कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحریک، انتشار اور بھاگوت کا نظریۂ احتجاج

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ:۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

جمہوریت میں عوامی تحریکوں کا مقصد مسائل کی نشان دہی، حکومت کو جواب دہ بنانا اور حقوق کے تحفظ کے لیے دباؤ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی تحریک کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اسے انتشار کا سبب، اس کے مقاصد کو مشتبہ اور اس کے شرکا کو ملک و معاشرے کے لیے خطرہ قرار دینے کی کوشش کی جائے تو سوال حکومت کے رویے کے ساتھ اس نظریے پر بھی اٹھتا ہے جو احتجاج کو صرف اسی وقت جائز سمجھتا ہے جب وہ اس کے مقرر کردہ دائرے میں رہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا دسہرہ کے موقع پر دیا گیا بیان اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ انہوں نے تبدیلی اقتدار کے امکان کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تحریکیں ہوتی رہیں گی، لیکن ان کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم پیدا کرنا۔ بظاہر یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر حکومت ہی مسائل کے حل کی راہ میں حائل ہو یا مسائل خود حکومت کے غیر منصفانہ فیصلوں کا نتیجہ ہوں تو عوامی تحریک کے علاوہ دوسرا کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ کیا حکومت پر دباؤ ڈالنا اور اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا بھی انتشار کے زمرے میں آئے گا؟
جمہوری نظام میں عوام کو اپنی بات کہنے، حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ تحریکیں اسی وقت شروع ہوتی ہیں جب عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مسائل نظرانداز کیے جا رہے ہیں یا متعلقہ ادارے ان کی آواز سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں احتجاج کو محض انتشار قرار دینے کے بجائے اس کے اسباب اور مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
تحریک کا مقصد کون طے کرے گا؟
موہن بھاگوت کے مطابق ہندوستان ترقی کر رہا ہے، لیکن ابھی کئی مسائل باقی ہیں۔ جمہوریت میں تحریکیں ہوتی ہیں، مگر ان کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ نفرت اور تقسیم کو فروغ دینا۔ اصولی طور پر اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کسی مسئلے کو تسلیم ہی نہ کرے یا مطالبات پر توجہ نہ دے تو تحریک کار اپنے مقصد کے حصول کے لیے کیا کریں؟ کیا وہ صرف اپنے مطالبات دہراتے رہیں یا حکومت کو ان پر غور کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالیں؟
حقیقت یہ ہے کہ عوامی تحریک اور حکومت پر دباؤ ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ کسی مطالبے سے حکومت کو سیاسی دشواری پیش آنا اور معاشرے میں انتشار پیدا ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ احتجاج کے دوران تشدد یا قانون شکنی ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن محض حکومت سے اختلاف یا اس پر دباؤ ڈالنے کو انتشار قرار دینا جمہوری حق کے دائرے کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
تبدیلیِ اقتدار کا مطالبہ غیر جمہوری نہیں :
بھاگوت نے اپنے بیانیہ میں فرانس، البانیہ، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے حالات سے سبق لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم مختلف ممالک کے واقعات کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔ بیرونی مداخلت، تشدد اور داخلی سیاسی تحریکوں کے اسباب الگ الگ ہو سکتے ہیں۔ ان کے درمیان فرق کیے بغیر ہر تحریک کے پس پردہ بیرونی طاقت کے کارفرما ہونے اور اسے اقتدار کی تبدیلی کی سازش سے جوڑنا ہرگز مناسب نہیں، کیونکہ تحریک حکومت کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والے عوامی اضطراب کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
جمہوریت میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے، جواب طلب کرنے اور انتخابات کے ذریعے اسے تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر عوام کسی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں تو اس کی تبدیلی کا مطالبہ بذاتِ خود غیر جمہوری عمل نہیں۔ اصل اہمیت اس طریقۂ کار کی ہے جس کے ذریعے تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے۔ پُرامن احتجاج، عوامی رائے اور انتخابی عمل جمہوری سیاست کے بنیادی ذرائع ہیں۔ حکومت کی مخالفت کو ملک کی مخالفت قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ حکومت اور ملک دو الگ الگ تصورات ہیں۔ باوجود اس کے بعض اوقات حکومت اپنے مخالفین کو ملک دشمن قرار دے کر تحریک کاروں کو بدنام کرتی رہی ہے۔
آر ایس ایس اور حکمراں جماعت کا تعلق ـ:
آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان تعلق محض سیاسی قربت تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد مشترکہ نظریات اور طویل تاریخی وابستگی پر قائم ہے۔ بی جے پی کی سیاست اور حکومت کے متعدد فیصلوں کو اسی نظریاتی پس منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ عوام کے ایک طبقہ کا مؤقف ہے کہ مرکزی حکومت آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور آر ایس ایس بھی حکومت کے طریقۂ کار کا دفاع کرکے اس کی پالیسیوں کی تائید کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوامی تحریکوں یا حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھتے ہیں تو آر ایس ایس کے سربراہ کے بیانات کو محض ایک تنظیمی عہدیدار کی رائے سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیانات اس نظریاتی رشتے کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جس کا اثر حکمراں جماعت کی سیاست اور حکومتی طرزِ عمل پر دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ حکمراں جماعت اور اس کے حامی عوامی تحریکوں کے مطالبات کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں؟ کیا وہ مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں یا تحریک کے مقاصد اور شرکا کو مشتبہ قرار دے کر بحث کا رخ بدل دیتے ہیں؟ کسی تحریک میں بعض افراد قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن چند افراد کے عمل کی بنیاد پر پوری تحریک کو بدنام کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
آئینی اداروں کا احترام اور عوامی حقوق :
جمہوری نظام میں آئینی اداروں کا احترام ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے فیصلوں یا کارکردگی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اداروں پر اعتماد اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب ان کے کام میں شفافیت، غیر جانب داری اور جواب دہی نظر آئے۔ عوامی اتحاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
احتجاج کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن طریقہ اختیار کریں اور تشدد سے گریز کریں۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو سنے اور طاقت کا استعمال صرف قانون کے دائرے میں، ضرورت کے مطابق کرے۔ آئینی حقوق اور امن و امان میں توازن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ احتجاج کو محدود کرنے کے لیے ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دینا۔
احتجاج کو انتشار قرار دینا مسئلے کا حل نہیں :
کسی بھی تحریک کا جائزہ اس کے مطالبات، طریقۂ کار اور حالات کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ یقینا ہر تحریک درست نہیں ہوتی، لیکن ہر احتجاج انتشار بھی نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی تحریکوں نے متعدد مواقع پر حقوق کے تحفظ اور سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے تحریکوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ان کے اسباب اور مطالبات کو سمجھنا ضروری ہے۔
بھاگوت کی یہ بات کہ تحریکوں کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس اصول کا اطلاق حکومت پر بھی ہونا چاہیے۔ اگر حکومت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہ ہو تو عوام سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنا چھوڑ دیں؟ جمہوریت میں احتجاج کا مقصد صرف مطالبات پیش کرنا نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو جواب دہ بنانا بھی ہے۔
عوامی تحریکیں ہمیشہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، لیکن اگر کسی تحریک کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہو جائے تو یہ بذاتِ خود جمہوریت کے خلاف نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اپنے مسائل اٹھانے، حکومت سے جواب طلب کرنے اور پُرامن طریقے سے تبدیلی کا مطالبہ کرنے کی آزادی حاصل ہے؟ حکومت کی جواب دہی اور عوام کے اختلافِ رائے کا احترام ہی جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔ اسی بنیاد پر احتجاج اور انتشار کے درمیان فرق کیا جا سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے