कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علماء کی عظمت اور دینی خدمات کا صحیح توازن

تحریر:محمد عادل ارریاوی

قرآن و حدیث میں علماء کرام کی بڑی فضیلت واہمیت بیان فرمائی گئی ہے۔
علمائے حق حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے وارث و جانشین ہیں الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الانبیاء ۔ ان کی وراثت اور نیابت اسی وقت صحیح اور مکمل ہو گی جب ان کی زندگی کا مقصد اور ان کی کوششوں کا مرکز وہی ہوگا جو انبیائے کرام کا تھا وہ مقصد زندگی اور وہ مرکز سعی و عمل کیا ہے؟ دو لفظوں میں دین خالص یا ایک لفظ میں توحید یعنی اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور کامل اطاعت جو تنہا اسی کا حق ہے اس کو اپنی ذات سے عمل میں لانا اور دوسروں میں اس کے لیے جد و جہد کرنا۔
لیکن بعض اوقات غیر عالم لوگ حدود شریعت سے واقف نہ ہونے کے سبب عوام میں تبلیغ دین کی فضیلت پر اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ مثلاً کچھ ساتھی تبلیغ کے لیے یورپ گئے اور وہاں جا کر انہوں نے اذان دی نماز پڑھی اور چٹنی روٹی وغیرہ کھا کر سو گئے تو وہاں کے کافر کہنے لگے کہ ارے ان کو تو بلا نشہ ہی نیند آ گئی جبکہ ہم ہیروئن کھا رہے ہیں۔
نشہ کی گولیاں کھا رہے ہیں اور پھر بھی نیند نہیں آتی اور یہ مسلمان جو اللہ کے راستہ میں نکلے ہیں ان کا مذہب تو بڑا اچھا ہے اور آٹھ دس آدمی ان کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے ۔ پھر یہ نادان مبلغ علماء پر تنقید کرنے لگتے ہیں کہ جو کام تبلیغ والے عوام کر رہے ہیں وہ علماء بھی نہیں کر رہے۔ یہ بڑی سخت نادانی و بدنہی ہے۔ بات یہ ہے کہ اہلِ کفر تو اپنے کفر اور خدا سے دوری کی لعنت کے باعث پریشان ہیں بے چین ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کر کے یہ لوگ چٹنی روٹی کھا کر سو گئے تو وہ اسی سے اسلام لے آتے ہیں ۔
لہذا ان لوگوں کی تعریف اس حیثیت سے تو کرو کہ انہوں نے ایک مستحب عمل کیا لیکن ان کو علماء پر فضیلت مت دو کیونکہ علماء بخاری شریف پڑھا رہے ہیں علوم نبوت کی حفاظت اور نشر و اشاعت کر رہے ہیں جو فرض ہے اور اب تبلیغ میں جانا فرض نہیں ہے البتہ ایک مستحب اور پیارا عمل ہے۔ پس جو لوگ علماء کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ کل کافر قیامت کے دن علماء کے گریبان پکڑیں گے کہ تم لوگ اپنے مدرسوں میں پڑے رہے ہمیں کفر کی تاریکی سے نہیں نکالا تم نے ہمیں دوزخ میں کیوں جانے دیا تو ایسے لوگ سخت نادان اور بے عقل ہیں۔ اس طرح کی باتوں کا یہ اثر ہوتا ہے کہ عوام الناس کے دماغ میں علماء کی بے وقعتی آجاتی ہے۔
اللہ ربّ العزت نے علماء کو بڑا درجہ دیا ہے۔ اس لیے کہتا ہوں کہ ان کی قدرکرو۔ لیکن جس کے قلب میں علماء کی عظمت نہ ہو تو بڑے صدمہ کی بات ہے پس عوام جب بستر لے کر دین کے لیے جاتے ہیں تو بڑی خوشی ہوتی ہے علماء خود ترغیب دیتے ہیں اور علماء اجتماعات میں بھی بلائے جاتے ہیں علماء کی تقریر بھی ہوتی ہیں لیکن جب کہیں ایسی بات سنتا ہوں جس میں علماء مشایخ اور بزرگانِ دین کی بے وقعتی ہو تو ہمیں یہ بات برداشت نہیں ہوتی کیونکہ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے پہلے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا قاسم نانوتوی عبداللہ بن مبارک امام ابو حنیفہ امام احمد ابن حنبل امام شافعی خواجہ حسن بصری رحمہم اللہ وغیرہ یہ سب حضرات تو بستر لے کر نہیں نکلے پھر اس قسم کی بات کرنا کہ جو چلہ نہیں لگاتا اس کے جنت میں جانے کی گویا کوئی ضمانت نہیں یا ایسی تقریر کرنا جس سے علماء کرام کی عوام کے دل میں وقعت کم ہو جائے حرام ہے۔ تو ایک بات دھیان میں رکھو کہ ایسا عنوان اختیار کرنا اور کسی عمل یا کسی نوع کی خدمت کی فضیلت اس طرح بیان کرنا جس سے علماء و مشایخ اور اہل اللہ کی عظمتوں میں کمی آجائے اور لوگ کہنے لگیں کہ ہمارے علماء و مشایخ تو کچھ نہیں کرتے حجروں میں پڑے ہیں مدرسوں میں پنکھوں کے نیچے بیٹھے ہیں اس قسم کے بیانوں کے بارے میں حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
مَن عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرُبِ (صحیح البخاری ج ۲ ص ۹۶۳ باب التواضع) جو میرے اولیاء کی حقارت اور ان کے ساتھ دشمنی کرے تو میرا اس سے اعلان جنگ ہے۔ کیا یہ معمولی دشمنی ہے کہ امت کو اہل اللہ سے علماء سے بدظن کر دیا جائے اور صرف چند چلے لگانے سے غیر علماء کو علماء کے برابر کر دیا جائے؟ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے دل کے مریضوں کو ہارٹ اسپیشلسٹوں کی بے وقعتی کر کے مرہم پٹی کرنے والوں کا معتقد بنایا جائے کہ جاؤ ٹانگ پر پٹی چڑھا لو وہ بیچارہ آیا تھا دل کا آپریشن کروانے کے لیے معلوم ہوا کہ ہارٹ فیل ہو گیا اور پٹی بندھی کی بندھی رہ گئی۔
اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ دعوت و تبلیغ نیکی کی ترغیب اور لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا بھی ایک مبارک عمل ہے۔ جو لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ یقیناً اجر کے مستحق ہیں۔ لیکن کسی ایک نیک خدمت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دوسری دینی خدمت خصوصاً علماء و مشایخ کی قدر و منزلت کو گھٹانا درست نہیں۔
اعتدال یہی ہے کہ مدارس میں علومِ نبوت کی حفاظت کرنے والے علماء کا بھی احترام کیا جائے اور میدانِ دعوت میں محنت کرنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دین کا قافلہ انہی مختلف خدمات کے باہمی تعاون سے آگے بڑھتا ہے نہ کہ ایک دوسرے کی تحقیر سے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں علماء کرام کی صحیح قدر کرنے اور ہر دینی خدمت کو اخلاص کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے