कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسکرین میں گم بچے، دباؤ میں ڈوبے والدین -استاد کے گھر کا المیہ

یہ تحریر ستارا کی اُس سترہ برس کی بیٹی کے نام ہے، جس کی زندگی ٹی وی کے ریموٹ پر ہونے والے ایک جھگڑے میں ختم ہو گئی؛ اور اُن تمام گھروں کے نام جہاں بیماری کو بگاڑ اور بے بسی کو غصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

تحریر:ڈاکٹراسداللہ خان
9967893333

ہفتے کی رات۔ ایک عام سا گھر۔ ایک ٹی وی، ایک ریموٹ، اور تین بہن بھائی جو یہ طے نہیں کر پا رہے کہ کون سا پروگرام دیکھا جائے۔ ایسے جھگڑے ہر گھر میں ہوتے ہیں، اور عموماً چند منٹ میں ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے اُس گھر میں یہ جھگڑا ختم نہیں ہوا؛ وہ ایک زندگی کے ساتھ ختم ہوا۔
پولیس کے بیان کے مطابق سترہ برس کی بڑی بیٹی کا اپنے چھوٹے بھائی بہن سے ٹی وی پر جھگڑا ہوا اور اُس نے چھوٹی بہن کو مکا مار دیا۔ باپ نے ڈانٹا تو وہ مشتعل ہو کر کرکٹ کا بلّا لیے باپ کی طرف بڑھی۔ باپ نے وہی بلّا چھین کر اُس کے سر پر مارا، اور بیٹی موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ اس سانحے کو اور بھی تاریک بنا دیتا ہے: شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی، اور ابتدا میں پولیس کو یہ بتایا گیا کہ لڑکی نے خود اپنا سر کہیں مار لیا تھا۔ پوچھ گچھ میں ماں نے سچ بتا دیا، اور پولیس کے مطابق باپ نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اور آخری فیصلہ عدالت کرے گی۔
اس خبر کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ماں اور باپ، دونوں استاد ہیں۔ وہ لوگ جو روز دوسروں کے بچوں کو سنبھالنا، سمجھانا اور ان کا غصہ ٹھنڈا کرنا جانتے ہیں۔ اسی لیے یہ باب ایک خبر کا تبصرہ نہیں؛ یہ ہم سب کے لیے، اور خاص طور پر ہم اساتذہ کے لیے، ایک آئینہ ہے۔
تفتیش میں باپ کا بیان سامنے آیا کہ بیٹی "بگڑ گئی تھی، بری عادتوں میں پڑ گئی تھی”، اور وہ اس کی حرکتوں سے تنگ آ کر یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوا۔ مگر پڑوسیوں نے ایک بالکل مختلف لڑکی کا ذکر کیا: بے حد ملنسار، محبت سے بات کرنے والی، سب سے گھل مل جانے والی۔ اور پولیس کی تفتیش نے ایک تیسری حقیقت سامنے رکھی: لڑکی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، وہ پونے میں ایک ماہرِ نفسیات کے زیرِ علاج تھی، روزانہ دوا لیتی تھی، ایک بار اسی کیفیت کی وجہ سے اسپتال میں داخل بھی رہ چکی تھی، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد پر اتر آتی تھی۔ پولیس کے مطابق اسی برس مئی میں وہ ایک جھگڑے میں باپ پر حملہ کر چکی تھی، جس میں باپ کا بازو ٹوٹ گیا تھا۔
یہ تین تصویریں ایک ہی لڑکی کی ہیں۔ اور ان کے بیچ وہ بنیادی غلطی چھپی ہے جو ہمارے بہت سے گھروں میں روز دہرائی جاتی ہے: بیماری کو اخلاقی بگاڑ سمجھ لینا۔ جو لڑکی ماہرِ نفسیات کے علاج میں تھی اور روز دوا لیتی تھی، اُس کے غصے کو "بری عادت” کہنا ایسا ہی ہے جیسے بخار میں تپتے بچے کو "گرم مزاج” کہہ کر سزا دی جائے۔ جب تک ہم ذہنی بیماری کو بیماری ماننے کے بجائے کردار کی خرابی سمجھتے رہیں گے، ہم مریض کو علاج کے بجائے ڈانٹ دیں گے، اور ڈانٹ کبھی کبھی ایسی جگہ جا پہنچتی ہے جہاں سے واپسی نہیں ہوتی۔
ذہنی بیماری کو "بری عادت” کہنا ایسا ہی ہے جیسے بخار میں تپتے بچے کو "گرم مزاج” کہہ کر سزا دی جائے۔
کوئی جواز نہیں:
یہاں ایک بات بالکل صاف کہہ دینی چاہیے، تاکہ اس باب کی ہمدردی کو کوئی غلط معنی نہ پہنائے۔ بیٹی کی بیماری، اس کا غصہ، اس کا بلّا اٹھانا، مئی کا وہ زخم، باپ کی برسوں کی تھکن؛ ان میں سے کوئی چیز اُس ایک ضرب کا جواز نہیں۔ اپنے دفاع کا حق اور سزا دینے کا جذبہ دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔ بلّا چھین لینے کے بعد خطرہ ٹل چکا تھا؛ اس کے بعد کی ضرب دفاع نہیں، غصہ تھی۔ اور اس کے بعد شواہد مٹانے اور جھوٹ بولنے کی کوشش نے اس غصے کو ایک سوچے سمجھے عمل میں بدل دیا۔
قرآن نے اولاد کے قتل کو بار بار سنگین ترین جرائم میں شمار کیا:
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (الانعام: ۱۵۱؛ الاسراء: ۳۱)۔
جاہلیت کے لوگ یہ جرم غربت یا عار کے خوف سے کرتے تھے؛ آج کے بعض گھروں میں یہ "عزت”، "بگاڑ” یا "تنگ آ جانے” کے نام پر ہوتا ہے۔ نام بدل گئے ہیں، جرم وہی ہے۔ اولاد ماں باپ کی ملکیت نہیں، اللہ کی امانت ہے؛ اور امانت میں خیانت کا کوئی جواز نہیں ہوتا، چاہے امانت کتنی ہی بوجھل ہو جائے۔
طاقت ور کون ہے؟:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کی ایک ایسی تعریف کی جو ہر گھر کی دیوار پر لکھی ہونی چاہیے:
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ،
طاقت ور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے؛ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے (صحیح بخاری، حدیث ۶۱۱۴)۔
اور آپ نے غصے کا علاج بھی بتایا: جو کھڑا ہو وہ بیٹھ جائے، اور اگر پھر بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے (سنن ابی داؤد، حدیث ۴۷۸۲)۔
یعنی غصے کے لمحے میں جسم کی حالت بدل دو، جگہ بدل دو، وقت حاصل کرو۔
آج کی نفسیات بھی یہی کہتی ہے۔ شدید غصے کے لمحے میں ذہن کا وہ حصہ جو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے، کچھ دیر کے لیے دب جاتا ہے، اور جسم "لڑو یا بھاگو” کی حالت میں آ جاتا ہے۔ ایسے لمحے میں سب سے دانش مندانہ عمل کوئی فیصلہ نہیں، بلکہ فاصلہ ہے: کمرے سے نکل جانا، گہری سانس لینا، کسی تیسرے فرد کو بلانا۔ جس گھر میں غصے کے لمحے کے لیے کوئی "منصوبہ” پہلے سے طے نہیں ہوتا، وہاں فیصلہ غصہ خود کرتا ہے۔
طاقت ور وہ نہیں جو پچھاڑ دے؛ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔
اس سانحے میں ایک خاموش اشارہ ایسا ہے جس پر کم لوگوں کی نظر جائے گی۔ اسی برس مئی میں بیٹی نے باپ پر حملہ کیا تھا اور اس کا بازو ٹوٹ گیا تھا۔ یہ ایک چیخ تھی؛ ایک گھر کی چیخ کہ وہ ایک ایسے بحران میں ہے جسے وہ اکیلے نہیں سنبھال سکتا۔ ایک بیمار بچے کے والدین، جو خود بھی خوف، شرم، تھکن اور بے بسی میں مبتلا تھے؛ ایک بیماری، جس کا علاج جاری تھا مگر جس کے ساتھ گھر میں رہنے کا کوئی سہارا نظر نہیں آتا؛ اور ایک سماج، جو ایسے گھروں کے بارے میں سرگوشیاں تو کرتا ہے، مدد نہیں کرتا۔
ذہنی بیماری صرف مریض کو نہیں، پورے گھر کو گرفت میں لیتی ہے۔ جو ماں باپ مہینوں ایک ایسے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہیں جو کسی بھی لمحے بھڑک سکتا ہے، وہ خود بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں ذہنی صحت کا علاج صرف مریض کی دوا نہیں، خاندان کی رہنمائی اور سہارے کو بھی شامل کرتا ہے: گھر والوں کو یہ سکھانا کہ بحران کے وقت کیا کرنا ہے، بچے کے غصے کو کیسے ٹھنڈا کرنا ہے، خود کو اور دوسروں کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، اور کب فوری مدد مانگنی ہے۔ ہمارے ملک میں قومی ذہنی صحت سروے نے برسوں پہلے یہ بتایا تھا کہ ذہنی امراض کے شکار لوگوں کی بھاری اکثریت کو علاج ملتا ہی نہیں؛ اور جنھیں علاج ملتا ہے، اُن کے گھر والوں کو رہنمائی شاذ ہی ملتی ہے۔ مئی کا ٹوٹا ہوا بازو ایک موقع تھا، جب کسی کو، کسی ماہر کو، کسی رشتے دار کو، کسی ادارے کو، اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تھا۔
موبائل کو ملزم بنانے سے پہلے:
پولیس کے بیان میں یہ بھی ہے کہ لڑکی موبائل اور ٹی وی کا حد سے زیادہ استعمال کرتی تھی اور اسی وجہ سے اکثر مشتعل ہو جاتی تھی۔ ہم نے اسکرین کی دنیا کے خطرات پر تفصیل سے بات کی ہے، اور وہ خطرات حقیقی ہیں۔ مگر یہاں احتیاط ضروری ہے۔ کسی ایسی بچی کے معاملے میں، جو پہلے سے ایک ذہنی بیماری کے علاج میں تھی، سارا الزام موبائل پر ڈال دینا مسئلے کی ایک آسان مگر ادھوری تشخیص ہے۔ تحقیق اسکرین کے زیادہ استعمال اور بے چینی یا چڑچڑے پن کے درمیان تعلق تو دکھاتی ہے، مگر یہ تعلق دونوں طرف چلتا ہے: کبھی اسکرین بے چینی بڑھاتی ہے، اور کبھی بے چین ذہن اسکرین میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ موبائل کو ملزم بنا دینا آسان ہے، کیونکہ وہ جواب نہیں دیتا؛ مگر اس سے نہ بیماری کی پہچان ہوتی ہے، نہ گھر کے بحران کا علاج۔
استاد کا گھر بھی ایک گھر ہے:
اس واقعے کا سب سے تکلیف دہ سبق ہم اساتذہ کے لیے ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص پچاس بچوں کی کلاس سنبھال لیتا ہے، وہ اپنے گھر کے ایک بچے کو تو آسانی سے سنبھال لے گا۔ ایسا نہیں ہے۔ کلاس میں استاد ایک کردار نبھاتا ہے، اس کے پاس قاعدے ہیں، وقت کی حد ہے، اور گھنٹی بجتے ہی ایک وقفہ ہے۔ گھر میں نہ کوئی گھنٹی ہے، نہ وقفہ؛ وہاں ہماری اپنی تھکن، اپنا ماضی، اپنی شرم اور اپنا غصہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جب استاد کے اپنے گھر میں بحران آتا ہے تو اکثر وہ مدد مانگنے سے سب سے زیادہ کتراتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ ایک استاد کا اپنے ہی بچے کو نہ سنبھال پانا اس کی پیشہ ورانہ ناکامی ہے۔ یہ شرم ہی سب سے خطرناک ہے۔
ہم نے کبھی استاد کی تھکن کی بات کی تھی؛ یہاں وہ تھکن گھر کی دہلیز پار کر کے ایک المیے میں بدل گئی۔ ہمارے اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد کی فلاح صرف اسکول کے اوقات تک محدود نہیں۔ جو استاد گھر میں کسی بیمار بچے، بیمار والدین یا کسی بحران سے گزر رہا ہو، اسے اسکول کی طرف سے رازداری کے ساتھ مشاورت، رہنمائی اور وقت کی رعایت ملنی چاہیے۔
استاد کا گھر بھی ایک گھر ہے؛ اور سب سے خطرناک شرم وہ ہے جو ایک استاد کو اپنے ہی گھر کے لیے مدد مانگنے سے روکے۔
ہم کیا کریں؟:
گھر کے لیے پہلا قدم: اگر گھر میں کوئی بچہ ذہنی بیماری کے علاج میں ہے، تو معالج سے صرف دوا نہیں، "بحران کا منصوبہ” بھی مانگیے: بچہ مشتعل ہو تو کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا ہے، کسے فون کرنا ہے، اور کب اسپتال لے جانا ہے۔ دوسرا قدم: غصے کے لمحے کے لیے گھر کا ایک اصول طے کیجیے، جو بڑوں پر بھی لاگو ہو: آواز بلند ہو تو بات روک دی جائے، اور جو زیادہ غصے میں ہو وہ کمرے سے باہر چلا جائے۔ تیسرا قدم: گھر میں ایسی چیزیں، جو بحران کے وقت ہتھیار بن سکتی ہیں، بیمار بچے کی پہنچ سے دور رکھی جائیں۔ چوتھا قدم: کبھی بھی، کسی بھی صورت میں، بچے کو مار کر "ٹھیک” کرنے کا خیال دل میں نہ لائیے؛ مار بیماری کا علاج نہیں، اسے اور بھڑکاتی ہے۔ اور پانچواں قدم: جب لگے کہ گھر اپنی برداشت کی آخری حد پر ہے، تو مدد مانگیے؛ حکومتِ ہند کی ذہنی صحت کی ہیلپ لائن "ٹیلی مانس” ۱۴۴۱۶ پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے، اور یہ صرف مریض کے لیے نہیں، اُس کے گھر والوں کے لیے بھی ہے۔
اسکول کے لیے: ہر اسکول میں کم از کم ایک تربیت یافتہ مشیر ہو، یا قریبی ادارے سے اس کا رابطہ؛ اساتذہ کو یہ تربیت دی جائے کہ وہ بچوں میں ذہنی پریشانی کی ابتدائی علامتیں پہچان سکیں؛ اور جب کسی بچے کے بارے میں ایسا خدشہ ہو تو والدین سے شکایت کے لہجے میں نہیں، سہارے کے لہجے میں بات کی جائے۔ اور ہمارے سماج کے لیے: مسجد کے منبر، محلے کی بیٹھک اور خاندان کی محفل میں یہ بات بار بار کہی جائے کہ ذہنی بیماری بیماری ہے، گناہ نہیں؛ علاج کروانا توکل کے خلاف نہیں؛ اور جس گھر میں کوئی ایسا بیمار ہو، اس کے دروازے پر سرگوشی نہیں، دستک ہونی چاہیے۔
بلّا جو کھیل کے لیے تھا:
کرکٹ کا وہ بلّا اُس گھر میں کھیل کے لیے آیا ہوگا؛ کسی اتوار کی صبح، کسی گلی کے میچ کے لیے، شاید اسی بیٹی کے کسی پرانے، ہنستے ہوئے دن کے لیے۔ ایک رات وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک گیا، اور ایک گھر ہمیشہ کے لیے ویران ہو گیا۔ ایک بیٹی چلی گئی، ایک باپ جیل کی کوٹھری میں ہے، ایک ماں سچ بول کر بھی کچھ واپس نہیں لا سکتی، اور دو چھوٹے بچے عمر بھر اُس رات کا بوجھ اٹھائیں گے۔
یہ ایک گھر کا المیہ ہے، مگر سبق ہر گھر کے لیے ہے۔ بیماری کو بیماری کہنا سیکھیے۔ غصے کے لمحے سے پہلے اُس کا منصوبہ بنائیے۔ تھکن کو چھپائیے نہیں، بانٹیے۔ اور جب گھر کی دیواریں تنگ ہونے لگیں تو دروازہ کھول کر مدد پکاریے۔ تو آئیے، آج اپنے گھروں میں ایک سوال پوچھیں: اگر کل کسی بات پر غصہ حد سے بڑھ جائے، تو ہم میں سے کون، پہلے، بیٹھ جائے گا؟
asadullah_khn@yahoo.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے