कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جھوٹی نعمت کی نمائش سے بچنا چاہیے

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

خداوند قدوس نے اس خاکی پتلے کو گراں قدر نعمتوں سے نوازا ہے، جس میں عقل و شعور، فہم و فراست، حواسِ ظاہری و باطنی کی حیرت انگیز قوت و طاقت اور اعضاء و جوارح سے انسان نے اس دنیاوی حیات میں نت نئے آلات و ایجادات کے لا متناہی سلسلہ سے دنیا کو بامِ عروج پر پہنچا دیا، چوں کہ خالقِ کائنات نے انسان کو مجموعہ اضداد بنایا ہے اور الہامِ فجور و تقوی کی قوت و طاقت، اس کے دل میں رکھ کر کسب و اختیار کی قوت دے کر زندگی گزارنے کے لیے ایک جامع و مکمّل دستورِ حیات عطا کیا اور ہر ایسی چیز یا عمل سے انسان کو روکا جس سے انسان کے اخلاق و اعمال پر زد پڑے یا ابدی حیات کے لیے نقصان دہ ہوں، چناں چہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی نعمت کی نمائش سے منع فرمایا، ارشادِ نبوی ہے اَلْمُتَشَبِّعُ بِماَ لَمْ یُعِطْ کَلَابِسِ ثَوْبَیْ زُور (بخاری و مسلم) یعنی جو شخص اپنے اندر کسی ایسے دینی یا دنیاوی کمال و وصف کا اظہار کرے، جو درحقیقت اُس میں نہ ہو، تو وہ جھوٹ موٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے، یعنی ایسا شخص جو علماء اور صلحاء کا لباس زیب تن کرکے، اپنے آپ کو عالم و صالح ظاہر کریں حالاں کہ واقعہ کے اعتبار سے نہ تو وہ عالم ہے اور نہ صالح، یا ایسے کمال کے حصول کا اظہار کریں جو اس کے اندر نام و نشان کو بھی نہ تو وہ جھوٹ موٹ کے کپڑے پہنے والے کی طرح ہے، روایتِ بالا پر غور کریں کتنے جامع انداز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ ایمان کو ایسی نعمت کی تشہیر سے منع فرمایا جو اس کے پاس نہ ہو بعض اوقات انسان کسی پر رُعب جمانے یا اپنی ساخت بچانے یا شہرت و ناموری کے جذبہ کے تحت ایسی کامیابی یا ہنرمندی کا دعویدار ہوتا ہے جس پر بعد میں ذلّت و رُسوائی ہوتی ہے اس لیے پہلے ہی ایسے افعال و اعمال سے اجتناب کریں جو ذلت و رُسوائی کا باعث بنے، امام ترمذی رح نے اپنی سنن اس الفاظ کے ساتھ روایت کیا مَنْ تَحلّی بِماَ لَمْ یُعْطَهُ کَانَ کَلَابِسِ ثَوْبِیْ زُرْرٍ (ترمذی شریف) جو شخص مزین ہوا ایسی چیز کے ذریعہ جو وہ دیا نہیں گیا تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے، حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری رح نے اس روایت تشریح کر کے ایک لطیفہ : ذکر کیا کہ ایک شخص کی شادی کا وقت آیا اس کے پاس شیروانی نہیں تھی، اس کا ایک بے وقوف ساتھی تھا، اس سے شیروانی لی اور بارات چلی، راستہ میں کسی نے پوچھا دولہا کون ہے؟ وہ احمق صاحب کہتے ہیں کہ دولہا یہ ہے مگر شیروانی میری ہے، دولہا کو شرمندگی ہوئی، اس نے کہا اللہ کے بندے! یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس نے کہا اچھا آئندہ نہیں کہوں گا، پھر آگے کوئی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا کہ دولہا کون ہے؟ وہ بے وقوف صاحب کہتے ہیں کہ دولہا یہ ہے مگر میں شیروانی کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا (تحفة الالمعی جلد ٥ صفحہ ٣٦٧) غرض مراد یہ ہے کہ جب انسان کو کوئی ایسی نعمت حاصل نہیں ہوئی تو اس کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس طرح کے دعوی کا انجام رُسوائی کا باعث ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے