कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جمہوریت کی ماں اور سوال کرتے بچے

جو ریاست شکایت کو بغاوت سمجھنے لگے، وہ اپنی اولاد کی آواز نہیں، اپنا مستقبل کھوتی ہے

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

ماں کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے آنگن میں ہمیشہ سناٹا رہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ بچہ روتا ہوا آئے تو اس کے لیے دروازہ کھلا ہو؛ شکایت سننے سے پہلے اس کی زبان نہ پرکھی جائے، آنسو دیکھنے سے پہلے اس کی وفاداری کا امتحان نہ لیا جائے۔ جو گھر آواز دبانے کو سکون سمجھ لے، وہاں خاموشی تو آ سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ ہم دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے۔ پھر اپنے ہی نوجوانوں کے سوال سنتے وقت ہماری پیشانی پر شکن کیوں آ جاتی ہے؟ ماں ہونے کا اعزاز قبول ہے تو سننے کا حوصلہ کہاں ہے؟
یہ ایک استعارہ ہے، شہریوں کو نابالغ قرار دینے کی دلیل نہیں۔ جمہوری ریاست میں عوام برابر کے حق دار ہیں؛ حکومت ان کی سرپرستِ مطلق نہیں، ان کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس لیے سوال کرنا کسی مہربان حکمراں کی عنایت کا منتظر نہیں رہ سکتا۔ یہ شہری اور ریاست کے رشتے کی بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر آج کی بے چینی کو دیکھیے: نوجوان پوچھ رہا ہے کہ میرا امتحان معتبر کیسے ہوگا، میری محنت محفوظ کیسے ہوگی، میرا نام ووٹر فہرست میں درست کیسے رہے گا؟ کیا ان سوالوں کا جواب صرف نظم و ضبط کی تنبیہ ہے؟
دس اکتوبر ۲۰۲۶ کے احتجاج پر بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے ’’فلاپ شو‘‘ اور ہجوم کی حکمرانی پر جمہوریت کی فتح کی تعبیر استعمال کی۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے۔ مگر اس مؤقف کے سامنے ایک سوال بھی کھڑا ہے: اگر مظاہرہ بے وزن تھا تو اس کے راستے روکنے کا انتظام اتنا بھاری کیوں تھا؟ ریاست کو قابلِ اعتبار خطرے کی صورت میں پیش بندی کا اختیار ضرور ہے، لیکن اس اختیار کی ضرورت اور وسعت کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔ کم حاضرین کی تصویر، ان لوگوں کی عدم موجودگی کا جواب نہیں جو پہنچ ہی نہ سکے۔
رائٹرز کی ۱۰ اکتوبر کی خبر، جو ۱۱ اکتوبر کو تازہ ہوئی، میں وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے دہلی میں دو ہزار سے زیادہ افراد کی حراست کا ذکر ہے۔ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق تھا۔ بھارتی نمائندگی نے بین الاقوامی تنقید کے جواب میں امنِ عامہ کے لیے معقول پابندیوں کا مؤقف پیش کیا۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے جانبداری کے الزامات مسترد کیے۔
دونوں باتیں سامنے رہنی چاہییں: حکومت کا مؤقف بھی، شہری کا تجربہ بھی۔ الزام کو ثبوت کا درجہ دینا غلط ہے، مگر شکایت کو سننے سے پہلے سازش کا درجہ دے دینا بھی انصاف نہیں۔ کسی ادارے پر سوال اٹھے تو اس کی ساکھ کی بہترین حفاظت جواب سے ہوگی۔ شہری کی زبان بند کر دینے سے ادارے کی درستی ثابت نہیں ہوتی۔
اس تحریک کی ایک جڑ امتحانی نظام پر اعتماد کا بحران ہے۔ جولائی کی رپورٹنگ میں نیٹ کے دوبارہ امتحان سے تقریباً بیس لاکھ امیدواروں کے متاثر ہونے کا ذکر آیا۔ لائیو منٹ کی زمانی روداد نے اسے سینتیس روزہ تحریک سے تعبیر کیا اور بتایا کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف غصہ کس طرح سی جے پی کی صورت میں منظم ہوا۔ ان نوجوانوں کے لیے امتحان صرف چند گھنٹوں کا پرچہ نہیں تھا؛ گھر کے خرچ میں سے نکالی گئی کوچنگ کی فیس، ملتوی خواہشیں اور برسوں کی تیاری اس کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔
۲۵ جولائی کو دھرمیندر پردھان مستعفی ہوئے۔ حکومت نے امتحانی اصلاحات، مظاہرین پر مقدمات واپس لینے اور متعلقہ متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کے مطالبات قبول کرنے کا اعلان کیا؛ سی جے پی نے احتجاج ختم کرنے کو کہا۔اعلان اور مکمل عملی نفاذ الگ مرحلے ہیں، لیکن اس روز مذاکرات نے تعطل ختم کیا۔ یہ سبق کیوں بھلا دیا جائے کہ بات سننا ریاست کی شکست نہیں ہوتا؟ کبھی ایک میز، گھنٹوں کے محاصرے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
جولائی کو مکمل نرمی اور اکتوبر کو پہلی سختی قرار دینا بھی درست تصویر نہیں؛ جولائی کی رپورٹنگ میں تصادم اور آنسو گیس کا ذکر بھی موجود ہے۔ اصل فرق یہ ہے کہ آخرکار گفتگو کا راستہ نکلا تھا۔ تب بھی اختلاف تھا، ناراضی تھی، دباؤ تھا؛ پھر بھی بات ہوئی۔ تو اب کون سا اصول بدل گیا ہے؟ امتحان سے اٹھنے والا سوال جب انتخاب تک پہنچے تو سننے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے یا بڑھ جاتی ہے؟
اکتوبر کی تازہ پیش رفت اس سوال کو مزید سنجیدہ بناتی ہے۔ ۱۲ اکتوبر کو جنتر منتر مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا اور تین متبادل مقامات مقرر کیے گئے۔ ۱۵ اکتوبر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا، احتجاج کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کو کہا اور الیکشن کمیشن اور کمشنروں سے متعلق درخواست پر جواب طلب کیا۔ اس کارروائی میں ۴۶ درخواستوں کا ذکر ہوا۔ یہ جواب طلبی ہے، الزامات کی حتمی توثیق نہیں۔
جگہ کے سوال کو بھی صرف نقشے کا سوال مت سمجھیے۔ احتجاج کہاں ہو، کتنے لوگ ہوں، آمدورفت کیسے محفوظ رہے؛ یہ انتظام کے جائز موضوع ہیں۔ مگر متبادل ایسا ہونا چاہیے جہاں بات کی جا سکے اور متعلقہ اداروں تک پہنچے۔ اگر اجازت کا مطلب صرف اتنا رہ جائے کہ شہری اپنی ناراضی کسی ایسی جگہ لے جائے جہاں اسے کوئی سننے والا نہ ہو، تو اظہار کی عملی قدر کیا بچے گی؟
۱۹ اکتوبر کو سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی حراست میں دو دن کی توسیع ہوئی۔ ۲۰ اکتوبر کی بار اینڈ بینچ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ۲۱ اکتوبر تک حراست کے حکم کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ رپورٹ میں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کا مؤقف بھی درج ہے: سابقہ رویے، امن میں خلل کے اندیشے اور پیش کردہ ضمانتوں پر اعتراضات۔ درخواست دائر ہونے کو رہائی یا حکم کی منسوخی نہ سمجھا جائے؛ اس کے لیے الگ عدالتی حکم درکار ہوگا۔
یہی تو جمہوری طریقے کا امتحان ہے۔ انتظامیہ اپنے اقدام کی دلیل دے، متاثرہ شخص اسے چیلنج کرے اور آزادانہ جانچ ہو۔ حراست کو سزا کا مترادف نہ بنائیے، اور محض اختلاف رکھنے کو بے گناہی کا خودکار ثبوت بھی نہ سمجھیے۔ ہر شخص کے معاملے میں فعل، ثبوت، قانونی ضرورت اور تناسب الگ پرکھنا ہوگا۔ حقوق کی حفاظت اسی انفرادی انصاف سے ہوتی ہے، اجتماعی لیبل سے نہیں۔
ووٹر فہرستوں کے معاملے میں عدد کی ہیبت سے پہلے اس کا مفہوم سمجھیے۔ ۹ اکتوبر کو تازہ کردہ رائٹرز رپورٹ میں تقریباً ۱۳ کروڑ حذف شدہ اندراجات کا ذکر ہے۔ کمیشن کے اعداد کے حوالے سے بڑی وجوہ میں وفات، نقلِ مکانی، تکرار اور متعلقہ شخص کا سراغ نہ ملنا شامل ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ غلط طور پر خارج اہل ووٹر نام شامل کرا سکتے ہیں اور فیصلوں کے خلاف اپیل بھی ممکن ہے۔
تیرہ کروڑ حذف شدہ اندراجات کو تیرہ کروڑ زندہ اہل شہریوں کی مستقل محرومی کہنا درست نہیں ہوگا۔ وفات یافتہ اور دہرے اندراجات کا اخراج فہرست کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ مگر اس وضاحت سے اصل سوال ختم نہیں ہوتا: کتنے اہل شہری غلط خارج ہوئے؟ کتنے بحال ہوئے؟ کتنے ووٹ ڈالنے کی تاریخ سے پہلے اپنے حق تک پہنچ سکے؟ مسودہ، حتمی فہرست، بحالی اور خالص کمی کے اعداد الگ الگ سامنے آنے چاہییں۔
بہار کے ۳۰ ستمبر ۲۰۲۵ کے سرکاری اعلامیے میں ابتدائی تعداد ۷ کروڑ ۸۹ لاکھ اور حتمی تعداد تقریباً ۷ کروڑ ۴۲ لاکھ درج ہے۔ مسودے سے ۶۵ لاکھ نام باہر ہوئے؛ بعد کے مرحلے میں ۲۱ لاکھ ۵۳ ہزار شامل اور ۳ لاکھ ۶۶ ہزار مزید حذف ہوئے۔ یوں خالص کمی تقریباً ۴۷ لاکھ تھی۔ یہاں ہر عدد ایک الگ مرحلے کی خبر دیتا ہے؛ انہیں ایک دوسرے کی جگہ رکھنا تحقیق نہیں ہوگا۔
۲۰ اکتوبر کی رائٹرز رپورٹ میں دہلی کے ۵۳ سالہ درزی کامتا پرساد کی مثال ہے، جو زندہ ہونے کے باوجود وفات یافتہ درج ہوئے۔ اسی خبر میں دہلی کی مسودہ فہرست سے تقریباً ۴۲ لاکھ اخراجات اور بعض مقامات پر دوبارہ تصدیق کا ذکر ہے۔ ایک زندہ شہری کو اپنی زندگی کا ثبوت لے کر دفتر جانا پڑے تو اس کے غصے میں محض سیاست مت تلاش کیجیے۔ وہاں ایک انسان کی تذلیل کا احساس بھی ہے۔
ووٹ کا اندراج، شہریت کا فیصلہ اور فلاحی اسکیم کی اہلیت الگ قانونی معاملات ہیں۔ ووٹر فہرست سے اخراج ان سب کے خودکار خاتمے کا ثبوت نہیں۔ لیکن غیر یقینی میں مبتلا شہری کے خوف کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر وہ اپنے راشن، اپنے کاغذ اور اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہے تو ریاست کی ذمہ داری واضح معلومات اور آسان اصلاحی راستہ دینا ہے، اس خوف کو مزید بڑھانا نہیں۔
قانونی تصویر کا دوسرا اہم حصہ ۲۷ مئی ۲۰۲۶ کا فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے بہار کی ایس آئی آر کی قانونی حیثیت برقرار رکھی اور نوٹس، سماعت، وجوہ پر مبنی فیصلہ اور اپیل کے تحفظات کو اہم سمجھا۔ اس کے سرکاری خلاصے میں غلط اخراج کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی گنجائش بھی واضح ہے۔ اس لیے پوری کارروائی کو بلا امتیاز غیر قانونی قرار دینا بھی نامناسب ہے اور اس فیصلے کو ہر انفرادی غلطی کی توثیق بنا دینا بھی۔
ایک نئی انتظامی پیش رفت ۱۵ اکتوبر کی ہدایت ہے، جس میں ۱۷ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے خصوصی خلاصہ نظرثانی مقرر ہوئی۔ ۱۸ اکتوبر کی انڈین ایکسپریس وضاحت کے مطابق یہ ایس آئی آر سے مختلف عمل ہے۔ ہدایت میں قابلِ مطالعہ پی ڈی ایف دینے کا ذکر ہے؛ مکمل مشینی تلاش اور تجزیے کے قابل فہرست کی دستیابی اس عبارت سے قطعی ثابت نہیں ہوتی۔ اعتماد کے لیے صرف نئی اصطلاح کافی نہیں؛ شہری کو اس کا فائدہ بھی نظر آنا چاہیے۔
سیاسی زبان کا معاملہ بھی اسی اعتماد سے جڑا ہے۔ ۱۵ اگست ۲۰۲۶ کی تقریر میں وزیرِ اعظم نے ’’دماغی نکسلیوں‘‘ کی نشاندہی اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی بات کی، ان کا سیاق ماؤ نواز نظریے اور تشدد و انارکی کی طرف لوٹانے کی کوششوں سے متعلق تھا۔ اس سیاق کو حذف کرکے عبارت پیش کرنا مناسب نہیں۔ لیکن ایک بنیادی فرق ہر صورت قائم رہنا چاہیے: تشدد کی تائید اور پُرامن تنقید ایک چیز نہیں۔
لیبل خطرناک تب بنتا ہے جب وہ ثبوت کی جگہ لے لے۔ پھر سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے کی نیت پر فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ جو لکھتا ہے، جو پڑھتا ہے، جو کسی متاثرہ گروہ کی بات اٹھاتا ہے، اسے اپنے مؤقف کی دلیل دینی ہوگی؛ مگر اس کی دلیل کا جواب بھی دلیل ہی ہونا چاہیے۔ سوچنے کا عمل جرم کا قرینہ بن جائے تو درس گاہیں کیا پیدا کریں گی: باشعور شہری یا محتاط خاموشی؟
ہماری تہذیبی روایت میں سوال کی بہت جگہ ہے۔ بدھ کی جستجو، کبیر کی بے باک آواز اور مناظرے کی علمی روایت یاد دلاتی ہے کہ اختلاف ہماری زمین پر اجنبی نہیں۔ اس تاریخ کو مثالی بنا کر اس کے تمام جبر بھلا دینا درست نہیں، مگر اس کے مکالماتی امکانات سے سبق ضرور لیا جا سکتا ہے۔ ورثے پر فخر تب بامعنی ہوگا جب آج کا نوجوان بھی اس میں اپنے سوال کی جگہ دیکھ سکے۔
البرٹ ہرشمین کی کتاب ’’ایگزٹ، وائس اینڈ لائلٹی‘‘ اداروں سے ناراضی کے دو اہم ردعمل سامنے لاتی ہے: نکل جانا اور آواز اٹھانا۔ اس تصور کی روشنی میں میرا سوال ہے: جو شہری اصلاح مانگتا ہے، کیا وہ تعلق کی کوئی امید بھی ساتھ نہیں لاتا؟ وہ ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچا کہ سب بے سود ہے۔ وہ دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے، کیونکہ اسے اب بھی گھر کے اندر کسی جواب کی توقع ہے۔
ہر احتجاج کو وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینا ضروری نہیں؛ ہر اعتراض سے فرار یا لاتعلقی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ مگر مسلسل اَن سنی کیے جانے کا خطرہ سمجھنا چاہیے۔ نوجوان کبھی ملک چھوڑتا ہے اور کبھی اجتماعی زندگی سے دل اٹھا لیتا ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی ثابت شدہ سبب سے جوڑنا درست نہیں، لیکن بے اعتمادی کا پھیلنا اپنی جگہ تشویش ہے۔ وہ دن خوش خبری کا نہیں ہوگا جب نوجوان سوال اس لیے چھوڑ دے کہ اسے جواب کی امید نہ رہی ہو۔
میں نے کلاس روم میں دیکھا ہے کہ سوال اکثر ذہنی شرکت کی علامت ہوتا ہے۔ جو بچہ وجہ پوچھتا ہے، وہ سبق کے اندر داخل ہونا چاہتا ہے۔ اسے چپ کرا دینا آسان ہے؛ اس کے سوال کے ساتھ محنت کرنا مشکل۔ استاد کی اصل قوت اسی محنت میں نظر آتی ہے۔ ریاست کے لیے بھی یہی سبق ہے: اعتراض سننے سے اختیار کم نہیں ہوتا، اس کے استعمال کی سمجھ بڑھ سکتی ہے۔
عدم تشدد کی تحقیق بھی امید کے ساتھ احتیاط سکھاتی ہے۔ ایریکا چینووتھ اور ماریا اسٹیفن نے ۱۹۰۰ سے ۲۰۰۶ تک کی ۳۲۳ بڑی تحریکوں کا مطالعہ کیا؛ ان کے نتائج میں غیر متشدد مہمات مسلح مہمات سے دو گنا سے زیادہ کامیاب رہیں۔ یہ بنیادی طور پر اقتدار کی تبدیلی یا علاقائی آزادی جیسی بڑی مہمات کا تاریخی مطالعہ تھا، ہر مقامی مظاہرے کی کامیابی کی پیش گوئی نہیں۔ میرے نزدیک اس سے ایک عملی سبق نکلتا ہے: پُرامن راستوں کو مؤثر رہنے دیجیے۔
مظاہرین کی ذمہ داری بھی واضح ہے۔ دلیل کی صحت، پُرامن نظم، املاک کی حفاظت اور مخالف کے حقوق کا احترام ان کی اخلاقی قوت ہیں۔ احتجاج کی تکلیف کسی دکان دار یا راہ گیر پر بے حساب منتقل کر دینا انصاف نہیں۔ اسی طرح انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ اجتماع کو محفوظ بنانے کے قابلِ عمل طریقے تلاش کرے۔ دونوں طرف جواب دہی چاہیے؛ البتہ ریاست کے پاس قوت زیادہ ہے، اس لیے اس کی قانونی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔
منتخب حکومت کو مینڈیٹ حاصل ہے۔ مگر مینڈیٹ جواب دہی سے استثنا نہیں۔ آرٹیکل ۱۹ اظہار اور بلا ہتھیار پُرامن اجتماع کی آزادی تسلیم کرتا ہے اور متعلقہ شقوں کے تحت معقول پابندیوں کی گنجائش بھی رکھتا ہے۔ اصل کام اسی توازن کو دلیل کے ساتھ قائم کرنا ہے۔ اکثریت حکومت چلاتی ہے؛ شہری کی بات سننے کی ذمہ داری صرف اگلے انتخاب کے دن تک ملتوی نہیں کی جا سکتی۔
راستہ ہمارے سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن اخراج، بحالی، اپیل اور زیرِ التوا شکایات کے الگ اعداد پیش کرے۔ غلط اندراج کی اصلاح آسان ہو، جانچ شفاف ہو اور نجی معلومات محفوظ رہیں۔ سیاسی جماعتیں اشتعال انگیز لیبل کے بجائے قابلِ جانچ دعوے اور جواب سامنے رکھیں۔ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو اختلاف کا سلیقہ سکھائیں، اور نوجوان اپنے حق کے ساتھ اپنی ذمہ داری بھی نبھائیں۔
مستقبل کا مورخ صرف یہ نہیں گنے گا کہ کتنے لوگ جمع ہوئے اور کتنے روکے گئے۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ شکایت کو سننے کے لیے کتنے دروازے کھلے تھے۔ کیا ایک غلط اندراج آسانی سے درست ہوا؟ کیا کسی طالب علم کی محنت کو انصاف ملا؟ کیا قانون نے کمزور شہری کو واقعی سہارا دیا؟ جمہوری عظمت کا حساب انہی معمولی دکھائی دینے والے تجربات سے بنے گا۔
گھروں کی طرح قوموں میں بھی دو قسم کا سناٹا ہوتا ہے۔ ایک اطمینان سے پیدا ہوتا ہے: بات سنی گئی، شکایت جانچی گئی، جہاں غلطی تھی وہاں اصلاح ہوئی۔ دوسرا مایوسی سے جنم لیتا ہے: کہنے والے نے سمجھ لیا کہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ باہر سے دونوں خاموشیاں ایک جیسی لگ سکتی ہیں، مگر ایک زندہ گھر کی آسودگی ہے اور دوسری رشتے کے اندر پڑ جانے والا خلا۔
جمہوریت کی ماں کو اپنے آنگن میں پہلا سناٹا چاہیے۔ اس کے لیے اسے سوال سننے ہوں گے۔ جس دن نوجوان دروازہ کھٹکھٹانا چھوڑ دیں، اس دن کامیابی کا جشن منانے سے پہلے یہ ضرور دیکھیے گا کہ کہیں وہ جواب کی امید تو نہیں چھوڑ بیٹھے۔ کیونکہ ریاست شکایت کو خاموش کرکے ایک دن کا سکون پا سکتی ہے؛ اپنے نوجوانوں کا اعتماد کھو کر وہ اپنا مستقبل محفوظ نہیں رکھ سکتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے