कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روشنی کی چادر (افسانہ)

از: محمد تقی (ناندیڑ)۔ 9325610858

افسانہ ”روشنی کی چادر“ کا پلاٹ آج سے تقریباً 85 سال قبل اترپردیش کے اہم شہر امروہہ میں پیش آئے ایک دردناک واقعہ سے اُٹھایا گیا ہے۔ ایک دن میں یوٹیوب پر مختلف ادبی ویڈیوز سرچ کر رہا تو میری نظر ایک آڈیو پر پڑی۔ یہ آڈیو ریڈیو پاکستان کی جانب سے upload کیا گیا تھا۔ آڈیو اُردو کے عالمی شہرت یافتہ جدید رُجحان کے شاعر جون ایلیا کے انٹرویو پر مبنی تھا۔ انٹرویو کا عنوان تھا ”جو مجھے یاد آیا“۔ انٹرویو میزبان محترمہ تاج بخت نے لیا تھا۔ جون ایلیا نے اپنی زندگی کے ناقابلِ فراموش واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب وہ امروہہ میں تھے (ملک کی تقسیم سے قبل) تو وہاں اُن کے رشتہ داروں میں ایک نوجوان حسین لڑکی عذرا تھی جس کی منگنی خاندان کے ہی ایک نوجوان مرتضیٰ سے ہوئی تھی۔ پھر چند ماہ بعد نکاح بھی ہوگیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد مرتضیٰ ایک حادثہ میں اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔ اس خبرِ غم کے چند دنوں بعد ہی عذرا بھی راہیِ مُلکِ عدم ہو جاتی ہے۔ افسانہ کا طرزِ بیان رومانی ہے جس میں ادبی جدید رُجحان کو ملحوظ رکھنے اور افسانہ کے کلاسیکی پن کو بحال رکھتے ہوئے اس میں جمالیاتی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
(محمد تقی)
وہ جاڑے کا موسم تھا، خنک ہوا کے جھونکے چل رہے تھے، موسم خزاں رخصت ہو رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی۔ صبح سویرے آسمان میں پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول کو مست و مدہوش کر دینے والی موسیقی بکھیر رہی تھی۔ بادِ نسیم کے جھونکے جب چلتے تو وادی کی پہاڑیوں پر بڑی شان بے نیازی سے کھڑے درخت جھومنے لگتے۔ صبح کا یہ خوبصورت دلفریب منظر آنکھوں میں اُتر کر دل بے قرار کو قرار دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں چاروں اور ایک عجیب و غریب دھوئیں کا غبار پھیلنے لگا تھا۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ یہ دھواں سارے قدرتی ماحول کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں کُہر کی سفید چادر تن چکی تھی۔ جس کو دھواں سمجھا جا رہا تھا، دراصل وہ کُہر کی چادر تھی جو کائنات کی ہر شئے درختوں، پودوں، ندیوں، جھرنوں، پھولوں، کلیوں، پتوں، عمارتوں، ہری بھری وادیوں پر بچھ چکی تھی۔ اسی کُہر کی چادر سے ایک پرچھائیں ابھرنے لگی۔ پرچھائیں کے جوتوں کی ٹاپوں کی چَر چَر آواز سائیں سائیں کرتے سنسان ماحول میں ایک انجانے خوف کا احساس دلا رہی تھی۔ صاف دکھائی دیتا تھا کہ پرچھائیں کسی خوب رُو، وجیہہ نوجوان کی تھی لیکن اُس کا چہرہ صاف طور پر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کچھ لمحوں بعد آہستہ آہستہ نوجوان کے چہرے کے دھندلے نقوش دکھائی دینے لگے۔ چہرے پر مایوسی اور اُداسی کی لکیریں واضح تھیں۔ ہاں یہ کوئی نوجوان ہی تھا جس کی بے چین روح سرسبز و شاداب وادیوں میں بھٹک رہی تھی۔ اور اپنے بچھڑے ہمسفر کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ پرچھائیں دور ہٹنے لگی۔ پھر دھیرے دھیرے دھندلی ہو کر نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ وہ وادی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گئی۔ یہ عجیب مگر حسین خواب کا منظر عذرا کی آنکھوں میں برف کی طرح جم کر رہ گیا تھا۔ عذرا ہڑبڑا کر اُٹھی۔ اُس نے دیوار گھڑی کی طرف دیکھا۔ گھڑی صبح کے 5 بجا رہی تھی۔ اُس نے وضو کیا اور فجر کی نماز پڑھنے مصلیٰ بچھایا۔ عذرا نے صبح اٹھنے کے بعد اپنا یہ خواب کسی سے شیئر نہیں کیا۔ البتہ وہ دن بھر گُم سُم، کھوئی کھوئی سی رہی۔
عذرا کون تھی؟۔۔۔ حُسن کی دیوی تھی۔ بہاروں کی ملکہ تھی۔ میر حسن کی مثنوی ”سحر البیان“ کی ہیروئن بدر منیر تھی۔ اختر شیرانی کی رومانی نظم ”جہاں ریحانہ رہتی تھی“ کی ریحانہ تھی۔ امتیاز علی تاج کے ڈرامے ”انارکلی“ کی انارکلی تھی۔ کچھ ہفتوں بعد پریوں کے دیس کی شہزادی عذرا کی زندگی میں ایک پُرمسرت لمحہ آیا۔ اُس کی منگنی اُس کے خاندان کے ایک نوجوان سے ہو گئی تھی۔ اُس کی زندگی میں بہاریں قدم رکھنے والی تھیں۔ وہ بہت خوش تھی۔ چند مہینوں بعد عذرا کی حویلی سے شہنائیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ عذرا اور مرتضیٰ کا نکاح ہونے جا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا حویلی کی ہر چیز پر بہار آئی ہے، ہر چیز خوشی سے جھوم رہی ہے۔ گھر میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ خوب گہما گہمی اور چہل پہل تھی۔ گھر کے آنگن میں آم کے درخت پر بیٹھی کوئل کوک رہی تھی اور ترانۂ نشاط گا رہی تھی۔ تقریبِ نکاح خوانی دوسرے دن صبح تھی۔ سارا ماحول کیف و نشاط کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اُدھر خوشی کے مارے عذرا کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ سہیلیاں عذرا کو چھیڑے جا رہی تھیں۔ طرح طرح کے سوال کر کے پریشان کئے جا رہی تھیں۔ عقد خوانی سے قبل عذرا نے نیا جھلملاتا ہوا سرخ لباس پہنا، جیسے کہ دُلہنیں ایسے موقعوں پر سرخ لباس پہنتی ہیں۔ ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں اور سونے کے کنگن پہنے۔ بالوں میں جوہی، چنبیلی، گلاب کے تازہ پھولوں کا گجرا لگایا۔ بہنوں اور سہیلیوں نے عذرا کے سر پر رنگ برنگے پھولوں کا سہرا باندھا۔ وہ چینی کی گڑیا لگ رہی تھی۔ سارے جہاں کا حُسن و جمال اُس کی شخصیت میں سمٹ آیا تھا۔ حُسن ایسا کہ کوہِ قاف کی پریاں بھی اُسے دیکھ لیں تو رشک کرنے لگیں۔ عذرا اور مرتضیٰ شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ دونوں طرف کے بزرگوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق عذرا کی رُخصتی نہیں ہوئی۔ رُخصتی کی تقریب چند ماہ بعد ہونا تھی۔
شب و روز گزر رہے تھے۔ زندگی اپنے دھرے پر چل رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ ایک دن عذرا اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی ترکاریاں توڑ رہی تھیں کہ اچانک اُس کے چچا میاں گھر میں داخل ہوئے۔ اُن کے چہرے پر بدحواسی کے بادل اُڑ رہے تھے۔ انھوں نے منحوس خبر سنائی کہ عذرا کا نکاح جس نوجوان مرتضیٰ سے ہوا تھا وہ ایک سڑک حادثے میں شدید زخمی ہو کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکا ہے۔ گھر کے افراد پریشان ہو کر حیرت زدہ نظروں سے ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ لیکن عذرا خاموش بُت بنی بیٹھی تھی۔ اُس پر اپنے شوہر کی ناگہانی موت کی خبر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔ حسرتوں، آرزوؤں اور اُمیدوں کا شیش محل ٹوٹ کر تنکوں کی طرح بکھر گیا تھا۔ اُس کا دل بجھ گیا تھا۔ جب دل بجھ جاتا ہے تو ہر شئے اُداس دکھائی دیتی ہے۔ خوشی کے ترانے ہوں یا شادمانی کے نغمے سب اُداس راگ لگتے ہیں۔ دل کی ویرانی کسی صورت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ جھومتی بہاریں ہوں یا لہراتی بادِ صبا، کسی سے دل نہیں بہلتا۔ خزاں کی آرزو انگڑائیاں لیتی ہیں۔ پت جھڑ کی آواز دلِ برباد کو بھلی لگتی ہے۔ ساون کے گیت سماعتوں پر بوجھ معلوم ہوتے ہیں۔ عذرا نے اپنے شوہر کے انتقال کی خبر غم پر اپنا کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اُس کی چشمِ غزالہ سے آنسو کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا۔ البتہ اُس کی آنکھوں میں اُداسی کے لال ڈورے تیرتے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی نے اچانک چپکے سے اُس کے دلِ ناشاد کی زمین پر کربلا لکھ دیا ہو۔ پھر عذرا اُٹھی اور کسی سے کچھ کہے بغیر زینے چڑھتے ہوئے گھر کی اوپری منزل کی طرف چل دی۔ وہ رات دن اوپری منزل پر اپنے کمرے میں رہنے لگی تھی۔ بات چیت کرنا بند کر دیا تھا۔ سہیلیوں سے بھی ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ تنہائی پسند ہو گئی تھی۔ گھر والے کھانا، پانی اور دیگر ضروریات کی اشیاء اوپر پہنچا دیا کرتے تھے۔ اسی طرح دن، ہفتے، مہینے گزر گئے، مگر عذرا نے اپنی چُپی نہیں توڑی۔ افرادِ خاندان کافی پریشان اور فکر مند تھے۔
وہ پوس کا مہینہ تھا۔ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ ایک دن عذرا پورے آستین کا گلابی سویٹر پہنے سر پر سفید اوڑھنی اوڑھے اوپری منزل سے نیچے اُتر رہی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں سوٹ کیس تھا جس میں وہ اپنے کپڑے، زیورات وغیرہ رکھا کرتی تھی۔ وہ نیچے صحن میں آئی۔ چہرہ کسی قدر کھلا ہوا تھا، صحن میں بیٹھے لوگ جن میں مرد و خواتین تھے، سب تعجب سے اُسے دیکھنے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا آج سورج مغرب سے نکلا ہے اور مشرق میں ڈوب جائے گا۔ عذرا کے برتاؤ میں یہ نمایاں تبدیلی دیکھ کر سب دنگ تھے۔ پھر وہ بازو والے ایک خالی کمرے میں سوٹ کیس لے کر چلی گئی۔ جب وہ کمرے سے نکلی تو سرخ رنگ کا لباس پہنی ہوئی تھی۔ یہ وہی لاجواب قیمتی جوڑا تھا جسے عذرا نے اپنی شادی کے دن پہنا تھا۔ اُس دن وہ کتنی خوش اور پُرسکون دکھائی دے رہی تھی۔ آج بھی اُس نے سرخ چوڑیاں پہنی تھیں۔ گلے میں انتہائی نفیس و نازک نیکلیس ڈال رکھا تھا۔ ہونٹوں پر ہلکے گلابی رنگ کی لپ اسٹک پھیر رکھی تھی۔
پھر عذرا شرماتے ہوئے یکا یک گویا ہوئی ”وہ آئے تھے۔ وہ پھر آنے والے ہیں اور مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔“
وہاں سب ایک دوسرے کو حیرت سے تکنے لگے، جیسے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ عذرا کی بڑی بہن شائستہ، عذرا کے ہاتھ کو پکڑ کر بازو والے کمرے میں لے گئیں اور پوچھا ”وہ کون تھے جو تمھیں اپنے ساتھ لے جائیں گے؟“
عذرا بلا جھجک بولیں ”وہ میرے شوہر مرتضیٰ تھے، وہ کل رات میرے خواب میں آئے تھے، وہ اپنی شادی کا جوڑا پہنے ہوئے سفید گھوڑے پر سوار تھے۔“ اتنا کہہ کر وہ شرمائی اور بل کھاتی ہوئی زینے چڑھتے ہوئے اوپری منزل کی طرف چل دی۔ چند گھنٹے گزر گئے لیکن عذرا کی کوئی آہٹ سنائی نہیں دی۔ اُس کی والدہ اور بہنوں کو تشویش ہونے لگی۔ مزید چند گھنٹے گزر گئے تو عذرا کی والدہ اور بہنیں اوپری منزل کے کمرے کے اندر پہنچیں جہاں عذرا رہتی تھی۔ عذرا اپنی مسہری پر لیٹی ہوئی تھی۔ اُس کی آنکھیں نیم وا تھیں۔
ماں نے عذرا کو آواز دی ”عذرا بیٹا! اُٹھو شام ہو گئی ہے۔“ کوئی جواب نہیں آیا۔
ماں نے دوبارہ آواز دی۔ ”عذرا بیٹا! اُٹھو شام ہو گئی ہے، شام کے وقت سویا نہیں کرتے۔“ پھر کوئی جواب نہیں آیا۔
ماں نے اپنی لختِ جگر کے کندھے کو ہاتھ لگا کر اُٹھانا چاہا تو عذرا کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔ آنکھیں بے نور تھیں۔ چہرہ کسی قدر زرد پڑ گیا تھا۔ ہاتھ پیر سرد ہو چکے تھے۔ نبض جم گئی تھی۔ سانسیں رُک گئی تھیں۔ اُس کی زندگی کا چراغ بُجھ گیا تھا۔ پھر چند منٹوں بعد کمرے میں دھواں سا چھانے لگا۔ یہ دیکھ کر سب محوِ حیرت تھے۔ سفید دھوئیں کا بادل کمرے میں جمع ہو گیا تھا۔ دھوئیں کا بادل چھٹا تو ایک پُراسرار سفید روشنی کی چادر لہراتی ہوئی دروازے سے کمرے کے اندر داخل ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ سب کی نظر عذرا کے بے حس جسم سے ہٹ کر روشنی کی چادر پر مرکوز ہو چکی تھیں۔ چند ہی لمحوں میں روشنی کی یہ چادر عذرا کے بے جان جسم پر تن گئی! یہ ایک حیران کن کرشمہ ہی تھا جسے کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا، نہ اس بارے میں سُنا تھا۔ پھر ایک ڈیڑھ منٹ میں روشنی دھندلی ہوتی ہوئی اُسی دروازے سے کمرے سے باہر نکل گئی جس دروازے سے وہ داخل ہوئی تھی۔ اور فضاء میں تحلیل ہو گئی۔ پورا گھر رونے اور آہیں بھرنے کی آوازوں سے دہل اُٹھا تھا۔ گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی تھی۔ شام کا سُرمئی اندھیرا رفتہ رفتہ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ آسمان میں پرندے قلابازیاں کھاتے ہوئے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ اور قریب کی مسجد سے مغرب کی نماز کی اذان کی آواز سُنائی دے رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Mohammad Taqui
Editor in chief, Waraqu-e-Taza,
Urdu Daily.
Badi Dargah, Gadipura, Nanded-431604
E-mail : waraquetazadaily@yahoo.co.in

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے