कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شفافیت کی کسوٹی پر بھارتی الیکشن کمیشن: گیانیش کمار کے سامنے جواب طلب سوالات

(چودہ خفیہ نوٹس اور ایک آئینی ادارہ: کیا بھارتی الیکشن کمیشن واقعی آزاد ہے؟)

ازقلم: اسماء جبین فلک

بھارت میں الیکشن کمیشن کے گرد پیدا ہونے والا تازہ بحران اب محض حزبِ اختلاف کے الزامات اور حکومت کی تردید تک محدود روایتی سیاسی جھگڑا نہیں رہا۔ 23 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اس بحث کا رخ خود کمیشن کی چاردیواری کے اندر موڑ دیا ہے۔ انگریزی روزنامے "دی انڈین ایکسپریس” کے مطابق تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری طور پر ایسے فیصلوں اور انتظامی اقدامات پر اعتراض درج کرایا جن کے متعلق ان کا مؤقف تھا کہ وہ ان کے علم یا منظوری کے بغیر آگے بڑھائے گئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کمیشن نے اپنے ابتدائی تفصیلی ردعمل میں ان 14 نوٹسوں کے وجود، ان کی تاریخوں یا مندرجات کی تردید نہیں کی، بلکہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل کے دوران سامنے آنے والی "تجاویز” اور اختلافی آرا قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔
یہیں سے وہ بنیادی سوال جنم لیتا ہے جسے سیاسی ہنگامہ آرائی میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ تمام کارروائی معمول کی ادارہ جاتی مشاورت پر مبنی تھی تو دو حاضر سروس الیکشن کمشنروں کو بار بار تحریری اعتراضات قلم بند کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر تمام اہم فیصلے واقعی متفقہ تھے تو ان اعتراضات سے لے کر حتمی اتفاقِ رائے تک پہنچنے کا مکمل دفتری ریکارڈ کہاں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کمیشن اپنے دفاع میں حتمی فیصلوں کو متفقہ تو قرار دیتا ہے، لیکن "دی انڈین ایکسپریس” کے مطابق اس امر کی وضاحت نہیں کرتا کہ فارم 6 میں رد و بدل کس نے کیا، مغربی بنگال سے متعلق بعض اپیلیں کس کے اختیار سے دائر ہوئیں اور مئی سے اگست کے درمیان مکمل کمیشن کا اجلاس کیوں منعقد نہ ہو سکا۔
یہ سوالات اس لیے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کہ الیکشن کمیشن کسی وزارت کا ماتحت محکمہ نہیں بلکہ ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے، اور چیف الیکشن کمشنر اس تین رکنی ادارے کا تنِ تنہا فیصلہ ساز نہیں ہوتا۔ "ٹی این سیشن بنام یونین آف انڈیا” مقدمے میں عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) بہت پہلے یہ نکتہ واضح کر چکی ہے کہ کثیر رکنی کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کو ایسی مطلق بالادستی حاصل نہیں کہ دیگر کمشنر محض علامتی یا رسمی وجود بن کر رہ جائیں۔ موجودہ قانونی ڈھانچہ بھی اختلاف کی صورت میں اجتماعی فیصلہ سازی اور اکثریتی رائے کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ گیانیش کمار کی رائے درست تھی یا ان کے رفقائے کار کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جن امور میں قانونی طور پر پورے کمیشن کی اجتماعی سند و توثیق درکار تھی، کیا ان میں ہر مرحلے پر یہی مقررہ ضابطہ اختیار کیا گیا؟
اس تنازع کو گیانیش کمار کی تقرری کے پس منظر سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔ وہ 19 فروری 2025 کو بھارت کے 26ویں چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے اور سال 2023 کے نئے قانون کے تحت عہدہ سنبھالنے والے پہلے چیف الیکشن کمشنر ہیں۔ اس نئے قانون کے ذریعے الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے لیے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں سے چیف جسٹس آف انڈیا کو الگ کر کے ان کی جگہ وزیرِ اعظم کے نامزد کردہ ایک مرکزی کابینی وزیر کو شامل کر دیا گیا۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلیکشن کمیٹی میں وزیرِ اعظم اور ان کا نامزد کردہ وزیر ایک پلڑے میں اور قائدِ حزبِ اختلاف تنہا دوسرے پلڑے میں رہ گئے۔ بالفاظِ دیگر، حکومت کو تین رکنی سلیکشن کمیٹی میں دو ارکان کی عددی برتری حاصل ہو گئی۔
یہ تبدیلی اب محض سیاسی حلقوں کی تنقید تک محدود نہیں رہی بلکہ عدالتِ عظمیٰ کے روبرو ایک سنگین آئینی سوال کی صورت میں زیرِ سماعت ہے۔ 23 ستمبر کو جسٹس دیپانکر دتا نے اس انتظام پر نہایت بنیادی اعتراض وارد کیا۔ ان کا استفسار تھا کہ کابینہ کی اجتماعی ذمے داری کا پابند ایک وزیر عملاً اسی وزیرِ اعظم کے فیصلے سے کس حد تک اختلاف کر سکتا ہے جس نے خود اسے کمیٹی کے لیے نامزد کیا ہو؟ ان کے مطابق ایسی صورت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار بڑی حد تک محض آرائشی بن کر رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس زریں اصول کا اعادہ بھی کیا کہ الیکشن کمیشن کا صرف غیر جانب دار ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کا عوامی نگاہ میں غیر جانب دار نظر آنا بھی ناگزیر ہے۔ درخواست گزاروں کا یہ استدلال کہ موجودہ قانون انتظامیہ کو تقرری کے عمل پر غیر معمولی اثر و رسوخ بخشتا ہے، جسٹس دتا کے نزدیک بادی النظر میں خاصا وزنی ہے۔ جسٹس ستیش چندر شرما نے بھی اس قضیے میں اہم آئینی نکات پاتے ہوئے لارجر بنچ (بڑی بنچ) کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور یہ مقدمہ اب چیف جسٹس کے روبرو ایک بااختیار بڑی بنچ کی تشکیل کے لیے پیش ہے۔ چنانچہ یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا کہ 2023 کا قانون کالعدم یا غیر آئینی قرار پا چکا ہے، کیونکہ وہ فی الوقت نافذ العمل ہے؛ تاہم اس قانون سے پیدا شدہ ادارہ جاتی سوال کو محض حزبِ اختلاف کا سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر رد کرنا بھی ممکن نہیں، کیوں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اس کی آئینی حیثیت باقاعدہ طور پر زیرِ بحث ہے۔
اس موڑ پر بی جے پی کا حالیہ دفاع بھی توجہ طلب ہے۔ پارٹی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے 23 ستمبر کو دعویٰ کیا کہ الیکشن کمشنروں کے مابین اختلافِ رائے دراصل "متحرک جمہوریت” کا زندہ ثبوت ہے اور بالآخر ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) باہمی اتفاقِ رائے ہی سے انجام پائی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حزبِ اختلاف پر آئینی اداروں کو بدنام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
اصولی اعتبار سے بی جے پی کے پہلے نکتے میں خاصا وزن پایا جاتا ہے۔ تین رکنی کمیشن کے ارکان کا آپس میں اختلاف کرنا بذاتِ خود کسی سازش، دھاندلی یا ادارے پر غاصبانہ قبضے کا ثبوت ہرگز نہیں ہوتا۔ ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے اندر آزادانہ اختلافِ رائے ایک فطری اور صحت مند عمل ہے۔ لیکن یہی نکتہ ایک اور دشوار گزار سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر اختلاف رائے جمہوریت کی مثبت علامت ہے، تو پھر اس اختلاف کا مکمل دفتری ریکارڈ منظرِ عام پر لانے میں کیا امر مانع ہے؟ اور اگر وہ 14 تحریری نوٹس معمول کی انتظامی مشاورت کا حصہ تھے، تو ان میں اٹھائے گئے ہر بنیادی، قانونی اور انتظامی نکتے کا جواب بھی اتنی ہی جامعیت اور شفافیت سے دیا جا سکتا ہے۔ "بالآخر اتفاق ہو گیا تھا” کا سادہ مؤقف اس سوال کا مکمل جواب نہیں بن سکتا کہ اس اتفاق سے پہلے کے مراحل میں کیا کچھ گزرا۔
خود الیکشن کمیشن کا مؤقف بھی اسی بنیاد پر گہری جانچ پڑتال کا متقاضی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ تحریری نوٹس، مشاہدات اور تکنیکی نوعیت کی تجاویز اس کے داخلی احتسابی نظام (Checks and Balances) کا حصہ ہیں، جن کا مقصد قانونی تقاضوں کی پاسداری اور ووٹروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ اختلافی آرا فیصلہ سازی کا لازمی جزو ہیں اور تمام سرکاری احکامات قانونی ضوابط کے عین مطابق جاری کیے گئے۔ اگر یہ امر حقیقت پر مبنی ہے تو یہ وضاحت کمیشن کے حق میں ایک مضبوط دفاع ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر اس دفاع کی مکمل صداقت جانچنے کے لیے ان 14 نوٹسوں، ان پر دیے گئے باضابطہ جوابات اور متعلقہ فیصلوں کی دفتری منظوری کے تمام مراحل کی تفاصیل سامنے آنا ازبس ضروری ہیں۔ ادارہ جاتی شفافیت کا مطلب اختلاف کا سرے سے نہ ہونا نہیں، بلکہ اختلاف کو حل کرنے کے طریقۂ کار کا قابلِ فہم اور قابلِ جانچ ہونا ہے۔
یہ معاملہ اس اعتبار سے بھی انتہائی حساس نوعیت کا ہے کہ یہ اعتراضات محض سطحی دفتری امور سے متعلق نہیں تھے۔ "دی انڈین ایکسپریس” کی تحقیقات کے مطابق ان کا براہِ راست تعلق انتخابی فہرستوں میں نئے نام درج کرنے، خارج شدہ نام بحال کرنے، فارم 6 کے اجرا، اپیلوں اور ووٹر ڈیٹا کے مرکزی تکنیکی اختیارات جیسے کلیدی معاملات سے تھا۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بعض مواقع پر دونوں کمشنروں نے ان اقدامات کے قانونی اور ادارہ جاتی اختیار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا چیف الیکشن کمشنر کے مقابلے میں عام ووٹر کی حیثیت سب سے اہم ہو جاتی ہے؛ کیونکہ انتخابی فہرست میں نام کا درج ہونا جمہوری عمل میں حصہ لینے کی اولین عملی شرط ہے۔
البتہ یہاں ایک اور زمینی حقیقت کو بھی پوری غیر جانبداری اور دیانت داری سے سامنے رکھنا ہوگا۔ ایس آئی آر (خصوصی جامع نظرثانی) کو بذاتِ خود غیر قانونی قرار دینا ہرگز قرینِ انصاف نہیں ہوگا۔ 27 مئی 2026 کو عدالتِ عظمیٰ نے "ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا” کے مقدمے میں بہار کی خصوصی جامع نظرثانی کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے قرار دیا کہ یہ مشق عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 21(3) اور آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت تفویض کردہ اختیارات کے عین مطابق تھی؛ اس کا مقصد جائز تھا اور طے شدہ حفاظتی تدابیر کے پیشِ نظر یہ اقدام متناسب تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق یکم اگست 2025 کے مسودے تک تقریباً 65 لاکھ سابقہ درج شدہ ووٹر اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے؛ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران کمیشن کو یہ واضح ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ خارج کیے گئے ووٹروں کی فہرست وجوہات کے ساتھ شائع کرے اور دیگر ضروری حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرے۔
عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک واضح حد بندی متعین کرتا ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا اختیار بلا شبہ قانونی ہے، مگر اس سے یہ خودکار نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اس عمل کے دوران لیا جانے والا ہر انفرادی انتظامی فیصلہ بھی لازماً درست تھا۔ کسی ادارے کے پاس کسی اقدام کا بنیادی قانونی اختیار ہونا ایک بات ہے، اور اس اختیار کو ہر انفرادی مرحلے پر قانون، قواعد اور اجتماعی مشاورت کے مسلمہ اصولوں کے تحت استعمال کرنا بالکل دوسری بات۔ زیرِ بحث تنازع پہلی بات سے کہیں زیادہ اس دوسری بات سے جڑا ہوا ہے۔
گیانیش کمار کے ضمن میں ایک اور پہلو بھی سنجیدہ توجہ چاہتا ہے۔ "دی انڈین ایکسپریس” نے ان کے دفتری کیریئر کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ مودی حکومت کے دوران کئی کلیدی ذمے داریوں پر فائز رہے اور ان کے موجودہ عہد میں ایس آئی آر کے معاملے پر مسلسل سیاسی تنازعات کھڑے ہوتے رہے۔ اس رپورٹ میں ان کے بارے میں سابق رفقائے کار اور دیگر مقتدر ذرائع کے تاثرات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم ماضی میں حکومت کے ساتھ اہم عہدوں پر فائز رہنا بذاتِ خود جانبداری کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی بھی آئینی عہدیدار کی غیر جانبداری کا فیصلہ اس کے ماضی کے عہدوں یا سیاسی حریفوں کے تاثرات سے نہیں، بلکہ موجودہ منصب پر اس کے صادر کردہ فیصلوں، اختیار کردہ قانونی طریقۂ کار اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اسی اصول کے تحت گیانیش کمار کی کارکردگی کا احتساب کرنا سنجیدہ اور باوقار صحافت کا تقاضا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ راہول گاندھی سمیت حزبِ اختلاف کے دیگر قائدین کے حالیہ بیانات کو بھی عدالتی یا دستاویزی ثبوت کا بدل تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ 24 ستمبر کو راہول گاندھی نے گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی نظام، بی جے پی اور مرکزی حکومت پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے۔ مگر کسی سیاسی رہنما کا زبانی الزام، خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قانونی اعتبار سے خودکار ثبوت نہیں بن جاتا۔ اسی طرح بی جے پی کا یہ دعویٰ کہ حزبِ اختلاف انتخابی شکست کی بوکھلاہٹ میں آئینی اداروں پر کیچڑ اچھال رہی ہے، ان 14 تحریری اور باضابطہ اعتراضات کا تسلی بخش جواب فراہم نہیں کرتا۔ دونوں سیاسی بیانیوں سے قطع نظر، اس وقت ایک ایسا دستاویزی خلا موجود ہے جسے پُر کرنا خالصتاً الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے۔
درحقیقت اس پورے قضیے کا سب سے تشویش ناک پہلو کوئی سنسنی خیز سیاسی الزام نہیں، بلکہ تین اہم واقعات کا ایک ہی وقت میں یکجا ہو جانا ہے: اول، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا ایسا قانون جس کے تحت سلیکشن کمیٹی میں حکومت کو واضح عددی برتری حاصل ہے؛ دوم، اسی قانون کی آئینی حیثیت پر عدالتِ عظمیٰ کے روبرو اٹھائے جانے والے سنگین سوالات؛ اور سوم، اسی قانون کے تحت مقرر ہونے والے چیف الیکشن کمشنر کے دور میں کمیشن کے بقیہ دونوں ارکان کی جانب سے کم از کم 14 تحریری اعتراضات کا باضابطہ ریکارڈ۔ ان تینوں حقائق کو فوری طور پر جوڑ کر سیاسی سازش کا حتمی نتیجہ اخذ کر لینا دستیاب شواہد سے آگے بڑھنے کے مترادف ہوگا، لیکن ان تینوں کو باہم غیر متعلق سمجھ کر نظر انداز کر دینا بھی کسی طور دیانت دارانہ صحافت نہیں کہلا سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت بحث کا رخ کسی سیاسی نعرے بازی کے بجائے چند بنیادی اور دو ٹوک سوالات کی طرف ہونا چاہیے۔ ان 14 دفتری نوٹسوں میں دراصل کیا اعتراضات اٹھائے گئے تھے؟ ان میں سے ہر ایک اعتراض پر چیف الیکشن کمشنر یا کمیشن کے سیکریٹریٹ نے باضابطہ کیا جواب دیا؟ فارم 6 میں رد و بدل کی حتمی منظوری کس نے اور کس قانونی اختیار کے تحت دی؟ جن اقدامات پر رفیق کمشنروں نے عدمِ آگاہی یا عدمِ منظوری کے اعتراضات کیے، ان کے اجرا کے احکامات کس سطح سے جاری ہوئے؟ ووٹر ڈیٹا کے مرکزی نظام پر عملی و تکنیکی کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور اگر تمام فیصلے بالآخر متفقہ طور پر ہی طے پائے تھے، تو اعتراض سے لے کر حتمی اتفاق تک پہنچنے کی مکمل فائل عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کر دی جاتی، جہاں تک قانون اور رازداری کے ضوابط اس کی اجازت دیتے ہوں؟
یہ سوالات گیانیش کمار کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہیں اور اس حکومت کے لیے بھی جس نے 2023 میں الیکشن کمشنروں کے انتخاب کا یہ موجودہ نظام وضع کیا۔ بی جے پی یہ دلیل پیش کر سکتی ہے کہ باہمی اختلاف ادارے کی داخلی آزادی کی دلیل ہے؛ الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ حتمی فیصلے متفقہ تھے؛ اور حزبِ اختلاف ان تمام شواہد کو انتخابی ہیرا پھیری کے الزامات سے جوڑ سکتی ہے۔ مگر ان تمام تر سیاسی اور ادارہ جاتی بیانیوں کے مقابلے میں اصل فیصلہ کن حیثیت ناقابلِ تردید سرکاری دستاویزات ہی کی ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے وقار اور ساکھ کا دفاع زبانی پریس کانفرنسوں کے مقابلے میں سرکاری فائلیں زیادہ مضبوطی سے کر سکتی ہیں۔ اگر وہ 14 اعتراضات محض روٹین کی مشاورت پر مبنی تھے تو ان کا دستاویزی ریکارڈ اس وضاحت کو تقویت بخشے گا۔ اگر تمام متنازع اقدامات پورے کمیشن کی باضابطہ منظوری سے کیے گئے تھے تو منظوری کی وہ دفتری فائلیں تمام شکوک و شبہات کو ختم کر سکتی ہیں۔ اور اگر کہیں واقعی طے شدہ اجتماعی طریقۂ کار سے انحراف کیا گیا ہے تو اس کی حقیقت سے باخبر ہونا ملک کے ہر شہری کا مسلمہ جمہوری حق ہے۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ بی جے پی یا حزبِ اختلاف میں سے کس کا بیانیہ زیادہ بلند آہنگ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام ووٹر کس بیانیے کو ٹھوس دستاویزی شواہد کی کسوٹی پر پرکھ سکتا ہے۔ کسی بھی آئینی ادارے کے لیے محض اپنی آزادی کا زبانی دعویٰ کر دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی خود مختاری کا عملی طریقۂ کار عوام کی نگاہ میں واضح اور شفاف ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس دیپانکر دتا نے اسی بنیادی آئینی اصول کو نہایت فصیح اور سادہ پیرائے میں سمیٹ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا صرف آزاد ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کا آزاد نظر آنا بھی ناگزیر ہے۔
گیانیش کمار اور بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس اب شاید سب سے مؤثر راستہ یہ ہے کہ وہ سیاسی مخالفین سے الجھنے کے بجائے اصل دفتری ریکارڈ کو بولنے دیں۔ جمہوریت میں انتخابی ادارے سے صرف یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ منصفانہ فیصلے کرے، بلکہ اس سے یہ امید بھی وابستہ ہوتی ہے کہ جب کبھی اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھیں تو وہ ایسا شفاف اور قابلِ جانچ ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کر سکے جس کے بعد شہری کو کسی حکومت، سیاسی جماعت یا اخباری دعوے پر اندھا اعتماد کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ موجودہ بحران کا اصل امتحان یہی ہے کہ کیا الیکشن کمیشن اپنے فیصلوں کی مکمل شفافیت کے ذریعے ان سوالات کا تسلی بخش ازالہ کر سکتا ہے جو اب اس کے اپنے دو کمشنروں کے تحریری اعتراضات سے پیدا ہو چکے ہیں؟

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے