कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ذہانت کا ترازو:کیا آج کے زمانے کو باپو کی ضرورت ہے؟

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

آج دو اکتوبر ہے، اور ہر برس کی طرح گاندھی جی کی یاد چند جانے پہچانے لفظوں کے گرد گھومے گی: عدم تشدد، ستیہ گرہ، چرخہ۔ اس بار میں ان کی لغت کے ایک چھوٹے سے لفظ کے پیچھے چلنا چاہتا ہوں، جسے ہم ہر کرکٹر اور ہر سافٹ ویئر بنانے والے پر بے دریغ چسپاں کر دیتے ہیں: جینیئس۔ گاندھی جی لفظوں کے فضول خرچ نہیں تھے۔ وہ یہ لفظ کس پر بولتے اور کس پر نہیں، اس میں ان کا پورا ترازو چھپا ہے۔
لاطینی میں جینیئس کا مفہوم ایک باطنی، تقریباً الوہی روح تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عربی کا عبقری بھی عبقر سے نکلا، جو عرب روایت میں جنات کی وادی تھی۔ دو الگ تہذیبوں نے غیر معمولی صلاحیت کو کسی ان دیکھی روح سے جوڑا، گویا ذہانت آدمی کی ملکیت نہیں، اس کے پاس امانت ہے۔
گاندھی جی کی تحریروں میں یہ لفظ پہلی بار کسی انسان کے لیے نہیں، ایک کارنامے کے لیے آیا۔ انیس سو اٹھاسی میں قانون پڑھنے انگلستان جاتے ہوئے، جب ان کا جہاز نہرِ سویز سے گزرا، تو اس نوجوان نے ڈائری میں لکھا کہ وہ اس شخص کی ذہانت کا تصور بھی نہیں کر سکتا جس نے یہ نہر ایجاد کی۔ وہی مہاتما جس نے آگے چل کر مشینی تہذیب پر سخت تنقید کی، جوانی میں ایک نہر دیکھ کر دم بخود رہ گیا تھا۔ اور اسی نہر پر انیس سو چھپن میں، ٹھیک ستر برس پہلے، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا۔ ذہانت پانی کا راستہ بنا سکتی ہے، مگر یہ طے نہیں کر سکتی کہ اس پر جہاز آئیں گے یا جنگی بیڑے۔
یہیں سے لفظ کا تاریک رخ شروع ہوتا ہے، جسے فلسفے میں ایول جینیئس، یعنی شیطانی ذہانت کہا گیا۔ جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کی تذلیل دیکھ کر گاندھی جی نے لکھا کہ حکومت کے ایشیاٹک ڈیپارٹمنٹ میں کہیں کوئی شیطانی ذہانت کام کر رہی ہے۔ جلیانوالہ باغ کے بعد لکھا کہ جنرل ڈائر کو تو ہچکچاتے ہوئے قصوروار ٹھہرایا گیا، مگر اس کی شیطانی ذہانت، سر مائیکل اوڈوائر، کو مکمل بری کر دیا گیا۔ وہ جانتے تھے کہ گولی چلانے والا ہاتھ اکیلا مجرم نہیں ہوتا۔ سزا اکثر ہاتھ کو ملتی ہے، ذہن صاف بچ نکلتا ہے۔
اور پھر ایک جملہ جو آج ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے آئینہ ہے۔ مارچ انیس سو اکیس میں ننکانہ صاحب میں گاندھی جی نے طنز سے کہا کہ وہ حکومت کی اس ذہانت کی بات کر رہے ہیں جس نے اپنی گرفت قائم رکھنے کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں سے جدا کرنے میں ذرا جھجک محسوس نہیں کی۔ تقسیم کر کے حکومت کرنا شاید حکمرانی کی سب سے پرانی ذہانت ہے۔ حکمران بدل گئے، یہ ذہانت آج بھی سیاست کے بازار میں سب سے مہنگی بکتی ہے۔ جب کوئی ہمیں ایک دوسرے سے لڑائے، تو اس کی چالاکی کی داد نہیں دینی، اس کا مقصد پہچاننا ہے۔
روشن رخ پر گاندھی جی نے یہ لفظ پوری تعریف کے ساتھ پہلی بار تلک کے لیے برتا، اور انہیں سوراج کا جینیئس کہا۔ مطلق جینیئس نہیں، ایک خاص میدان کا عبقری۔ دونوں کے راستے کئی جگہ الگ تھے، مگر جہاں تلک بے مثال تھے وہاں گاندھی جی نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔ اختلاف کے باوجود خوبی کا حق ادا کرنا، یہ سلیقہ آج نایاب ہے۔ ٹیگور کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے اپنی شاعرانہ ذہانت اور زندگی کی بے مثال پاکیزگی سے ہندوستان کو دنیا کی نظر میں بلند کیا۔ ذہانت کے ساتھ کردار، یہی ان کا معیار تھا۔
مگر ایک شخص کے لیے انہوں نے یہ لفظ بغیر کسی قید کے استعمال کیا: جین سادھو اور شاعر راج چندر، جنہیں وہ اپنا تقریباً روحانی رہنما مانتے تھے۔ لکھا کہ ان کی اسکولی تعلیم بہت معمولی تھی، مگر وہ جینیئس تھے۔ یہ جملہ ہر اس استاد اور ہر اس پالیسی ساز کو پڑھنا چاہیے جو ذہانت کو مارک شیٹ کے خانوں میں ناپتا ہے۔ اس جملے کا مگر ہمارے پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
گاندھی جی نے یہ سارا ترازو انیس سو پچیس میں سات سماجی گناہوں کی ایک فہرست میں سمو دیا تھا، جن میں دو آج سب سے زیادہ چبھتے ہیں: کردار کے بغیر علم، اور انسانیت کے بغیر سائنس۔ مصنوعی ذہانت اور ذہین شہروں کے اس دور میں یہ فہرست ایک صدی پرانی نہیں، آج صبح کا اخبار لگتی ہے۔ تو کیا اس زمانے کو باپو کی ضرورت ہے؟ جس زمانے میں ہر اسکرین پر غصہ ہو، اختلاف دشمنی بن جائے اور ضرورت و خواہش کا فرق مٹ جائے، اسے ان کے اس تعویذ کی ضرورت ہے: شک ہو تو سب سے غریب اور کمزور انسان کا چہرہ یاد کرو اور پوچھو کہ تمہارا یہ قدم اس کے کسی کام آئے گا یا نہیں۔
اور جین زی؟ بہت سے نوجوانوں کے لیے باپو نوٹ پر چھپا ایک چہرہ، ایک چھٹی اور کبھی کبھی ایک میم ہیں۔ یہ نسل مورتیوں کو نہیں مانتی، ہر مجسمے کو ہاتھ لگا کر دیکھتی ہے کہ اندر کیا ہے۔ مگر یہی نسل سچائی اور بے بناوٹ پن کی قدر کرتی ہے، اور باپو نے اپنی آپ بیتی کا نام ہی تلاشِ حق کے تجربات رکھا، جس میں اپنی لغزشیں کسی فلٹر کے بغیر لکھ دیں۔ جو نسل ذہنی سکون کو ترستی ہے، اسے جاننا چاہیے کہ باپو برسوں ہر پیر کو خاموشی کا روزہ رکھتے رہے۔ جو نسل وائرل ہونے کا ہنر جانتی ہے، اسے دانڈی مارچ کی مٹھی بھر نمک یاد رکھنی چاہیے، جس نے دنیا کی توجہ کھینچی مگر ایک دن کا ٹرینڈ بن کر ختم نہیں ہوئی۔
سب سے بڑھ کر، پڑوسی ملکوں میں جین زی کی تحریکوں نے حکومتیں ہلائیں، ان کا غصہ بڑی حد تک جائز تھا، مگر کئی تحریکیں آگ اور جانوں کے زیاں میں بدل گئیں۔ یہاں باپو اس نسل کے سب سے بڑے استاد ہیں۔ جو تحریک آگ لگاتی ہے، وہ مخالف کو جواز دے دیتی ہے۔ جو لاٹھی کھا کر بھی ہاتھ نہیں اٹھاتی، وہ مخالف کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ جین زی کے پاس توانائی ہے، باپو کے پاس اس کا نقشہ۔
جین زی تاریخ کی سب سے باخبر اور سب سے تیز نسل ہے۔ اس کی ذہانت پر کسی کو شک نہیں۔ باپو اس سے صرف وہی سوال پوچھتے جو انہوں نے ہر جینیئس سے پوچھا تھا: یہ ذہانت کس کے کام آئے گی؟ اس کا جواب کوئی سرچ انجن نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اس دل سے آ سکتا ہے جو کبھی کبھی اسکرین سے نظر ہٹا کر سب سے کمزور انسان کا چہرہ یاد کر لے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے