कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جنگ زدہ دنیا میں سعودی عرب اور حوثی کشمکش

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

سعودی عرب مقدس حرمین کا محافظ ہے، اس کی داخلی امن و امان بہتر ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس کی سرزمین پر حج و عمرہ کے لیے آتے ہیں۔ پھر بھی یمن کے حوثی ملیشیا بار بار اس پر میزائل، ڈرون اور کروز میزائل حملے کرتے ہیں۔ یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے؟ کیا سعودی عرب کا کوئی دشمن ہے یا یہ ایک پرانی، گہری اور پیچیدہ سیاسی-تاریخی دشمنی کی کہانی ہے جو آج بھی جاری ہے؟
سعودی عرب کی تاریخ خود اس علاقے کی سیاست کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں نجد کے علاقے میں محمد بن عبدالوہاب کی اصلاحی تحریک اور آل سعود خاندان کے اتحاد سے پہلی سعودی ریاست قائم ہوئی۔ انیسویں صدی میں یہ ریاست دو بار زوال پذیر ہوئی مگر عبدالعزیز بن سعود نے بیسویں صدی کے اوائل میں نجد سے شروع کر کے حجاز، احساء اور دیگر علاقوں کو متحد کیا۔ 1932 میں مملکت سعودی عرب کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ 1934 میں یمن کے ساتھ مختصر جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں عسیر، نجران اور جازان کے علاقے سعودی عرب کا حصہ بن گئے۔ یہ سرحدی تنازعہ کئی دہائیوں تک رہا اور 2000 میں باقاعدہ حد بندی ہوئی۔ سعودی عرب نے اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ خطے کے استحکام کو ترجیح دی۔ مصر کے ساتھ 60 کی دہائی میں یمن کی خانہ جنگی میں مخالف کیمپوں کی حمایت ہوئی جہاں سعودی عرب شاہی خاندان کی حمایت کرتا رہا جبکہ جمال عبدالناصر کی مصر جمہوریوں کی۔ ایران کے ساتھ تعلقات شاہی دور میں دوستانہ تھے مگر 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد رقابت شروع ہو گئی جو شیعہ سنی شناخت، خلیج کی بالادستی اور تیل کی سیاست سے جڑی رہی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات دوسری جنگ عظیم کے بعد مضبوط ہوئے اور آج بھی اسٹریٹجک شراکت داری برقرار ہے۔ خلیجی ممالک، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رہے ہیں مگر یمن ہمیشہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد کی سلامتی کا حساس مسئلہ رہا ہے۔
یمن کی تاریخ اور سماجیت بھی اس تنازعہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ یمن کی آبادی تقریباً 35 سے 42 ملین کے درمیان ہے ۔ یمن کی اکثریت نوجوان ہے اور شرح پیدائش زیادہ ہے۔ صنعاء جو حوثیوں کے زیر کنٹرول دارالحکومت ہے، ایک قدیم شہر ہے جس کی آبادی لاکھوں میں ہے اور یہ شمالی یمن کا سیاسی اور ثقافتی مرکز رہا ہے۔ یمن کی ثقافت قبائلی ڈھانچے پر مبنی ہے جہاں زیدی شیعہ شمال میں غالب ہیں اور سنی آبادی جنوب اور ساحلی علاقوں میں۔ قات چبانا، روایتی فن تعمیر، لوک گیت اور قبائلی روایات یمنی شناخت کا حصہ ہیں۔ تعلیم کا نظام جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے اور خواندگی کی شرح تاریخی طور پر کم رہی ہے جبکہ صحت اور بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ حوثی تحریک اسی شمالی زیدی ماحول سے اٹھی جہاں قبائلی وفاداریاں اور مذہبی شناخت مضبوط ہیں۔
سعودی عرب کی آبادی بھی نوجوان ہے مگر اس کی معیشت تیل پر مبنی ہے اور ویژن 2030 کے تحت متنوع ہو رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں سعودی عرب نے بڑی پیش رفت کی ہے۔ خواندگی کی شرح 90 فیصد سے اوپر ہے، لاکھوں طلبہ جامعات میں ہیں اور خواتین کی تعلیم و روزگار میں اضافہ ہوا ہے۔ ثقافت میں روایتی بدوی اثرات کے ساتھ جدید شہری زندگی، اسلامی روایات اور عالمی اثرات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت سعودی شناخت کا مرکزی حصہ ہے جبکہ یمن میں جنگ نے سماجی ڈھانچے کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔حوثی تحریک کی جڑیں یمن کے شمالی پہاڑی علاقے صعدہ میں ہیں۔ یہ زیدی شیعہ قبائل کا علاقہ ہے جو شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے مگر ایرانی اثنا عشری شیعیت سے مختلف۔ بیسویں صدی کے آخر میں سعودی عرب سے آنے والے وہابی اور سلفی اثرات نے یمن میں زیدی شناخت کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ یمنی حکومت نے بھی ان اثرات کو برداشت کیا جس سے شمالی قبائل میں ناراضگی پیدا ہوئی۔ 1990 کی دہائی میں حسین بدر الدین الحوثی نے زیدی شناخت کی بحالی کی تحریک شروع کی۔ ان کا نعرہ مشہور ہوا اللہ اکبر، موت امریکہ کو، موت اسرائیل کو، یہود پر لعنت، اسلام کی فتح۔ یہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بھی تھا۔ حسین الحوثی نے سعودی عرب کے اثر و رسوخ، امریکی پالیسیوں اور یمنی حکومت کی کمزوریوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ 2004 میں یمنی حکومت نے ان کے خلاف فوجی کارروائی کی اور حسین الحوثی مارا گیا۔ اس کے بعد اس کے بھائی عبدالملک الحوثی نے تحریک سنبھالی۔ چھ چھوٹی بڑی جنگوں نے حوثیوں کو مزید مضبوط اور منظم کر دیا۔
2011 کے عرب اسپرنگ نے یمن کو ہلا کر رکھ دیا۔ صدر علی عبداللہ صالح کے بعد عبوری حکومت بنی مگر حوثیوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ 2014 میں انہوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور صدر عبد ربو منصور ہادی کو بے دخل کر دیا۔ حوثیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ یمن کو کرپشن اور غیر ملکی مداخلت سے بچا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اسے ایران کے اثر و رسوخ کا پھیلاؤ سمجھا۔ ایران حوثیوں کو سیاسی، عسکری اور تکنیکی مدد فراہم کرتا رہا ہے خاص طور پر میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن میں فوجی مداخلت شروع کی۔ مقصد تھا حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا اور قانونی حکومت کو بحال کرنا۔ فضائی حملے سالوں تک جاری رہے۔ حوثیوں نے اسے سعودی جارحیت قرار دیا اور سرحد پار حملے شروع کر دیے۔ وہ سعودی ایئرپورٹس، تیل کی تنصیبات اور سرحدی شہروں کو نشانہ بنانے لگے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ سعودی عرب یمن کی خودمختاری پر حملہ آور ہے اور وہ اس کا جواب دیں گے۔حوثیوں کا داخلی ایجنڈا محض خارجی دشمنی نہیں بلکہ یمن کے اندر اقتدار کی مضبوطی اور بین الاقوامی شناخت حاصل کرنا ہے۔ وہ یمن کے بیشتر آبادی والے علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنا اور اسے بڑھانا چاہتے ہیں، غیر ملکی مداخلت بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، زیدی شیعیت کو سعودی حمایت یافتہ وہابی اثرات سے بچانا چاہتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف موقف کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے فوری مطالبات میں یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر سعودی ناکہ بندی ختم کرنا، جنگ کی تلافی کی ادائیگی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بحال کرنا اور یمن کے تیل و گیس کے وسائل میں حصہ شامل ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب پر کنٹرول انہیں سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کا مضبوط ہتھیار دے رہا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی رعایت حاصل کر سکیں۔
حوثیوں کو ایران نواز کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت سے قریب ہے۔ ایران انہیں محور مزاحمت کا حصہ سمجھتا ہے۔ حوثیوں کو میزائل، ڈرون اور تربیت میں مدد ملی جس سے ان کی صلاحیتیں بہت بڑھ گئیں۔ وہ اب ریاض جیسے دور دراز اہداف تک میزائل داغ سکتے ہیں۔ تاہم حوثی مکمل طور پر ایران کے تابع نہیں۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک جنگ بندی ہوئی تھی جو کئی سال چلی۔ مگر 2026 میں صورتحال بدل گئی۔ امریکہ ایران جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ حوثیوں نے جولائی 2026 میں سعودی جہاز رانی پر ناکہ بندی کا اعلان کیا اور تیل کی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے۔ ستمبر میں جنوبی سعودی شہروں پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اکتوبر 2026 کے پہلے ہفتے میں حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا ایئرپورٹ کو بار بار نشانہ بنایا۔ ابتدائی حملوں میں چند افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ 10 اکتوبر کو ہفتے کے روز ریاض ایئرپورٹ پر سب سے مہلک حملہ ہوا۔ سعودی حکام کے مطابق کم از کم 12 سے 13 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش، امریکہ، مصر، اردن، فلسطین، شام اور سوڈان کے شہری شامل تھے۔ یہ گزشتہ ایک دہائی میں سعودی عرب پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا، سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں اور سعودی قیادت میں اتحاد نے فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے یمن میں سعودی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا۔11 اکتوبر کو صورتحال مزید بگڑ گئی۔ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر دوبارہ پروجیکٹائل گرا جس سے ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی پروجیکٹائل گرایا گیا جبکہ حوثیوں نے آرامکو کی تنصیبات پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی فضائی حدود کو فوجی آپریشن کا علاقہ قرار دیتے ہوئے مکہ اور مدینہ کے علاوہ تمام ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکی دی۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے سخت جوابی کارروائی کا عزم دہرایا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے۔
ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب کمزور پڑ سکتا ہے؟ ماہرین سیاسیات اس پر متفق ہیں کہ سعودی عرب مکمل طور پر کمزور نہیں ہوا مگر اس کی کمزوریاں سامنے آ گئی ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے احمد ناگی اور چیٹم ہاؤس کے فارع المسلمی جیسے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں کمزور اتحادیوں پر انحصار کیا، انٹیلی جنس کی ناکامیاں سامنے آئیں اور زمینی قوتوں کی تنظیم میں کمی رہی۔ ویژن 2030 کے منصوبے جو معیشت کو متنوع بنانے پر مبنی ہیں، ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکہ ہر معاملے میں داخل ہو جاتا ہے مگر یہاں صورتحال مختلف ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 اور 11 اکتوبر کے حملوں کے بعد کہا کہ امریکہ سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے مگر اب تک براہ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور ہدف بندی میں مدد دی جا رہی ہے۔ سابق امریکی سفیر مائیکل رٹنی اور دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ براہ راست جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا جبکہ سعودی عرب تنہا طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور علاقائی اثر و رسوخ متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین سیاسیات اس تنازعہ کو ایران سعودی رقابت کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں حوثیوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس محدود اختیارات ہیں یا تو سخت جوابی کارروائی کرے جو طویل جنگ کا باعث بن سکتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعہ رعایت دے جو حوثیوں کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔ فارع المسلمی کا کہنا ہے کہ یمن ہر بڑی طاقت کے لیے ویتنام یا افغانستان ثابت ہوا ہے اور سعودی عرب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ احمد ناگی کا خیال ہے کہ حوثیوں نے باب المندب پر کنٹرول حاصل کر کے سعودی عرب پر دباؤ بڑھایا ہے اور ریاض کے پاس اب آسان راستے کم ہیں۔ مجموعی طور پر ماہرین سعودی عرب کو فوری طور پر گرنے والا نہیں سمجھتے مگر اس کی سلامتی اور معاشی منصوبوں پر مسلسل دباؤ کو سنگین چیلنج قرار دیتے ہیں۔
سعودی عرب مقدس مقامات کا محافظ ہے اور اس کی داخلی صورتحال بہتر ہے یہ حقیقت ہے۔ مگر بین الاقوامی سیاست میں مملکتیں/ریاستیں صرف داخلی امن پر نہیں چلتیں۔ طاقت، اثر و رسوخ، مذہبی سیاسی شناخت اور علاقائی بالادستی کی کشمکش بھی کردار ادا کرتی ہے۔ حوثی اپنے آپ کو یمن کے دفاعی جنگجو سمجھتے ہیں جبکہ سعودی عرب اپنے آپ کو خطے کے استحکام کا ضامن سمجھتا ہے۔ دونوں طرف سے سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوتا ہے اور یمن کی عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتی رہی ہے۔ یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔ جب تک یمن میں سیاسی حل نہیں نکلتا اور علاقائی تناؤ کم نہیں ہوتا یہ حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ مقدس سرزمین پر امن کی خواہش سب کی ہے مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستی مفادات اور نظریاتی تصادم اکثر اس امن کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے