ ہے؟ میری نظر میں سوال کو اس طرح رکھنا ہی درست نہیں۔ گزشتہ ذرائع اور آج کی اسکرین میں ایک بنیادی فرق ہے: کتاب، ریڈیو اور ٹیلی وژن اپنے سامع کو نہیں جانتے تھے۔ ناول ہر قاری کے لیے ایک ہی تھا۔ آج کا الگورتھم ہر بچے کو انفرادی طور پر پہچانتا ہے، اس کی کمزوری کو ناپتا ہے، اور ہر لمحہ خود کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے تاکہ وہ اٹھ کر نہ جائے۔ تاریخ میں پہلی بار ذریعۂ ابلاغ اپنے سامع کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اس لیے دانش مندی نہ سراسیمگی میں ہے نہ بے فکری میں، بلکہ اس احتیاطی اصول میں ہے جو ہم دواؤں کے معاملے میں برتتے ہیں: جب تک کسی شے کا بے ضرر ہونا ثابت نہ ہو جائے، اسے سب سے نازک جسموں تک بلا روک ٹوک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔
مانا کہ ہندوستانی بچوں پر طویل مدتی اور معتبر تحقیق ابھی بہت کم ہے۔ ہم دوسروں کے نتائج کو جوں کا توں اپنے بچوں پر چسپاں نہیں کر سکتے۔ ہماری جامعات اور تعلیمی اداروں پر یہ قرض ہے کہ وہ اپنی زمین پر اپنا مطالعہ خود کریں۔
ہندوستان، اور خصوصاً ممبئی، تھانے، ممبرا اور کوسہ جیسی گنجان بستیوں میں اسکرین بچپن کی پہلی رہزن نہیں؛ وہ ایک ایسے گھر میں داخل ہوئی جس کے کواڑ پہلے ہی اکھڑ چکے تھے۔ عمودی تعمیرات نے زمین کو آسمان کی طرف دھکیل دیا، مگر کھیل آسمان کی طرف نہیں جا سکتا۔ جن عمارتوں کے نیچے کبھی کھلی جگہ ہوتی تھی، وہاں اب گاڑیاں کھڑی ہیں؛ جو گلیاں شام کو کھیل کا میدان بن جاتی تھیں، وہ اب ہارن کے شور میں ڈوبی رہتی ہیں۔ شہر نے گاڑی کے لیے جگہ نکال لی، بچے کے لیے نہیں۔
یہاں ایک پہلو ایسا بھی ہے جو مغربی تحقیق کی گرفت میں کم آتا ہے۔ ہمارے شہروں کے بہت سے گھرانے تنگ مکانوں میں رہتے ہیں جہاں کئی افراد ایک یا دو کمروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے گھر میں بچے کے پاس اپنا کوئی کمرہ، کوئی گوشہ، کوئی دروازہ نہیں ہوتا جسے وہ اپنے پیچھے بند کر سکے۔ اس کے لیے فون محض تفریح نہیں؛ وہ اس کی واحد نجی جگہ ہے، وہ کمرہ جو اسے کبھی ملا ہی نہیں۔ جب ہم اس کے ہاتھ سے فون لیتے ہیں تو وہ اسے کھلونے کا چھن جانا نہیں، اپنے واحد ٹھکانے سے بے دخلی محسوس کرتا ہے۔ اس نکتے کو سمجھے بغیر ہندوستانی بچے کی اسکرین سے وابستگی کو سمجھنا ممکن نہیں۔
اس پر ہمارا امتحانی نظام ہے، جس نے بچپن کو ایک سرمایہ کاری میں بدل دیا ہے۔ صبح اسکول، سہ پہر کوچنگ، شام ٹیوشن، رات ہوم ورک؛ اس جدول میں کھیل کے لیے کوئی خانہ نہیں۔ والدین ہر نمبر کو مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں اور بچہ ہر نمبر کو اپنی قدر کا پیمانہ۔ ایسے بچے کے پاس فرصت کے جو چند بکھرے ہوئے لمحے بچتے ہیں، اسکرین انہیں سب سے آسانی سے بھر دیتی ہے، کیونکہ اسے نہ میدان درکار ہے، نہ ساتھی، نہ وقت کا کوئی بڑا ٹکڑا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس دباؤ نے بچے سے کھیل چھینا، وہی دباؤ اسے اسکرین کی طرف دھکیلتا ہے؛ اور پھر ہم سارا الزام اسکرین کے سر ڈال کر دباؤ کو بری کر دیتے ہیں۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سماج میں اسکرین اکثر مرض نہیں، علامت ہے۔ وہ گھریلو تناؤ، والدین کی تھکن، معاشی بے یقینی اور مکالمے کی قلت کی خبر دیتی ہے۔ صرف فون لے لینا، اور بدلے میں وہی گھٹا ہوا ماحول، وہی بے کیف جدول اور وہی خاموش گھر لوٹا دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی تھرمامیٹر توڑ کر سمجھ لے کہ بخار اتر گیا۔
جب محلے کے میدان ختم ہو جائیں تو اسکول ہی وہ آخری جگہ رہ جاتا ہے جہاں بچے بڑی تعداد میں، روزانہ، ایک دوسرے کے روبرو ہوتے ہیں۔ چار دہائیوں سے زیادہ تدریس اور ادارہ سازی کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ اسکول کی اصل دولت اس کی عمارت یا اس کے اسمارٹ بورڈ نہیں، اس کا وقفہ ہے: وہ آدھا گھنٹہ جب بچے بغیر کسی ہدایت کے کھیلتے، جھگڑتے، روٹھتے اور مان جاتے ہیں۔ روسی ماہرِ نفسیات لیو وائگوٹسکی نے کھیل کے بارے میں یہ بصیرت پیش کی تھی کہ کھیل میں بچہ اپنی عمر سے آگے کا برتاؤ کرتا ہے، گویا وہ اپنے قد سے ایک سر اونچا ہو جاتا ہے۔ جو اسکول وقفہ کاٹ کر ایک اور پیریڈ ٹھونس دیتا ہے، وہ نصاب تو مکمل کر لیتا ہے مگر بچے کو اس کے بڑھے ہوئے قد سے محروم کر دیتا ہے۔
اسکول کو شیشے اور سیمنٹ کا شوروم بنانے کے بجائے ایک زندہ درس گاہ بنانا ہوگا، جہاں کھیل کا میدان، کتب خانہ، اسٹیج اور مباحثے کا ایوان کسی بھی ڈیجیٹل آلے سے زیادہ وقعت رکھتے ہوں۔ استاد کو نصاب ختم کرانے والا کارندہ نہیں، وہ مالی بننا ہوگا جو پتوں کی زردی دیکھ کر جڑ کی پیاس پہچان لے۔ اگر کوئی طالب علم جماعت میں گم صم ہے، چڑچڑا ہے یا سبق پر توجہ نہیں دے پاتا، تو اسے ڈانٹ اور سزا کے ترازو میں تولنے سے پہلے یہ پوچھنا ہوگا کہ اس کی راتیں کیسی گزرتی ہیں، اس کے گھر میں کیا چل رہا ہے، اور وہ کس سے بات کرتا ہے۔ تعلیم کا مقصد ذہن میں معلومات کا انبار انڈیلنا نہیں، ایک متوازن اور باوقار انسان کی تشکیل ہے۔
تاریخ کا ایک اور ورق بھی غور طلب ہے۔ انیسویں صدی کے صنعتی برطانیہ میں کم سن بچے کارخانوں اور کانوں میں مشقت کرتے تھے، اور طویل جدوجہد کے بعد قانون نے انہیں وہاں سے نکال کر اسکول کی راہ دکھائی۔ ہمارے ملک میں بھی تعلیم کے حق کا قانون (2009ء) چھ سے چودہ برس کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت لے کر آیا۔ بچپن کو ایک محفوظ، آزاد اور مشقت سے پاک دور تسلیم کرنا انسانیت کی بڑی اخلاقی کمائی تھی۔
آج اندیشہ یہ ہے کہ ہم نے بچے کو ایک کارخانے سے نکال کر دوسرے کارخانے کے سپرد کر دیا ہے۔ اس نئے کارخانے میں اس سے جسمانی مشقت نہیں لی جاتی؛ یہاں اس کی توجہ کو کان کی طرح کھودا جاتا ہے۔ پرانا کارخانہ بچے کے جسم کو تھکاتا تھا، اور اس تھکن کی گواہی اس کے ہاتھوں کے چھالے دیتے تھے۔ نیا کارخانہ اس کے ذہن کو تھکاتا ہے، اور اس تھکن کا کوئی چھالا نظر نہیں آتا۔
یہ بحث اب کتابوں سے نکل کر ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ آسٹریلیا نے سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ رکھنے پر قانونی پابندی عائد کی، جو دسمبر 2025ء سے نافذ ہے، اور اس کی تعمیل کی ذمہ داری والدین کے بجائے کمپنیوں پر ڈالی گئی ہے۔ فرانس نے 2018ء میں ابتدائی اور متوسط درجوں کے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی۔ یونیسکو کی 2023ء کی عالمی تعلیمی نگرانی رپورٹ نے سفارش کی کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی اسی وقت داخل ہو جب وہ واقعی سیکھنے میں مدد دے۔ ہمارے ملک میں ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا قانون (2023ء) اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کے لیے والدین کی قابلِ تصدیق رضامندی کو لازم ٹھہراتا ہے۔
یہ پیش رفت خوش آئند ہے، مگر قانون صرف ایک دیوار کھڑی کر سکتا ہے، اور میدان دیوار سے نہیں بنتا۔ اگر اسکرین سے نکلنے والے بچے کو باہر کھیلنے کی جگہ، بات کرنے کو کوئی ساتھی اور سننے کو کوئی بڑا میسر نہ ہو، تو وہ کسی چور دروازے سے واپس اسی دنیا میں لوٹ جائے گا۔
ہم اس کے علاج کے لیے کچھ اصول تجویز کرنا چاہتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ ہائی اسکول سے پہلے، یعنی تقریباً چودہ برس کی عمر تک، بچے کو اسمارٹ فون نہ دیا جائے؛ رابطے کی ضرورت ہو تو سادہ بٹنوں والا فون کافی ہے۔ دوسرا یہ کہ سولہ برس کی عمر سے پہلے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہ بنے۔ تیسرا یہ کہ اسکول کا پورا دن فون سے آزاد ہو، تاکہ جماعت میں یکسوئی اور وقفے میں باہمی میل جول بحال ہو سکے۔ چوتھا یہ کہ حقیقی دنیا میں بچوں کو زیادہ آزادی، زیادہ بے نگرانی کھیل اور اپنی عمر کے مطابق زیادہ ذمہ داری دی جائے۔
ان اصولوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کوئی ایک گھرانہ تنہا یہ فیصلہ کرے تو اس کا بچہ اپنی جماعت میں اکیلا رہ جاتا ہے، کیونکہ باقی سب کے پاس فون ہے۔ یہ جال انفرادی ارادے سے نہیں، اجتماعی عہد سے ٹوٹتا ہے۔ ہمارے ماحول میں اس کی عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک ہی جماعت کے والدین اسکول کی سرپرستی میں مل بیٹھیں اور ایک مشترکہ میثاق طے کریں: کس عمر تک اسمارٹ فون نہیں، رات کو فون سونے کے کمرے سے باہر، اور سالگرہ یا تقریب میں فون کے بجائے کوئی اور تحفہ۔ جب پوری جماعت ایک ساتھ قدم اٹھاتی ہے تو کوئی بچہ تنہا نہیں ہوتا۔
گھر کی سطح پر سب سے مؤثر قدم بچے پر پابندی نہیں، اپنے رویے کی اصلاح ہے۔ جو باپ کھانے کی میز پر خود اسکرین میں گم ہو، اس کی نصیحت اس کے بچے تک کبھی نہیں پہنچتی۔ گھر میں فون سے پاک چند اوقات، کھانے کے دوران گفتگو کی روایت، اور ہفتے میں ایک شام صرف اہلِ خانہ کے لیے؛ یہ معمولی تبدیلیاں نہیں، بلکہ اس گھر کی بحالی ہیں جس سے بچہ بھاگ کر اسکرین میں پناہ لیتا تھا۔ اور جن گھروں میں جگہ کی تنگی ہے، وہاں بچے کو کوئی ایک گوشہ، کوئی ایک الماری، کوئی ایک وقت ایسا دینا ضروری ہے جو صرف اس کا ہو، تاکہ اسے نجی پن کے لیے اسکرین کا محتاج نہ رہنا پڑے۔
محلے اور بستی کی سطح پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں شام کے وقت عمارت کا احاطہ اور چھت بچوں کے کھیل کے لیے کھول سکتی ہیں۔ مساجد، مدارس اور برادری کے ہال اپنے صحن کتاب خوانی، کہانی گوئی اور کھیل کی سرگرمیوں کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔ شہری منصوبہ سازوں کو یہ ماننا ہوگا کہ کھیل کا میدان تعمیراتی نقشے کا فاضل حصہ نہیں، شہر کی بنیادی ضرورت ہے؛ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ جواب دینا ہوگا کہ وہ کم سن صارفین کے لیے لامتناہی اسکرول اور رات بھر بجنے والی اطلاعات کیوں برقرار رکھتی ہیں۔ آخر میں، ہماری جامعات کو وہ تحقیق کرنی ہوگی جو ہندوستانی بچے کو اس کے اپنے سماجی سیاق میں سمجھے۔
اس بحث کا ایک رخ ایسا ہے جو ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا۔ جو نسل اختلاف سے گزرے بغیر، ناکامی چکھے بغیر اور بوریت سہے بغیر بڑی ہو رہی ہے، وہ کل کس طرح کی ملازم، کس طرح کی شریکِ حیات اور کس طرح کی شہری ہوگی؟ جمہوریت اس صلاحیت پر قائم ہے کہ ہم اپنے مخالف کی بات سن سکیں اور اس کے باوجود اس کے ساتھ ایک ہی بستی میں رہ سکیں۔ یہ صلاحیت کسی درسی کتاب سے نہیں آتی؛ یہ گلی کے جھگڑوں اور میدان کی ہار جیت سے پیدا ہوتی ہے۔ جس سماج کے بچوں نے کبھی آمنے سامنے اختلاف نبھانا نہ سیکھا ہو، اس کے بالغ ایک دوسرے کو صرف بلاک کرنا جانیں گے۔
ٹیکنالوجی کا اگلا موڑ بھی ہمارے دروازے پر کھڑا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے رفیق وجود میں آ رہے ہیں جو کبھی تھکتے نہیں، کبھی روٹھتے نہیں اور ہر بات پر حامی بھرتے ہیں۔ جو بچہ ایسے دوست کا عادی ہو جائے، اسے انسانی دوستی کی کھردری، بے ترتیب اور کبھی کبھی تکلیف دہ حقیقت بوجھ لگنے لگے گی۔ سوشل میڈیا کا سبق یہ ہے کہ ہم نے نقصان کو اس وقت پہچانا جب ایک پوری نسل اس سے گزر چکی تھی۔ دانش مندی یہ ہے کہ اس بار ہم سوال پہلے اٹھائیں اور آلہ بعد میں بچوں کے ہاتھ میں دیں۔
اس پورے سفر کا حاصل ایک سادہ مگر مشکل سچائی ہے: بچپن کو اسکرین نے تنہا نہیں چرایا۔ ہمارے خوف نے اس کے آنگن پر تالا ڈالا، ہمارے شہروں نے اس کے میدان بیچ دیے، ہمارے امتحانی نظام نے اس کی دوپہریں گروی رکھ لیں، اور تب اسکرین آئی اور خالی جگہ پر قابض ہو گئی۔ اس لیے علاج بھی محض ممانعت سے نہیں ہوگا۔ ٹیکنالوجی سے دشمنی یا پتھر کے زمانے کی طرف پسپائی کوئی راستہ نہیں؛ راستہ یہ ہے کہ آلہ انسان کے تابع رہے، انسان آلے کے تابع نہ ہو۔
جس نے کبھی تتلی کے پیچھے دوڑ لگائی ہو، وہ جانتا ہے کہ وہ اکثر ہاتھ نہیں آتی۔ اسی ناکام دوڑ میں بچہ صبر سیکھتا ہے، محرومی سہنا سیکھتا ہے، اور جس دن تتلی مٹھی میں آ جائے، اس دن یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس کے پروں کا رنگ بند مٹھی میں مدھم پڑ جاتا ہے؛ اسے بچانے کا واحد طریقہ اسے چھوڑ دینا ہے۔ اسکرین ایسی تتلی ہے جو ہمیشہ ہاتھ آ جاتی ہے اور کبھی چھوڑی نہیں جاتی، اسی لیے وہ کچھ نہیں سکھاتی۔ ہمارے بچوں کو ایک ایسی دنیا کی ضرورت ہے جو کبھی کبھی انکار بھی کرے، کیونکہ انسان انکار ہی کی دہلیز پر کھڑا ہو کر بڑا ہوتا ہے۔ انہیں اسکرین سے واپس بلانا کافی نہیں؛ اصل فرض یہ ہے کہ ہم انہیں ایک ایسی دنیا میں واپس بلائیں جو ان کے لوٹنے کے لائق ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے