कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گھر واپسی Ghar wapsi حضرت آدمؑ سے انسانی تہذیب تک

مذہب، تاریخ، انسانی ارتقا اور مشترکہ آبائی ورثے کا ایک تقابلی مطالعہ

از قلم: شیخ محمود علی
سابق لیکچرر و مصنف
8055402819

انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک نہایت دلچسپ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر انسان کا اصل گھر کہاں ہے؟ وہ کون سا مقام ہے جہاں سے انسانی خاندان کی ابتدا ہوئی؟ اور وہ کون سی مشترکہ نسبت ہے جو دنیا کے اربوں انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے؟
آج دنیا مختلف مذاہب، تہذیبوں، نسلوں، قوموں اور جغرافیائی سرحدوں میں تقسیم ہے۔ ہر مذہب اپنی تاریخی اور روحانی شناخت رکھتا ہے۔ ہر قوم اپنے آبائی ورثے پر فخر کرتی ہے اور ہر تہذیب اپنی قدامت کا دعویٰ کرتی ہے۔
لیکن اگر ہم مذہبی تاریخ کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھیں تو ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔
دنیا کے دو سب سے بڑے مذہبی گروہ، عیسائی اور مسلمان، حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا انسان تسلیم کرتے ہیں۔ یہودی مذہبی روایت بھی حضرت آدم کو انسانی تاریخ کے آغاز کی بنیادی شخصیت قرار دیتی ہے۔
یوں دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی حضرت آدم علیہ السلام کے تصور سے ایک مشترکہ مذہبی نسبت رکھتی ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر حضرت آدم علیہ السلام انسانی خاندان کے جدِ امجد ہیں تو پھر انسانیت کا اصل آبائی گھر کس کا ہے؟
اور اگر ہم واقعی اپنے آبائی گھر کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں تو کیا ہمیں انسانی تاریخ کے اس اولین رشتے کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیے؟
حضرت آدمؑ اور ابراہیمی مذاہب:
اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں ابراہیمی مذاہب کہلاتے ہیں۔
قرآن مجید حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، انہیں عطا کیے گئے علم اور انسانی زندگی کی ابتدا کا ذکر کرتا ہے۔
سورۃ النساء کی پہلی آیت میں پوری انسانیت کو ایک جان سے پیدا کیے جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اسی طرح بائبل کی کتابِ پیدائش میں آدم اور حوا کا تذکرہ ملتا ہے۔ پیدائش 3:20 میں حوا کو تمام زندوں کی ماں قرار دیا گیا ہے۔
اس طرح آدم اور حوا کا تصور ابراہیمی مذاہب میں انسانی خاندان کی مشترکہ ابتدا کی علامت بن جاتا ہے۔
البتہ ان مذاہب کے اندر ان روایات کی لفظی، علامتی اور مذہبی تعبیرات میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
ہندو مذہبی روایت میں منو کا تصور:
یہاں ایک اور دلچسپ تقابلی مطالعہ سامنے آتا ہے۔
ہندو مذہبی روایات میں بھی انسانی آغاز اور انسانی نسل کے اولین بزرگوں کا تصور پایا جاتا ہے۔
بعض پرانوں میں سوایمبھوو منو (Svayambhuva Manu) اور شتروپا (Shatarupa) کو انسانی نسل کے ابتدائی آباء سے منسوب کیا گیا ہے۔
ہندو مذہبی کائناتی تصور میں مختلف ادوار کے متعدد منو بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں ویوسوت منو (Vaivasvata Manu) کی روایت ایک عظیم سیلاب سے وابستہ ہے۔
شت پتھ برہمن میں منو کے سیلاب سے محفوظ رہنے کی داستان ملتی ہے، جو دنیا کی قدیم مذہبی روایات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
یہاں حضرت آدم علیہ السلام اور منو کے تصورات میں انسانی ابتدا اور آبائی نسبت کے حوالے سے کچھ مماثلتیں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم یہ کہنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہوگا کہ حضرت آدم اور منو لازماً ایک ہی شخصیت ہیں۔
دونوں مختلف مذہبی روایتوں اور عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس تقابل کا مقصد کسی مذہب کی نفی نہیں بلکہ انسانی تہذیبوں میں موجود مشترکہ سوالات کو سمجھنا ہے۔
علمِ بشریات اور انسان کا مشترکہ نسب:
اب مذہبی روایات سے آگے بڑھ کر انسانی ارتقا کے سائنسی مطالعے کی طرف آتے ہیں۔
علمِ بشریات (Anthropology)، آثارِ قدیمہ (Archaeology) اور جینیات (Genetics) انسانی تاریخ کو سائنسی شواہد کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
موجودہ سائنسی تحقیق کے مطابق جدید انسان، یعنی Homo sapiens، تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں ارتقا پذیر ہوا۔
جینیاتی تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ انسان ایک ہی حیاتیاتی نوع سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے درمیان غیر معمولی جینیاتی مماثلت پائی جاتی ہے۔
سائنس انسانی ابتدا کو ارتقائی عمل سے سمجھاتی ہے، جبکہ مذہبی روایات اسے اپنے اعتقادی اور روحانی تصورات کے تحت بیان کرتی ہیں۔
دونوں کی تشریح ایک جیسی نہیں، لیکن انسانی وحدت کا تصور ان کے درمیان ایک اہم فکری مکالمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
گھر واپسی کا فلسفہ:
ہندوستانی معاشرت میں ’’گھر واپسی‘‘ کی اصطلاح اکثر مذہبی شناخت کی تبدیلی یا کسی سابقہ مذہبی روایت کی طرف رجوع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
لیکن میں اس اصطلاح کو ایک وسیع تر انسانی اور عمرانیاتی مفہوم میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
اگر حضرت آدم علیہ السلام کو ماننے والے انسان انہیں اپنا جدِ امجد تسلیم کرتے ہیں تو ان کے لیے اس نسبت کا سب سے اہم اخلاقی تقاضا کیا ہونا چاہیے؟
کیا ایک ہی باپ کی اولاد ایک دوسرے سے نفرت کرسکتی ہے؟
کیا ایک ہی انسانی خاندان کے افراد نسل، رنگ، زبان یا مذہب کے اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تذلیل کرسکتے ہیں؟
کیا انسانی تاریخ ہمیں یہ اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنے وجود کی مشترکہ حقیقت کو فراموش کرکے محض سماجی اور مذہبی شناختوں کی بنیاد پر انسانوں کو تقسیم کرتے رہیں؟
یہی وہ سوالات ہیں جو گھر واپسی کے تصور کو ایک نئے فلسفیانہ مفہوم سے آشنا کرتے ہیں۔
میرے نزدیک حقیقی گھر واپسی محض مذہبی شناخت کی تبدیلی نہیں، بلکہ انسان کا اپنے اصل انسانی رشتے، اخلاقی شعور اور مشترکہ ورثے کی طرف رجوع بھی ہے۔
عمرانیاتی نقطۂ نظر:
معروف ماہرِ عمرانیات ایمیل درکھائم نے مذہب کے اجتماعی اور سماجی پہلوؤں پر زور دیا۔
میکس ویبر نے مذہبی عقائد اور سماجی عمل کے باہمی تعلق کا مطالعہ کیا۔
ان نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذہب صرف انفرادی عقیدے کا نام نہیں بلکہ اجتماعی شناخت، اخلاقی اقدار اور سماجی تعلقات کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسی تناظر میں حضرت آدم علیہ السلام کی مشترکہ نسبت کا تصور انسانوں میں اخوت، ذمہ داری اور باہمی احترام کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
قرآن مجید سورۃ الحجرات، آیت 13 میں انسانی تنوع کو باہمی تعارف کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی سماجی اصول ہے۔
انسانوں کا مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہونا لازماً نفرت یا برتری کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔
بلکہ اس تنوع میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور پہچاننے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔
کیا حضرت آدمؑ کا گھر انسانیت کا پہلا گھر تھا؟
مذہبی اور روحانی اعتبار سے حضرت آدم علیہ السلام کے اولین مسکن کو انسانی آغاز کی علامت سمجھا جاسکتا ہے۔
تاہم آثارِ قدیمہ کے حوالے سے حضرت آدم علیہ السلام کی کسی مخصوص رہائش گاہ کی شناخت مستند تاریخی شواہد سے نہیں ہوئی۔
اس لیے ہمیں مذہبی عقیدے اور تاریخی تحقیق کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔
اگر ’’گھر‘‘ کو ایک علامتی مفہوم میں سمجھا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام کا گھر ان کے ماننے والوں کے لیے تمام انسانوں کی مشترکہ آبائی نسبت کی علامت قرار پاتا ہے۔
یہ ایسا گھر ہے جس کی کوئی قومی سرحد نہیں۔
جس میں رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں۔
جس کی وسعت میں محبت، اخوت، انصاف اور انسانی وقار کی گنجائش موجود ہے۔
انسان اپنے گھر سے کب دور ہوا؟
انسانی تاریخ میں جنگیں، نسل پرستی، مذہبی تعصبات، طبقاتی استحصال اور قومی بالادستی کے رجحانات مسلسل دکھائی دیتے ہیں۔
انسان نے ترقی کے بے شمار مراحل طے کیے، لیکن اس ترقی کے ساتھ سماجی تقسیم اور باہمی تصادم بھی موجود رہے۔
ہم نے ترقی یافتہ شہر آباد کیے، عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں، سمندروں کو عبور کیا اور خلا تک پہنچ گئے۔
مگر کیا ہم نے انسان کو انسان سمجھنے کا شعور بھی اسی رفتار سے ترقی دیا؟
یہ سوال آج کے مہذب معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے۔
شاید ہم نے اپنے لیے ہزاروں گھر تعمیر کرلیے، لیکن اپنے مشترکہ انسانی گھر کے تصور کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔
نتیجہ: آؤ اپنے مشترکہ آبائی گھر کی طرف لوٹ چلیں
اگر انسانیت کی تاریخ کو مذہبی، فلسفیانہ اور عمرانیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بنیادی پیغام ابھرتا ہے:
انسان کی شناخت صرف اس کے مذہب، قوم، زبان یا جغرافیے تک محدود نہیں۔
وہ اس سے پہلے ایک انسان ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو اپنا جدِ امجد ماننے والوں کے لیے یہ نسبت انسانی اخوت کا ایک مضبوط اخلاقی حوالہ ہوسکتی ہے۔
اور جو لوگ انسانی ابتدا کے بارے میں مختلف مذہبی یا سائنسی نظریات رکھتے ہیں، وہ بھی مشترکہ انسانی وقار، مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر اس مکالمے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا گھر واپسی کو کسی دوسرے کے عقیدے پر غلبہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے انسانی محبت اور اجتماعی شعور کی طرف واپسی کا پیغام بنانا چاہیے۔
آئیے! اپنے مشترکہ آبائی ورثے کو یاد کریں۔
آئیے! نفرت کی دیواروں کو گرا کر انسانی رشتوں کو زندہ کریں۔
آئیے! انسانیت کے اس گھر کی طرف لوٹیں جہاں کسی انسان کی عزت اس کے رنگ، نسل، مذہب یا زبان کی محتاج نہ ہو۔
کیونکہ ہماری زمین ایک ہے، ہماری انسانیت مشترک ہے اور ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔
اگر گھر واپسی کا مطلب اپنی اصل کو پہچاننا ہے تو سب سے عظیم واپسی انسانیت کی طرف واپسی ہے۔
یہی گھر واپسی کا حقیقی انسانی، اخلاقی اور عمرانیاتی سماجیاتی مفہوم ہونا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے