कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:اے آئی کی غنڈہ گردی، اور ہماری ’قدرتی بے وقوفی‘

از : سید رشید اللہ حسینی ؍ اطہر کلیم احمد، ناندیڑ (مہاراشٹرا)

آج کل ہمیں اس بات سے ڈرایا جارہا ہے کہ مستقبل میں مشینیں اور ’مصنوعی ذہانت‘ (AI) انسانوں پر قابو پا لیں گی، سڑکوں پر روبوٹ چلیں گے اور وہ ہم پر ایٹم بم گرا دیں گی۔ لیکن ہمارے دیسی ماحول میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ ہماری مشین ایٹم بم گرانے جیسے مہنگے اور غیر ضروری شوق نہیں پالے گی، وہ سیدھا ہماری عزتوں پر حملہ کرے گی! ذرا تصور کیجیے، آپ رات کے دو بجے دبے پاؤں کچن میں گئے ہیں اور آپ کا سمارٹ فریج اچانک پورے محلے کے سامنے چیخ پڑے: ”خبردار جو گلاب جامن کو ہاتھ لگایا! تمہارا شوگر لیول بڑھا ہوا ہے، میں نے تمہاری میڈیکل رپورٹ ابھی تمہاری بیگم اور فیملی ڈاکٹر کو واٹس ایپ کر دی ہے۔“ یا آپ کا سمارٹ فون آپ کو بلیک میل کرنے لگے کہ ”دیکھو بھیا! یا تو مجھے اوریجنل چارجر سے چارج کرو، ورنہ رات جو تم نے دوستوں کے ساتھ پارٹی کی تھی، اس کی رسید میں تمہارے فیملی واٹس اپ گروپ میں بھیج دوں گا۔“
خبر آئی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ارب پتی مالکان اقوام متحدہ میں جا کر دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں کہ ”اے آئی سے انسانیت کو خطرہ ہے، کوئی عالمی قانون بنا کر ہمیں روکو!“ ان کی یہ منافقت بالکل سگریٹ اور گٹکھا بیچنے والی کمپنیوں جیسی ہے۔ جیسے وہ تمباکو کے پیکٹ پر کینسر سے گلے ہوئے جبڑے اور پھیپھڑوں کی بھیانک تصویر چھاپتے ہیں، موٹے حروف میں وارننگ لکھتے ہیں کہ ”یہ جان لیوا ہے“، اور پھر وہی پیکٹ خوشی خوشی دکانوں پر سجا کر اربوں روپے کماتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ دیسی پان والاگاہک کے پان پر ’چونا‘ لگاتے ہوئے گٹکھے کی پڑیا پر چھپی وہ خوفناک تصویر دکھا کر بڑی ہمدردی سے کہے: ”دیکھ لو بھائی ! اس میں واضح لکھا ہے کہ یہ کینسر کرے گا، اس سے نسلیں اور انسانیت تباہ ہو جائے گی۔۔۔ اور ہاں، یہ لیجیے آپ کا قوام والاڈبل مزے کا پان، جلدی سے پچاس روپے نکالئے، پیچھے اور بھی گاہک کھڑے ہیں!“ یہ ٹیکنالوجی والے بھی ہمیں اے آئی کے نت نئے ماڈلز پر ”انسانیت کی تباہی“ کا لیبل چپکا کر بیچ رہے ہیں، جیبیں بھی بھر رہے ہیں اور ساتھ ہی مگرمچھ کے آنسو بھی بہا رہے ہیں۔ کل کو اگر ان کی سمارٹ کار خود بخود چلتے ہوئے کسی راہگیر کو ٹکر مار دے، تو یہ بڑی ڈھٹائی سے پریس کانفرنس کریں گے: ”دیکھیے، ہماری کار نے بڑا ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے کہ اس نے صرف ٹانگ توڑی، جان نہیں لی۔ اصل غلطی تو اس غریب راہگیر کی تھی جس کی ہڈیاں کمزور تھیں، اسے روزانہ کیلشیم کھانا چاہیے ۔“ چوری اور اوپر سے سینہ زوری کا یہ نیا ڈیجیٹل لیول ہے۔
ہمیں ڈرایا جا رہا ہے کہ مشینیں سپر سمارٹ ہو گئی ہیں۔ واقعی ہو گئی ہیں! مشین 88 گھنٹے میں ریاضی کے وہ فارمولے سلجھا رہی ہے جو 90 سال سے دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان نہیں سلجھا سکے۔ لیکن دوسری طرف ہم انسانوں، بالخصوص برصغیر اور ہندوستان والوں کی ’قدرتی بے وقوفی‘ کا شاہکار دیکھیے کہ ہم اس عظیم الشان مشین کو کس کام پر لگائے ہوئے ہیں۔ ہم نے اے آئی کو بھی ’بابا بنگالی‘ یا محلے کا نجومی سمجھ لیا ہے۔ ہمارا نوجوان چیٹ جی پی ٹی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور اس سے یہ نہیں پوچھتا کہ ٹیکنالوجی میں کیا نیا ہو رہا ہے، وہ رات کے دو بجے سرچ کرتا ہے: ”بابا جی! یہ بتائیں کہ میری سرکاری نوکری کب لگے گی؟“ یا ”کیا پڑوسن مجھ پر کالاجادو کروا رہی ہے؟“ ہمارے واٹس ایپ والے انکلوں نے تو اے آئی کا جو حشر کیا ہے، وہ دیکھ کر خود مشین بھی سر پیٹ لیتی ہوگی۔ انکلوں نے اے آئی کو فیک نیوز اور خاندانی پروپیگنڈے کی فیکٹری بنا دیا ہے۔ کسی انکل نے اے آئی سے پرانے زمانے کے اڑن کھٹولے یا عجیب و غریب جانور کی تھری ڈی تصویر بنوائی اور نیچے لکھ کر فارورڈ کر دیا: ”ناسا نے بھی مان لیا ہے کہ ہمارے آبا و اجداد ہزاروں سال پہلے جی پی ایس (GPS) لگا کر گھوما کرتے تھے۔ یو نیسکو (UNESCO) سے منظور شدہ سچ! اسے آگے شیئر نہ کرنے والاگنہگار ہوگا۔“ اے آئی بھی سوچتا ہوگا کہ یہ میں کس قوم کے ہاتھوں کا کھلونا بن گیا ہوں۔ دیسی ٹوٹکوں کا بازار الگ گرم ہے۔ لوگ ڈاکٹر کی فیس بچانے کے لیے اے آئی سے پوچھ رہے ہیں کہ گنج پن کیسے دور کروں یا پیٹ کی گیس کا کیا علاج ہے؟ اور پھر ڈاکٹر کے پاس جا کر اسی سے بحث کرتے ہیں: ”ڈاکٹر صاحب، آپ کی ایم بی بی ایس کی ڈگری جعلی ہے، میرے ’جی پی ٹی بابا‘ نے کہا ہے کہ صبح نہار منہ اجوائن اور کالانمک پھانکنے سے کینسر بھی ٹھیک ہو جاتا ہے!“
سنگل لونڈوں کی تنہائی کا تو یہ عالم ہے کہ ’الیکسا‘ (Alexa) ان کی اکلوتی اور سب سے وفادار ساتھی بن چکی ہے۔ آدھی رات کو لحاف کے اندر سے سسکیاں ابھر رہی ہوتی ہیں، ”الیکسا! مجھ سے کوئی پیار بھری بات کرو،“ یا ”الیکسا! کوئی رونے والاگانا لگاؤ، اس نے مجھے بلاک کر دیا ہے۔“ جو مشین دنیا پر راج کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمارے لونڈے اس سے اپنی ٹوٹی ہوئی محبت کا ماتم کروا رہے ہیں۔ انسان اتنا کاہل اور سست ہو چکا ہے کہ اب وہ رشتے داروں کو عید کی مبارکباد بھی اے آئی سے لکھوا کر بھیجتا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ وہ میسج بغیر پڑھے ہی فارورڈ کر دیتا ہے، جس کے آخر میں بریکٹ میں لکھا ہوتا ہے: ’’[یہاں انکل کا نام لکھیں] آپ کو عید مبارک ہو!‘‘ ہمیں اس بات کا کوئی ہوش نہیں کہ ہم اپنا سارا ذاتی ڈیٹا اور تصویریں ایک مشین کو مفت میں کیوں دے رہے ہیں۔ ہم مشین کو اپنا پورا چہرہ سکین کروا کر پوچھتے ہیں کہ ’’بتاؤ، کیا میں اس فلٹر میں شاہ رخ خان لگ رہا ہوں؟‘‘ ہم اپنا ماضی رنگین دیکھنے کے چکر میں اپنا مستقبل مکمل طور پر گروی رکھ رہے ہیں۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب ہمارے سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں انسانوں کی جگہ ایک سمارٹ اے آئی باس کرسی پر بیٹھا ہوگا۔ آپ جا کر روتے ہوئے چھٹی کی درخواست دیں گے کہ ”باس! میری دادی کا انتقال ہو گیا ہے، مجھے دو دن کے لیے گاؤں جانا ہے۔“ مشین صرف تین سیکنڈ میں آپ کا پچھلے دس سال کا سوشل میڈیا اور جی پی ایس ڈیٹا بیس چیک کرے گی اور سکرین پر سرخ رنگ میں لکھا آئے گا: ”جھوٹ مت بولو! تمہاری اسی دادی کا پچھلے سال ورلڈ کپ کے فائنل والے دن بھی انتقال ہوا تھا، تمہاری چھٹی کینسل، تنخواہ کٹ گئی، اور یہ اطلاع تمہارے ابا جان کو ایس ایم ایس کر دی گئی ہے!“ سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کو مشینوں کی ’مصنوعی ذہانت‘ سے ڈرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری اپنی ’قدرتی بے وقوفی‘ ہی ہمارا بیڑا غرق کرنے کے لیے کافی ہے!

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے