कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کائنات ایک خاموش کتاب

(مظاہرِ فطرت، انسانی شعور اور خالقِ کائنات کی معرفت)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

کائنات بظاہر خاموش ہے، مگر حقیقت میں یہ خاموشی کے پردے میں ایک مسلسل گفتگو ہے۔ اس کے ستارے، سیارے، کہکشائیں، پہاڑ، سمندر، درخت، موسم، ہوائیں، بارش کے قطرے اور انسانی وجود—سب اپنے اپنے انداز میں ایک ایسی کتاب کے صفحات ہیں جن پر قدرت نے اپنی نشانیاں ثبت کر رکھی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کتاب کے حروف سیاہی سے نہیں، نور، مادّے، حرکت، زندگی اور نظم سے لکھے گئے ہیں؛ اس کے ابواب کاغذ پر نہیں، زمان و مکان کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں؛ اور اس کے الفاظ کسی انسانی زبان میں نہیں بلکہ قوانینِ فطرت کی زبان میں ادا ہوتے ہیں۔
انسان نے جب سے آنکھ کھولی ہے، اس نے اپنے گرد موجود اس عظیم کتاب کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی اس نے ستاروں کی گردش میں وقت تلاش کیا، کبھی موسموں کی تبدیلی میں زندگی کے امکانات، کبھی سمندر کی موجوں میں قدرت کی قوت اور کبھی اپنے ہی وجود میں ایک ایسی دنیا دریافت کی جو پوری کائنات کا آئینہ معلوم ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو بار بار اسی کائناتی کتاب کے مطالعے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ آسمان و زمین، رات اور دن، بارش، ہواؤں، نباتات، حیوانات اور انسانی وجود کو محض مادی مظاہر کے طور پر نہیں بلکہ آیات یعنی نشانیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔ گویا کائنات ایک ایسا خاموش صحیفہ ہے جسے پڑھنے کے لیے صرف آنکھیں کافی نہیں؛ اس کے لیے عقل، تدبر، سوال، شعور اور قلبِ بیدار بھی ضروری ہے۔
کتاب عام طور پر بند ہوتی ہے اور اسے پڑھنے کے لیے کھولنا پڑتا ہے، مگر کائنات ایک ایسی کتاب ہے جو ہر لمحہ ہمارے سامنے کھلی ہوئی ہے۔ سورج ہر صبح ایک نیا صفحہ کھولتا ہے، شام اپنے رنگوں سے ایک نیا حاشیہ لکھتی ہے، رات آسمان پر ستاروں کے چراغ روشن کرکے انسان کو ایک اور باب پڑھنے کی دعوت دیتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں” (آل عمران: 190)۔ یہ آیت کائنات کے مطالعے کو محض تفریح یا حیرت کا موضوع نہیں بناتی بلکہ اسے اہلِ عقل کے لیے ایک فکری دعوت قرار دیتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کائنات ایک کتاب ہے تو اس کا قاری کون ہے؟ وہ انسان ہے۔ لیکن انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔ وہ کائنات کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اکثر اپنے آپ کو پڑھنا بھول جاتا ہے۔ وہ دور دراز کہکشاؤں کی پیمائش کرتا ہے مگر اپنے باطن کی گہرائیوں سے ناواقف رہتا ہے۔ وہ سمندر کی تہوں میں اترتا ہے مگر اپنے نفس کی تہوں میں اترنے سے گھبراتا ہے۔ وہ مریخ تک پہنچنے کا خواب دیکھتا ہے، مگر اپنے اخلاقی زوال سے نجات کا راستہ تلاش کرنے میں کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی کائنات کے مطالعے کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے: انسان نے کائنات کو سمجھنے کے لیے بے مثال ترقی کی، مگر کبھی کبھی کائنات کے خالق کو سمجھنے کی ضرورت کو نظرانداز کردیا۔
رات کے آسمان پر پھیلے ہوئے ستارے شاید کائنات کے سب سے قدیم اور سب سے خاموش صفحات ہیں۔ انسان نے ہزاروں سال سے انہیں دیکھا ہے۔ کبھی ان سے راستے معلوم کیے، کبھی موسموں کا اندازہ لگایا، کبھی ان کی گردش سے کیلنڈر بنائے اور کبھی ان کے وجود پر شاعری کی۔ لیکن جدید سائنس نے جب کائنات کے رازوں کو کھولنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہ روشن نقطے محض آسمانی چراغ نہیں، بلکہ بے حد عظیم اجرام ہیں؛ بعض ہم سے اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں برسوں، صدیوں یا اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ انسان جب آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اپنے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ احساس بھی علم کا حصّہ ہے کہ ہم بہت بڑے نہیں ہیں۔ کائنات کی وسعت انسان کے غرور کے لیے ایک خاموش درس گاہ ہے۔ ایک چھوٹا سا انسان، ایک چھوٹے سے سیارے پر، ایک عظیم کائناتی وسعت میں کھڑا ہوکر اپنے آپ کو مرکز سمجھنے لگتا ہے؛ حالانکہ اس کی زمین بھی ایک وسیع نظام میں ایک معمولی سا نقطہ ہے۔ یہ احساس انسان کو مایوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ متواضع بنانے کے لیے ہے۔
سورج ہماری زمین کے لیے محض ایک روشن جسم نہیں؛ زندگی کے پورے نظام کا بنیادی ستون ہے۔ پودوں کی نشوونما، موسموں کا نظام، پانی کا چکر، خوراک کی زنجیر اور زمین پر زندگی کے بے شمار مظاہر بالواسطہ یا بلاواسطہ سورج کی توانائی سے وابستہ ہیں۔ ہر صبح سورج کا طلوع ہونا ہمیں ایک عجیب سبق دیتا ہے۔ وہ اعلان نہیں کرتا کہ میں آج بھی آؤں گا؛ وہ خاموشی سے آتا ہے۔ وہ کسی سے اجرت نہیں مانگتا؛ روشنی بانٹتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کون امیر ہے اور کون غریب؛ اس کی روشنی سب پر پڑتی ہے۔ قدرت کے یہ مظاہر انسان کو محض طبیعی قوانین نہیں سکھاتے بلکہ اخلاقی استعارے بھی فراہم کرتے ہیں۔ انسان چاہے تو سورج سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ عظمت صرف جمع کرنے میں نہیں، دینے میں بھی ہے۔
پانی ایک معمولی سی چیز معلوم ہوتا ہے۔ ایک گلاس پانی ہمارے سامنے رکھا ہو تو شاید ہم اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دیں۔ لیکن اگر زمین سے پانی کا نظام چند دنوں کے لیے ختم ہوجائے تو انسانی تہذیب کے تمام دعوے بے معنی ہوجائیں۔ قرآن کہتا ہے: "وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو زندہ کیا” (الانبیاء: 30)۔ پانی کا ایک قطرہ بظاہر چھوٹا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پورا نظام موجود ہے۔ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں، بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے، دریا بہتے ہیں، زمین سیراب ہوتی ہے، فصلیں اگتی ہیں اور زندگی دوبارہ اپنے سفر پر رواں ہوجاتی ہے۔ یہی کائنات کا انداز ہے: چھوٹے مظاہر کے پیچھے بڑے نظام۔ ایک قطرہ دیکھنے والے کو صرف پانی دکھائی دیتا ہے؛ غور کرنے والے کو اس میں پوری زمین کا آبی نظام نظر آتا ہے۔
درخت بھی کائنات کی اس خاموش کتاب کے خوبصورت حروف ہیں۔ وہ بولتے نہیں، مگر سانس لینے والی دنیا کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ دھوپ میں کھڑے رہتے ہیں، سایہ دیتے ہیں؛ زمین میں جڑے رہتے ہیں، پھل دیتے ہیں؛ خاموش رہتے ہیں، مگر زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ درخت ہمیں ایک ایسا سبق دیتے ہیں جو انسانی معاشرے میں کم ہوتا جارہا ہے: بغیر شور کیے فائدہ پہنچانا۔ آج انسان اپنے ہر چھوٹے عمل کی تشہیر چاہتا ہے۔ ایک خیرات، ایک نیکی، ایک خدمت، ایک سفر، ایک ملاقات—سب کچھ تصویر اور اعلان کا محتاج ہوگیا ہے۔ درخت مگر اپنی سخاوت کا اشتہار نہیں لگاتا۔ وہ پھل دیتا ہے اور خاموش رہتا ہے۔
پہاڑ زمین پر خاموش کھڑے ہیں۔ صدیوں گزرتی ہیں، نسلیں بدلتی ہیں، سلطنتیں بنتی اور مٹتی ہیں، شہر آباد اور ویران ہوتے ہیں، مگر پہاڑ اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں ایک عجیب قوت ہے۔ وہ انسان کو بتاتے ہیں کہ استقامت شور نہیں کرتی۔ پہاڑوں کی طرف دیکھ کر انسان اپنے اضطراب کو دیکھ سکتا ہے۔ ہم معمولی مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں، چھوٹی ناکامیوں سے ٹوٹ جاتے ہیں اور وقتی حالات کو پوری زندگی کا انجام سمجھ لیتے ہیں۔ پہاڑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ مضبوطی کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں طوفان نہ آئیں؛ بلکہ مضبوطی یہ ہے کہ طوفانوں کے باوجود انسان اپنے مقام پر قائم رہے۔
دن اور رات صرف روشنی اور تاریکی کی تبدیلی نہیں بلکہ وقت کی مسلسل روانی کا اعلان ہیں۔ دن آتا ہے، گزر جاتا ہے۔ رات آتی ہے، گزر جاتی ہے۔ پھر ایک نیا دن۔ انسانی زندگی بھی اسی ترتیب پر چل رہی ہے۔ بچپن گزرتا ہے، جوانی آتی ہے، پھر بڑھاپا؛ خوشی آتی ہے، غم آتا ہے؛ عروج آتا ہے، زوال آتا ہے۔ وقت کبھی رک کر نہیں کہتا: "ذرا سنبھل جاؤ، میں گزرنے والا ہوں”۔ وہ خاموشی سے گزرتا ہے۔چاسی لیے وقت شاید کائنات کی سب سے گہری کتاب ہے، مگر انسان اکثر اسے پڑھنے کے بجائے ضائع کرتا رہتا ہے۔
کائنات کو سمجھنے کے لیے انسان ہمیشہ باہر دیکھتا رہا، مگر اس کے اندر بھی ایک حیرت انگیز کائنات آباد ہے۔ انسانی جسم میں دل مسلسل دھڑکتا ہے، پھیپھڑے سانس لیتے ہیں، دماغ بے شمار پیچیدہ سرگرمیاں انجام دیتا ہے، خون گردش کرتا ہے، خلیات اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور جسم کے مختلف نظام ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرتے ہیں۔ انسان اپنے جسم کو "میں” کہتا ہے، مگر حقیقت میں اس "میں” کے اندر بے شمار نظام ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل تعاون کررہے ہیں۔ قرآن انسان کو اسی طرف متوجہ کرتا ہے: "وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔ اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟ (الذاریات: 21)۔ یہ آیت انسان کو باہر کی کائنات سے اٹھا کر اندر کی کائنات تک لے آتی ہے۔ گویا دو کتابیں ہمارے سامنے کھلی ہیں: ایک آفاق کی کتاب، دوسری انفس کی کتاب۔
سائنس دراصل کائنات کی زبان کو سمجھنے کی انسانی کوشش ہے۔ سائنس دان مشاہدہ کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، تجربہ کرتا ہے، نتائج مرتب کرتا ہے اور پھر کسی مفروضے کو جانچتا ہے۔ اس اعتبار سے سائنس کائنات کے مظاہر کو سمجھنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ سائنس زیادہ تر یہ بتاتی ہے کہ: "چیزیں کیسے کام کرتی ہیں؟” جب کہ فلسفہ اور مذہب انسان کو یہ سوال اٹھانے کی طرف لے جاتے ہیں کہ: "یہ سب کیوں ہے؟”۔ مثلاً سائنس بارش کے بننے کے مراحل بیان کرسکتی ہے؛ بادلوں کی تشکیل، بخارات، درجہ حرارت اور فضائی دباؤ کی وضاحت کرسکتی ہے۔ مگر اس علم کے ساتھ یہ سوال بھی باقی رہتا ہے کہ انسان اس بارش سے کیا اخلاقی سبق لیتا ہے؟ نعمت کے ساتھ اس کی ذمّہ داری کیا ہے؟ پانی کو ضائع کرنے یا آلودہ کرنے کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ اس لیے علم کے مختلف شعبے ایک دوسرے کے مخالف نہیں؛ وہ حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو روشن کرسکتے ہیں۔
کائنات میں نظم ایک بنیادی حقیقت ہے۔ سورج اپنے نظام کے مطابق حرکت کرتا ہے، زمین اپنے مدار میں گردش کرتی ہے، موسم مخصوص اصولوں کے تحت بدلتے ہیں، حیاتیاتی نظام باہم مربوط ہیں اور طبیعی قوانین کائنات کے مختلف حصّوں میں قابلِ فہم انداز سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ نظم انسان کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: کیا اس عظیم نظم کے پیچھے کوئی حکمت اور ارادہ ہے؟ اسلامی فکر میں کائنات بے مقصد اور بے معنی حادثہ نہیں۔ قرآن کہتا ہے: "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا۔ اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد نہیں پیدا کیا” (آل عمران: 191)۔ یہاں کائنات کے مطالعے کا مقصد محض معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ معنی دریافت کرنا ہے۔
کائنات ایک کتاب ہے، مگر اس کی زبان علامتی ہے۔ اس کے صفحات مظاہر پر مشتمل ہیں اور اس کے الفاظ قوانینِ فطرت میں بکھرے ہوئے ہیں۔ وحی اس کتاب کے مطالعے کو ایک فکری اور اخلاقی سمت عطا کرتی ہے۔ قرآن جب آسمان کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے تو صرف فلکیاتی معلومات حاصل کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا؛ وہ انسان کو غور، تدبر اور معرفت کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار "تفکر”، "تدبر”، "تعقل” اور "نظر” کی دعوت دیتا ہے۔ کائنات کو دیکھنا ایک چیز ہے؛ کائنات میں نشانی دیکھنا دوسری چیز۔ ہر شخص سورج دیکھ سکتا ہے، مگر ہر شخص سورج میں قدرت کی نشانی نہیں دیکھتا۔ ہر شخص بارش دیکھ سکتا ہے، مگر ہر شخص اس میں زندگی کی نعمت اور اپنی ذمّہ داری کو محسوس نہیں کرتا۔ ہر شخص موت دیکھ سکتا ہے، مگر ہر شخص اس سے اپنی زندگی کا مقصد نہیں پوچھتا۔
کائنات خاموش ضرور ہے، مگر انسان کی بے حسی اس سے بھی زیادہ خاموش ہوسکتی ہے۔ آج انسان کے پاس معلومات کی کمی نہیں۔ اس کے پاس کتابیں ہیں، یونیورسٹیاں ہیں، تجربہ گاہیں ہیں، مصنوعی ذہانت ہے، دوربینیں ہیں، خلائی مشن ہیں اور معلومات کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا معلومات نے انسان کو زیادہ صاحبِ شعور بھی بنایا ہے؟ یہ ضروری نہیں۔ علم اگر اخلاق سے جدا ہوجائے تو طاقت پیدا کرسکتا ہے، مگر حکمت نہیں۔ ٹیکنالوجی اگر ذمّہ داری سے خالی ہوجائے تو سہولت تو پیدا کرسکتی ہے، مگر تحفظ نہیں۔ معاشی ترقی اگر عدل کے بغیر ہو تو دولت بڑھا سکتی ہے، مگر خوش حالی نہیں۔ اور کائنات کا علم اگر خالق کی معرفت اور انسان کی ذمّہ داری سے جدا ہوجائے تو وہ حیرت تو پیدا کرسکتا ہے، مگر ہدایت نہیں۔
اگر کائنات ایک کتاب ہے تو انسان محض قاری نہیں؛ وہ اس کتاب کا ذمّہ دار کردار بھی ہے۔ زمین اس کے لیے صرف استعمال کی چیز نہیں بلکہ امانت ہے۔ پانی صرف ضرورت نہیں بلکہ نعمت ہے۔ درخت صرف لکڑی نہیں بلکہ زندگی کا حصّہ ہیں۔ جانور صرف وسائل نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی نظام کے اجزا ہیں۔ فضا صرف ہوا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا حق ہے۔ اسی لیے کائنات کو پڑھنے کا آخری نتیجہ صرف "میں نے جان لیا” نہیں ہونا چاہیے بلکہ: "میں نے سمجھا، اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟” یہی علم کو حکمت میں تبدیل کرتا ہے۔
آج انسان کائنات کی کتاب پڑھ بھی رہا ہے اور اسے نقصان بھی پہنچا رہا ہے۔ جنگلات کم ہورہے ہیں، دریا آلودہ ہورہے ہیں، سمندر پلاسٹک اور صنعتی فضلے سے متاثر ہورہے ہیں، فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے اور موسمیاتی تبدیلی انسانی زندگی کے لیے نئے خطرات پیدا کررہی ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ اگر زمین آنے والی نسلوں کی امانت ہے تو اسے تباہ کرنا صرف قدرتی وسائل کا غلط استعمال نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سے انحراف بھی ہے۔ اسلامی تصورِ خلافتِ ارضی انسان کو مالکِ مطلق نہیں بلکہ امین بناتا ہے۔ امانت دار اپنی تحویل میں دی گئی چیز کو اپنی خواہش کے مطابق تباہ نہیں کرتا۔
انسان کی سب سے بڑی فکری بے چینی شاید یہ نہیں کہ کائنات کتنی بڑی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ: میں اس کائنات میں کیوں ہوں؟ اگر زندگی محض پیدائش، خوراک، روزگار، دولت، شہرت، خواہش اور موت کا نام ہے تو انسان کی اخلاقی جدوجہد کی بنیاد کیا ہوگی؟ لیکن اگر انسان خود کو ایک مقصد کے ساتھ وابستہ مخلوق سمجھتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر عمل معنی اختیار کرلیتا ہے۔ عبادت، علم، خدمت، عدل، احسان، دیانت، رحم، خاندان، معاشرہ اور زمین کی حفاظت—سب زندگی کے ایک بڑے مقصد سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں کائنات کا خاموش پیغام ایک واضح سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے: تم اس کتاب میں صرف اپنا نام تلاش کرنے آئے ہو یا اس کے مصنف کو پہچاننے؟
کائنات چیختی نہیں، ستارے اپنے خالق کا نام بلند آواز سے نہیں لیتے، پہاڑ خطبہ نہیں دیتے، درخت وعظ نہیں کرتے، بارش تقریر نہیں کرتی، دریا فلسفہ نہیں پڑھاتے۔ مگر ان سب کی خاموشی میں ایک گہری آواز موجود ہے۔ یہ آواز انسان کے اندر سنائی دیتی ہے—اگر وہ کچھ دیر کے لیے شور سے باہر نکل آئے۔ شاید اسی لیے قرآن کائنات کی نشانیوں کو بار بار انسانی عقل اور دل کے ساتھ جوڑتا ہے۔ کائنات کی کتاب آنکھ سے پڑھی جاتی ہے، مگر اس کا مفہوم دل میں اترتا ہے۔
کائنات کی کتاب ابھی بند نہیں ہوئی، ہر طلوعِ آفتاب اس کا نیا صفحہ ہے، ہر غروب ایک حاشیہ، ہر بارش ایک نئی سطر، ہر پیدا ہونے والا بچّہ ایک نیا سوال۔ ہر مرنے والا انسان ایک یاد دہانی، ہر ستارہ ایک حیرت، ہر پہاڑ ایک استقامت، ہر درخت ایک خاموش سبق اور خود انسان—اس کتاب کا سب سے پیچیدہ باب۔ ہم نے اس کتاب کے کئی صفحات پڑھ لیے ہیں، مگر ابھی بے شمار ابواب ہماری نگاہ سے اوجھل ہیں۔ سائنس آگے بڑھے گی، نئی دریافتیں ہوں گی، کائنات کے مزید راز سامنے آئیں گے، انسان نئے سیاروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، نئی ٹیکنالوجیز پیدا ہوں گی اور علم کے دائرے وسیع ہوتے جائیں گے۔ مگر اس سب کے باوجود ایک سوال ہمیشہ زندہ رہے گا: اس عظیم کتاب کا مصنف کون ہے، اور اس کتاب کے اندر ہمارا کردار کیا ہے؟ جو انسان کائنات کو صرف مادّہ سمجھتا ہے، وہ اس کے مظاہر کو دیکھتا ہے۔ جو اسے نشانی سمجھتا ہے، وہ اس کے پیچھے معنی تلاش کرتا ہے۔ اور جو اسے اپنے ربّ کی آیات کے طور پر پڑھتا ہے، اس کے لیے کائنات محض ایک بے کراں خلا نہیں رہتی بلکہ معرفت کی ایک عظیم درس گاہ بن جاتی ہے۔
پس آسمان کی طرف دیکھیں، مگر صرف ستارے نہ گنیں۔ بارش کو دیکھیں، مگر صرف بادل نہ دیکھیں۔ درخت کو دیکھیں، مگر صرف لکڑی نہ دیکھیں۔ اپنے وجود کو دیکھیں، مگر صرف جسم نہ دیکھیں۔ کائنات کو پڑھیں—کیونکہ یہ ایک خاموش کتاب ہے۔ اور شاید اس کتاب کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: جتنا انسان کائنات کو غور سے پڑھتا ہے، اتنا ہی اسے اپنے خالق، اپنی حقیقت اور اپنی ذمّہ داری کا شعور حاصل ہوتا جاتا ہے۔ کائنات خاموش ہے؛ مگر سوال ہم سے کرتی ہے۔ صفحات پھیلے ہوئے ہیں؛ مگر پڑھنا ہمیں ہے۔ نشانیاں ہر طرف ہیں؛ مگر دیکھنا ہمیں ہے۔ اور کتاب کھلی ہوئی ہے؛ اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم اسے صرف دیکھتے ہیں، یا پڑھتے بھی ہیں۔
🗓 (07.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے