कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خاموش قابلیت:ڈاکٹر شبانہ درانی خان پروفیسر یشونت کالیج ناندیڑ سے جے این یو تک

از قلم: محمود علی لیکچرر

بعض شخصیات اپنے تعارف کے لیے لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کے لہجے کی شائستگی فکر کی سنجیدگی علم سے وابستگی اور کام کی خاموشی ہی ان کی پہچان بن جاتی ہے۔ وہ محفلوں میں اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے اپنے علم کو بولنے دیتی ہیں اور یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔
ڈاکٹر شبانہ درانی خان بھی ایسی ہی ایک علمی شخصیت ہیں جن کی زندگی اور علمی سفر کو “خاموش قابلیت” کی ایک خوبصورت مثال کہا جا سکتا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک ایسی متانت محسوس ہوتی ہے جو شور سے نہیں بلکہ علم سے پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی کامیابیوں کا ذکر خود کرتے ہیں، مگر بعض کے بارے میں ان کی علمی منازل ان کے شاگرد ان کی تحقیق اور ان کی خدمات خود گواہی دیتی ہیں۔
“True capability is often silent it does not announce itself, it reveals itself through achievement.”
ڈاکٹر شبانہ درانی خان کا علمی سفر بھی اسی خاموش گواہی کا نام ہے۔
درس گاہ سے تحقیق گاہ تک
درس و تدریس کا پیشہ بظاہر بہت سادہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں ایک استاد روزانہ کئی ذہنوں کی تشکیل کرتا ہے۔ وہ صرف کتاب کے صفحات نہیں کھولتا بلکہ طلبہ کے اندر فکر کے دروازے بھی کھولتا ہے۔
ڈاکٹر شبانہ درانی خان نے بھی اردو زبان و ادب کی تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک علمی ذمہ داری کے طور پر نبھایا تدریس کے ساتھ مطالعہ، مطالعے کے ساتھ سوال اور سوال کے ساتھ تحقیق کا سفر جاری رہا۔
یہی جستجو بالآخر انہیں اعلیٰ تحقیق کی منزل تک لے گئی۔
پی ایچ ڈی علمی ریاضت کا ثمر
انہوں نے اردو ادب میں “ترقی پسند خواتین افسانہ نگار: ایک جائزہ” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔ یہ محض ایک تحقیقی عنوان نہیں بلکہ اردو ادب کے ایک اہم فکری، سماجی اور تہذیبی باب سے وابستہ موضوع ہے۔
ترقی پسند خواتین افسانہ نگاروں نے اپنے عہد کی عورت کے دکھ اس کی گھٹن اس کی خواہشِ آزادی سماجی بندشوں طبقاتی ناہمواری اور انسانی وقار کے سوالات کو ادب کے قالب میں ڈھالا۔
ایسے موضوع کو تحقیق کے لیے منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ محقق محض الفاظ کا مطالعہ نہیں کر رہا بلکہ ان الفاظ کے پس منظر میں موجود سماج عورت تاریخ اور انسانی تجربے کو بھی سمجھنا چاہتا ہے۔
پی ایچ ڈی کی منزل حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے برسوں کا مطالعہ، حوالوں کی جستجو مسلسل تحریر تنقیدی سوچ اور علمی صبر پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو چیز باہر سے محض ایک سند نظر آتی ہے، اس کے پیچھے ایک طویل فکری ریاضت کارفرما ہوتی ہے۔
محقق سے رہنمائے تحقیق تک
علم کا حسن یہ ہے کہ وہ ایک شخص پر ختم نہیں ہوتا۔
ایک سچا محقق جب خود علمی منزل طے کر لیتا ہے تو پھر اس کے سامنے نئی ذمہ داری آتی ہے وہ دوسروں کو راستہ دکھائے۔
ڈاکٹر شبانہ درانی خان کا علمی سفر بھی اسی مرحلے تک پہنچا جہاں وہ خود نئی نسل کے محققین کی رہنمائی کرنے لگیں۔
یہ تبدیلی محض عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ علمی حیثیت کے ارتقا کی علامت ہے۔
کبھی وہ خود کسی رہنما کے سامنے تحقیقی سوالات رکھتی رہی ہوں گی، اور پھر ایک وقت آیا کہ نئی نسل اپنے تحقیقی سوالات لے کر ان کے سامنے آنے لگی
علم کی دنیا میں اس سے خوبصورت تسلسل شاید ہی کوئی اور ہو۔
ایک چراغ پہلے روشنی لیتا ہے، پھر خود روشنی بانٹنے لگتا ہے
ناندیڑ سے جے این یو تک
ان کے علمی سفر کا ایک قابلِ ذکر مرحلہ وہ تھا جب انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں منعقدہ ایک قومی علمی سیمینار میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
یہاں جے این یو محض ایک مقام نہیں رہتا بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔
ایک طرف ناندیڑ کی درس گاہیں، کلاس روم کتابیں اور روزمرہ کی تدریسی ذمہ داریاں دوسری طرف ملک کے ممتاز علمی ادارے کا پلیٹ فارم جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے اہلِ علم کے درمیان اپنے تحقیقی خیالات پیش کیے جائیں۔
یہ فاصلہ صرف ناندیڑ سے دہلی کا فاصلہ نہیں تھا۔
یہ برسوں کے مطالعے سے پیدا ہونے والے اعتماد کا فاصلہ تھا۔
یہ تدریس سے تحقیق تک کا فاصلہ تھا۔
یہ ایک طالبۂ علم سے محقق اور محقق سے علمی رہنما بننے تک کا فاصلہ تھا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں “خاموش قابلیت” اپنے معنی خود واضح کرنے لگتی ہے۔
خاموشی بھی ایک زبان ہے
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں اکثر قابلیت کو تشہیر سے ناپا جاتا ہے۔ انسان کتنا جانتا ہے، اس سے زیادہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے بارے میں کتنا بتاتا ہے۔
لیکن علمی دنیا کی ایک قدیم اور باوقار روایت اس کے برعکس بھی رہی ہے۔
وہ روایت یہ کہتی ہے کہ
اپنے کام کو اتنا مضبوط بناؤ کہ تمہیں اپنے بارے میں زیادہ بولنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
ڈاکٹر شبانہ درانی خان کی شخصیت اسی وصف کی یاد دلاتی ہے۔
خاموش رہنا کمزور ہونا نہیں ہوتا۔
کم گو ہونا کم علم ہونا نہیں ہوتا۔
اپنی کامیابیوں کی تشہیر نہ کرنا کامیابیوں کی کمی کی علامت نہیں ہوتا۔
بعض اوقات خاموشی کے پس منظر میں برسوں کی محنت کتابوں سے رفاقت درس گاہوں کی ذمہ داریاں اور تحقیق کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔
علم کی اصل پہچان
ایک استاد کی اصل پہچان صرف اس کی ڈگری نہیں ہوتی۔
اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس نے کتنے ذہنوں میں علم کی جستجو پیدا کی۔
ایک محقق کی عظمت صرف اس کے مقالے میں نہیں ہوتی۔
Patience, curiosity, and intellectual honesty are the real tools of a researcher.”
اصل عظمت یہ ہوتی ہے کہ اس نے علم میں کیا اضافہ کیا اور اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا راستہ چھوڑا۔
اسی طرح کسی علمی شخصیت کا وقار محض عہدے سے قائم نہیں ہوتا۔
وقار پیدا ہوتا ہے مسلسل محنت فکری دیانت مطالعے کی عادت، زبان سے محبت اور شاگردوں کی رہنمائی سے۔
ایک خاموش مگر روشن سفر
اردھاپور سے ناندیڑ تدریس سے تحقیق تحقیق سے پی ایچ ڈی، پی ایچ ڈی سے رہنمائے تحقیق اور پھر ناندیڑ سے جے این یو کے علمی پلیٹ فارم تک پہنچنے والا یہ سفر ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے
قابلیت کو ہمیشہ اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کچھ صلاحیتیں خاموش رہتی ہیں مگر ان کی روشنی دور تک جاتی ہے۔
کچھ شخصیات اپنا تذکرہ خود نہیں کرتیں ان کا علمی سفر ان کی طرف سے بولتا ہے۔
ڈاکٹر شبانہ درانی خان کی شخصیت کے حوالے سے شاید یہی کہنا زیادہ مناسب ہوگا
وہ خاموشی جس کے پس منظر میں علم ہو دراصل خاموشی نہیں ہوتی وہ ایک ایسی آواز ہوتی ہے جسے وقت دیر سے سہی، مگر ضرور سنتا ہے۔
اور اسی لیے ان کے علمی سفر کے لیے یہ چند الفاظ شاید سب سے موزوں ہیں
“خاموش قابلیت وہ چراغ ہے جو اپنے روشن ہونے کا اعلان نہیں کرتا، مگر اس کی روشنی راستہ ضرور دکھاتی ہے۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے