कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ووٹر لسٹ میں مسلمانوں کےنام کیوں نشانے پر؟

ایس آئی آر، آئینی ادارے اور ایک مسلمان شہری کا سوال

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

ہم سے بار بار ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے، بس اس کا لباس بدل جاتا ہے۔ کبھی وہ شہری رجسٹر کی صورت میں آتا ہے، کبھی شہریت کے قانون کی صورت میں، اور اب وہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی بن کر ہمارے دروازے پر کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا تم واقعی یہاں کے ہو؟ ہندوستانی مسلمان اس سوال کا جواب انیس سو سینتالیس میں دے چکا ہے۔ اس دن جب سرحد کے اُس پار جانے کا راستہ کھلا تھا اور ہمارے بزرگوں نے اپنا سامان باندھنے کے بجائے اپنی جڑیں اور گہری کر لیں۔ ووٹر لسٹ میں ہمارا نام اسی جواب کی رسید ہے۔ اسی لیے جب یہ نام کٹتا ہے، یا کوئی بے چہرہ ہاتھ اسے کٹوانے کی درخواست دیتا ہے، تو ہمیں ایک ووٹ کا نہیں، ایک رسید کے پھاڑ دیے جانے کا دکھ ہوتا ہے۔
یہ تحریر ماتم کے لیے نہیں لکھی گئی۔ ماتم ہم بہت کر چکے، اور اس سے نہ کوئی نام بحال ہوا نہ کوئی حق ملا۔ یہ تحریر حساب مانگنے کے لیے ہے، اور ساتھ ہی اپنا حساب دینے کے لیے بھی۔ کیونکہ جو قوم صرف دوسروں سے جواب طلب کرے اور اپنے گریبان میں نہ جھانکے، اس کی آواز رفتہ رفتہ شور بن جاتی ہے، اور شور کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔
پہلے حقیقت، پھر اس پر بات۔ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی، جسے ایس آئی آر کہا جاتا ہے، اکتوبر دو ہزار پچیس سے اپریل دو ہزار چھبیس کے درمیان کئی ریاستوں میں ہوئی۔ اعلان کردہ مقصد تھا فوت شدہ، دوہرے اور نقل مکانی کر جانے والے ناموں کی چھٹائی۔ ستائیس مئی دو ہزار چھبیس کو سپریم کورٹ نے اس عمل کو قانونی اور الیکشن کمیشن کے آئینی فرائض کے مطابق قرار دیا۔ یعنی کاغذ پر سب کچھ درست تھا۔ مسئلہ کاغذ سے زمین تک کے سفر میں پیدا ہوا۔
یہ سفر سب سے زیادہ مغربی بنگال میں لڑکھڑایا۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست کے مطابق دسمبر دو ہزار پچیس کی مسودہ فہرست سے اٹھاون لاکھ سے زیادہ نام کسی نوٹس یا سماعت کے بغیر غائب ہو گئے۔ الیکشن کمیشن کے اپنے اعداد کے مطابق ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ جانچ کے کٹہرے میں کھڑے کیے گئے، جن میں سے بتیس لاکھ سے زیادہ اہل نکلے اور تقریباً ستائیس لاکھ نااہل ٹھہرے۔ اور اس پوری فہرست میں سب سے بھاری ضرب مرشد آباد پر پڑی، بنگال کا وہ ضلع جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یہ ایک عدد ہے۔ مگر جس قوم نے پچھلے چند برسوں میں بہت کچھ دیکھا ہو، اس کے لیے کوئی عدد صرف عدد نہیں رہتا۔
اب ایک بات صاف صاف، کیونکہ اسے کہے بغیر ہماری شکایت کھوٹی رہے گی۔ ووٹر لسٹ کی صفائی ہمارے خلاف نہیں، ہمارے حق میں ہے۔ جس فہرست میں مردے ووٹ ڈالیں اور ایک آدمی دو جگہ گنا جائے، وہاں سب سے پہلے اسی کمزور شہری کا ووٹ بے وقعت ہوتا ہے جس کے پاس ووٹ کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں۔ اور اس ملک کے بہت سے حلقوں میں مسلمان ٹھیک یہی شہری ہے۔ ہمارا جھگڑا جھاڑو سے نہیں، اس ہاتھ سے ہے جو کچرے کے ساتھ گھر کے لوگوں کو بھی باہر نکال دے۔
اور انصاف یہ بھی ہے کہ جہاں روشنی دکھائی دی، اسے روشنی کہا جائے۔ سپریم کورٹ نے بنگال میں ایک غیر معمولی عدالتی نظام کھڑا کیا اور ہر خارج شدہ ووٹر کو ٹریبونل میں اپیل کا حق دیا۔ کمیشن کے اعداد کے ایک تجزیے کے مطابق جن اپیلوں کا فیصلہ ہوا، ان میں سے تقریباً ترانوے فیصد میں شہری کا نام واپس فہرست میں آ گیا۔ یہ عدد دو باتیں ایک ساتھ کہتا ہے۔ پہلی یہ کہ جہاں شہری کو جج کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع ملا، وہاں انصاف اس کے ساتھ کھڑا ہوا۔ دوسری، اور زیادہ چبھنے والی بات یہ کہ جن کے نام کاٹے گئے، ان کی بھاری اکثریت شروع سے اہل تھی۔ تو پھر انہیں کاٹا ہی کیوں گیا؟
چھبیس ستمبر کو الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ چھوٹ جانے والا ہر شخص شمولیت کے لیے متعلقہ افسر سے رجوع کر سکتا ہے، اور بنگال میں ٹریبونل انیس سے بڑھا کر بیالیس کرنے کی تجویز بھی رکھی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق خود کمیشن کے اندر سے ایک الیکشن کمشنر نے تحریری طور پر پوچھا کہ کمیشن کے نام پر اپیلیں دائر کرنے کی اجازت کس نے دی۔ جب ادارے کے اپنے ستون یہ سوال اٹھانے لگیں تو باہر کھڑے شہری کے سوال کو بدگمانی کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔
اب اس خوف کی بات جو اس وقت ہمارے گھروں میں دبے پاؤں چل رہا ہے۔ یہ خوف ہوا میں پیدا نہیں ہوا۔ اس کی ایک تاریخ ہے، ایک تاریخ وار یادداشت۔ دو ہزار انیس میں آسام کے قومی شہری رجسٹر کی حتمی فہرست سے انیس لاکھ سے زیادہ لوگ باہر رہ گئے۔ اسی برس شہریت ترمیمی قانون پر ملک بھر میں ایسی بحث چھڑی جس نے مسلمانوں کے ذہن میں یہ کانٹا گاڑ دیا کہ شاید ان کی شہریت ایک مستقل امتحان ہے، جس کا پرچہ ہر چند برس بعد نئے نام سے دیا جائے گا۔ جس کے ذہن میں یہ زخم تازہ ہو، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ووٹر لسٹ سے کٹے ہوئے نام کو محض ایک دفتری غلطی سمجھے، انسانی نفسیات سے ناواقفی ہے۔
مگر خوف کو دلیل کا لباس پہنانا ہے تو دیانت شرط ہے۔ کیا یہ سب ہمیں نشانہ بنا کر کیا گیا؟ اس کا جواب ہمارے پاس نہیں، کیونکہ مذہب وار اعداد شائع نہیں کیے جاتے۔ مرشد آباد کی آبادی بڑی ہے اور وہاں سے روزی کی تلاش میں دوسرے صوبوں کو جانے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، اس لیے وہاں کا زیادہ اخراج تنہا کسی نیت کا ثبوت نہیں۔ لیکن یہاں بات پلٹتی ہے۔ ثبوت دینا ہماری نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب ایک عمل کا بوجھ ایک خاص طبقے پر بھاری پڑتا دکھائی دے تو یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ کھلے اعداد میز پر رکھے اور ثابت کرے کہ ترازو سیدھا تھا۔ جو حکومت اعداد چھپاتی ہے، وہ دراصل شک کی آبیاری کرتی ہے، اور پھر شک کرنے والوں کو بدگمان کہتی ہے۔
اب ان تین سوالوں کی طرف آئیے جو کسی جذبات کے محتاج نہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ثبوت کس کے ذمے ہے؟ قانون کا بنیادی اصول ہے کہ جو کسی کا حق چھیننا چاہے، ثبوت وہ لائے۔ ایس آئی آر میں یہ ترتیب الٹ دی گئی۔ شہری کو خود ثابت کرنا پڑا کہ وہ شہری ہے۔ ذرا سوچیے کہ اس الٹی ترتیب کی چکی میں کون پستا ہے۔ گاؤں کا وہ بوڑھا جس کی پیدائش کسی رجسٹر میں درج ہی نہیں ہوئی۔ ممبئی، دہلی یا سورت میں اینٹیں ڈھونے والا وہ نوجوان جو کاغذ جمع کرانے کے لیے دو دن کی دیہاڑی نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ عورت جس کا نام اور پتا شادی کے بعد بدل گیا۔ اور ہم سب، جن کے نام انگریزی میں ہر دفتر میں نئے ہجے کے ساتھ لکھے جاتے ہیں، کہیں محمد، کہیں موحمد، کہیں ایم ڈی۔ ایک حرف کا فرق، اور آدمی مشتبہ۔
دوسرا سوال سولہ لاکھ کا ہے۔ سولہ ستمبر کو سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے پہلی بار بتایا کہ بنگال کے ٹریبونلوں میں اڑتیس لاکھ سے زیادہ اپیلیں پہنچیں۔ ساڑھے بائیس لاکھ کے قریب ان لوگوں کی تھیں جن کے نام کٹے اور جو واپسی چاہتے تھے۔ مگر سولہ لاکھ سے زیادہ اپیلیں ان ووٹروں کو نکالنے کے لیے تھیں جنہیں عدالتی افسران اہل قرار دے چکے تھے۔ کچھ تحقیقی رپورٹوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اپیلیں انفرادی طور پر نہیں، ایک مرکزی نظام سے یکمشت تیار کی گئیں۔ یہ دعویٰ ابھی عدالت میں ہے، اور ہم اس پر فیصلہ نہیں سناتے۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: جج نے جس شہری کو اہل مان لیا، اس کے خلاف درخواست دینے والا کون ہے، اور اس کا نام بتانے میں کیا رکاوٹ ہے؟ جو ہاتھ چھپ کر وار کرے، وہ عموماً جانتا ہے کہ اس کا وار روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔
تیسرا سوال وقت کا ہے۔ کمیشن کے تازہ اعداد کے مطابق اب تک تقریباً ایک لاکھ دو ہزار اپیلیں نمٹی ہیں اور سینتیس لاکھ سے زیادہ قطار میں کھڑی ہیں۔ ووٹ کوئی پنشن نہیں جو بعد میں بقایا جات کے ساتھ مل جائے۔ اس کی قیمت اس کے دن پر ہوتی ہے۔ الیکشن گزر جائے تو بحال ہونے والا نام ایک کاغذی تسلی ہے، اور تسلی کو حق کہنا حق کی توہین ہے۔
اس پورے قصے کا سب سے گہرا زخم وہ ہے جو کسی فائل میں نہیں لکھا جاتا۔ جن کے نام کٹے، وہ زیادہ تر خاموش ہیں۔ غریب ہیں، کم پڑھے ہیں، سرکاری دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان کے پاؤں کانپتے ہیں۔ وہ ایک عدد بن گئے ہیں، اور عدد کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا، کوئی آواز نہیں ہوتی۔ ہماری قوم کے لیے یہ خاموشی دوہری خطرناک ہے۔ جس طبقے کی شکایت سنی نہ جائے، اس کے نوجوان دو ہی راستوں پر نکلتے ہیں: مایوسی یا غصہ۔ اور جو لوگ ہمیں کمزور دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ دونوں راستے یکساں فائدہ مند ہیں۔
دوسرا زخم نمائندگی کا ہے۔ ایک تحقیقی تجزیے کے مطابق بنگال کی انچاس نشستوں پر جیت کا فرق ان ناموں سے کم تھا جو وہاں ایس آئی آر میں کاٹے گئے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نتیجے بدل جاتے۔ مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جہاں کمزور کا نام کٹا، وہاں اس کی آواز کا وزن گھٹا۔ اور جمہوریت میں جس کی آواز ہلکی ہو جائے، اس کے مسئلے ایوان کی میز تک پہنچنے سے پہلے ہی راہداریوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
تیسرا زخم سب سے گہرا ہے، اور وہ بھروسے کا ہے۔ ہندوستانی مسلمان نے آزادی کے بعد سے ہر بڑی چوٹ پر سڑک کے بجائے آئین اور عدالت کا راستہ چنا۔ یہ ہماری کمزوری نہیں، ہماری سب سے سوچی سمجھی طاقت رہی ہے۔ اگر یہ تاثر جڑ پکڑنے لگے کہ اس دروازے پر سماعت دیر سے ہوتی ہے اور ادھوری ہوتی ہے، تو ہم کسی ایک الیکشن سے بڑی چیز کھو دیں گے۔ ہم وہ آخری قلعہ کھو دیں گے جس کی دیواروں پر ہماری پوری اجتماعی حکمتِ عملی کھڑی ہے۔
اور یہاں ہمیں اپنے آپ سے بھی ایک کڑوی بات کہنی ہے۔ جو آدمی بار بار دروازہ کھٹکھٹائے اور ہر بار خالی لوٹے، وہ ایک دن کھٹکھٹانا چھوڑ دیتا ہے، چاہے اگلی بار دروازہ کھلنے والا ہو۔ قطار میں کھڑے ہو کر، کاغذ جمع کرا کے، سماعت کا انتظار کر کے بھی جسے کچھ نہ ملا، اس کے دل میں یہ آواز اٹھتی ہے کہ ہمارا ووٹ کون گنتا ہے۔ یہی آواز ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، کسی بھی حکومت سے بڑا۔ کیونکہ جو مسلمان مایوس ہو کر ووٹ ڈالنے نہیں جاتا، وہ وہی کام خود کر دیتا ہے جس کا الزام ہم دوسروں پر لگاتے ہیں۔ وہ اپنا نام فہرست سے خود کاٹ دیتا ہے، کسی اپیل، کسی ٹریبونل اور کسی سازش کے بغیر۔
ایک اور سچ جسے ہمیں اپنی شکایت میں جگہ دینی ہوگی: اس چکی میں صرف ہم نہیں پسے۔ غریب ہندو مزدور، دلت اور آدی واسی خاندان، اور روزی کے لیے پردیس جانے والے ہر مذہب کے لوگ اسی بے رحم کاغذی امتحان سے گزرے۔ اگر ہم نے اس مسئلے کو صرف مسلمانوں کا مسئلہ بنا کر پیش کیا تو یہ ہماری سب سے بڑی سیاسی غلطی ہوگی، کیونکہ اس سے ہم اکیلے رہ جائیں گے اور ہر مخالف کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ یہ ایک فرقے کا رونا ہے۔ اگر ہم نے اسے ہر کمزور شہری کا مقدمہ بنایا تو ہمارے ساتھ ایک ایسا قافلہ ہوگا جسے کوئی فرقہ وارانہ لیبل نہیں روک سکے گا۔
ووٹ ایک امانت ہے، اور اس امانت کے دو سرے ہیں۔ ایک سرا شہری کے ہاتھ میں ہے: اس کا ووٹ ملک کی امانت ہے، جسے اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔ دوسرا سرا ریاست کے ہاتھ میں ہے: شہری کا نام اس کے پاس امانت ہے، جسے اسے پوری حفاظت سے رکھنا ہے۔ جو ادارہ اس امانت میں لاپروائی برتے، وہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں کرتا۔ وہ اس معاہدے کو مجروح کرتا ہے جس پر شہری اور ریاست کا رشتہ کھڑا ہے۔
مگر امانت کا تقاضا ہم سے بھی ہے۔ ہماری شکایت سچی ہو، مبالغے سے پاک ہو، افواہ کی ملاوٹ سے آزاد ہو۔ ہم ہر کٹے ہوئے نام کو بغیر تحقیق کے ظلم کی داستان نہ بنائیں، اور جہاں عدالت یا کمیشن نے درست کام کیا، وہاں اس کا اعتراف کرنے میں بخل نہ کریں۔ جو قوم اپنی شکایت میں بھی انصاف کرتی ہے، اس کی شکایت کو رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور جو قوم ہر بات میں سازش دیکھتی ہے، اس کی سچی بات بھی شور میں ڈوب جاتی ہے۔
تاریخ یہاں ہمارا ہاتھ پکڑتی ہے۔ انیس سو سینتالیس کے خونیں دنوں میں مولانا ابوالکلام آزاد نے دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں سے مسلمانوں کو پکارا، اور انہیں یہ ملک چھوڑ کر جانے کے بجائے یہیں رہنے اور اپنے مستقبل پر یقین رکھنے کی تلقین کی۔ اس خطاب نے ہمیں یہ سبق دیا کہ اس سرزمین پر ہمارا حق کسی کی خیرات نہیں، صدیوں کی موجودگی کا حاصل ہے۔ پانچ برس بعد انیس سو باون کے پہلے عام انتخابات میں ہم نے کروڑوں ہم وطنوں کے ساتھ پہلی بار ووٹ ڈالا۔ اس دن جو نام فہرست میں درج ہوئے، وہ کاغذ پر لکھے حروف نہیں، اس عہد کے دستخط تھے جو ہمارے بزرگوں نے اس مٹی سے کیا تھا۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ادارے گرتے ہیں، اور اٹھتے بھی ہیں۔ ایمرجنسی کے دوران انیس سو چھہتر میں سپریم کورٹ نے اے ڈی ایم جبل پور مقدمے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی پر مہر لگا دی تھی۔ اس بنچ میں صرف ایک جج، جسٹس ایچ آر کھنہ، نے اختلاف کیا، اور اس کی قیمت چیف جسٹس کی کرسی سے محروم ہو کر چکائی۔ مگر وقت نے فیصلہ اکثریت کے نہیں، اسی تنہا آواز کے حق میں سنایا، اور برسوں بعد سپریم کورٹ نے خود اپنے اس فیصلے کو غلط قرار دیا۔ سبق یہ ہے کہ آئینی راستہ کبھی کبھی بہت لمبا ہو جاتا ہے، مگر جو اس پر چلتے رہتے ہیں، وہ منزل تک پہنچتے ہیں۔ جو بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں، ان کے لیے یہ راستہ ہمیشہ بند ہی رہتا ہے۔
ہمارے بچے یہ سب دیکھ رہے ہیں، اور ان کے سوال ہمارے سوالوں سے زیادہ تیز ہیں۔ شہریات کی کتاب انہیں سکھاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ ہے۔ پھر وہ گھر جا کر سنتے ہیں کہ ماموں کا نام کٹ گیا اور کوئی نہیں بتاتا کیوں۔ ایسے میں استاد کے سامنے دو آسان راستے ہیں اور دونوں غلط ہیں: جھوٹی تسلی، یا کڑوی مایوسی۔ تیسرا راستہ مشکل ہے مگر وہی درست ہے۔ بچوں کو یہ بتانا کہ آئین الماری میں رکھی کتاب نہیں، ہاتھ میں پکڑا ہوا اوزار ہے۔ اور اوزار کا استعمال سیکھنا پڑتا ہے: فارم بھرنا، اپیل دائر کرنا، معلومات کے حق کا قانون استعمال کرنا، اور اپنی بات دلیل اور ثبوت کے ساتھ صحیح میز تک پہنچانا۔
تو راستہ کیا ہے؟
ریاست سے ہمارا مطالبہ نہ خیرات کا ہے نہ رعایت کا۔ یہ سیدھا آئینی مطالبہ ہے۔ سولہ لاکھ اپیلوں کی پوری تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے کہ کس نے، کب اور کس بنیاد پر دائر کیں۔ کسی کا نام کاٹنے سے پہلے ٹھوس وجہ، تحریری نوٹس اور ذاتی سماعت لازمی ہو۔ ہر اپیل کا فیصلہ ایک مقررہ مدت میں ہو۔ اور اخراج کے اعداد سماجی اور علاقائی تفصیل کے ساتھ شائع کیے جائیں۔ اگر کسی طبقے پر بوجھ غیر متناسب پڑا ہے تو قوم کو معلوم ہو، اور اگر نہیں پڑا تو ہمارا شک خود دم توڑ دے۔ ایک صاف ستھری حکومت کو اس مطالبے سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
مگر اصل کام ہمارا اپنا ہے، اور اس کے لیے کسی حکم نامے کا انتظار نہیں کرنا۔ ہر محلے میں ووٹر لسٹ کی جانچ کے رضاکار مراکز کھلیں، جہاں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان لیپ ٹاپ لے کر بیٹھیں، لوگوں کے نام تلاش کریں، فارم بھروائیں اور اپیلوں کا آخری دن تک پیچھا کریں۔ ہماری مسجدوں کے منبر سے جمعہ کے دن یہ اعلان ہو کہ اپنا نام فہرست میں دیکھ لو، کیونکہ اپنے جائز حق کی حفاظت بھی دین کا حصہ ہے۔ ہمارے وکیل قانونی امداد کے کیمپ لگائیں۔ اور ہر گھر میں یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر بالغ کے تمام کاغذات میں نام کا ہجہ، باپ کا نام اور پتا ایک جیسا ہو۔ جو کام آج ایک شام میں ہو سکتا ہے، کل وہ برسوں کی عدالتی دوڑ بن جاتا ہے۔
اور یہ کام اکیلے ہرگز نہیں۔ ان مراکز کے دروازے ہندو، دلت، آدی واسی اور ہر اس پڑوسی کے لیے کھلے ہوں جس کا نام کٹا ہے۔ جس دن ہمارا کوئی نوجوان کسی غریب ہندو مزدور کا نام فہرست میں واپس لانے میں اس کی مدد کرے گا، اس دن ہم ایک ووٹ نہیں، ایک گھر جیتیں گے۔ اس ملک میں ہمیں ہمدردوں کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی، اور ہمدرد تقریروں سے نہیں، کام سے بنتے ہیں۔
اگر ہم نے اس بحران کو صرف آہ و زاری تک محدود رکھا تو ہماری اگلی نسل یہ سبق لے کر بڑی ہوگی کہ اس ملک میں ہمارے لیے کوئی دروازہ نہیں۔ ایسی نسل یا تو کونے میں سمٹ جاتی ہے یا بھڑک اٹھتی ہے، اور دونوں صورتوں میں فائدہ صرف ان کا ہوتا ہے جو ہمیں قومی زندگی کے حاشیے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے اسے ایک سبق بنا لیا، اپنی قوم کو آئینی شعور سے مسلح کیا، اور دوسروں کو ساتھ لے کر حقوق کی لڑائی لڑی، تو یہی بحران ہمیں پہلے سے زیادہ منظم، باخبر اور ناقابلِ نظرانداز شہری بنا دے گا۔
ہمارے بزرگوں کو یہاں کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ خود رکے تھے۔ ان کا یہ فیصلہ کسی سرکاری دفتر کی مہر کا محتاج نہیں، اور نہ کسی فہرست کی تصدیق کا۔ ووٹر لسٹ میں ہمارا نام اسی فیصلے کا تسلسل ہے، اور اسے سلامت رکھنا ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ کوئی ہمارا نام کاغذ سے کاٹ سکتا ہے، مگر اس مٹی سے ہمارا رشتہ نہیں کاٹ سکتا۔ وہ رشتہ صرف ایک صورت میں ٹوٹتا ہے: جب ہم خود اسے مایوسی کے ہاتھ بیچ دیں۔ اس لیے ہر الیکشن میں، ہر قطار میں، ہمیں کھڑا ہونا ہے۔ صرف ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں، یہ گواہی دینے کے لیے کہ ہم یہاں تھے، یہاں ہیں، اور یہیں رہیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے