कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رومن اردو کا بڑھتا رجحان زبان کے لیے خطرہ یا ضرورت؟

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو
شری بنکٹ سوامی مہاودلیہ بیڑ،مہاراشٹر

صبح سے شام تک موبائل کی اسکرین پر ہمارے سامنے جو اردو آتی ہے، اس کا بڑا حصہ اب اردو رسم الخط میں نہیں ہوتا۔ واٹس ایپ کے پیغامات، فیس بک کے تبصرے، انسٹاگرام کے کیپشن اور یوٹیوب کے نیچے لکھی رائے، سب میں "kyahaalhai”, "bohatkhoob” اور "shukriya” جیسے جملے عام ہیں۔ یہ منظر ہمیں ایک سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے رومن اردو زبان کے لیے خطرہ ہے یا آج کے دور کی ضرورت؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نہ مکمل "ہاں” میں ہے اور نہ مکمل "نہیں” میں۔رومن اردو کوئی نئی چیز نہیںاکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ رومن اردو موبائل اور انٹرنیٹ کی پیداوار ہے، حالانکہ اس کی جڑیں انیسویں صدی تک جاتی ہیں۔ انگریزی دور میں فورٹ ولیم کالج اور بعد میں فوجی تربیت کے اداروں میں انگریز افسروں کو اردو سکھانے کے لیے رومن حروف کا استعمال ہوا۔ فوج میں بھی طویل عرصے تک رومن اردو چلتی رہی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ یہ اچانک نمودار ہوئی ہے۔ ہاں، اتنی بڑی تعداد میں اور اتنی روزمرہ سطح پر اس کا استعمال پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے۔رومن اردو کیوں پھیل رہی ہے؟اس رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جنھیں سمجھے بغیر کوئی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔پہلی وجہ، ٹیکنالوجی۔ موبائل اور کمپیوٹر بنیادی طور پر انگریزی کی بورڈ کے ساتھ آتے ہیں۔ اردو کی بورڈ انسٹال کرنا، اس کی ترتیب یاد رکھنا اور تیزی سے ٹائپ کرنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ جو چیز آسان ہو، لوگ اسی کو اپناتے ہیں۔دوسری وجہ، تعلیمی پس منظر۔ آج کی نئی نسل کی بڑی تعداد انگریزی میڈیم اسکولوں سے پڑھ کر آ رہی ہے۔ وہ اردو بولتی اور سمجھتی ہے، مگر نستعلیق رسم الخط پڑھنے اور لکھنے میں اسے دقت ہوتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کے لیے رومن اردو ایک پل کا کام کرتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی زبان سے جڑے رہتے ہیں۔تیسری وجہ، رفتار اور غیر رسمی مزاج۔ سوشل میڈیا کی گفتگو تیز اور بے تکلف ہوتی ہے۔ وہاں املا کی باریکیوں سے زیادہ فوری ابلاغ اہم سمجھا جاتا ہے۔چوتھی وجہ، مشترکہ قاری۔ بہت سے لوگ جو اردو اور ہندی دونوں بولتے ہیں، رومن میں لکھ کر دونوں طرح کے قارئین تک پہنچ جاتے ہیں۔خطرے کا پہلواب اس سکے کا دوسرا رخ دیکھیے۔ رومن اردو کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی معیاری اور متفقہ نظام نہیں۔ ایک ہی لفظ کئی طرح لکھا جاتا ہے۔ "خیال” کو کوئیkhayalلکھتا ہے، کوئیkhayaalاور کوئیkhial۔ اردو کی کئی آوازیں، مثلاً ث، س، ص یا ز، ذ، ض، ظ، رومن میں الگ الگ ظاہر ہی نہیں ہو پاتیں۔ نتیجہ یہ کہ لفظ کا مادہ، اس کی اصل اور اس کا حسن سب دھندلا جاتا ہے۔اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ رسم الخط کے ساتھ ہمارا پورا ادبی سرمایہ جڑا ہوا ہے۔ میر، غالب، اقبال اور فیض کو ان کے اصل رنگ میں پڑھنے کے لیے اردو رسم الخط جاننا ضروری ہے۔ اگر نئی نسل صرف رومن پڑھنے تک محدود ہو گئی تو چند دہائیوں بعد ہمارے کلاسیکی ذخیرے کے قاری بہت کم رہ جائیں گے۔ زبان صرف بولنے کا نام نہیں، وہ لکھے ہوئے ذخیرے سے بھی زندہ رہتی ہے۔اس کے علاوہ رومن میں لکھنے کی عادت آہستہ آہستہ ذخیرۂ الفاظ پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب لکھنے میں آسانی کے لیے مشکل الفاظ چھوڑ دیے جائیں تو وہ بول چال سے بھی رخصت ہونے لگتے ہیں۔ضرورت کا پہلودوسری طرف یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ رومن اردو نے بہت سے لوگوں کو اردو سے جوڑے رکھا ہے جو شاید ورنہ اس سے مکمل کٹ جاتے۔ بیرونِ ملک رہنے والے اردو بولنے والے خاندانوں کے بچے، جو اردو لکھنا نہیں سیکھ پائے، رومن کے سہارے اپنے رشتہ داروں سے بات کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اردو گانوں، ڈراموں اور فلموں کے شوقین غیر اردو داں بھی رومن کے ذریعے زبان کی طرف آتے ہیں۔یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ تاریخ میں زبانوں نے کئی بار رسم الخط بدلے ہیں۔ ترکی زبان نے عربی کی جگہ لاطینی رسم الخط اختیار کیا۔ مگر ہماری صورتِ حال مختلف ہے، کیونکہ یہاں کوئی سرکاری فیصلہ نہیں ہوا، بلکہ یہ تبدیلی بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہو رہی ہے، اور یہی بات تشویش کی ہے۔آگے کا راستہمیری رائے میں اس مسئلے کا حل رومن اردو پر پابندی یا اس کی مذمت نہیں، کیونکہ ایسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ حل یہ ہے کہ ہم اردو رسم الخط کو آسان اور پرکشش بنائیں۔سب سے پہلے، اسکولوں اور کالجوں میں اردو کی بورڈ پر ٹائپنگ سکھائی جائے۔ آج کئی اچھے ایپ اور کی بورڈ دستیاب ہیں جو صوتی ٹائپنگ کی سہولت دیتے ہیں، یعنی آپ آواز بول کر اردو لکھ سکتے ہیں۔ ان کا تعارف عام ہونا چاہیے۔دوسرے، اردو کا ڈیجیٹل مواد بڑھایا جائے۔ جب نوجوان کو اردو رسم الخط میں دلچسپ ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ویڈیو اور ایپ ملیں گے تو وہ خود اس کی طرف مائل ہو گا۔تیسرے، ہم اساتذہ کو اپنا رویہ بھی دیکھنا ہو گا۔ اگر طالب علم رومن میں سوال پوچھے یا لکھے تو اسے جھڑکنے کے بجائے اس کی رہنمائی کی جائے۔ ڈانٹ سے زبان سے رشتہ ٹوٹتا ہے، محبت سے جڑتا ہے۔چوتھے، رومن اردو کے لیے کوئی معیاری اصول وضع کیے جائیں، تاکہ جب تک اس کا استعمال جاری ہے، کم از کم اس میں یکسانیت ہو۔رومن اردو نہ تو مکمل دشمن ہے اور نہ مکمل دوست۔ یہ ایک حقیقت ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ اگر اسے عارضی سہارے اور غیر رسمی ابلاغ کے ذریعے کے طور پر دیکھا جائے تو یہ اردو کی خدمت بھی کر سکتی ہے، لیکن اگر یہ اردو رسم الخط کی جگہ لینے لگے تو یہ ہمارے ادبی اور تہذیبی ورثے کے لیے سنجیدہ خطرہ بن جائے گی۔اصل سوال رومن اردو کا نہیں، بلکہ ہماری اپنی ذمہ داری کا ہے۔ زبان کو بچانا حکومتوں سے زیادہ بولنے اور لکھنے والوں کا کام ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو اردو رسم الخط کی خوبصورتی دکھا سکیں، اسے آسان بنا سکیں اور اس سے محبت پیدا کر سکیں تو رومن اردو ہمارے لیے خطرہ نہیں رہے گی۔ ورنہ آنے والی نسلیں میر و غالب کو صرف نام کی حد تک جانیں گی، اور یہ نقصان کسی ایک زبان کا نہیں، پوری تہذیب کا ہو گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے