कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سر سید احمد خان، علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کا تعلیمی شعور

ایک شیروانی ایک زبان اور ایک شہر سے کہیں آگے کی داستان

از قلم شیخ محمود علی
سابق لیکچرر و مصنف
8055402819

شام در شام جلیں گے تیری یادوں کے چراغ نسل در نسل تیرا درد نمایاں ہوگا
سر سید احمد خان کا نام برصغیر کی مسلم تاریخ میں محض ایک مصلح ماہرِ تعلیم یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی کی حیثیت سے نہیں لیا جانا چاہیے۔ وہ ایک ایسی فکری تحریک کے معمار تھے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے، جدید تعلیم سے رشتہ استوار کرنے، عقل و دانش کو اہمیت دینے اور اپنے مستقبل کی ازسرِنو تعمیر کرنے کا پیغام دیا۔
سر سید کو صرف علی گڑھ کی شیروانی، ایک مخصوص تہذیبی وضع قطع، اردو زبان یا کسی خاص علاقے کے ثقافتی تشخص تک محدود کر دینا ان کی فکر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کی شخصیت اور ان کا پیغام کسی ایک شہر، کسی ایک زبان، کسی ایک لباس یا کسی ایک علاقائی برادری کی میراث نہیں۔ ان کا اصل سرمایہ تعلیم، علمی بیداری، عقلی رویہ سماجی اصلاح اور مسلمانوں کو زمانے کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل بنانے کا عزم تھا۔
سر سید کی تحریک کا بنیادی سوال یہ تھا کہ مسلمان علم کے بدلتے ہوئے نظام میں اپنا مقام کیسے پیدا کریں، اپنی فکری پسماندگی سے کیسے نکلیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کے راستے کیسے کھولیں؟
یہ سوال انیسویں صدی میں جتنا اہم تھا، اکیسویں صدی میں بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔
1۔ سر سید احمد خان: ایک شخصیت نہیں، ایک فکری انقلاب:
سر سید احمد خان 1817ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران ہندوستانی معاشرے میں سیاسی، سماجی اور تعلیمی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی، مغلیہ اقتدار کا خاتمہ، برطانوی حکومت کا استحکام اور جدید مغربی علوم کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے نئے مسائل پیدا کر دیے تھے۔
1857ء کے بعد مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سیاسی شکست، معاشی مشکلات، سرکاری ملازمتوں میں محدود مواقع اور جدید تعلیم سے دوری کا سامنا کر رہا تھا۔ ان حالات میں سر سید نے محسوس کیا کہ محض ماضی کی عظمت کا ذکر کرنے سے مستقبل نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے علم، تحقیق، سائنسی شعور اور جدید تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔
سر سید کی عظمت اس بات میں تھی کہ انہوں نے اپنے معاشرے کی کمزوریوں کو محض دوسروں کی سازش قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا، بلکہ ان کے اسباب پر غور کیا اور اصلاح کی راہیں تلاش کیں۔
ان کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو جدید علوم سے فائدہ اٹھانا چاہیے، انگریزی زبان اور سائنسی تعلیم سیکھنی چاہیے، اور اپنے مذہبی و تہذیبی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے معاشرے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہی وہ فکری بنیاد تھی جس پر علی گڑھ تحریک استوار ہوئی۔
2۔ علی گڑھ تحریک کا اصل مقصد کیا تھا؟:
علی گڑھ تحریک کا مقصد صرف ایک کالج قائم کرنا نہیں تھا۔ اس کا اصل مقصد ایک ایسے تعلیمی اور فکری ماحول کی تشکیل تھا جس میں مسلمان جدید علم حاصل کر سکیں، نئی ملازمتوں اور پیشوں میں آگے بڑھ سکیں، علمی مباحث میں حصہ لے سکیں اور معاشرتی ترقی کے نئے امکانات پیدا کر سکیں۔
سر سید نے یہ محسوس کیا کہ صرف مذہبی تعلیم یا صرف روایتی علمی سرمایہ جدید دنیا کے تمام تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جدید تعلیم کو مذہبی اور تہذیبی شناخت کے خلاف سمجھنا بھی درست نہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان اپنے علمی ورثے سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے سائنس، ریاضی، جدید تاریخ، فلسفہ، معاشیات اور دیگر جدید علوم سے واقف ہوں۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے مختلف ادارے اور علمی سرگرمیاں شروع کیں۔
* سائنٹفک سوسائٹی، 1864ء: جدید علوم اور مفید کتابوں کو ہندوستانی زبانوں میں منتقل کرنے اور علمی شعور پھیلانے کی کوشش۔
* علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، 1866ء: سماجی، علمی اور جدید مسائل پر مباحث کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم۔
* تہذیب الاخلاق، 1870ء: مسلمانوں کے سماجی رویوں، اخلاقی مسائل، اصلاحِ معاشرہ اور فکری جمود پر تنقیدی گفتگو۔
* محمدن اینگلو اورینٹل کالج، 1875ء: جدید تعلیم اور مسلم معاشرتی پس منظر کو یکجا کرنے کی کوشش۔
* علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1920ء: اسی ادارہ جاتی روایت کی توسیع، جس نے بعد میں ایک مکمل یونیورسٹی کی صورت اختیار کی۔
یہاں ایک تاریخی فرق واضح رہنا چاہیے: سر سید نے 1875ء میں کالج قائم کیا تھا؛ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ 1920ء میں حاصل ہوا، یعنی سر سید کی وفات کے کئی برس بعد۔
ان اداروں کے پیچھے ایک ایسا تصور کارفرما تھا جس میں تعلیم کو محض ذاتی ترقی نہیں، بلکہ اجتماعی بقا، سماجی تبدیلی اور مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ سمجھا گیا۔
3۔ کیا سر سید صرف اردو بولنے والوں کے رہنما تھے؟:
یہ سوال ہماری تاریخی سمجھ اور موجودہ سماجی رویوں دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔
سر سید کی تحریک کی ابتدائی علمی اور سماجی سرگرمیوں میں اردو کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ شمالی ہندوستان کے مسلم اشرافیہ اور متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے میں اردو علمی و ادبی رابطے کی زبان تھی۔ سر سید نے بھی اردو کے ذریعے اپنے خیالات کو عام کیا، مضامین لکھے اور سماجی اصلاح کی تحریک چلائی۔
لیکن اردو کا استعمال اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کی تحریک صرف اردو بولنے والوں کے لیے تھی۔
کسی تحریک کی زبان اور اس تحریک کے مستفید ہونے والوں کا دائرہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
اگر کوئی ڈاکٹر انگریزی میں طب کی تعلیم حاصل کرے تو اس کا علاج صرف انگریزی بولنے والوں کے لیے مخصوص نہیں ہو جاتا۔ اگر کوئی تعلیمی ادارہ اردو میں اپنے تاریخی مباحث کا آغاز کرے تو اس کی تعلیمی فکر بھی لازماً اردو زبان بولنے والی آبادی تک محدود نہیں ہو جاتی۔
اسی اصول کو سر سید کی تحریک پر بھی لاگو کرنا چاہیے۔
مہاراشٹر میں مراٹھی اور اردو بولنے والے مسلمان، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تیلگو بولنے والے مسلمان، کرناٹک میں کنڑ بولنے والے مسلمان، کیرالہ میں ملیالم بولنے والے مسلمان، بنگال میں بنگالی بولنے والے مسلمان، آسام میں آسامی بولنے والے مسلمان، کشمیر میں کشمیری بولنے والے مسلمان اور ملک کے دوسرے خطوں کے مسلمان بھی تعلیم، معاشی ترقی اور علمی خودمختاری کے انہی سوالات سے دوچار رہے ہیں۔
سر سید کی تحریک نے ان تمام علاقوں میں یکساں شکل اختیار نہیں کی، نہ ہی ہر خطے پر اس کے اثرات یکساں تھے۔ لیکن اس تحریک کے بنیادی سوالات ان سب کے لیے اہم ہیں:
* کیا مسلمانوں کے بچوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے؟
* کیا مسلم نوجوانوں کو طب، انجینئرنگ، قانون، انتظامیہ، تدریس، تحقیق اور کاروبار میں آگے نہیں بڑھنا چاہیے؟
* کیا مسلم خواتین کو اعلیٰ تعلیم، معاشی خودمختاری اور علمی ترقی کے مواقع نہیں ملنے چاہییں؟
* کیا مسلمانوں کو اپنی مقامی زبانوں میں علم حاصل کرتے ہوئے قومی اور عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کرنا چاہیے؟
ان سوالات کا تعلق کسی ایک زبان یا لباس سے نہیں، بلکہ انسانی ترقی اور سماجی انصاف سے ہے۔
سر سید کی تحریک کو اسی وسیع تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
4۔ علی گڑھ کی شیروانی اور سر سید کی فکر میں فرق:
علی گڑھ کی تہذیبی روایت میں شیروانی، مخصوص طرزِ گفتگو، ادبی ذوق، آدابِ محفل اور ایک خاص سماجی رکھ رکھاؤ کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان عناصر کی اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت ہے۔ تہذیب کسی قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتی ہے، اور اس کا احترام بھی ضروری ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تہذیبی علامت کو تعلیمی اہلیت یا فکری برتری کا پیمانہ بنا دیا جائے۔
کسی شخص کا شیروانی پہننا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ سر سید کی فکر کو سمجھتا بھی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کا پتلون اور قمیص پہننا، مراٹھی بولنا، کنڑ میں لکھنا یا ملیالم میں گفتگو کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ سر سید کی تعلیمی تحریک سے دور ہے۔
علی گڑھ کی روح لباس میں نہیں، علم کے احترام میں ہے۔
اس کی روح زبان کے تکبر میں نہیں، علمی رابطے میں ہے۔
اس کی روح علاقائی شناخت کو دوسروں پر مسلط کرنے میں نہیں، مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔
اگر کوئی نوجوان ناندیڑ کے کسی اردو یا مراٹھی میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینئر، محقق یا استاد بنتا ہے، اگر کوئی لڑکی کیرالہ میں ملیالم کے ذریعے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ سائنسی تحقیق میں آگے بڑھتی ہے، یا اگر کوئی طالب علم بنگال میں بنگالی زبان کے پس منظر سے جدید علوم میں مہارت حاصل کرتا ہے، تو یہ سب اس وسیع تعلیمی مقصد کی تکمیل کے راستے ہیں جس کی اہمیت سر سید نے واضح کی تھی۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان تمام ترقیاتی کوششوں کا براہِ راست سبب علی گڑھ تحریک ہی تھی۔ البتہ ان مثالوں سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ جدید تعلیم اور سماجی ترقی کا تصور کسی مخصوص ثقافتی لباس یا زبان کا محتاج نہیں۔
5۔ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟:
ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی تاریخ بہت متنوع رہی ہے۔ مختلف ادوار میں مدارس، مکتب، خانقاہیں، علمی حلقے، کتب خانے اور روایتی تعلیمی مراکز علم کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ان اداروں نے مذہبی علوم، زبان، فلسفہ، منطق اور مختلف علمی روایتوں کو محفوظ رکھا۔
لیکن برطانوی دور میں اقتدار، معیشت اور انتظامیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ تعلیم کی نوعیت بھی بدلنے لگی۔ انگریزی زبان، جدید یونیورسٹیوں، سرکاری امتحانات اور نئے پیشہ ورانہ علوم کی اہمیت بڑھ گئی۔
اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع سب کو یکساں طور پر حاصل نہیں تھے۔ مسلمانوں کے مختلف طبقوں کو سیاسی زوال، معاشی مشکلات، تعلیمی اداروں تک محدود رسائی اور نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سر سید نے اس صورت حال کا ایک حل جدید تعلیم میں تلاش کیا۔ تاہم یہ بات بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو صرف ایک سبب سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے علاقائی فرق، طبقاتی عدم مساوات، نوآبادیاتی پالیسیوں، معاشی وسائل کی کمی، سماجی رویوں اور تعلیمی مواقع کی غیر مساوی تقسیم جیسے متعدد عوامل موجود تھے۔
تعلیمی اصلاح کی ضرورت اس لیے تھی کہ مسلمان بدلتے ہوئے نظام میں اپنی جگہ بنا سکیں اور علم کو معاشرتی ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے:
تعلیم کسی قوم کے ماضی کی یادگار نہیں، اس کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
6۔ سر سید اور دوسرے مسلم تعلیمی و اصلاحی تحریکات:
سر سید کی تحریک کو برصغیر کی واحد مسلم تعلیمی تحریک سمجھنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ مختلف علاقوں، مذہبی روایتوں اور سماجی حالات میں متعدد تحریکیں سامنے آئیں۔ ان کے طریقۂ کار، نصاب اور مقاصد میں اختلافات بھی تھے، لیکن بہت سی تحریکوں نے اپنے اپنے انداز میں علم، تعلیم اور معاشرتی اصلاح کی اہمیت کو اجاگر کیا
1۔ علی گڑھ تحریک:
جدید علوم، انگریزی تعلیم اور سائنسی شعور
سر سید احمد خان کی قیادت میں اس تحریک نے جدید مغربی علوم اور مسلم معاشرتی اصلاح کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا اہم ادارہ محمدن اینگلو اورینٹل کالج تھا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔
2۔ ندوۃ العلماء، لکھنؤ:
روایتی دینی تعلیم میں اصلاح اور ہم آہنگی
1894ء میں قائم ہونے والی اس تحریک نے دینی علوم کے نصاب میں اصلاح، علماء کی علمی تربیت اور قدیم و جدید علمی تقاضوں کے درمیان رابطے پر توجہ دی۔ اس کا طریقہ علی گڑھ سے مختلف تھا، مگر تعلیمی اصلاح اس کے اہم مقاصد میں شامل تھی۔
3۔ دارالعلوم دیوبند
دینی علوم، مذہبی شناخت اور علمی روایت کا تحفظ
1866ء میں قائم ہونے والے دارالعلوم دیوبند نے قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی علوم کی تدریس کے ذریعے ایک مضبوط دینی تعلیمی روایت قائم کی۔ اس کا بنیادی رخ علی گڑھ سے مختلف تھا، تاہم اس نے بھی مسلمانوں کی علمی اور تعلیمی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
4۔ انجمن اسلام، ممبئی:
شہری مسلمانوں کے لیے جدید اور عمومی تعلیم
1876ء میں قائم ہونے والی انجمن اسلام نے ممبئی میں مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ادارہ جاتی کام نے دکھایا کہ جدید تعلیم کی ضرورت صرف شمالی ہندوستان تک محدود نہیں تھی۔
5۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ:
قومی تعلیم، خودمختاری اور جدید علمی تربیت
1920ء میں قائم ہونے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قومی تحریک اور تعلیمی خودمختاری کے ماحول میں اپنی شناخت بنائی۔ اس کی تاریخ میں جدید تعلیم، ہندوستانی قومیت اور سماجی خدمت کے عناصر نمایاں رہے ہیں۔
6۔ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد:
علاقائی زبانوں اور جدید اعلیٰ تعلیم کا تجربہ
1918ء میں قائم ہونے والی جامعہ عثمانیہ نے اردو کو اعلیٰ تعلیم کا ذریعۂ تدریس بنانے کا تاریخی تجربہ کیا۔ اس کی مثال واضح کرتی ہے کہ جدید علوم اور مقامی لسانی روایت کے درمیان تعلق مختلف طریقوں سے قائم کیا جا سکتا ہے۔
ان تحریکوں کو ایک دوسرے کی حریف قرار دے کر ان کی اہمیت کم کرنا مناسب نہیں۔ ان کے تاریخی پس منظر، فکری ترجیحات اور تعلیمی طریقوں میں فرق تھا، اور بعض معاملات میں ان کے درمیان حقیقی اختلافات بھی رہے۔ لیکن ان سب کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی تاریخ ایک وسیع، متنوع اور کثیرالجہتی تاریخ ہے۔
سر سید کی تحریک کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اس کی اہمیت دوسرے اداروں کی نفی سے ثابت نہیں ہوتی۔
7۔ خواتین کی تعلیم: تعلیمی تحریک کا ناگزیر سوالـ:
کسی بھی معاشرے کی تعلیمی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک خواتین کو علم، تحقیق، پیشہ ورانہ تربیت اور فیصلہ سازی کے مواقع حاصل نہ ہوں۔
سر سید کے عہد میں خواتین کی جدید تعلیم کے بارے میں سماجی رویے مختلف اور اکثر محتاط تھے۔ علی گڑھ تحریک کے ابتدائی ادارہ جاتی ڈھانچے میں مردوں کی تعلیم کو نمایاں مقام حاصل رہا، جبکہ مسلم خواتین کی تعلیم کے لیے الگ اداروں اور سماجی اصلاح کی کوششوں کو وقت کے ساتھ وسعت ملی۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلم خواتین کی تعلیم کے فروغ میں متعدد افراد اور اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔ شیخ عبداللہ اور وحید جہاں بیگم کی علی گڑھ میں خواتین کی تعلیم کے لیے کوششیں، بیگم رقیہ سخاوت حسین کی بنگال میں تعلیمی جدوجہد، اور دوسرے علاقوں میں خواتین کے اسکولوں کا قیام اسی وسیع تاریخ کے اہم پہلو ہیں۔
آج سر سید کی فکر سے وابستگی کا تقاضا ہے کہ مسلم بچیوں کو صرف بنیادی تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے۔ انہیں طب، انجینئرنگ، قانون، تدریس، تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاشیات، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
ایک پڑھی لکھی عورت صرف اپنی ذات کی ترقی نہیں کرتی، بلکہ خاندان، بچوں کی تعلیم، صحت، معاشی فیصلوں اور معاشرتی شعور پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
اس لیے مسلمانوں کی تعلیمی تحریک کا ایک اہم ہدف خواتین کی معیاری اور مساوی تعلیم ہونا چاہیے۔
8۔ زبان کا مسئلہ: اردو، مادری زبان اور انگریزی:
ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، اور ہر زبان اپنی تاریخ، ادب، ثقافت اور اجتماعی تجربات کی حامل ہے۔
مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے اردو کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔ اردو ادب نے علمی، ادبی اور سماجی فکر کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اردو کی ترقی کا مطلب دوسری زبانوں کو کم تر سمجھنا نہیں ہونا چاہیے۔
مہاراشٹر کے مسلمان مراٹھی اور اردو دونوں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ تلنگانہ کے مسلمان تیلگو، اردو اور انگریزی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ کرناٹک میں کنڑ، کیرالہ میں ملیالم اور بنگال میں بنگالی زبان تعلیم کے اہم وسائل بن سکتی ہیں۔
اسی طرح قومی اور عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے انگریزی سے واقفیت بھی بہت سے مواقع فراہم کرتی ہے۔
ایک متوازن تعلیمی حکمت عملی کے اہم عناصر یہ ہو سکتے ہیں:
* ابتدائی تعلیم میں مادری یا ایسی زبان جسے بچہ اچھی طرح سمجھتا ہو، کو مناسب اہمیت دینا۔
* اردو زبان اور ادب کو ان کے علمی و ثقافتی مقام کے مطابق فروغ دینا۔
* انگریزی اور دیگر ضروری زبانوں میں مہارت پیدا کرنا۔
* سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کی معیاری تدریس کو یقینی بنانا۔
* ترجمے، دو لسانی تدریسی مواد اور ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے مختلف زبانوں کے طلبہ کے لیے علم تک رسائی آسان بنانا۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے زبان شناخت کی قوت بن سکتی ہے، تعلیمی ترقی کی رکاوٹ نہیں۔
زبان انسان کو اپنی تہذیب سے جوڑتی ہے، جبکہ علم اسے دنیا سے جوڑتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ دونوں رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔
9۔ سر سید کی فکر اور علاقائی مسلمانوں کی ذمہ داری:
سر سید کے پیغام کو اگر واقعی پورے ہندوستان کے مسلمانوں تک پہنچانا ہے تو اس کے لیے صرف تاریخی تقریبات، تقاریر اور روایتی تعارف کافی نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف علاقوں میں مقامی تعلیمی مسائل کو سمجھا جائے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
مثلاً مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں مسلم طلبہ کے لیے معیاری اسکولوں، سائنس لیبارٹریوں، کتب خانوں، مسابقتی امتحانات کی رہنمائی، انگریزی زبان کی تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں کے مواقع اہم ہو سکتے ہیں۔ دوسرے علاقوں میں مقامی معاشی اور سماجی حالات کے مطابق مختلف ترجیحات درکار ہوں گی۔
ہر علاقے کے تعلیمی مسائل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کہیں اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے، کہیں اساتذہ کی تربیت کا مسئلہ ہے، کہیں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی محدود ہے، اور کہیں طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی مناسب رہنمائی نہیں ملتی۔
علی گڑھ تحریک کی روح سے وابستہ کوئی بھی نئی کوشش ان مسائل کی تحقیق، مقامی وسائل کے استعمال اور تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون سے شروع ہونی چاہیے۔
مسلمانوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے چند عملی اقدامات نہایت اہم ہیں:
* اسکولوں کی بہتری: معیاری تدریس، سائنس لیبارٹریوں، کتب خانوں اور ڈیجیٹل تعلیم پر سرمایہ کاری۔
* اسکالرشپ اور رہنمائی: معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے وظائف اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی۔
* مسابقتی امتحانات: NEET، JEE، UPSC، MPSC اور دیگر امتحانات کے لیے مناسب تدریسی وسائل اور رہنمائی۔
* اساتذہ کی تربیت: مضمون پر عبور، جدید تدریسی طریقوں اور طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ۔
* خواتین کی تعلیم: اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور محفوظ تعلیمی ماحول کے مواقع۔
* روزگار سے تعلق: تعلیم کو محض ڈگری کے بجائے حقیقی مہارت، تحقیق، کاروبار اور روزگار سے جوڑنا۔
* تعلیمی تعاون: مختلف مسلم اداروں، مدارس، جدید تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے درمیان مفید روابط قائم کرنا۔
ان اقدامات کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، اساتذہ، والدین اور اہلِ خیر سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
10۔ علی گڑھ تحریک اور مدارس: مقابلہ یا تکمیل؟:
ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم بحث جدید تعلیم اور روایتی دینی تعلیم کے تعلق سے بھی رہی ہے۔
علی گڑھ تحریک نے جدید مغربی علوم اور انگریزی تعلیم پر زور دیا، جبکہ دیوبند، ندوۃ العلماء اور دوسرے دینی اداروں نے اسلامی علوم کی تعلیم، مذہبی روایت کے تحفظ اور علماء کی تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
ان دونوں تعلیمی روایتوں کے مقاصد اور طریقوں میں فرق تھا، اور ان کے درمیان فکری اختلافات بھی رہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم آج کے حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا مختلف علمی روایتوں کے درمیان مفید تعاون ممکن ہے؟
مدارس اپنے دینی نصاب، علمی روایت اور مذہبی خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کے لیے زبان، کمپیوٹر، ریاضی، سماجی علوم اور ضروری جدید مہارتوں کے مواقع بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح جدید تعلیمی ادارے اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری، مذہبی و تہذیبی تنوع کے احترام اور انسانی اقدار پر توجہ دے سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام نصاب ایک جیسے ہو جائیں یا ہر ادارہ اپنی شناخت چھوڑ دے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ طلبہ کو ان کے منتخب علمی راستے کے مطابق معیاری تعلیم اور وسیع تر مواقع میسر آئیں۔
کسی معاشرے کو صرف جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین ہی نہیں، بلکہ اخلاقی بصیرت، سماجی شعور، علمی دیانت اور ذمہ داری رکھنے والے افراد بھی درکار ہوتے ہیں۔
11۔ سر سید آج ہوتے تو کن مسائل پر توجہ دیتے؟:
یہ سوال تاریخی طور پر قطعی جواب کا متحمل نہیں، کیونکہ ہم یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ سر سید آج کے حالات میں کیا فیصلے کرتے۔ تاہم ان کی معلوم تعلیمی فکر کی روشنی میں چند اہم ترجیحات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
آج علم کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، طبی تحقیق، ماحولیاتی تبدیلی، عالمی مقابلہ، سماجی نابرابری اور روزگار کی بدلتی ہوئی نوعیت نے تعلیم کے نئے تقاضے پیدا کیے ہیں۔
اگر سر سید کی تحریک کے بنیادی اصولوں کو موجودہ حالات میں آگے بڑھانا ہو تو درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے:
* مسلم طلبہ میں ریاضی، سائنس اور تحقیق کی مضبوط بنیادیں قائم کرنا۔
* ڈیجیٹل خواندگی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا۔
* اعلیٰ تعلیم میں معاشی طور پر کمزور طلبہ کی مدد کرنا۔
* مسلم خواتین کے لیے معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا۔
* سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات میں تحقیق کو فروغ دینا۔
* مذہبی، لسانی اور علاقائی اختلافات کے باوجود علمی تعاون کی روایت قائم کرنا۔
* تعلیمی اداروں میں سوال کرنے، تحقیق کرنے اور دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا۔
یہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے سر سید کی تاریخی تحریک ایک زندہ تعلیمی روایت بن سکتی ہے۔
12۔ مسلمانوں کی ترقی میں تعلیم کے ساتھ معاشی اور سماجی اصلاح کی اہمیت:
تعلیم کو سماجی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھنا درست ہے، لیکن صرف تعلیم کی فراہمی سے تمام مسائل خودبخود حل نہیں ہوتے۔
اگر کسی طالب علم کو معیاری تعلیم حاصل ہو جائے، مگر اسے روزگار کے مناسب مواقع نہ ملیں، اگر کسی لڑکی کو اعلیٰ تعلیم حاصل ہو، مگر سماجی حالات اسے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں، یا اگر کسی باصلاحیت نوجوان کے پاس مزید تعلیم کے لیے مالی وسائل نہ ہوں، تو اس کی ترقی محدود ہو سکتی ہے۔
اس لیے تعلیمی تحریک کو معاشی انصاف، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور ادارہ جاتی بہتری کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے قابلِ اعتماد اعداد و شمار، مقامی سطح پر تحقیق اور پالیسی سازی بھی اہم ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کے اسباب کو سمجھنے کے لیے اسکولوں میں داخلے، تعلیم چھوڑنے کی شرح، اعلیٰ تعلیم میں شرکت، پیشہ ورانہ شعبوں میں نمائندگی اور معاشی رکاوٹوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
سر سید کی تحریک سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ سماجی مسائل پر محض جذباتی گفتگو کافی نہیں؛ ان کے اسباب کو سمجھنا اور ادارہ جاتی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
13۔ سر سید کی میراث پر کس کا حق ہے؟:
یہ سوال دراصل ایک وسیع تر سماجی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے: کیا کسی عظیم شخصیت کی میراث کو ایک مخصوص زبان، لباس، شہر یا طبقے تک محدود کیا جا سکتا ہے؟
سر سید احمد خان کی زندگی اور تحریک ایک مخصوص تاریخی ماحول میں وجود میں آئی۔ علی گڑھ اس تحریک کا مرکز تھا، اردو اس کی علمی سرگرمیوں کی اہم زبان تھی، اور اس کے ابتدائی مستفیدین میں شمالی ہندوستان کے مخصوص مسلم سماجی طبقات نمایاں تھے۔ ان تاریخی حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن تاریخی پس منظر کو تسلیم کرنے اور کسی تحریک کی میراث کو محدود کر دینے میں فرق ہے۔
علی گڑھ کی تہذیبی روایت کا احترام اپنی جگہ اہم ہے۔ اردو زبان کا فروغ بھی ضروری ہے۔ لیکن ان دونوں کو سر سید کی پوری فکر کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
اگر کسی شخص نے شیروانی پہن رکھی ہے لیکن وہ تعلیم کے فروغ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، تو محض لباس اسے سر سید کا حقیقی پیروکار نہیں بنا دیتا۔
اس کے برعکس اگر کوئی مراٹھی، بنگالی، تیلگو، کنڑ، ملیالم، کشمیری یا کسی اور زبان میں تعلیم کو فروغ دیتا ہے، غریب طلبہ کی مدد کرتا ہے، جدید علوم کی تدریس بہتر بناتا ہے اور علمی شعور پھیلاتا ہے، تو وہ سر سید کے تعلیمی پیغام سے ہم آہنگ کام کر رہا ہے، خواہ اس کا تعلق علی گڑھ سے نہ ہو۔
یہاں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کے کام کو سر سید کی فکر سے ہم آہنگ کہا جا سکتا ہے، مگر اسے تاریخی طور پر علی گڑھ تحریک کا حصہ قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے۔
سر سید کی میراث پر دعویٰ لباس کی بنیاد پر نہیں، علم، تحقیق، اصلاح اور تعلیمی خدمت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
14۔ سر سید کی فکر اور ہندوستانی مسلمانوں کا مشترکہ مستقبل:
آج ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی لسانی، علاقائی اور ثقافتی شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ تعلیمی ترقی کا راستہ کیسے اختیار کریں۔
اس سوال کا جواب کسی ایک ادارے، ایک زبان یا ایک طبقے کی اجارہ داری میں نہیں، بلکہ تعلیمی تعاون، علمی دیانت اور مختلف روایتوں کے احترام میں پوشیدہ ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی تاریخی اہمیت کے ساتھ ایک اہم قومی تعلیمی ادارہ ہے۔ اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ عثمانیہ، انجمن اسلام، ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند اور دوسرے اداروں کی اپنی اپنی علمی اور تاریخی اہمیت ہے۔
ان اداروں کے مقاصد، نصاب اور فکری روایتوں میں اختلافات ہیں، لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے ہر اس ادارے کی اہمیت ہے جو معیاری تعلیم، علمی ترقی اور سماجی بہتری میں حقیقی کردار ادا کرتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کسی ایک شہر کی کامیابی سے مکمل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ناندیڑ، اورنگ آباد، ممبئی، حیدرآباد، بنگلور، کوچی، کولکاتا، لکھنؤ، سری نگر اور ملک کے دوسرے شہروں و قصبوں میں معیاری تعلیمی مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔
ہر خطے کے اپنے مسائل اور امکانات ہیں۔ ان کو سمجھ کر ایسے تعلیمی ادارے قائم کرنے ہوں گے جو مقامی ضرورتوں کو پورا کریں اور طلبہ کو قومی و عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنائیں۔
سر سید کا پیغام اسی وقت زندہ رہے گا جب ان کے نام پر تقریبات منعقد کرنے کے ساتھ ان کے تعلیمی مقاصد کو بھی عملی شکل دی جائے گی۔
اختتامیہ: شام در شام جلیں گے تیری یادوں کے چراغ
شام در شام جلیں گے تیری یادوں کے چراغ نسل در نسل تیرا درد نمایاں ہوگا
یہ اشعار سر سید کی یاد کو ایک جذباتی اور فکری جہت عطا کرتے ہیں۔ لیکن کسی عظیم شخصیت کو یاد کرنے کا حقیقی مطلب صرف اس کے نام کا چراغ روشن کرنا نہیں، بلکہ اس کے ادھورے خوابوں کی تکمیل کے لیے کوشش کرنا بھی ہے۔
سر سید کا درد اس معاشرے کا درد تھا جو بدلتے ہوئے زمانے میں اپنے علمی مقام کو کھونے کے خطرے سے دوچار تھا۔ ان کی فکر ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اجتماعی ترقی کے لیے علم سے وابستگی، فکری جمود سے نجات، جدید علوم کا حصول اور سماجی اصلاح ضروری ہیں۔
ان کی میراث کو صرف علی گڑھ کی شیروانی، اردو زبان یا ایک مخصوص تہذیبی شناخت تک محدود کر دینا اس کے وسیع تر تعلیمی پیغام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
علی گڑھ کی تہذیب اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، اردو کی علمی و ادبی روایت اپنی جگہ اہم ہے، اور سر سید سے وابستہ اداروں کی تاریخی خدمات اپنی جگہ مسلم ہیں۔ مگر سر سید کی تحریک کا بنیادی سبق ان سب سے آگے بڑھ کر علم کی اہمیت اور تعلیمی بیداری کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔
وہ چاہتے تھے کہ مسلمان علم کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں، نئی حقیقتوں کو سمجھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کے امکانات پیدا کریں۔ اس پیغام کی معنویت کسی ایک علاقے یا زبان کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔
اگر مراٹھواڑہ کا کوئی طالب علم جدید سائنس میں مہارت حاصل کرتا ہے، اگر بنگال کی کوئی طالبہ تحقیق کے میدان میں آگے بڑھتی ہے، اگر کیرالہ کا کوئی نوجوان نئی ٹیکنالوجی میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے، یا اگر ہندوستان کے کسی دور افتادہ گاؤں میں ایک استاد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے، تو یہ سب اس وسیع تعلیمی خواب کے ساتھ ہم آہنگ کوششیں ہیں جسے سر سید نے اپنی زندگی میں اہمیت دی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سر سید کو صرف ماضی کی ایک عظیم شخصیت کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ ان کے تعلیمی اصولوں کو اپنے حال اور مستقبل کی تعمیر میں استعمال کریں۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو اپنی زبانوں سے محبت کرے، اپنی تہذیب کا احترام کرے، اپنے مذہبی اور سماجی ورثے کو سمجھے، جدید علوم میں مہارت حاصل کرے، تحقیق و دلیل کو اہمیت دے اور انسانیت کی خدمت کو اپنی علمی زندگی کا مقصد بنائے۔
سر سید کی یاد میں چراغ جلانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہم علم کے مزید چراغ روشن کریں۔
علی گڑھ صرف ایک مقام کا نام نہیں، بلکہ اس تعلیمی عزم کی علامت بھی ہے جو انسان کو جہالت سے علم، جمود سے حرکت اور مایوسی سے امید کی طرف لے جاتا ہے۔
سر سید کی فکر کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تعلیم کسی مخصوص لباس، زبان، شہر یا طبقے کی علامت بننے کے بجائے ہر بچے کا حق، ہر خاندان کی امید اور پورے معاشرے کی مشترکہ ترجیح بن جائے۔
تب واقعی شام در شام ان کی یاد کے چراغ جلیں گے، اور نسل در نسل ان کا تعلیمی پیغام زندہ رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے