कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جائے نماز کے اُس پار

تحریر:عالیہ خان اردھاپور 

ہوا آج کچھ اس شدت سے چل رہی تھی، گویا درختوں کے پتوں کو ان کے وجود سے محروم کرنے کا پیغام لے کر آئی ہو۔ صحن میں بکھرے سوکھے پتے بار بار ایک دوسرے سے ٹکراتے، پھر کسی نامعلوم سمت میں گھسیٹ دیے جاتے۔ آسمان پر بادلوں کی تہیں تھیں اور گھر کے اندر عورتوں کی دھیمی آوازیں، سسکیاں اور تعزیت کے جملے ایک عجیب سی فضا پیدا کر رہے تھے۔
صحن کے بیچوں بیچ ایک چارپائی پر سفید چادر بچھی تھی۔ اس کے گرد بیٹھی عورتوں کی زبان پر ایک ہی نام تھا، اور اس نام کے ساتھ جڑی ہوئی نیکیوں کی ایک طویل فہرست۔
’’اللہ! کتنی عبادت گزار تھیں۔ تہجد کی پابند، پانچ وقت کی نمازی، ہر وقت تسبیح ہاتھ میں رہتی تھی۔‘‘
ایک عورت نے ٹھنڈی سانس بھری۔ دوسری بولی، ’’اور مہمان نوازی تو ایسی کہ کوئی دروازے سے خالی نہ لوٹے۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے۔‘‘
کمرے کے دروازے کے پاس بیٹھی بڑی بہو نے سر اٹھایا۔ اس کی نگاہ جائے نماز پر پڑی، جو تہہ کرکے ایک طرف رکھ دی گئی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا، جیسے اس جائے نماز کے ساتھ ہی گھر کی وہ ساری آوازیں بھی خاموش ہوگئی ہوں جو کبھی اسی جگہ سے اٹھ کر اس کے دل تک پہنچتی تھیں۔
اسے اپنی ساس کا ایک جملہ یاد آیا۔
’’ہم نے تو ساری عمر چولہے کے دھوئیں میں گزار دی، تم لوگوں کو تو سب کچھ بنا بنایا مل گیا! ذرا سا کام کیا نہیں جاتا، مگر آرام پورا چاہیے۔‘‘
اسے وہ دن یاد آیا جب نہانے کے بعد بال خشک کرنے کے لیے وہ چند لمحے دھوپ میں بیٹھی تھی۔ سردیوں کی دھوپ صحن میں کسی مہربان ہاتھ کی طرح پھیلی ہوئی تھی، مگر اس کی مہربانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی شاید اس گھر میں بہو کو اجازت درکار تھی۔
اچانک ساس کی آواز کمرے سے صحن تک گونج اٹھی تھی۔
’’واہ بھئی! بہو رانی کے تو مزے ہیں! گھر میں کام پڑا ہے اور انہیں دھوپ سینکنے سے فرصت نہیں۔ ہمارے زمانے میں تو ہم صبح ہی چولہے پر پانی گرم کرکے نہا دھو کر فارغ ہوجاتے تھے۔ ایک تم لوگ ہو کہ نخرے ہی ختم نہیں ہوتے!‘‘
وہ کیا بتاتی کہ اس کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی ہوسکتی تھی؟ وہ بس شرمندہ سی نظریں جھکائے بیٹھی رہی، جیسے دھوپ میں چند لمحے بیٹھ کر اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کرلیا ہو۔
اس گھر میں اس کے لیے کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔
کبھی کپڑوں پر اعتراض ہوتا، کبھی نہانے میں دیر پر، کبھی جلدی نہانے پر۔ کبھی کچن میں زیادہ وقت لگانے پر طعنہ ملتا، کبھی جلدی فارغ ہونے پر شک کیا جاتا۔ وہ خاموش رہتی تو کہا جاتا کہ زبان بند کرکے ہمیں نیچا دکھاتی ہے، جواب دیتی تو بدتمیز ٹھہرتی۔
نہ اسے اختلاف کا حق تھا، نہ اپنی خواہش بیان کرنے کی آزادی۔
اور اگر کبھی شوہر کے پاس چند لمحے بیٹھ جاتی تو ساس کے تیور بدل جاتے۔
’’ابھی سے میاں کو اپنے قابو میں کرنے کی فکر ہے! ہمارے گھر کے بھی کچھ اصول ہیں۔‘‘
پھر ایک اور جملہ اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترتا:
’’ہاں ہاں، خوب بھڑکاؤ ہمارے خلاف! ہمارا گھر توڑنے آئی ہے!‘‘
کسی دن شوہر کے ساتھ ہنس کر بات کرلیتی تو ساس کے چہرے پر ایک انجانی سی ناگواری پھیل جاتی، جیسے بہو کی خوشی ان کے اپنے حصے کی کوئی چیز کم کر رہی ہو۔
وہ عورت واقعی مشقت سے گزری تھی۔ غربت دیکھی تھی، اپنی خواہشیں قربان کی تھیں، گھر کو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ اس کی قربانیاں سچی تھیں، مگر شاید انہی قربانیوں نے اس کے دل میں ایک ایسا خیال بھی جڑ پکڑ لیا تھا کہ جو محرومیاں اس نے جھیلی ہیں، بہوؤں کو ان سے بچانا نہیں، بلکہ انہی سے گزارنا چاہیے۔
شاید اسے بہوؤں کی آسائش میں اپنی محرومی کا عکس دکھائی دیتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی کہ جس تکلیف نے اسے مضبوط بنایا، ضروری نہیں کہ وہی تکلیف کسی دوسری عورت کو بھی مضبوط بنائے؛ ممکن ہے، وہ اسے اندر سے توڑ دے۔
کبھی کبھی انسان اپنے زخموں سے سبق لینے کے بجائے انہیں دوسروں کے لیے اصول بنا لیتا ہے، اور یوں ایک نسل کا دکھ اگلی نسل کی قسمت بن جاتا ہے۔
اس کی تین بہوئیں تھیں۔ تینوں کے دکھ الگ تھے، مگر ان کے دکھوں کا مرکز ایک ہی گھر تھا۔
ایک کو ہر وقت اس کی حیثیت یاد دلائی جاتی، دوسری کو غریب گھر سے بیاہ کر لانے کا احسان جتایا جاتا، اور تیسری کو اپنے جائز حق کے لیے بھی اس طرح بولنا پڑتا، جیسے وہ کوئی بڑی گستاخی کر رہی ہو۔
’’میں نے تمہیں اپنے گھر میں جگہ دی، کھانے پینے کی کمی نہیں ہونے دی، پھر تمہیں بار بار اپنے میکے کی یاد کیوں آتی ہے؟‘‘
ساس اکثر کہا کرتی تھی۔
اسے خبر نہ تھی کہ گھر میں جگہ دے دینا اور کسی کے دل میں جگہ بنانا دو الگ باتیں ہیں۔ چھت کسی کو دھوپ اور بارش سے بچا سکتی ہے، مگر ہر چھت کے نیچے انسان کو سکون بھی ملے، یہ ضروری نہیں۔
پھر ایک دن وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھی بہوؤں کو دین سمجھا رہی تھی۔
’’تم لوگوں کو دین کی سمجھ ہی نہیں! یاد رکھنا، ایسی نافرمان عورتیں جہنم میں جائیں گی!‘‘
بہوؤں نے سر جھکا لیے تھے۔ کوئی جواب نہ دے سکی۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ دین کے نام پر دوسروں کو ڈرانے والی زبان کو بھی اپنے الفاظ کا حساب دینا ہوگا۔
—
’’بہن! اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔ اتنی نیک عورت تھیں، ہمیشہ اللہ کی عبادت میں لگی رہیں۔‘‘
تعزیت کرنے والی ایک عورت کے جملے نے بڑی بہو کو ماضی سے حال میں واپس کھینچ لیا۔
اس کی بڑی بڑی آنکھیں، جن میں کبھی زندگی کے کتنے ہی خواب آباد تھے، دکھ کی شدت سے عمر سے کہیں زیادہ تھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ آج ان کی سرخی بتا رہی تھی کہ آنسو صرف بہنے سے نہیں، خود کو روکنے سے بھی آنکھوں میں اتر آتے ہیں۔
اس نے سامنے رکھی پانی کی بوتل اٹھائی، مگر ہاتھ ہلکا سا کانپ گیا۔ پانی کے چند قطرے فرش پر گرے تو اسے ساس کی آواز پھر سنائی دی۔
’’تم سے ایک گلاس پانی بھی ٹھیک سے نہیں پکڑا جاتا! نہ جانے تمہارے گھر والوں نے کیا سکھا کر بھیجا ہے۔‘‘
اس نے آنکھیں بند کرلیں۔
کتنی عجیب بات تھی! باہر والوں کے لیے وہ ایک عبادت گزار، مہمان نواز اور نرم گفتار عورت تھی، مگر گھر کی چار دیواری میں اس کے چند جملے ایسے تھے جو برسوں سے بہوؤں کے دلوں میں کانٹے بن کر چبھ رہے تھے۔
اچانک ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور کفن کی سفید چادر کا کنارہ پھڑپھڑانے لگا۔
اس منظر نے بڑی بہو کے اندر برسوں سے بند ایک دروازہ کھول دیا۔
اسے وہ دن یاد آیا جب اس کے شوہر نے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ہونے والے ایک معمولی جھگڑے پر بھری محفل میں اسے بے عزت کیا تھا۔ اس کی بات سنے بغیر، اس کی غلطی جانے بغیر، اس پر الزام لگائے گئے تھے۔ پھر طلاق کی دھمکی دی گئی اور اسے میکے چھوڑ دیا گیا۔
وہ اس وقت بھی خاموش تھی۔
وہ خاموشی جو کمزوری نہیں تھی، بلکہ اس امید کا آخری سہارا تھی کہ شاید ایک دن اس کا شوہر پلٹ کر اس کی بات سنے گا، اس کے دکھ کو سمجھے گا اور اس کے حق میں کھڑا ہوگا۔
مگر دن گزرتے گئے، راتیں کٹتی گئیں اور امید آہستہ آہستہ دم توڑنے لگی۔
کفن کی سفید چادر اسے اپنے میکے میں گزارے ہوئے وہ دن یاد دلا رہی تھی، جب وہ رشتے کے نام پر زندہ تھی، مگر اس کے احساسات جیسے مرچکے تھے۔ طلاق کی دھمکی اور اس کے پورا ہونے کے خوف نے اس کے اندر ایک ایسی ویرانی پیدا کردی تھی جہاں نہ خواب اگتے تھے، نہ خواہشیں۔
اسے اپنی بے چین راتیں یاد آئیں، وہ تڑپتے دن، وہ سجدے جن میں اس کی آواز آنسوؤں میں ڈوب جاتی تھی۔
وہ اپنے رب سے پوچھتی تھی کہ آخر اس کا قصور کیا ہے؟
اس نے تو صرف ایک گھر مانگا تھا؛ ایسا گھر جہاں اسے اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھنے کے لیے اجازت نہ لینی پڑے، جہاں اس کے آنسوؤں کو ضد نہ کہا جائے اور جہاں اس کی خاموشی کو اس کی رضامندی نہ سمجھ لیا جائے۔
ان سب یادوں نے اس کے دل میں ایک ایسی لحد بنا دی تھی جس میں اس کے کتنے ہی احساسات خاموشی سے دفن ہوچکے تھے۔
اس نے آنکھیں کھولیں اور کفن کی طرف دیکھا۔
وہ نہ اپنی ساس کی نیکیوں سے انکار کرنا چاہتی تھی، نہ ان کے لیے بددعا کرنا چاہتی تھی۔ مگر کیا کسی کی نیکیوں کا اعتراف کرنے کے لیے اپنے زخموں سے انکار کرنا ضروری ہے؟
کیا کسی کے اچھے اعمال کا احترام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھوں ہونے والی ناانصافی کو بھی بھلا دیا جائے؟
—
اس کی دونوں دیورانیاں قریب بیٹھی تھیں۔ ایک کی آنکھوں میں ندامت تھی، دوسری بار بار دوپٹے سے آنسو پونچھ رہی تھی۔
ان میں سے ایک نے دھیمی آواز میں کہا:
’’میں نے کئی بار ان کے لیے بددعا کی تھی۔ آج ان کا چہرہ دیکھ کر دل میں عجیب سا بوجھ ہے۔ کاش، میں ایسا نہ کہتی۔‘‘
دوسری نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ہم اللہ کے لیے انہیں معاف کردیتے ہیں۔ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ اللہ ہمارے دلوں کو بھی صاف کردے۔‘‘
پھر وہ کچھ دیر خاموش رہی اور بولی:
’’عبادت اور نیکی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ عبادت اللہ کے حکم پر عمل ہے، اور نیکی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی آسانی بننے کا نام ہے۔ بعض اوقات نیکی اپنی ضد، اپنا غصہ، اپنی انا قربان کرنے کا نام ہے۔ اور کبھی کسی کی زیادتی کے باوجود اپنے دل کو نفرت سے بچانا بھی ایک بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔‘‘
چھوٹی بہو نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔
’’لیکن کیا معاف کردینے سے ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی ختم ہوجاتی ہے؟‘‘
’’نہیں،‘‘ اس نے نرمی سے جواب دیا، ’’معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم، انصاف بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو اسی ظلم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے جلنے نہیں دیتے۔ انصاف اللہ کے سپرد کرنا اور اپنے دل کو نفرت سے بچانا بھی ایک راستہ ہے۔‘‘
بڑی بہو اب بھی خاموش تھی۔
اس کے لیے معاف کرنا ایک ایسا دروازہ تھا جس کے سامنے وہ برسوں سے کھڑی تھی، مگر ابھی اس کے قدم اس دہلیز تک نہیں پہنچے تھے۔
پھر اس نے اپنی دونوں دیورانیوں کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولی:
’’تم نے صحیح کہا۔ ہمیں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو اپنی زندگی کا سبق بنانا چاہیے، اپنی اگلی نسل کی سزا نہیں۔ اگر کل ہم بھی اپنی بہوؤں کو انہی طعنوں سے توڑیں، ان کی ہر سانس پر پہرا بٹھائیں، ان کے جائز حقوق کو اپنا احسان سمجھیں، تو پھر ہم میں اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ ہم اپنے زخموں کو ورثہ کیوں بنائیں؟‘‘
اس کی آواز بھرا گئی۔
’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا، مگر اس سے زیادہ یہ کہ ہم نے کیا نہیں دہرانا۔‘‘
—
باہر ہوا نے ایک بار پھر زور پکڑا۔ درخت سے ٹوٹ کر ایک سوکھا پتّا کھڑکی کے پاس آ گرا۔ کسی نے اسے اٹھانے کی زحمت نہ کی۔ وہ وہیں پڑا رہا، جیسے گھر کی فضا میں بکھری ہوئی ان کہی باتوں کا ایک چھوٹا سا نشان ہو۔
بڑی بہو کی نگاہ جائے نماز پر جا ٹھہری۔ اسے رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ اس عورت کا واقعہ یاد آیا جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس عورت نے بلی کو قید رکھا، نہ اسے کھانا دیا، نہ پانی، اور نہ آزاد کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی۔
(صحیح البخاری: 3318، صحیح مسلم: 2242)
اس کے دل میں خیال آیا کہ جب ایک بے زبان مخلوق کے ساتھ ظلم اتنا سنگین معاملہ ہے، تو انسانوں کے حقوق کو معمولی کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
عبادت اپنی جگہ، مگر کسی کا حق مارنا اپنی جگہ۔ تسبیح کے دانے گننے والے ہاتھوں کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ کہیں انہی ہاتھوں سے کسی کا حق تو نہیں چھینا گیا۔ سجدوں میں جھکنے والا سر یہ بھی سوچے کہ کہیں اس کے غرور نے کسی دوسرے انسان کو تو نہیں جھکایا۔
اسے مفلس والی حدیث بھی یاد آئی، جس میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا یا کسی کو نقصان پہنچایا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔
(صحیح مسلم: 2581)
وہ جانتی تھی کہ کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ انسان نہیں کرسکتا۔ اس کی ساس کے اعمال کا پورا حساب اللہ کے پاس تھا، اور اسی کی رحمت سب سے وسیع تھی۔
اس نے سر جھکا کر دعا کی:
’’یا اللہ! ان کی مغفرت فرما، ان کی نیکیوں کو قبول فرما، ان کی خطاؤں سے درگزر فرما، اور ہمیں ایسا بنا کہ ہماری وجہ سے کوئی انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی نہ ہوجائے۔‘‘
پھر اس نے اپنی دونوں دیورانیوں کے ہاتھ تھام لیے۔
’’چلو، ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور اپنے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ جب کبھی ہمارے ہاتھ میں کسی کمزور پر اختیار آئے تو ہم اسے آزمائش سمجھیں، اپنی بادشاہت نہیں۔‘‘
جنازہ اٹھانے کی آواز آئی تو سب عورتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
گھر سے ایک عورت رخصت ہو رہی تھی؛ اپنے ساتھ اپنی عبادتیں، اپنی نیکیاں، اپنی خطائیں اور وہ تمام معاملات لیے، جن کی حقیقت صرف اللہ جانتا تھا۔
لوگ اس کی عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے رخصت کر رہے تھے، اور اس کی بہو اپنے دل میں ایک عہد لیے کھڑی تھی کہ وہ اپنی آنے والی بہوؤں کے لیے وہی تنگ دروازے نہیں بنائے گی جن سے گزر کر اس نے اپنی زندگی کے کئی برس گزارے تھے۔
کیونکہ کسی کی محرومی کو اپنی عظمت کی دلیل بنا لینا، اور کسی کی خاموشی کو اپنی برتری سمجھ لینا، انسان کی ایسی خطا ہے جس کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب شکایت کرنے والی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہوتی ہے۔
اور شاید اصل دینداری یہی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکنے کے ساتھ، اللہ کی مخلوق کے لیے اپنے دل میں جگہ بھی پیدا کرے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close