कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علم کی اہمیت

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو، شری بنکٹ سوامی مہاودلیہ بیڑ،مہاراشٹر

علم کی حقیقت اور مفہومکائنات کے آغاز سے لے کر آج تک انسانی ارتقاء کا سفر اگر کسی ایک محرک کے گرد گھومتا ہے، تو وہ "علم” ہے۔ علم محض الفاظ کا مجموعہ یا کتابی معلومات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا نورِ بصیرت ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف گامزن کرتا ہے۔ جب ہم زمین پر انسان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں انسان غاروں میں رہتا تھا، جنگلی زندگی بسر کرتا تھا اور اپنی ضروریات کے لیے مکمل طور پر قدرت کے رحم و کرم پر تھا۔ مگر اس کے پاس ایک ایسی صفت موجود تھی جو تمام مخلوقات میں اسے ممتاز کرتی تھی، اور وہ تھی "سیکھنے کی صلاحیت”۔ اسی صلاحیت نے انسان کو پتھر کے دور سے نکال کر خلائی دور تک پہنچایا۔لغوی اعتبار سے علم کا مطلب جاننا، آگاہ ہونا اور حقیقت سے روشناس ہونا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں، علم وہ وسیع تر فہم ہے جو انسان کو کائنات کے نظام، اپنے خالق، اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنے نفس کی پہچان عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے علم کی دولت سے نوازا۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد فرشتوں پر ان کی برتری کی سب سے بڑی وجہ ان کا "علمِ اسماء” ہی تھا۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کا جسمانی قدوکشم نہیں بلکہ اس کا علمی اور فکری مقام ہے۔تاریخ کے آئینے میں علم کا سفرانسانی تہذیب کی جڑیں علم کی آبیاری سے جڑی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی جتنی بھی عظیم تہذیبیں (جیسے میسوپوٹیمیا، مصر، یونان، چین اور برصغیر کی قدیم تہذیبیں) ابھریں، ان کی عروج کا راز علم اور فلسفے سے گہرا تعلق تھا۔اسلامی تاریخ میں علم کو ایک انقلابی حیثیت حاصل ہوئی۔ اسلام کی آمد سے پہلے جزیرہ نما عرب میں جہالت کا دور دورہ تھا، جسے "دورِ جاہلیت” کہا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں قبائلی عصبیت، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج اور توہم پرستی عام تھی۔ ایسے عالم میں جب اسلام کا سورج طلوع ہوا، تو اس کا سب سے پہلا اعلان علم کی ترغیب پر مبنی تھا۔ پہلی وحی جو غارِ حرا میں نازل ہوئی، اس کا آغاز ہی لفظ "اقرأ” (پڑھ) سے ہوا۔”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا” (سورۃ العلق ۱ تا ۵)۔اسلامی دورِ زیں (Golden Age of Islam) میں مسلمانوں نے علم کی شمع کو پوری دنیا میں روشن کیا۔ بغداد، قرطبہ، اور قاہرہ دنیا کے علمی مراکز بن گئے۔ خوارزمی، ابنِ سینا، الفارابی، البیرونی، ابنِ الہیثم اور ابنِ خلدون جیسے سائنسدانوں، فلسفیوں اور مفکرین نے ریاضی، طب، فلکیات، اور عمرانیات میں ایسے کارنامے سرانجام دیے جن پر آج کی جدید سائنس کی عمارت کھڑی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قومیں علم کا دامن تھامتی ہیں، تو وہ دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہو جاتی ہیں۔دینی تناظر میں علم کی اہمیتمذہبِ اسلام میں علم کو عبادت اور بندگی کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں علم اور عالم کی فضیلت جابجا ملتی ہے۔عالم اور جاہل کا فرق قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے: "کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں” (سورۃ الزمر ۹)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم ہی انسان کو شعور کی بلندی عطا کرتا ہے۔علم کا حصول فرض حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے” (سنن ابن ماجہ)۔ اس حکم میں جنس کی کوئی تفریق نہیں رکھی گئی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی مردوں کی تعلیم کو۔علماء کی میراث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کرام نے ورثے میں درہم یا دینار نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے "علم” کی میراث چھوڑی ہے۔ جس نے اسے حاصل کر لیا، اس نے گویا بڑا حصہ پا لیا (سنن ابو داؤد)۔صدقہ جاریہ: حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔اسلامی نقطہ نظر سے علم کی دو بنیادی اقسام ہیںعلمِ نافع (مفید علم) اس سے مراد وہ تمام علوم ہیں جو انسان کی دینی اور دنیاوی فلاح کا باعث بنیں، جیسے دینی علوم، طبی علوم، ٹیکنالوجی، اور انسانیت کی بھلاۂی کے علوم۔علمِ ضار (نقصان دہ علم) وہ معلومات جو انسانیت کے لیے تباہی، ظلم، فساد یا اخلاقی زوال کا سبب بنیں۔انفرادی زندگی میں علم کے اثراتعلم صرف بیرونی دنیا کو تبدیل نہیں کرتا، بلکہ یہ انسان کے باطن کو منور کرتا ہے۔ انفرادی سطح پر علم کے اثرات درج ذیل زاویوں سے دیکھے جا سکتے ہیں:شخصیت کی تعمیر اور پختگیعلم انسان کو خودشناسی (Self-awareness) کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جاہل انسان اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے، جبکہ ایک تعلیم یافتہ اور علم رکھنے والا انسان اپنے جذبات، غصے اور خواہشات پر قابو رکھنا جانتا ہے۔ علم انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے؛ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ "نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان” اور جتنا درخت پھلوں سے لدا ہوتا ہے، اتنا ہی جھکا ہوتا ہے۔ اسی طرح حقیقی عالم ہمیشہ متواضع اور حلیم ہوتا ہے۔سوچ اور فکر کی وسعتتعلیم انسان کو تعصب اور تنگ نظری کی زنجیروں سے آزاد کرتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا انسان کسی بھی مسئلے کو یکطرفہ طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ افواہوں اور توہمات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔روزگار اور معاشی خودمختاریموجودہ دور میں علم اور ہنر کے بغیر زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ تعلیم انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باعزت طریقے سے روزگار کما سکے۔ یہ غربت کے خاتمے، معاشی استحکام اور زندگی کے معیار کو بلند کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جو افراد یا خاندان تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے معاشی خوشحالی کا باعث بنتے ہیں۔معاشرتی اور اجتماعی سطح پر علم کی اہمیت”مدرسہ انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، لیکن معاشرہ اس کی دوسری اور سب سے بڑی درسگاہ ہے۔” کسی بھی معاشرے کی تہذیب، اخلاقیات اور ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔امن اور قانون کا احترامجاہل معاشروں میں طاقتور کی لاٹھی اور کمزور کی بھینس کا قانون چلتا ہے۔ اس کے برعکس، تعلیم یافتہ معاشرہ قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، رواداری اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے۔ علم لوگوں کو یہ سکھاتا ہے کہ اختلافات کے باوجود پرامن طریقے سے کیسے رہنا ہے۔جمہوریت اور شعور ایک صحت مند جمہوری نظام کے لیے ووٹروں کا تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور کا حامل ہونا ضروری ہے۔ علم عوام کو اپنے حقوق اور فرائض کا احساس دلاتا ہے تاکہ وہ اچھے اور برے حکمرانوں میں تمیز کر سکیں۔جرائم میں کمی تاریخ اور شماریات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جن علاقوں یا ممالک میں خواندگی کی شرح زیادہ ہوتی ہے، وہاں جرائم، چوری اور تشدد کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ جہالت اور غربت جرم کی جڑیں ہیں، اور تعلیم ان جڑوں کو کاٹنے کا کام کرتی ہے۔جدید دور اور سائنسی ترقی میں علم کا کرداراکیسویں صدی کو "علمی و معلوماتی دور” (Information Age) کہا جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت کا معیار تلوار اور فوج نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق (Research) اور سائنسی ایجادات ہیں۔آج جو انقلابات ہم دیکھ رہے ہیں—جیسے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، بائیو ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، خلائی سفر اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن—یہ سب سائنسی علم کی مرہونِ منت ہیں۔ جن قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت حاصل کی، آج وہی دنیا پر معاشی اور سیاسی طور پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر وہ جدید علوم سے نابلد رہے، تو وہ عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ لہذا، روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم، کوڈنگ، ڈیٹا سائنس اور پیشہ ورانہ مہارتوں (Professional Skills) کا حصول وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔خواتین کی تعلیم معاشرے کا ادھوری پہلوکسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں خواتین کیسا تعلیمی معیار رکھتی ہیں۔ ایک مشہور مقولہ ہے: "اگر آپ ایک مرد کو پڑھاتے ہیں تو آپ ایک فرد کو پڑھاتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک عورت کو پڑھاتے ہیں تو آپ پوری نسل کو پڑھاتے ہیں”۔خواتین گھر کی منتظم اور بچوں کی پہلی معلم ہوتی ہیں۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ اپنے بچوں کی تربیت بہتر طریقے سے کر سکے گی، انہیں اخلاقیات سکھائے گی اور ان میں علم کا شوق پیدا کرے گی۔ تاریخ کی تمام بڑی شخصیات کے پیچھے کسی نہ کسی باکمال اور تعلیم یافتہ ماں کا ہاتھ رہا ہے۔ لہذا، معاشرے کی آدھی آبادی کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنا دراصل اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔تعلیم کے راستے میں حائل رکاوٹیں (خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں)اگرچہ علم کی اہمیت سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا، لیکن اس کے حصول کی راہ میں کئی بڑی رکاوٹیں حائل ہیں، جن پر قابو پانا ناگزیر ہےغربت اور مالی مشکلات غریب خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے مزدوری پر لگانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے لیے پیٹ کی آگ بجھانا زیادہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ناقص تعلیمی نظام کئی ممالک میں تعلیمی ڈھانچہ فرسودہ ہے۔ نصاب میں تخلیقی سوچ کے بجائے رٹا لگانے (Rote Learning) پر زور دیا جاتا ہے، جو عملی زندگی میں کارآمد ثابت نہیں ہوتا۔تعلیمی اداروں کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اچھے اسکولوں، اساتذہ، اور بنیادی سہولیات (جیسے بجلی، پانی اور سڑکیں) کا نہ ہونا بچوں بالخصوص بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھ رہا ہے۔جہالت اور توہم پرستی معاشرے کے کچھ حصوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا ہے یا پرانے توہمات کی وجہ سے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا جاتا۔ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حل اور لائحہ عملان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومتوں، اداروں اور معاشرے کے ہر فرد کو اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگابجٹ میں اضافہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کریں تاکہ مفت اور معیاری تعلیم ہر شہری تک پہنچ سکے۔تعلیمی نظام کی اصلاح نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ رٹنے کے نظام کو ختم کرکے عملی، تحقیقی اور فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔آگاہی مہمات دیہی علاقوں میں خصوصی آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ والدین کو بچوں (خصوصاً بچیوں) کی تعلیم کی اہمیت کا احساس ہو۔مفت تعلیم اور وظائف غریب اور لائق طلباء کے لیے اسکالرشپس اور مفت کتابوں کا بندوبست کیا جائے تاکہ مالی مشکلات ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بنیں۔علامہ اقبال کا تصورِ علم اور نوجوانوں کا فریضہمفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری میں علم اور عقل کے ساتھ عشق اور قلبی بیداری کے امتزاج پر بہت زور دیا۔ ان کے نزدیک وہ علم بے کار ہے جو انسان کو مادی دوڑ میں تو آگے لے جائے لیکن اس کے اندر انسانیت، اخلاق اور خدا ترسیمی کو ختم کر دے۔اقبال رحمہ اللہ نوجوانوں کو شاہین کی طرح بلند پرواز دیکھنا چاہتے تھے، اور یہ بلند پرواز صرف بازوؤں کے زور پر نہیں بلکہ علمِ نافع کے پروں سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں
"خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
"کہ تیرے بحرِ تخیل میں طلاطم نہیں!”
اور جب علم عمل کے ساتھ مل جاتا ہے، تو وہ کوہِ گراں کو بھی ہلا سکتا ہے۔ آج کے دور کے نوجوانوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ وقت ضائع کیے بغیر علم کی دولت سے خود کو آراستہ کریں، کیونکہ قوموں کے عروج و زوال میں نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔حاصلِ کلام یہ ہے کہ علم ایک ایسا چراغ ہے جو بجھنے نہ پائے تو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ وہ واحد سرمایہ ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی عروج پایا، اس کی بنیاد علم اور تحقیق پر تھی۔آج ہمیں اس بات کا عزم کرنا ہوگا کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے معاشرے سے جہالت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ نہ صرف خود علم حاصل کریں بلکہ اپنے اردگرد ہر محروم بچے تک تعلیم کی روشنی پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: "اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک موم بتی جلائی جائے”۔ آئیے، علم کا یہ دیا جلائے رکھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک روشن، پرامن اور ترقی یافتہ دنیا میں سانس لے سکیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے