कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک نظم جو اسکول کی بنیاد بن گئی

تحریر:فضیل اختر قاسمی ابن عرفان احمد بھیرہ ضلع مئو یوپی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

تاریخ کے بڑے واقعات ہمیشہ بڑے ایوانوں میں جنم نہیں لیتے۔ کبھی کسی گاؤں کی خاموش بستی میں، کسی بزرگ شاعر کے دل سے نکلنے والا ایک شعر بھی ایسا اثر چھوڑ جاتا ہے کہ اس کی بازگشت برسوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔ کبھی ایک لفظ کسی دل میں اتر کر ارادے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، پھر وہ ارادہ ایک عمارت کا سنگِ بنیاد بن جاتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے علم کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ بھیرہ کی تاریخ میں "سر شاہ سلیمان جونیئر ہائی اسکول، گولا بازار” کا قیام بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے؛ ایک استقبالیہ نظم کہی گئی، ایک شعر نے توجہ کھینچی، ایک وعدہ ہوا اور چند ہی عرصے بعد اس وعدے نے ایک تعلیمی ادارے کی شکل اختیار کرلی۔
یہ قصہ ۲۰۰۳ء کے آخری ایام کا ہے۔ پنچانن رائے کسی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے مادرِ علمی بی آر کے انٹر کالج، ولید پور تشریف لائے۔ وہ حکومتِ اتر پردیش میں ثانوی تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے اور کانگریس پارٹی کی طرف سے رکنِ قانون ساز کونسل بھی منتخب ہوئے۔ اس موقع پر بھیرہ کے بزرگ شاعر الحاج "بشیر احمد بشیر” نے مہمانِ خصوصی کے اعزاز میں ایک نظم پیش کی۔
استقبالیہ کے رسمی اشعار کے درمیان شاعر نے اپنے گاؤں کی ایک ایسی ضرورت کو شعر کا موضوع بنا دیا جس کا تعلق آنے والی نسلوں سے تھا۔ نظم میں سر شاہ سلیمان کا ذکر آیا۔ بھیرہ کے لیے یہ نام کسی تعارف کا محتاج نہ تھا؛ ایک ایسی علمی و عدالتی شخصیت، جس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے عہدہ سے لے کر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی چیف جسٹس اور وفاقی عدالتِ ہند کے منصب تک اپنی قابلیت کے نقوش ثبت کیے تھے۔ شاعر کے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر گاؤں میں ان کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم ہوجائے تو نئی نسل اپنے اس عظیم فرزند کو بھی یاد رکھے گی اور اس کے نام کے ساتھ علم کی ایک شمع بھی روشن رہے گی۔
چنانچہ شاعر نے اپنی بات کو نثر کے خشک مطالبے کے بجائے شعر کی لطافت میں پیش کیا۔ نظم کا وہ شعر جس نے اس پوری داستان کا رخ بدل دیا، آج بھیرہ کی تاریخ کا ایک یادگار حصہ بن چکا ہے:
"بھیرا میں جونیئر ہائی اسکول اگر ہو جاتا
چیف جسٹس سر سلیمان کا نام امر ہو جاتا
کام یہ ہو جائے گا فوراً، آپ جو کر دیں اشارا
ہے سواگت آج تمہارا، ہے سواگت آج تمہارا”
یہ ایک گاؤں کی تعلیمی ضرورت، اپنے بزرگ کی یاد اور ایک صاحبِ اختیار شخص سے امید، سب ایک مختصر شعری پیرائے میں سمٹ آئے تھے۔ شاعر نے درخواست بھی کی اور اندازِ سخن ایسا رکھا کہ درخواست میں اپنائیت بھی رہی اور اثر بھی۔
نظم مکمل ہوئی تو اس کا اثر مہمانِ خصوصی کے دل پر گہرا ہوا۔ مجلس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بھیرہ میں جونیئر ہائی اسکول کے قیام کے لیے اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے۔ محفل ختم ہوئی، لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے، مگر شاعر کی آواز اور اس میں پوشیدہ مطالبہ وہیں ختم نہ ہوا۔ یہ آواز لکھنو تک پہنچی۔ لکھنو پہنچنے کے بعد پنچانن رائے نے اسکول کے قیام کے سلسلے میں فائل تیار کرائی اور وزیرِ تعلیم کے سامنے پیش کرکے کارروائی کی درخواست کی۔ یوں ایک محفل میں کہی گئی نظم کاغذی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ جو بات چند اشعار پہلے ایک خواہش تھی، اب سرکاری فائل کا حصہ بن چکی تھی۔
بالآخر 16 دسمبر 2004ء، بمطابق 3 ذی القعدہ 1425ھ، بروز بدھ وہ دن آیا جب گولا بازار، بھیرہ میں مسجد سے اترپورب کی جانب پوکھری کے قریب واقع سرکاری زمین پر سر شاہ سلیمان جونیئر ہائی اسکول کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ یوں شاعر کے شعر میں اٹھنے والی آواز نے زمین پر ایک نئی بنیاد کی صورت اختیار کرلی۔
اس عمارت کی تکمیل میں تقریباً دو برس کا عرصہ لگا۔ پھر 31 دسمبر 2006ء، بمطابق 9 ذی الحجہ 1427ھ، بروز سنیچر اسی پنچانن رائے کے ہاتھوں اسکول کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی تقریر میں اسکول کے قیام کی روداد بیان کرتے ہوئے مختلف مراحل کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری امور میں کبھی کبھی تاخیر ہوجاتی ہے، اس لیے اس معاملے میں بھی کچھ دیر ہوئی؛ تاہم مسلسل کوشش کے نتیجے میں کاغذات مکمل ہوئے اور آج وہ دن آگیا کہ اسکول کی عمارت کے دروازے طلبہ کے لیے کھولے جارہے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں انہوں نے ایک بات خاص طور پر کہی جس سے اس واقعے کی اصل روح سامنے آتی ہے۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکول کا قیام دراصل بشیر چچا کی کوششوں اور محنتوں کا ثمرہ ہے۔ یہ اعتراف اس بزرگ شاعر کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا، جس نے ایک تعلیمی ضرورت کو شعر کا لباس پہنایا اور اپنے لفظوں کے ذریعے ایک عملی قدم کی بنیاد رکھ دی۔
سر شاہ سلیمان جونیئر ہائی اسکول کی تاریخ کا یہ باب اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کی بنیاد کے پسِ پشت ایک شاعر کا احساس، اپنے گاؤں سے محبت، ایک عظیم شخصیت کی یاد کو زندہ رکھنے کی فکر اور نئی نسل کے لیے تعلیم کا خواب کارفرما تھا۔
(دیکھیے: تاریخِ بھیرہ، مصنف مولانا محفوظ احمد قاسمی بھیروی۔ "سر شاہ سلیمان جونیئر ہائی اسکول، گولا بازار”، ص 153)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے