कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روشنی کی تلاش

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

انسان کی فطرت میں روشنی کی طلب ودیعت کی گئی ہے۔ وہ اندھیرے میں راستہ تلاش کرتا ہے، اجنبی راستوں میں سمت کا سراغ ڈھونڈتا ہے اور الجھنوں کے ہجوم میں کسی ایسی آواز کا منتظر رہتا ہے جو اسے یقین کے ساتھ بتا سکے کہ درست سمت کون سی ہے۔ یہی طلب اگر دنیا کے ظاہری چراغوں سے آگے بڑھ کر حقیقت کے سرچشمے تک پہنچ جائے تو انسان کے باطن میں ایک ایسی بصیرت بیدار ہوتی ہے جس کے سامنے شک، اضطراب اور گم گشتگی کی تاریکیاں ٹھہر نہیں سکتیں۔
قرآنِ کریم نے اس نور کا تعارف نہایت دل آویز انداز میں کرایا ہے: *اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔* اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ یہ نور کسی چراغ، شمع یا آفتاب کا ہم جنس نہیں؛ یہ ہدایت، معرفت اور حق کی وہ روشنی ہے جو انسان کے قلب کو زندہ کرتی اور اسے باطل کی تاریکیوں سے نکال کر صراطِ مستقیم کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن اپنے آپ کو بھی نور اور کتابِ مبین قرار دیتا ہے؛ کیونکہ اس کی ہدایت انسان کو اس راہ سے آشنا کرتی ہے جس پر چل کر دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان اپنی آنکھوں کی روشنی کی حفاظت کے لیے کتنی احتیاط کرتا ہے، مگر دل کی بصیرت کے بارے میں غفلت برتتا ہے۔ آنکھیں روشن ہوں اور دل اندھیرے میں ہو تو انسان رنگ و صورت تو دیکھ سکتا ہے، حقیقت نہیں۔ قرآن کریم اسی باطنی نابینائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: *فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ۔* اصل اندھا پن آنکھوں کا نہیں، ان دلوں کا ہے جو سینوں میں ہیں۔
دل کی روشنی علم سے پیدا ہوتی ہے، مگر ہر علم نور نہیں ہوتا۔ ایسا علم جو انسان کے اندر تکبر، خود پسندی اور دوسروں کی تحقیر پیدا کردے، وہ بوجھ بن سکتا ہے۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو اپنے رب کے سامنے جھکائے، اپنے عیوب دکھائے، اخلاق سنوارے اور مخلوق کے حقوق کا احساس دلائے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: *إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ*؛ اللہ سے حقیقی خشیت رکھنے والے اس کے اہلِ علم بندے ہیں۔ علم کی انتہا دل میں خشیت کا پیدا ہوجانا ہے۔
سفیان ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہالت بہت بری چیز ہے اپنے علم پر عمل کرنے والا سب سے بڑا عالم ہے اگرچہ اس کا علم تھوڑا ہی ہو۔ علم پر عمل نہ کرنے والا جاہل ہے چاہے کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ *(تحفۃ الطلباء والعلماء صفحہ نمبر 73)*
رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات میں بھی قلبی صفائی اور باطن کی بیداری کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے؛ جب وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے اور جب وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ یہ ارشاد انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اصلاح کا اصل میدان اس کا باطن ہے۔ ظاہری لباس، گفتگو اور وضع قطع اپنی جگہ اہم ہیں، مگر انسان کی اصل تعمیر اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے دل کے اندر جھانکنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
دل پر غفلت کی گرد بتدریج جمتی ہے۔ ایک گناہ، پھر دوسرا؛ ایک بے احتیاط نگاہ، پھر ایک بے قابو زبان؛ ایک چھوٹی سی خیانت، پھر ایک معمولی سا ظلم یوں انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور باطن پر تاریکی کی تہیں چڑھتی چلی جاتی ہیں۔ مگر ربِّ کریم نے واپسی کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ توبہ کا آنسو، ندامت کی سوزش، ذکر کی حلاوت، قرآن کی تلاوت اور نیک صحبت دل کی اس گرد کو دھو سکتی ہے۔ جس دل میں سچی طلب پیدا ہوجائے، اس کے لیے واپسی کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
آج انسان کے گرد روشنی کے بے شمار وسائل ہیں، مگر باطن کی تاریکی پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے، مگر بصیرت کی کمی، دلوں میں اجنبیت اور سکون کی قلت ہے۔ ایسے ماحول میں انسان کو اپنے اندر ایک خاموش گوشہ آباد کرنا ہوگا، جہاں وہ دنیا کے شور سے الگ ہوکر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوسکے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرسکے اور یہ سوال کرسکے کہ جس زندگی کے دن تیزی سے گزر رہے ہیں، اس میں میں اپنے رب کے لیے کیا لے کر جا رہا ہوں؟
روشنی کی تلاش کسی دور دراز مقام کا سفر نہیں؛ یہ اپنے ہی دل کی طرف واپسی ہے۔ قرآن سے تعلق، نماز میں خشوع، دعا میں گریہ، ذکر میں دوام، حلال کی طلب، حرام سے اجتناب، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، مخلوق کے حقوق کی ادائیگی اور تنہائی میں اللہ کا خوف یہ سب وہ چراغ ہیں جو دل کے راستے کو روشن کرتے ہیں۔ اور جب یہ نور دل میں اترتا ہے تو انسان کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ وہ مصیبت میں حکمت دیکھتا ہے، نعمت میں منعم کو پہچانتا ہے، تاخیر میں مصلحت تلاش کرتا ہے، آزمائش میں صبر اختیار کرتا ہے اور کامیابی میں اپنے رب کا فضل دیکھتا ہے۔ پھر دنیا وہی رہتی ہے، مگر اسے دیکھنے والی آنکھ بدل جاتی ہے۔ روشنی کی تلاش دراصل اپنے رب کی طرف واپسی کی تلاش ہے؛ اور جس دل کو اس نور کا ایک حصہ بھی نصیب ہوجائے، اس کے لیے زندگی کی تاریک راہیں بھی منزل کی طرف اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے