कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو بیت بازی: طلبہ میں ذوقِ ادب اور حسنِ بیان پیدا کرنے کی ایک خوب صورت کوشش

تحریر:انوار ندوی قاسمی

الحمدللہ! آج مدرسہ نور الإسلام، کنڈہ، پرتاپ گڑھ میں اردو بیت بازی کا ایک نہایت خوب صورت علمی ادبی اور تربیتی مقابلہ منعقد ہوا جس میں مختلف درجات کے طلبہ نے بڑے شوق جوش اور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ طلبہ نے مختلف شعرائے کرام کے منتخب اشعار نہایت عمدہ انداز میں پیش کیے اور اپنی ادبی صلاحیت یادداشت حاضر جوابی اور حسن بیان کا بہترین مظاہرہ کیا۔
اس مقابلے میں چار ٹیمیں شامل تھیں۔ ایک ٹیم کو علامہ محمد اقبال کے نام سے موسوم کیا گیا، دوسری ٹیم مولانا الطاف حسین حالی کے نام سے منسوب تھی، تیسری ٹیم مرزا اسد اللہ خان غالب کے نام سے اور چوتھی ٹیم اکبر الہ آبادی کے نام سے موسوم تھی۔ ان چاروں ٹیموں کے درمیان نہایت دلچسپ اور شاندار مقابلہ ہوا۔ مختلف درجات کے طلبہ نے اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کی۔
شعر و ادب کی اہمیت:
شعر و شاعری محض الفاظ کو موزوں انداز میں پیش کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ زبان و بیان کی اصلاح فکر کی تربیت اور احساسات کی ترجمانی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک اچھا شعر مختصر الفاظ میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے کبھی پوری تحریر بھی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔
شاعری کے ذریعے انسان اپنے جذبات احساسات اور خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ معاشرتی اخلاقی تعلیمی اور ملی مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی شعر و ادب نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو کے بڑے شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے قوم کو بیداری خودی محنت اخلاق علم اتحاد اور اصلاح کا پیغام دیا ہے۔
ہمارے شعری ورثے میں ایسے بے شمار اشعار موجود ہیں جن میں دینی و اخلاقی تعلیم حکمت و دانائی انسانی کردار کی اصلاح حوصلہ افزائی اور زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق قیمتی اسباق ملتے ہیں۔ اس لیے شعر کو صرف تفریح یا مقابلے کی چیز سمجھنا درست نہیں اگر مناسب انتخاب اور صحیح رہنمائی کے ساتھ اسے طلبہ کی تربیت کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ ان کی شخصیت سازی میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
اردو زبان کی ترقی اور ترویج میں بھی شعراء کا نمایاں کردار رہا ہے۔ علامہ اقبال مرزا غالب میر تقی میر اکبر الہ آبادی فیض احمد فیض اور دیگر بے شمار شعراء نے اردو اور فارسی شاعری کے ذریعے اپنے عہد کے مسائل انسانی جذبات قومی و ملی احساسات اور اصلاحی افکار کو عام کیا۔ ان کے کلام نے لوگوں کو سوچنے بیدار ہونے اور اپنے حالات پر غور کرنے کی دعوت دی۔
مدارس میں بیت بازی کی ضرورت:
مدارس میں بیت بازی جیسے پروگراموں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان کے ذریعے طلبہ کو زبان و ادب سے قریب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ طلبہ جب اچھے اشعار یاد کرتے اور انہیں مجمع کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ان کی یادداشت مضبوط ہوتی ہے تلفظ بہتر ہوتا ہے زبان میں روانی پیدا ہوتی ہے اور گفتگو کا سلیقہ آتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کے اندر اعتماد حاضر جوابی باہمی تعاون مقابلے کا حوصلہ اور اسٹیج پر اظہارِ خیال کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ وہ مختلف شعراء کے کلام سے واقف ہوتے ہیں اور اردو زبان کے اسلوب محاورے اور ادبی ذوق سے آشنا ہوتے ہیں۔
آج کے مقابلے کی ایک دلچسپ بات:
آج کے مقابلے کی ایک دلچسپ اور قابلِ ذکر بات یہ بھی رہی کہ چاروں ٹیموں کے درمیان مقابلے کے بعد بالآخر علامہ اقبال اور مرزا غالب کے نام سے موسوم دو ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔
فائنل کے موقع پر تین محترم حکم حضرات اپنے ہاتھوں میں قلم لیے ہوئے اشعار سنتے اور نمبرات درج کرتے رہے۔ دونوں ٹیموں کے طلبہ نے نہایت عمدگی، اعتماد اور شوق کے ساتھ اپنے اپنے اشعار پیش کیے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دونوں ٹیموں کے حاصل کردہ نمبرات برابر رہے۔ اس طرح فائنل کا یہ نتیجہ بھی اپنے اندر ایک خوب صورت اتفاق لیے ہوئے تھا کہ دونوں ٹیمیں برابر رہیں۔
عزیز طلبہ کے نام چند کلمات:
میرے عزیز طلبہ!
زبان سیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے سنا جائے بولا جائے پڑھا جائے اور یاد کیا جائے۔ شعر و ادب اس سلسلے میں ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے اپنی زبان کو بہتر بنانے اپنے اسلوب کو نکھارنے اور اپنی گفتگو میں حسن پیدا کرنے کے لیے اردو کے اچھے ادب کا مطالعہ ضرور کریں۔
آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد! اللہ تعالیٰ آپ کے علم عمل اخلاق زبان اور قلم میں برکت عطا فرمائے آپ کے اندر ادب و سخن کا ذوق پیدا فرمائے آپ کو علم و حکمت کا پیکر بنائے اور مستقبل میں دین و ملت اور ملک و معاشرے کی خدمت کے قابل بنائے۔
اساتذہ اور منتظمین کی خدمت میں ہدیہ تشکر:
آخر میں اس خوب صورت پروگرام کے انعقاد پر مدرسے کے تمام ذمہ داران محترم اساتذہ اور بالخصوص ان حضرات کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے طلبہ کی تیاری رہنمائی اور اس مقابلے کے انتظام میں محنت کی۔
ایسے پروگرام طلبہ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لاتے ہیں اور انہیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی علمی و ادبی استعداد کا عملی مظاہرہ کریں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے علمی ادبی تقریری اور تربیتی پروگرام مسلسل منعقد ہوتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ تمام اساتذہ کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو شرفِ قبول بخشے ہمارے طلبہ کو علم و ادب کا سچا ذوق عطا فرمائے اور انہیں دین زبان ادب اور انسانیت کی خدمت کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے