कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام کو جانیے کیا اسلام صرف مسلمانوں کا دین ہے؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

کائنات کی وسعتوں میں بھٹکتے انسان کو حقیقی منزل زندگی کو بامقصد راستہ اور دل کو دائمی سکون عطا کرنے والی اگر کوئی نعمت ہے تو وہ دینِ اسلام ہے۔ یہ وہ عظیم دولت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام شان و شوکت ہیچ ہے اور جس کی روشنی انسان کو اپنے خالق کی معرفت سے لے کر آخرت کی ابدی کامیابی تک پہنچاتی ہے۔
انسانیت پر اللہ ربّ العزت کی عنایات بے شمار ہیں لیکن سب سے بڑی عنایت دین اسلام ہے۔ جن لوگوں کو یہ نعمت عطا کی گئی ہے وہ نہایت خوش نصیب ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ انسان کو ایمان کا سیدھا راستہ نہ مل جائے تو وہ دولت اقتدار اور شان و شوکت جیسی چیزوں کو نا قابل توجہ سمجھتا ہے۔ اسلام انسانیت کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں یہ نیکی اور بھلائی کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ انسان کو نیک زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ اس کے ذہن کو بلند سوچ اور اخلاقی معیار عطا کرتا ہے اور اُسے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اسلام وہاں اسے لذت اور مسرت کے ہر سامان سے آراستہ جنت عطا کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
انسان تمام مخلوقات کا ایک حصہ ہے اور ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر سب سے اعلیٰ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی جبلی طلب اور اپنے خالق کی تلاش کا فطری جذبہ ہے۔
اسلام میں اس کو فطرت کہا جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِهِ
ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے مگر اُس کے والدین اُسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔(صحيح البخاري الجنائز باب ما قيل في أولاد المشركين۔ حديث 1385)۔
انسان جانتا ہے کہ زمین پوری کائنات کا محض ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ اس چھوٹی سی زمین میں لاتعداد مخلوق پیدا ہوتی رہتی ہے۔ انسان اس تعامل کا ئنات کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ اُسے یقین نہیں آتا کہ اُس کے ارد گرد کی کائنات اور اُس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض اتفاق سے وجود میں آ گیا ہے۔ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ کائنات مختلف اقسام کی بے ربط چیزوں کا ایک بے معنی مجموعہ نہیں ہے ۔ منطق اسے یہ بتاتی ہے کہ سب کچھ کسی خالق ، مدیر منتظم، حاکم اور مالک کے بغیر نہیں ہو سکتا، لیکن اس وسیع و عریض عظیم الشان اور بے انتہا کا ئنات کا خالق آخر کون ہو سکتا ہے؟ یقینا اُس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا جو ہر عیب سے پاک، صفات کمال کا حامل ، لا محدود ، سب کچھ جاننے والا اور بے انتہا قوت کا مالک ہو۔
یہ خالق نہ کوئی انسان ہے نہ کوئی جانور، نہ پودا ہے نہ کوئی بت یا کسی قسم کا مجسمہ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کچھ تخلیق کر سکتا ہے نہ کسی واقعے کا سبب بن سکتا ہے۔ یقینا وہ خالق اپنی مخلوق سے مختلف ہو گا۔ عقل ہمیں بتاتی ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے عظیم ہونا چاہیے۔ اس لیے اہل علم خالق کو پہچانتے ہیں اور اُسے اللہ کہتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے۔
قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
(اے محمد ) کہہ دیجیے وہ اللہ واحد ہے۔ وہ بے نیاز ہے، اُس نے نہ کسی کو جنا ہے نہ کسی نے اُس کو جنا ہے اور کوئی اس کا برابر یا مقابل نہیں ہو سکتا۔ (سورہ اخلاص)۔
اس کے علاوہ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ تمام الوہی صفات کا ملہ ایک ہی ہستی میں موجود ہوں جو ہر چیز پر قادر ہو۔ ان صفات سے متصف دو یا اس سے زیادہ ہستیوں کا وجود ہی خلاف عقل ہے کیونکہ جس طرح ایک ملک پر دو بادشاہ مل کر حکومت نہیں کر سکتے اسی طرح دو یا اس سے زیادہ مقتدر اعلیٰ ہستیاں بھی اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ مقتدر اعلیٰ ایک اور صرف ایک ہی ہونا چاہیے جو تمام الوہی صفات کاملہ کا مالک ہوتا کہ وہ ہر چیز کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ متعدد معبودوں کا ہونا قطعاً ناممکن ہے کیونکہ ان کے درمیان تصادم ناگزیر ہے۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو ایک سچے الہ کی اطاعت یعنی خالص توحید پر ایمان لانے پر بنی ہے جس کا مطلب صرف ایک معبود کی عبادت کرنا ہے۔ عربی میں لفظ اسلام کے معنی ہیں۔ اطاعت اور امن کیونکہ اپنے آپ کو اللہ ربّ العزت کی مرضی کے سپرد کر کے ہی انسان کو دنیا اور آخرت میں امن مل سکتا ہے۔ اسلام کا پیغام اللہ کا پیغام ہے اور یہ انسان کو اس کی فطرت کی گہرائیوں تک متاثر کرتا ہے۔ اس پیغام کا تعلق تمام انسانیت ( مرد و عورت) سے ہے کیونکہ ان سب کو اللہ ہی نے تخلیق کیا ہے مگر اسلام کے نزدیک انسان ( بعض دیگر عقائد و نظریات کے برعکس جو انسان کو فطرنا برا سمجھتے ہیں ) مردود و معتوب نہیں ہے۔ پس توحید الوہیت کا اعلیٰ ترین تصور ہے جس کی تعلیم دینے کے لیے اللہ ربّ العزت نے اپنے انبیاء کے ذریعے سے اپنی آیات انسانوں تک پہنچا ئیں۔ ابتدا میں یہی علم دے کر حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا گیا اور پھر یہ علم متعدد انبیاء کے ذریعے سے آئندہ نسلوں کو منتقل ہوتا رہا اور بالآخر خاتم النبین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وساطت سے اسے مکمل شکل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نافذ کر دیا گیا۔
محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم انبیاء کے آخری نبی ہیں اور اسلام بنی نوع انسان کے لیے اللہ ربّ العزت کا آخری اور حتمی دین ہے۔ اس کا پیغام قرآن ہے جو یوم حشر تک کے لیے ایک جامع اور عالمگیر منبع ہدایت ہے جو انسانیت کے مسائل حل کر کے انسانوں کو اللہ ربّ العزت کی مرضی کے تابع بناتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے۔
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دينا۔
آج میں نے تمھارا دین تمھارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور میں نے اسلام کو تمھارے لیے بطور دین پسند کر لیا ہے ۔(سورہ المائدہ آیت نمبر 3 )
اللہ ربّ العزت ہمیں اسلام کو سمجھنے اس پر مکمل طور پر عمل کرنے اور اس کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں اتارنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے اور ہمارا خاتمہ ایمان و اسلام پر فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے