कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک مخلص، باصلاحیت، فرد شناس اور فرض شناس آئرن خاتون معلمہ کی یاد میں

تحریر:شیخ عبداللہ (مددگار معلم )
مدینۃ العلوم ہائی اسکول، ناندیڑ

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کچھ لوگ کسی ادارے میں صرف اپنے فرائض انجام نہیں دیتے بلکہ اپنی مخلصانہ رفاقت، خوش اخلاقی، تعاون اور مثبت رویے سے وہاں ایک خوبصورت یاد چھوڑ جاتے ہیں۔ محترمہ ممتاز شاہین صاحبہ بھی ایسی ہی ایک مخلص اور باصلاحیت معلمہ تھیں، جن کا انتقال میرے لیے ذاتی طور پر گہرے رنج و غم کا باعث ہے۔
میری اور ممتاز شاہین صاحبہ کی تقرری 6 ستمبر 2002 کو مدینۃ العلوم ہائی اسکول، ناندیڑ میں ہوئی تھی۔ اگرچہ میں شفٹِ اول میں اور وہ شفٹِ دوم میں تدریسی خدمات انجام دیتی رہیں، لیکن شفٹوں کا یہ فرق ہماری تدریسی رفاقت میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔ ایک ہی ادارے میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کے دوران ہمارا تعلق احترام، خیرخواہی اور تعلیمی تعاون کے ساتھ قائم رہا۔
ممتاز شاہین صاحبہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے اُن کی فکر تھی۔ جب بھی میں مسابقتی امتحانات، اسکالرشپ امتحانات یا طلبہ کے لیے کسی تعلیمی سرگرمی کا معاملہ سامنے لاتا، وہ ہمیشہ خوش دلی سے تعاون کرتیں۔ طلبہ کو ایسے مواقع میں شریک کرنے اور اُنہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دینے میں بھی وہ بھرپور دلچسپی لیتی تھیں۔
اساتذہ اور طلبہ سے متعلق غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی وہ اپنی استطاعت کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ تعلیمی ترقی کے کسی پروگرام کو وہ محض ایک سرگرمی نہیں سمجھتی تھیں بلکہ اسے طلبہ اور اساتذہ کے لیے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک موقع سمجھتی تھیں۔
اُن کی ایک خوبصورت صفت یہ بھی تھی کہ تعلیمی سرگرمیوں میں وہ گروہی یا جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر مثبت کوشش کی قدر کرتی تھیں۔ کسی استاد کی اچھی کاوش ہو تو اسے سراہنا، حوصلہ دینا اور طلبہ کو اُس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنا اُن کے مزاج کا حصہ تھا۔ اساتذہ کے تعلیمی پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی اُن کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھا۔
علم سے محبت اور آگے بڑھنے کا حوصلہ
ممتاز شاہین صاحبہ دوسروں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دینے کے ساتھ خود بھی اپنی علمی اور پیشہ ورانہ اہلیت کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہیں۔
خصوصاً طبیعت کی ناسازی کے باوجود CTET کے دونوں گروپس میں ایک ساتھ کامیابی حاصل کرنا اُن کے عزم، محنت اور حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔ یہ کامیابی اُن کی علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی عکاس ہے کہ وہ مشکلات کے باوجود اپنے علم اور پیشہ ورانہ اہلیت میں اضافہ کرنے کا جذبہ رکھتی تھیں۔
اُن کی زندگی اور اُن کے حوصلے کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک "آئرن خاتون معلمہ” کہنا شاید بے جا نہ ہوگا۔ تاہم اُن کی مضبوطی سخت مزاجی کی نہیں بلکہ حوصلے، استقامت، صبر اور ذمہ داری کی مضبوطی تھی۔ ناسازِ صحت کے باوجود علمی سفر جاری رکھنا اور تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہنا اُن کی اندرونی قوت کا خوبصورت اظہار تھا۔
تعلیم و تربیت کا خاندانی ماحول
ممتاز شاہین صاحبہ سے گفتگو کے دوران اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا ذکر بھی آتا رہتا تھا۔ بچوں کی تعلیم، اخلاق اور بہتر مستقبل اُن کے لیے ہمیشہ اہم موضوع رہا۔
اُن کا خاندان بھی تعلیم و تربیت کا گہوارہ رہا ہے۔ علم، شرافت، تربیت اور اچھے کردار کی اقدار اُن کی شخصیت میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی تھیں۔
اُن کے شوہر محترم محمد اسحاق عرف ساجد سر، معاون مدرس، اردھاپور، ناندیڑ ایک شریف النفس اور وفا شعار انسان کے طور پر قابلِ احترام ہیں۔ اُن کی رفاقت اور خاندانی ماحول میں تعلیم و تربیت کو حاصل اہمیت بھی ممتاز شاہین صاحبہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں میں محسوس ہوتی تھی۔
ایک خوبصورت تدریسی رفاقت کی یاد
6 ستمبر 2002 کو ایک ہی تاریخ سے شروع ہونے والی ہماری تدریسی رفاقت اب ایک یاد بن چکی ہے۔ شفٹیں مختلف رہیں، مگر تعلیم، طلبہ اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے تعلق ہمیشہ قائم رہا۔
آج ممتاز شاہین صاحبہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن اُن کی مخلصانہ رفاقت، نرم مزاجی، فرد شناسی، فرض شناسی، تعلیمی جذبہ، طلبہ کے لیے فکر اور ساتھی اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہمیشہ یاد آتی رہے گی۔
ایک استاد کی سب سے بڑی میراث اُس کے شاگرد اور اُن کی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلی ہوتی ہے۔ ممتاز شاہین صاحبہ نے بھی اپنی تدریسی زندگی میں یقیناً بہت سے ایسے دلوں میں جگہ بنائی ہے جہاں اُن کی یاد ہمیشہ باقی رہے گی۔
علامہ اقبالؔ کا یہ شعر اُن کی تعلیمی خدمات کے حوالے سے بڑی معنویت رکھتا ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ممتاز شاہین صاحبہ نے اپنے حصے کا تعلیمی چراغ خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ روشن رکھا۔ اُن کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اچھی معلمہ صرف سبق نہیں پڑھاتی، بلکہ اپنے کردار، حوصلے اور عمل سے بھی تعلیم دیتی ہے۔
آج اُن کی یاد میں ہمارے پاس الفاظ کم اور دعائیں زیادہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ محترمہ ممتاز شاہین صاحبہ کی کامل مغفرت فرمائے، اُن کے درجات بلند فرمائے، اُن کی تمام علمی و تدریسی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، اُن کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کامیابیوں کو اُن کے لیے باعثِ اجر بنائے، اور محترم محمد اسحاق عرف ساجد سر، اُن کے بچوں اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن کی نیک یادوں کو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے