कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہند۔پاک تعلقات : امن کی خواہش یا طاقت کا مظاہرہ؟

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

گزشتہ چند دنوں میں نئی دہلی میں منعقدہ ٹائمز نیٹ ورک نیشنل ڈیفنس کانکلیو 2026 کے دوران ہندوستانی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے جو الفاظ کہے، انہوں نے جنوبی ایشیا کے سیاسی ماحول کو ایک بار پھر متاثر کر دیا۔ انہوں نے واضح لہجے میں کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے اگر کوئی نئی دہشت گرد کارروائی ہوئی تو ہندوستان کا جواب پچھلے تمام آپریشنز سے بھی زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملوں اور سرجیکل اسٹرائیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف فوجی کارروائیاں نہیں تھیں بلکہ قومی رویے میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت تھیںجہاں سفارتی مذمت سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کی جڑ تک پہنچ کر اسے ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت امن کا خواہشمند ہے، لیکن اس امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ طاقت اور صلاحیت بھی امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
اس بیان کا سیاق سمجھنا ضروری ہے۔ اس وقت کوئی بڑا نیا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ تاہم 12 اکتوبر 2026 کو پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب چار پاکستانی دہشت گرد (جن میں لشکر طیبہ کا ایک سینئر کمانڈر بھی شامل تھا) گھسپٹ کی کوشش کرتے ہوئے بارودی سرنگ کے دھماکہ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ پہلگام حملہ (اپریل 2025) سے متعلق آپریشنز جاری تھے جن میں متعدد اہم دہشت گردوں کو ختم کیا گیا۔ راجناتھ سنگھ کا بیان بنیادی طور پر دفاعی کانفرنس میں ہندوستان کی قائم شدہ پالیسی کا اعادہ تھا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کا موقف برقرار رہے گا۔ یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہندوستان اب صرف مذمت پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ کارروائی کو ترجیح دیتا ہے۔
اس بیان کے چند گھنٹوں کے اندر ہی پاکستان کے خارجہ دفتر نے شدید رد عمل دیا۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے اسے اشتعال انگیز اور’’ہیمونک ذہنیت‘‘ کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی کے واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ کوئی بھی غلط فہمی سخت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان کی نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر جنرل عامر رضا نے بھی کہا کہ جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں اور کوئی بھی غلطی اس کے شروع کرنے والے کے لیے سخت جواب کا باعث بنے گی۔
اسی ہفتے پاکستان میں ایک اور واقعہ سامنے آیا۔ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریباً دو سو سال پرانے تاریخی رام لیلا مندر کو تجارتی پلازہ بنانے کے لیے ڈھانے کی کوشش کی گئی۔ رحیم بازار میں واقع یہ مندر محکمہ آثار قدیمہ کی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل تقریباً 400 عمارتوں میں سے ایک ہے۔ مقامی سول سوسائٹی کے صدر سہیل احمد اعظمی اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں نے موقع پر پہنچ کر مزدوروں کو روکا۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو سیل کر دیا۔ یہ واقعہ دونوں ممالک میں مذہبی اقلیتوں اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے سوالات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تاریخی ورثے کا احترام علاقائی امن کے لیے بھی اہم ہے۔اسی طرح ہندوستان میں بھی وقتاً فوقتاً مساجد اور دیگر مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات سامنے آتے رہے ہیں، جو اعتماد کی کمی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہند-پاک تعلقات اس نئی کشیدگی کے بعد کہاں جائیں گے؟ کیا حالات مزید بگڑیں گے یا قابو میں رہیں گے؟ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی کہانی 1947 کی تقسیم سے شروع ہوتی ہے۔ اس تقسیم نے نہ صرف دو نئے ممالک کو جنم دیا بلکہ لاکھوں لوگوں کی ہجرت، خونریزی اور گہرے زخموں کو بھی جنم دیا۔ اس کے فوراً بعد 1947-48 میں پہلی کشمیر جنگ ہوئی۔ پھر 1965 میں دوسری جنگ، 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے ساتھ تیسری بڑی جنگ، اور 1999 میں کارگل کی محدود مگر شدید جھڑپ۔ ان جنگوں نے دونوں ممالک کے ذہنوں میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔نوے کی دہائی میں دونوں ممالک نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے۔ 1998 کے جوہری دھماکوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اب کوئی بھی بڑی جنگ جوہری تباہی کا خطرہ رکھتی تھی۔ اس کے باوجود دونوں طرف سے بار بار کوششیں کی گئیں۔ اٹل بہاری واجپئی کی بس یاترا، کرکٹ ڈپلومیسی، اور بعد میں منموہن سنگھ کے دور میں جامع مذاکرات کے عمل نے کچھ امید پیدا کی تھی۔ مگر دہشت گردی کے واقعات نے ان تمام کوششوں کو بار بار ناکام بنا دیا۔دہشت گردی کے واقعات نے تعلقات کو بار بار زخمی کیا۔ 2016 میں یوری کے فوجی کیمپ پر حملہ، 2019 میں پلوامہ کا واقعہ، اور 2025 میں پہلگام میں سیاحوں پر حملہ‘ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو شدید کر دیا۔ ہنودستان نے ان واقعات کے بعد سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ فضائی حملے اور آپریشن سندور کے ذریعے جواب دیا۔ راجناتھ سنگھ کا حالیہ بیان انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ اسی دوران راجستھان بی جے پی کے صدر مدن راٹھور کا متنازعہ بیان بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کیونکہ وہ ہمارا پڑوسی ہے۔ بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ یہ بیان کرکٹ میچ کے سیاق میں تھا، مگر اس نے داخلی سیاسی تضادات کو واضح کر دیا کہ پاکستان کے حوالے سے موقف کبھی کبھار سیاسی سطح پر مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے۔پانی کا مسئلہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم اور حساس پہلو ہے۔ سندھ طاس معاہدہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا بنیادی معاہدہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس پر بھی تناؤ دیکھا گیا ہے۔ پانی کا یہ تنازع مستقبل میں تعلقات کو مزید متاثر کر سکتا ہے اگر باہمی مشاورت اور اعتماد سازی نہ کی گئی۔
دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں کا موازنہ اس تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں جوہری طاقتیں ہیں۔ ہندوستان روایتی فوجی طاقت، دفاعی پیداوار اور جدید ہتھیاروں میں آگے سمجھا جاتا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اسی کانفرنس میں بتایا کہ دفاعی پیداوار 2014 میں تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر اب 2 لاکھ کروڑ روپے کے ہدف تک پہنچنے والی ہے۔ بھارت آرٹلری گنز، جنگی جہاز، بکتر بند گاڑیاں، ریڈار سسٹم اور دیگر جدید ہتھیاروں کی مقامی پیداوار میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان جوہری روک تھام اور علاقائی حکمت عملی پر زیادہ زور دیتا ہے۔ چین کے ساتھ اس کے دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات بہت گہرے ہیں، جبکہ ہندوستان‘ امریکہ، فرانس اور اسرائیل سمیت کئی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط کر رہا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے باعث بڑی جنگ کا امکان کم ہے، لیکن محدود اور نشانہ بنا کر کی جانے والی کارروائیوں کا امکان برقرار رہتا ہے۔
اب صورتحال ایک اہم موڑ پر ہے۔ راجناتھ سنگھ 19 اور 20 اکتوبر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 25ویں اجلاس میںہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان کی طرف سے دفاعی وزیر اس سطح پر ایس سی او میں شرکت کر رہے ہیں (پہلے عموماً خارجہ وزیر جاتے تھے)۔ اس اجلاس میں پاکستان بھی رکن ہے۔ ایجنڈا بنیادی طور پر تجارت، سرمایہ کاری، کنیکٹیویٹی، جدت اور ثقافتی تبادلے پر مرکوز ہے، مگر حالیہ سخت بیانات کے تناظر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا دونوں ممالک وہاں ایک دوسرے سے براہ راست بات کریں گے یا صرف اپنے موقف دہرائیں گے؟ چین اور روس جیسے بڑے کھلاڑی اس بات کو یقینی بنانا چاہیں گے کہ ایس سی او کا پلیٹ فارم دو طرفہ تنازعہ کا شکار نہ ہو۔ اگر وہاں محتاط رویہ اپنایا گیا تو حالات قابو میں رہ سکتے ہیں، ورنہ کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ہندوستان میں اس وقت ماحول کچھ حد تک سنگین ہے۔ ووٹر لسٹ کے تنازعہ پر نوجوان سڑکوں پر ہیں اور سیاسی قطب بندی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں بیرونی محاذ پر سخت بیانات کا وقت اور مقصد دونوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ داخلی سیاسی دباؤ کے دوران اس طرح کے بیانات عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں، مگر طویل مدتی اعتماد کی کمی بڑھاتی ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے اس خاص بیان پر براہ راست ردعمل محدود رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں، مگر بڑی عالمی طاقتوں نے اس موقع پر براہ راست مداخلت نہیں کی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی توجہ فی الحال دیگر بحرانوںمشرق وسطیٰ، یوکرین اور عالمی معاشی غیر یقینی پر زیادہ مرکوز ہے۔
ماہرین کی آراء اس موضوع پر مختلف ہیں۔ کئی اسٹریٹیجک تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس علاقے میں سخت بیانات خطرناک ہو سکتے ہیں۔ معمولی واقعہ یا غلط فہمی بڑی کشیدگی میں بدل سکتی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کا موقف درست ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا اور دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ پاکستان بھی اپنی خودمختاری کے دفاع کا دعویٰ کرتا ہے۔ دونوں طرف عوام روزمرہ کی زندگی کی جدوجہد میں الجھے ہوئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے مسائل دونوں ممالک میں موجود ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ کئی نوجوان جنگ اور دشمنی کے بجائے مواقع، تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سیاسی بیانات اور سخت موقف اکثر اس آواز کو دبا دیتے ہیں، حالانکہ طویل مدتی امن کے لیے نوجوان نسل کی سوچ بہت اہم ہے۔ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ ہند-پاک تعلقات صرف جنگ اور دہشت گردی تک محدود نہیں رہے۔ لوگوں کے درمیان ثقافتی، کھیلوں اور کاروباری روابط کی تاریخ بھی ہے۔ کرکٹ میچز کبھی امید کی کرن بنتے تھے، فلمیں اور موسیقی سرحد پار مقبول رہی ہیں۔ رام لیلا مندر جیسا واقعہ اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ دونوں ممالک میں مذہبی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر دونوں حکومتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو صرف فوجی تیاری کافی نہیں۔ اعتماد سازی کے اقدامات جیسے قیدیوں کی رہائی، کھیلوں کے تبادلے، یا محدود تجارتی کھلے پن کی ضرورت ہے ۔ مگر موجودہ ماحول میں یہ باتیں مشکل لگتی ہیں۔
آخر میں یہ سوچنے کی بات ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف سخت بیانات سے نہیں بلکہ اعتماد سازی، مذاکرات اور باہمی مفادات کی پہچان سے آتا ہے۔ راجناتھ سنگھ کا بیان ہندوستان کی سیکیورٹی ترجیحات اور پچھلے تجربات کا آئینہ ہے، پاکستان کا جواب اس کے موقف کی عکاسی کرتا ہے، دوشنبے کا اجلاس دونوں ممالک کو ایک ہی میز پر لے آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اس موقع کو تناؤ کم کرنے کے لیے استعمال کریں گے یا صرف اپنے موقف کی فتح پر زور دیں گے؟ اس سوال کا جواب ہی خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ اگر دونوں ممالک اپنی داخلی کمزوریوں کو دور کرنے اور عوام کی حقیقی ضروریات پر توجہ دینے کے بجائے صرف ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہے تو جنوبی ایشیا کبھی بھی حقیقی امن نہیں دیکھ سکے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے