कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اگر باپو زندہ ہوتے؟2 اکتوبر ہمیں کس ہندوستان کی یاد دلاتا ہے؟

مضمون نگار: محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری

آج 2 اکتوبر ہے۔ ہندوستان مہاتما گاندھی کی پیدائش کا دن منا رہا ہے۔ سرکاری تقریبات ہوں گی، گاندھی جی کے مجسموں پر پھول چڑھائے جائیں گے، ان کے اقوال دہرائے جائیں گے اور عدم تشدد، سچائی، رواداری اور قومی یکجہتی کی باتیں کی جائیں گی۔
مگر اسی دن ایک سوال ہمارے سامنے بھی کھڑا ہے:
اگر آج گاندھی جی زندہ ہوتے اور ہندوستان کی موجودہ صورتِ حال اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو وہ کیا سوچتے؟ کیا کہتے؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح سے متعلق سوال ہے۔
گاندھی جی نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف جس شدت سے آواز اٹھائی، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ 1946-47 میں جب فرقہ وارانہ تشدد نے بنگال، بہار، دہلی اور دوسرے علاقوں کو متاثر کیا تو گاندھی جی نے آرام کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے متاثرہ علاقوں کا رخ کیا۔ نواکھالی میں وہ گاؤں گاؤں پیدل گئے اور لوگوں کے درمیان امن و اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔
اور یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 2 اکتوبر 1947 کو، یعنی اپنی زندگی کے آخری 2 اکتوبر پر، گاندھی جی نئی دہلی میں تھے اور اسی دن ان کی بعد از دعا تقریر کا ریکارڈ گاندھی ہیریٹیج پورٹل پر موجود ہے۔
آج اگر وہ ہمارے درمیان ہوتے تو شاید سب سے پہلے یہ پوچھتے کہ آزادی کے بعد جس ہندوستان کا خواب دیکھا گیا تھا، اس میں انسان کی پہچان اس کے مذہب، لباس اور نام سے کیوں ہونے لگی؟
اگر کسی شخص کی داڑھی، ٹوپی، کرتا پاجامہ یا کسی خاتون کا برقع دیکھ کر نفرت پیدا ہونے لگے تو مسئلہ لباس کا نہیں، ذہن میں پیدا ہونے والی نفرت کا ہے۔
مسلمان مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو یہ اس کا مذہبی حق ہے۔ ہندو مندر میں پوجا کرتا ہے تو یہ اس کا مذہبی معاملہ ہے۔ سکھ گوردوارے میں جاتا ہے، عیسائی چرچ میں عبادت کرتا ہے۔ ہندوستان کی خوب صورتی ہی اس کے اس تنوع میں ہے۔
پھر یہ کیسی فضا ہے کہ مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنے کی دوڑ لگ جائے؟
عبادت گاہیں اگر عبادت کے بجائے تنازع کی علامت بن جائیں تو نقصان صرف ایک مذہب کا نہیں، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔
اسی طرح کسی بھی انسان کو اس کے مذہب کی بنیاد پر مار دینا، ہجوم کے ہاتھوں قانون اپنے ہاتھ میں لے لینا یا محض شبہے کی بنیاد پر کسی کی جان لے لینا یہ سب قانون، انسانیت اور تہذیب کے بنیادی اصولوں کے لیے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ کسی بھی جرم کو پورے مذہب یا پوری برادری سے جوڑنا درست نہیں۔ مجرم کا تعلق جس مذہب، ذات یا جماعت سے ہو، جرم کی ذمہ داری اسی فرد یا افراد پر عائد ہونی چاہیے۔
نہ مسلمان کو ہندو سے ڈرنا چاہیے، نہ ہندو کو مسلمان سے۔ ہندوستان کسی ایک مذہب کی جاگیر نہیں؛ یہ کروڑوں انسانوں کا مشترکہ وطن ہے۔
گاندھی جی کی زندگی کا ایک بڑا سبق یہی تھا کہ نفرت کا جواب مزید نفرت سے نہیں دیا جا سکتا۔ وہ فرقہ وارانہ فسادات کے دور میں بھی دونوں جانب کے لوگوں سے امن، ضبط اور انسانیت کی اپیل کرتے رہے۔ اپریل 1947 میں بہار میں ان کی کوششوں کے دوران گاندھی اور محمد علی جناح کی مشترکہ اپیل بھی سامنے آئی جس میں فرقہ وارانہ تشدد کی مذمت اور امن سے رہنے کی اپیل کی گئی تھی۔
آج ہمیں گاندھی جی کے مجسمے پر پھول چڑھانے سے زیادہ ان اصولوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے جن کی وہ بات کرتے تھے۔
کیا عدم تشدد صرف تقریروں کا موضوع ہے؟
کیا مذہبی رواداری صرف سرکاری تقریبات کے لیے ہے؟
کیا قومی یکجہتی صرف نعروں تک محدود رہے گی؟
اور سب سے بڑا سوال:
اگر آج گاندھی ہمارے درمیان آکر دیکھتے کہ ایک ہندوستانی دوسرے ہندوستانی کو اس کے مذہب کے نام پر شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، کسی کے لباس سے نفرت کی جارہی ہے، عبادت گاہیں سیاسی تنازعات کا مرکز بن رہی ہیں اور معاشرے میں مذہبی فاصلے بڑھ رہے ہیں، تو کیا ان کا دل مطمئن ہوتا؟
ہم ان کی روح کی طرف سے کوئی ایسا جملہ منسوب نہیں کرسکتے جو انہوں نے کہا ہی نہیں۔ لیکن ان کی زندگی، ان کی جدوجہد اور 1946-47 کے فرقہ وارانہ بحران کے دوران ان کے عملی کردار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ کیا وہ ہندوستان کو دوبارہ اسی راستے پر لانے کی کوشش نہ کرتے جہاں انسان کو پہلے انسان سمجھا جائے؟
شاید 2 اکتوبر کا اصل پیغام یہی ہے:
گاندھی کو یاد کرنا صرف ان کی تصویر پر مالا چڑھانا نہیں، بلکہ اپنے اندر کے تعصب سے سوال کرنا بھی ہے۔
اگر ہندوستان میں مسجد بھی محفوظ ہو، مندر بھی محفوظ ہو، گوردوارہ بھی محفوظ ہو اور چرچ بھی؛ اگر مسلمان اپنی داڑھی اور ٹوپی کے ساتھ بے خوف چل سکے، ہندو اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ محفوظ رہے، سکھ اپنی پگڑی کے ساتھ عزت سے جیے اور عیسائی اپنی عبادت گاہ میں آزادی سے عبادت کرے—تو یہی ہندوستان کی حقیقی خوب صورتی ہوگی۔
2 اکتوبر ہمیں گاندھی کی نہیں، اپنے ضمیر کی یاد دہانی کراتا ہے۔
آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ اختلاف ہوگا مگر دشمنی نہیں، بحث ہوگی مگر نفرت نہیں، مذہبی شناخت ہوگی مگر تعصب نہیں، اور اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے جان و مال، عزت اور عبادت کے حق کا احترام ہوگا۔
کیونکہ ہندوستان صرف نقشے پر بنی ہوئی ایک سرحد نہیں؛
ہندوستان کروڑوں دلوں کا نام ہے۔
اور جب دلوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی ہوجائیں تو آزادی کا جشن بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے