कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مطالعہ اہمیت اور تکنیک میری نظر میں

منصف مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی صاحب

مبصر:محمد عادل ارریاوی

اللہ ربّ العزت نے انسان کو علم کی نعمت سے وہ عظمت عطا کی جس نے اسے تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے مگر علم کی یہ دولت صرف حاصل کر لینے سے کامل نہیں ہوتی بلکہ اس کی نشوونما وسعت اور پختگی کا اصل ذریعہ مطالعہ ہے۔
علم انسان کا امتیاز بھی ہے اور اس کی بنیادی ضرورت بھی مگر علم کو وسعت گہرائی اور پختگی عطا کرنے کا حقیقی ذریعہ مطالعہ ہے۔ انسان جتنا زیادہ کتابوں سے وابستہ رہتا ہے اتنا ہی اس کا ذہن روشن فکر بالغ اور نظر وسیع ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے مطالعہ کو علمی ترقی اور فکری ارتقا کی بنیاد قرار دیا ہے۔
قلم کے میدان میں کامیابی صرف صلاحیت سے نہیں بلکہ مسلسل مطالعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ مطالعہ استعداد کی کنجی ذہنی قوتوں کا محرک اور پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ ایک مطالعہ کرنے والا ہر روز نئی معلومات سے اپنی علمی دنیا کو وسیع کرتا ہے اور اپنے زاویۂ فکر و نظر کو مزید گہرائی عطا کرتا رہتا ہے۔
مطالعہ ایک ایسی دوربین ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے دور دراز گوشوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور ایک ایسے طیارے کی مانند ہے جو اسے مختلف اقوام کی تہذیب تعلیم سیاست معیشت اور تاریخ سے روشناس کراتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کی روح اس کی بقا اور اس کی حیات کتب بینی اور مسلسل مطالعہ ہی میں مضمر ہے۔
زیرِ نظر کتاب (مطالعہ اہمیت اور تکنیک مصنف مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی) کا میں نے اول تا آخر حرف بہ حرف نہایت شوق اور دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ یہ کتاب اہلِ علم کی نگرانی میں لکھی گئی ہے اسی لیے اس کی ہر سطر علم اخلاص اور رہنمائی کا حسین امتزاج معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تجربہ کار استاد قدم بہ قدم میری رہنمائی کر رہا ہو۔ کتاب اس قدر دل نشین اور پرکشش ہے کہ میں اسے درمیان میں چھوڑ نہ سکا یہاں تک کہ تقریباً دو گھنٹے میں پوری کتاب مکمل کر لی۔ مطالعہ ختم ہونے کے بعد بے اختیار مصنف کے لیے دل سے دعائیں نکلیں کہ اللہ ربّ العزت نے ان کے قلم سے ایک ایسی مفید کتاب لکھوائی جو ہزاروں لوگوں کے اندر علم کا شوق پیدا کر سکتی ہے۔
مصنف نے اس کتاب میں سب سے پہلے مطالعہ کی اہمیت اس کی ضرورت اور انسان کی علمی و فکری زندگی میں اس کے مقام کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ پھر یہ واضح کیا ہے کہ وہی قومیں ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں جو کتابوں سے اپنا تعلق مضبوط رکھتی ہیں جبکہ مطالعہ سے دوری قوموں کو علمی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
کتاب کا ایک نہایت اہم حصہ وہ ہے جس میں ہمارے اسلاف اور اکابر علماء کے حیرت انگیز واقعات ذکر کیے گئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کے علماء ایک دن میں کتنے کتنے صفحات بلکہ کئی کئی جلدوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے سفر میں حضر میں راتوں میں اور فرصت کے ہر لمحے کو کتابوں کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ انہی مسلسل مطالعات نے انہیں ایسا بلند مقام عطا کیا کہ آج پوری دنیا ان کی لکھی ہوئی کتابوں سے علم حاصل کر رہی ہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر انسان کے اندر بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کتابوں سے جوڑ دے۔
مصنف نے صرف مطالعہ کی اہمیت ہی بیان نہیں کیے بلکہ مطالعہ کا صحیح طریقہ بھی سکھایا ہے کہ مطالعہ شروع کرنے سے پہلے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے کس ماحول میں پڑھنا چاہیے نوٹس کیسے تیار کیے جائیں یادداشت کو مضبوط بنانے کے اصول کیا ہیں اور ایک طالب علم یا اہل قلم اپنے مطالعہ کو کس طرح مؤثر بنا سکتا ہے۔ یہ حصہ اس کتاب کو عام کتابوں سے ممتاز بنا دیا ہے۔
اسی طرح بڑی حکمت کے ساتھ یہ بھی رہنمائی کی گئی ہے کہ کون سی کتابیں انسان کے علم و کردار کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور کن کتابوں سے احتیاط ضروری ہے۔ مختلف علوم کی بہترین اور مستند کتابوں کی فہرست آخر میں شامل کی گئی ہے ساتھ ہی ہر کتاب کے مصنف کا نام بھی درج ہے تاکہ قاری آسانی کے ساتھ اپنے لیے ایک مفید لائبریری ترتیب دے سکے۔ یہ خصوصیت اس کتاب کی علمی قدر میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
میرے نزدیک یہ کتاب صرف طلبہ کے لیے نہیں بلکہ علماء ائمہ خطباء اساتذہ مضمون نگاروں اور ہر اس شخص کے لیے ایک لازمی مطالعہ ہے جو اپنی علمی استعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جو شخص اس کتاب کو ایک مرتبہ اخلاص کے ساتھ پڑھ لے گا اس کے اندر مطالعہ کا ذوق کتابوں سے محبت اور علم حاصل کرنے کا نیا جذبہ ضرور پیدا ہوگا اس کتاب کو ضرور خریدیں اور مطالعہ کریں بہت مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ العزیز ۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے مصنف کو دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے ان کے علم و قلم میں مزید برکت عطا کرے اور انہیں امت کے لیے ایسی ہی مفید اور معیاری کتابیں لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے