कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پیٹ سے پلیٹ اور اسپتال میں لیٹ

(ایک لذیذ سفر، جس کا آخری اسٹیشن وارڈ نمبر سات بھی ہوسکتا ہے!)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی زندگی بھی عجیب تماشا ہے! صبح آنکھ کھلتے ہی اسے رزق کی فکر ستانے لگتی ہے، دن چڑھتے ہی پیٹ کی آوازیں اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے لگتی ہیں، دوپہر تک دسترخوان اس کی منزلِ مقصود بن جاتا ہے اور رات ہوتے ہوتے کبھی کبھی یہی دسترخوان اسے اسپتال کے بستر تک پہنچا دیتا ہے۔ گویا زندگی کا ایک مختصر مگر پُرمعنی فلسفہ یہ ہے کہ انسان صبح پیٹ کے لیے دوڑتا ہے، دوپہر کو پلیٹ کے سامنے بیٹھتا ہے اور شام کو پیٹ پکڑ کر لیٹ جاتا ہے! اسی کیفیت کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو عرض ہے: "پیٹ سے پلیٹ اور اسپتال میں لیٹ!” یہ محض ایک مزاحیہ فقرہ نہیں، بلکہ انسانی خواہشات، غذائی بے اعتدالی، نفسیاتی کمزوریوں اور جدید طرزِ زندگی پر ایک ایسی طنزیہ تحریر کا عنوان ہے جسے پڑھتے ہوئے ہنسی بھی آئے اور اپنے معمولاتِ زندگی پر غور کرنے کا موقع بھی ملے۔
انسانی جسم میں پیٹ کی حیثیت کسی بادشاہ سے کم نہیں۔ باقی تمام اعضا بظاہر اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، مگر پیٹ وہ واحد محکمہ ہے جس کے مطالبات پوری قوم، یعنی پورے جسم کو متاثر کرتے ہیں۔ اسے بھوک لگے تو دماغ کی کارکردگی متاثر، طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا، گفتگو میں اختصار اور چہرے پر ایسی سنجیدگی طاری ہوجاتی ہے جیسے ملک کی معیشت اچانک بحران کا شکار ہوگئی ہو۔
بھوک کے عالم میں انسان کے لیے فلسفہ، ادب، سیاست اور معاشرتی اصلاح جیسے موضوعات ثانوی اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اسے اگر کوئی کہے کہ دنیا میں غربت کیوں ہے، تو وہ شاید جواب دے کہ پہلے یہ بتائیے کہ باورچی خانے میں کیا ہے؟ اور اگر اس سے پوچھا جائے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ممکن ہے کہ وہ پوری متانت سے کہہ دے: "مقصد تو بہت بلند ہے، مگر فی الحال دو پراٹھے اور ایک کپ چائے درکار ہیں!”
پیٹ کی اس سلطنت میں زبان وزیرِ اطلاعات، ناک محکمۂ تشہیر، آنکھیں نگرانِ دسترخوان اور ہاتھ عملی انتظامیہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ خوشبو آتے ہی ناک اعلان جاری کرتی ہے، آنکھیں مطلوبہ غذا کی نشاندہی کرتی ہیں، زبان اس کی تعریف میں قصیدہ پڑھتی ہے اور ہاتھ کسی مزید مشورے کا انتظار کیے بغیر پلیٹ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
دماغ البتہ کبھی کبھار احتساب کی کوشش کرتا ہے: "بھائی! کولیسٹرول بھی کوئی چیز ہے، شوگر بھی بڑھ رہی ہے، وزن بھی قابو سے باہر ہے!” مگر پیٹ کی سلطنت میں اس قسم کی تنبیہات کو اکثر حزبِ اختلاف کا غیر ضروری شور سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ پلیٹ محض کھانا رکھنے کا برتن نہیں؛ یہ انسانی نفسیات کی ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ بھی ہے۔ اس میں موجود غذا کے ساتھ انسان کا تعلق صرف بھوک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ذوق، عادت، جذبات، یادوں، سماجی رواج اور بعض اوقات محض نمائش تک پھیل جاتا ہے۔
ایک شخص کہتا ہے کہ وہ صرف دو روٹیاں کھائے گا، مگر جب سالن سامنے آتا ہے تو دوسری روٹی پہلی کی تنہائی دور کرنے کے لیے آجاتی ہے۔ پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ سالن تو باقی ہے، اسے ضائع کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ تیسری روٹی بھی قومی خدمت کے جذبے کے تحت میدان میں اتر آتی ہے۔ اس کے بعد چاول آتے ہیں۔ ان کے بارے میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ روٹی اور چاول الگ الگ چیزیں ہیں، اس لیے دونوں کا شمار ایک ہی کھانے میں نہیں ہونا چاہیے۔ بریانی ہو تو معاملہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، کیونکہ بریانی کو محض چاول کہنا اس کے چاہنے والوں کے نزدیک اس کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
پھر میٹھا آتا ہے، ابھی کچھ دیر پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ پیٹ بھر چکا ہے، مزید ایک لقمہ بھی نہیں کھایا جاسکتا؛ لیکن حلوے، کھیر، آئس کریم یا گلاب جامن کا نام سنتے ہی پیٹ کے اندر ایک پراسرار خالی جگہ دریافت ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پیٹ کے اندر ایک عام حصّہ بھی ہے اور ایک خصوصی حصّہ بھی، جس کی گنجائش کا انکشاف صرف میٹھے کے وقت ہوتا ہے! یہ وہ مقام ہے جہاں علمِ نفسیات بھی حیران رہ جاتا ہے کہ جس شخص کے لیے سبزی کی ایک پیالی بوجھ معلوم ہوتی ہے، وہ مٹھائی کی دو پلیٹوں کو محض ذائقے کا تقاضا قرار دے رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں دعوتِ طعام محض کھانے پینے کا انتظام نہیں، بلکہ محبت، مہمان نوازی، سماجی تعلقات اور بعض اوقات غیر اعلانیہ مقابلۂ خوراک کا مظہر بھی ہے۔ میزبان کا اصرار ہوتا ہے: "بھائی! کچھ تو کھائیے، آپ نے تو کچھ کھایا ہی نہیں!”۔ مہمان عاجزی سے کہتا ہے: "بس، بہت ہوگیا، اللّٰہ برکت دے!”۔ میزبان فوراً جواب دیتا ہے: "ارے نہیں، ابھی تو آپ نے شروع ہی نہیں کیا!”
مہمان دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ اگر یہ آغاز ہے تو اختتام پر کیا صورتِ حال ہوگی؟ مگر معاشرتی آداب، میزبان کی محبت اور اپنی کمزور قوتِ مزاحمت کے درمیان وہ ایک اور بوٹی اٹھا لیتا ہے۔ ہمارے ہاں مہمان کی عزّت کا پیمانہ کبھی کبھی اس کی بھوک کے بجائے اس کی پلیٹ میں موجود کھانے کی مقدار بن جاتا ہے۔ جو مہمان کم کھائے، اسے بیمار سمجھ لیا جاتا ہے؛ جو زیادہ کھائے، اسے خوش خوراک کہا جاتا ہے؛ اور جو بہت زیادہ کھائے، اس کے لیے میزبان کی زبان پر دعا آجاتی ہے: "اللّٰہ آپ کو اور دے!”
میزبان کی دعا اپنی جگہ، مگر معدے کی حالت کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ بے چارہ خاموشی سے تمام نعمتیں قبول کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی خاموشی طبیعت کی خرابی میں بدلنے لگتی ہے۔ یوں دعوت میں محبت کا اظہار کبھی کبھی خوراک کی ایسی کثرت سے ہوتا ہے کہ مہمان گھر واپسی پر شکریے کا پیغام بھی بھیجتا ہے اور ساتھ ہی تیزابیت کی دوا بھی تلاش کرتا ہے!
جدید دور نے انسان کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں۔ اب کھانا پکانے کے لیے گھنٹوں باورچی خانے میں گزارنا ضروری نہیں۔ موبائل فون اٹھائیے، چند بٹن دبائیے، اور کچھ ہی دیر میں کھانا دروازے پر حاضر! مسئلہ سہولت کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ سہولت نے ہماری عادتوں کو کس حد تک تبدیل کردیا ہے۔
پہلے انسان کھانا حاصل کرنے کے لیے چلتا تھا، بازار جاتا تھا، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا تھا اور جسمانی سرگرمی اس کی زندگی کا فطری حصّہ تھی۔ اب بعض اوقات کھانا بستر پر بیٹھے بیٹھے منگوایا جاتا ہے، کھایا بھی وہیں جاتا ہے اور اس کے بعد جسم کو آرام دینے کے لیے مزید آرام کیا جاتا ہے۔ گویا جسم سے کہا جاتا ہے: "تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، تمام کام موبائل کرلے گا!”
پھر جب وزن بڑھنے لگتا ہے تو انسان حیرت سے ترازو کو دیکھتا ہے، جیسے اس نے کوئی ذاتی دشمنی نکالی ہو۔ کبھی ترازو کو غلط قرار دیتا ہے، کبھی فرش کو ناہموار بتاتا ہے اور کبھی وزن کرنے والے شخص کی مہارت پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن اپنی پلیٹ کے حجم اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر غور کرنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔
فاسٹ فوڈ کی دنیا میں ایک اور دلچسپ فلسفہ بھی پایا جاتا ہے: کھانا جلدی تیار ہو، فوراً کھایا جائے اور اس کے بعد انسان اتنی ہی جلدی دوبارہ بھوک محسوس کرنے لگے۔ البتہ کیلوریز کو جسم سے رخصت ہونے میں اتنی عجلت نہیں ہوتی۔ وہ خاموشی سے اپنا حساب رکھتی ہیں اور جب کبھی وزن کی مشین پر حساب پیش کرتی ہیں تو انسان کی ساری خوش فہمیاں ہوا ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہر فاسٹ فوڈ لازماً مضر نہیں اور ہر گھریلو کھانا خودبخود صحت بخش نہیں بن جاتا۔ اصل اہمیت غذا کے اجزا، مقدار، تیاری کے طریقے اور مجموعی غذائی توازن کی ہے۔
غذائیت اور صحت کے بنیادی اصولوں میں اعتدال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسم کو توانائی، پروٹین، چکنائی، وٹامنز، معدنیات، ریشے اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ان ضروریات کی تکمیل اور ہر پسندیدہ چیز کو بے حساب کھاتے چلے جانے میں فرق ہے۔ معدہ غذا کو ہضم کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اسے ایسی لامحدود گنجائش والا گودام سمجھ لینا درست نہیں جہاں ہر چیز، ہر وقت اور ہر مقدار میں محفوظ کی جاسکے۔
بہت زیادہ کھانے سے پیٹ میں بھاری پن، بدہضمی، تیزابیت اور بے آرامی پیدا ہوسکتی ہے۔ مسلسل غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ضرورت سے زیادہ توانائی حاصل کرنا وزن میں اضافے سمیت کئی طویل مدتی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود انسان کی عادت دیکھیے کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک وہ اپنے معمولات کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جب سینے میں جلن ہو تو کہتا ہے کہ آج مرچیں زیادہ تھیں؛ جب نیند خراب ہو تو چائے کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے؛ جب وزن بڑھ جائے تو کہتا ہے کہ شاید پانی زیادہ پینے لگا ہوں!
پھر جب ڈاکٹر غذائی عادات کے بارے میں پوچھتا ہے تو مریض کا بیان کچھ یوں ہوتا ہے: "ڈاکٹر صاحب! کھانا تو بہت سادہ کھاتا ہوں”۔ ڈاکٹر پوچھتا ہے: "صبح کیا کھایا؟”۔ "بس، پراٹھے اور چائے”۔ "دوپہر میں؟”۔ "کچھ خاص نہیں، بریانی تھی”۔ "رات کو؟”، "معمولی سا کھانا تھا، کباب، نان اور تھوڑا سا میٹھا”۔ ڈاکٹر نسخہ لکھنے سے پہلے چند لمحے خاموش رہتا ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ مریض کی بیماری کا علاج زیادہ مشکل ہے یا اس کی تعریفِ سادگی کا!
ہر زیادہ کھانے والا شخص اسپتال نہیں پہنچتا، اور نہ ہر بیماری کا سبب غذا ہوتی ہے۔ تاہم غیر محتاط غذائی عادات، آلودہ کھانے، غیر محفوظ پانی، بعض غذائی الرجیز اور صحت کے دوسرے مسائل انسان کو طبی امداد لینے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ذرا ایک فرضی منظر دیکھیے۔ ایک صاحب شادی کی تقریب میں تشریف لے جاتے ہیں۔ ابتدا میں فیصلہ کرتے ہیں کہ آج کھانے میں اعتدال رکھیں گے۔ پہلے سلاد، پھر کباب، پھر قورمہ، پھر بریانی، پھر زردہ اور آخر میں آئس کریم۔ ہر مرحلے پر وہ خود کو سمجھاتے ہیں کہ یہ آخری چیز ہے۔
لیکن ان کے اندر کا ماہرِ معاشیات ہر بار نئی دلیل پیش کردیتا ہے: "اتنے مہنگے کھانے کا لطف نہ لیا تو پیسے کا فائدہ کیا؟”۔ واپسی پر طبیعت بوجھل ہوتی ہے۔ گھر پہنچ کر پانی پیتے ہیں، پھر صوفے پر لیٹ جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد پیٹ میں تکلیف شروع ہوتی ہے۔ وہ پہلو بدلتے ہیں، کروٹ بدلتے ہیں، آخرکار گھر والوں سے کہتے ہیں: "ذرا گاڑی نکالیے، طبیعت ٹھیک نہیں!”۔ اب منظر تبدیل ہوچکا ہے۔ چند گھنٹے پہلے تک وہ کھانے کی اقسام گنوا رہے تھے، اب ڈاکٹر کو اپنی علامات گنوا رہے ہیں۔ پہلے ویٹر سے مزید کباب کی فرمائش تھی، اب طبی عملے سے جلد معائنے کی درخواست ہے۔
اس مرحلے پر انہیں احساس ہوتا ہے کہ کھانے کی میز پر انسان جتنا وقت ذائقے کی تعریف میں صرف کرتا ہے، کبھی کبھی اس سے زیادہ وقت بعد میں اپنی بے احتیاطی کے نتائج بھگتنے میں صرف کرنا پڑتا ہے۔ البتہ ایک ضروری بات: شدید یا مسلسل پیٹ درد، بار بار قے، خون آنا، سینے میں درد یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کو محض زیادہ کھانے کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؛ ایسی صورتوں میں فوری طبی مشورہ یا ہنگامی مدد ضروری ہوسکتی ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحت مند زندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان ذائقے، دعوت، بریانی، کباب اور مٹھائی سے مکمل دست بردار ہوجائے؟ ہرگز نہیں! زندگی کا مقصد پلیٹ سے دشمنی مول لینا نہیں، بلکہ پلیٹ کے ساتھ دانش مندانہ تعلق قائم کرنا ہے۔ غذا کا لطف بھی زندگی کی نعمت ہے، مگر نعمت سے فائدہ اٹھانے اور اس میں بے اعتدالی کرنے کے درمیان فرق ملحوظ رہنا چاہیے۔
چند سادہ اصول اس سلسلے میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں:
اوّل: بھوک اور خواہش میں فرق کیجیے۔ کبھی انسان واقعی بھوکا ہوتا ہے اور کبھی محض خوشبو، اشتہار، بوریت یا جذبات اسے کھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔
دوّم: مقدار پر نظر رکھیے۔ پلیٹ کو اس قدر نہ بھریے کہ کھانے کے بعد جسم اپنی تمام توانائی صرف اس کھانے کو سنبھالنے میں صرف کرتا محسوس ہو۔
سوّم: غذا میں تنوع اور توازن رکھیے۔ سبزیاں، پھل، مناسب مقدار میں پروٹین، سالم اناج اور دیگر غذائیت بخش اجزا روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔ میٹھے، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی زیادتی سے بچیں۔
چہارم: جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیے۔ چہل قدمی، مناسب ورزش اور بیٹھے رہنے کے طویل ادوار میں وقفہ جسمانی صحت کے لیے مفید ہیں۔
پنجم: کھانے کو مقابلہ نہ بنائیے۔ کسی کی محبت کا ثبوت یہ نہیں کہ آپ اس کے اصرار پر اپنی جسمانی گنجائش سے زیادہ کھائیں۔ مہمان نوازی کا حسن کھانے کی کثرت کے ساتھ مہمان کی صحت اور سہولت کا خیال رکھنے میں بھی ہے۔
ششم: جسم کے اشاروں کو سمجھیے۔ بھوک، سیری، تکلیف اور بے آرامی کی علامات پر توجہ دیجیے۔ مسلسل علامات کی صورت میں خود تشخیص کے بجائے مستند طبی مشورہ حاصل کیجیے۔
یہ اصول بظاہر معمولی ہیں، لیکن زندگی میں ان کی پابندی انسان کو غیر ضروری تکالیف سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
انسان نے سمندر کی تہوں تک رسائی حاصل کرلی، خلا میں قدم رکھ دیا، مصنوعی ذہانت کو ترقی دے دی اور دنیا کو ایک چھوٹی سی اسکرین میں سمیٹ لیا؛ مگر اپنے سامنے رکھی پلیٹ کے معاملے میں کبھی کبھی آج بھی وہی پرانا سوال اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے: "بس کروں یا ایک لقمہ اور؟”۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم، عقل اور ضبطِ نفس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ معلومات رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں فرق ہے۔ غذائیت کے اصول جان لینا آسان ہے، مگر ان اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصّہ بنانا اصل کامیابی ہے۔
کھانا زندگی کے لیے ہے، زندگی کھانے کے لیے نہیں۔ دسترخوان خوشی، شکرگزاری، محبت اور باہمی تعلق کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایسا میدانِ جنگ جہاں انسان اپنے معدے کو اپنی ہی خواہشات کے مقابل تنہا چھوڑ دے۔ لہٰذا جب اگلی بار پلیٹ سامنے ہو اور دل کہے کہ "تھوڑا سا اور کھالیتے ہیں” تو عقل سے بھی مشورہ کرلیجیے۔ ممکن ہے وہ آہستہ سے کہہ دے: "جناب! کھانا بہت مزیدار ہے، مگر اسپتال کے کھانے کی تعریف آپ بعد میں کیجیے گا!” اور آخر میں اس پورے فلسفے کا نچوڑ صرف اتنا ہے: پیٹ کی سنو، مگر ہر خواہش کو فرمان نہ سمجھو؛ پلیٹ بھرو، مگر عقل خالی نہ کرو؛ ذائقے سے لطف اٹھاؤ، مگر صحت کی قیمت پر نہیں۔
ورنہ زندگی کا سفر واقعی کچھ یوں بھی ہوسکتا ہے: پیٹ نے فرمائش کی، پلیٹ نے تکمیل کی، عقل نے خاموشی اختیار کی، معدے نے احتجاج کیا، اور آخرکار انسان اسپتال کے بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ کاش! آخری لقمے کے وقت کسی نے اسے روک لیا ہوتا۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ نہیں ہوتی کہ اس نے کھانا کھایا؛ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے اس وقت بھی کھانا جاری رکھا جب اس کا پیٹ کہہ رہا تھا: "بس، اب مزید نہیں!” پس، زندگی کا سنہرا اصول یاد رکھیے: پیٹ سے پلیٹ تک کا سفر ذائقے سے بھرپور ہوسکتا ہے، مگر پلیٹ سے اسپتال تک کا سفر اختیاراً طے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں!
🗓 (11.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے