कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُردو سفرناموں کا تنقیدی جائزہ

تحریر: ڈاکٹر مرضیہ عارف

سیروسفر کا شوق انسانی فطرت میں داخل ہے اور اِس کا سلسلہ انسانی وجود کے آغاز سے مسلسل جاری ہے۔ انسان ہوش سنبھالنے کے بعد اپنے اردگرد پر نظر ڈالتا ہے تو اُس کے دل میں اپنا شہر، ملک اور دنیا دیکھنے کی خواہش پروان چڑھنے لگتی ہے، یہی شوق و جذبہ اُس کے سفر کا باعث بنتا ہے، تاہم ایسے خوش نصیب کم ہوتے ہیں، جنھیں دنیا دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور وہ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو سفر کے دوران یا منزل پر پہونچ کر اپنے مشاہدات و تجربات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں اور اپنے اوپر بیتی کیفیات و حالات میں دوسروں کو شریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا پیش آئے تحیر واستعجاب کو اِس طرح قلم بند کردیتے ہیں کہ پڑھنے والے کے سامنے منظر وپس منظر واضح ہوجاتا ہے اور اِس کے ذریعہ اپنے و پرائے شہروں، ملکوں کے موسم، آب و ہوا، جغرافیائی معلومات، تاریخی کوائف، سماجی حالات اور قابل ذکر مقامات وعمارات اُن کی رائے کے ساتھ سامنے آکر تاریخ کا حصّہ بن جاتے ہیں، سفر کو وسیلۂ ظفر بھی اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے دل و دماغ کو روشن کرنے اور معلومات میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
سفر بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں، کئی لوگ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق مقدس و متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں تو بعض تجارتی مقاصد کو لے کر عازمِ سفر ہوتے ہیں جب کہ اکثر لوگوں کو سیر وسیاحت کی خواہش سفر پر آمادہ کرتی ہے، یہ سلسلہ کافی پہلے سے جاری ہے۔ دنیا میں ایسے بھی سیاح گزرے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کا مقصد سفروسیاحت بنالیا تھا اور ایسے زمانہ میں دوردراز کے ملکوں و علاقوں کی سیاحت کی، جب بہت خطرات تھے، آج کی طرح نہ برق رفتار سواریاں تھیں نہ آمدورفت کے دوسرے سامان تھے، پھر بھی جان و مال کے خطرات کو نظرانداز کرکے انھوں نے ایک برّاعظم سے دوسرے برّاعظم تک ہزاروں میل خشکی و پانی کا سفر کیا، خطرناک جنگلوں، دُشوار گھاٹیوں، انجان وادیوں اور تیز بہنے والے دریاؤں کو عبور کرکے منزلِ مراد تک پہونچ گئے جس کے دوران اُن کا استقبال ہوا اور حوصلہ شکنی بھی کی گئی۔
اِن حوصلہ مند سیاحوں میں ابن بطوطہ سب سے مشہور ہیں، جو آٹھویں صدی ہجری میں گزرے، ربع صدی مشرق و مغرب کی سیاحت میں بسر کردی اور اپنا دلچسپ و معلوماتی سفرنامہ ’تحفۃ النظار‘ تحریر کیا، علاوہ ازیں البیرونی، مارکوپولو، فاہیان، ناصر خسرو، شیخ سعدی، ابن جبیر اُندلسی، سلمان تاجر ادریسی، ابن ہیکل بغدادی، ابوریحان بیرونی وہ سیاح ہیں جنھوں نے دنیا کے دوردراز براعظموں کا سفر کیا، اور جہاں قدم رکھے وہاں کی تہذیب، معاشرت اور تاریخی حالات کا مطالعہ و تجزیہ کرکے اپنے سفرناموں میں اُن کو نمائندگی دی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کے گمشدہ پہلوؤں کو جوڑنے میں وقت کے مورّخوں کی رہبری کا کام انجام دیا۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی سچائی ہے کہ اِن سیاحوں سے قبل عرب سیاح اِن راہوں کو ناپ چکے تھے۔
جہاں تک سفرنامے لکھنے کی روایت کا سوال ہے تو یہ زیادہ قدیم نہیں، اُردو میں داستانوں کی روایت تو عام تھی، جن میں واقعات، تجربات، مشاہدات اور چشم دید مناظر کا ذکر ہوتا تھا، بادشاہوں کے مقربین روزنامچے اور ڈائریاں لکھا کرتے تھے، اٹھارہویں صدی سے قبل کسی ایسے ہندوستانی سیاح کا سراغ نہیں ملتا جس نے کسی دوسرے ملک کی سیاحت کی ہو اور اُس کے حالاتِ سفر لکھے ہوں۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں ضرور دو ہندوستانی سیاحوں نے انگلستان کا سفر کیا لیکن اِس کی روداد فارسی زبان میں لکھی گئی۔ پہلے سیاح اعتصام الدین بنگالی کا سفرنامہ ’’شگرف نامہ ولایت‘‘ ہے اور دوسرے مشہور سیاح ابوطالب لکھنوی ہیں، جن کا سفرنامہ ’’میر طالبی‘‘ اپنے معیار و مواد کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
اردو زبان میں پہلا سفرنامہ جو لکھا گیا ’’عجائبات فرنگ‘‘ ہے، جس کے مؤلف مشہور، آزاد منش سیاح یوسف خاں کمبل پوش ہیں۔ انھوں نے ۱۸۳۷ء میں انگلینڈ کا سفر کیا۔ ان کا مقصد محض سیرتفریح تھا لیکن اُس ملک کی صنعتی ترقی نے اُن کو حیرت زدہ کردیا۔ وہاں کی ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر ان کو ہندوستان کی غربت اور بدحالی کا احساس ہوتا ہے جس پر انھوں نے اظہارِ افسوس کیا ہے۔ اس سفرنامے میں اُنھوں نے انگلینڈ کی تہذیب ومعاشرت کا جائزہ لیا اور اُن کے محاسن و معائب پر تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ یوسف خاں حیدرآباد کے رہنے والے تھے کچھ عرصہ بادشاہِ اودھ نصیرالدین حیدر کی ملازمت میں رہے۔ انگلستان کی سیاحت کے بعد جب واپس آئے تو مختلف شہروں میں گھوم پھرکر لکھنؤ پہونچے۔ اُن کا سفرنامہ پہلی بار ۱۸۴۷ء میں دہلی سے شائع ہوا ۔ دوسراایڈیشن مطبع نول کشور نے کچھ عرصہ بعد شائع کیا۔ یہ اردو زبان کا پہلا سفرنامہ ہے۔ اِس لیے اِس کی اہمیت مسلّم ہے۔ اس کی زبان اور اندازِ بیاں قدیم طرز کی عام نثری تحریروں کا نمونہ ہے۔
اُردو میں سفرناموں کا ارتقاء ۱۸۵۷ء کے ہنگامے ختم ہونے کے بعد ہوا۔ اور رفتہ رفتہ یہ اردو ادب کی ایک اہم صنف شمار ہونے لگی۔ اس زمانے میں مسافروں اور سیاحوں کو برّی اور بحری سفر کے لیے تیز رفتار سواریاں ملنے لگیں۔ اور مختلف طبقوں کے لوگوں میں سیروسیاحت کا ذوق و شوق بڑھنے لگا۔ سفر کرنے والوں میں ان لوگوں کی اکثریت تھی جو حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرتے تھے اور اپنے حالاتِ سفر اردو میں لکھتے تھے۔ اس طرح اردو میں سفرناموں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان سفرناموں میں بعض کو ادبی حیثیت بھی حاصل ہوئی۔ ان میں نئے اندازِ بیاں اور اسلوبِ نگارش کے دلکش نمونے ملتے ہیں۔
۱۸۵۷ء کے بعد جو سفرنامے لکھے گئے اور جو ادبی حیثیت سے بھی معیاری ہیں، اُن میں محمد حسین آزادؔ کا ’’سیر ایران‘‘ زبان اور اندازِ بیان کے اعتبار سے بہت دلکش اور دلچسپ ہے۔ اس کے بعد سرسیّد احمدخاں کا سفرنامہ ’’مسافرانِ لندن‘‘ بہت اہم ہے۔ سرسیّداحمد خاں نے لندن کا سفر وہاں کے نظامِ تعلیم کا جائزہ لینے کے لیے کیا تھا۔ ساتھ ہی اپنے بیٹوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہاں داخل کرانا مقصود تھا۔ ان کا سفرنامہ جملہ معلومات پر مشتمل اور بہت ہی دلچسپ ہے، سرسیّد کی زبان اور اندازِ بیاں بہت سادہ زبان نہایت شگفتہ ہے۔ یہ سفر سرسیّد نے ۱۸۶۹ء میں کیا تھا۔
سرسیّد کے سفرنامے کے بعد مولانا شبلی نعمان کا سفرنامہ ’’مصر وشام اور روم‘‘ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شبلی نے یہ سفر سیروسیاحت کے علاوہ مذکور ممالک کے معاشرتی حالات سے واقفیت کے لیے اور خاص طور پر مذکورہ ممالک کے نظامِ تعلیم اور مشہور کتب خانوں کے مخطوطات اور مطبوعات کا جائزہ لینے کے لیے کیا تھا۔ شبلی کے دلکش اندازِ بیان نے اِس سفرنامہ کو ایک ادبی شہ پارہ کی حیثیت دے دی ہے۔ اس زمانے میں متعدد سفرنامے شائع ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا رہا۔ علامہ شبلی نعمانی کے سفرنامے کے بعد مولوی محبوب عالم ایڈیٹر ’پیسہ‘ اخبار کا ’’سفرنامۂ یورپ‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ۱۹۰۸ء کا یہ سفرنامہ یورپ کی صنعتی ترقی کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس میں انھوں نے مبالغہ آرائی کے بغیر وہی حالات اور واقعات لکھے ہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اندازِ بیان سادہ و شستہ اور زبان کے اعتبار سے بھی معیاری سفرنامہ مانا جاتا ہے۔
بیسویں صدی میں سفری سہولتوں میں اضافہ ہونے سے جہاں سفر کرنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی تو وہیں حالاتِ سفر بیان کرنے کا شوق بھی بڑھ گیا لہٰذا منشی محبوب عالم کا سفرنامہ ’’یورپ‘‘، شیخ عبدالقادر کا سفرنامہ ’’مقامِ خلافت‘‘، خواجہ حسن نظامی کا ’’سفرنامہ مصروشام‘‘، خواجہ حسن نظامی کا سفرنامہ ’’مصروفلسطین‘‘، قاضی عبدالغفار کا ’’نقشِ فرنگ‘‘، قاضی ولی محمد کا ’’سفرنامہ اُندلس‘‘شائع ہوئے، اِن سفرناموں میں عجائباتِ عالم کے ساتھ گوناگوں مشاہدات کا بھی ایسے سلیقہ سے بیان ہوا ہے کہ پڑھنے والوں میں دنیا دیکھنے کا شوق بڑھ گیا۔ اور اُردو ادب کی یہ صنف بتدریج ترقی کی طرف گامزن رہی۔ بیسویں صدی کے وسط سے اردو کے بعض ترقی پسند ادیبوں نے مختلف ممالک کی سیروسیاحت کی اور اپنے حالاتِ سفر کچھ نئے انداز سے لکھے۔ ان میں پروفیسر احتشام حسین کا سفرنامہ ’ساحل و سمندر‘ بہت مشہور ہے۔ احتشام حسین نے ۱۹۵۲ء میں امریکہ کی سیاحت خاص علمی مقاصد کے تحت کی تھی۔ کچھ دن انگلینڈ میں بھی گزارے تھے۔ یہ سفرنامہ نئی دنیا کے تعلیمی اور ادبی حالات کے علاوہ وہاں کی مادّی ترقی پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور نہایت دلچسپ ہے۔ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ ’’ساحل و سمندر‘‘ ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا تھا۔
مذہبی رنگ وآہنگ کے بعض سفرنامے جو ادبی حیثیت سے بھی اہم ہیں، ان میں مولانا عبدالماجد دریابادی کا’ ’سفرنامہ حج‘‘ اور ’’دو ہفتہ پاکستان میں‘‘ بہت دلچسپ ہیں جن میں اُن کا خاص اسلوب و اندازِ بیان نظر آتا ہے۔ اِسی سلسلہ میں مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی کا سفر ترکی بہت دلچسپ اورعلمی و تاریخی حالات پر مشتمل ہے۔ موصوف نے خاص طور پر وہاں کے علمی اور دینی حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ سفر کیا تھا، انھوں نے انگورہ، استنبول، قسطنطنیہ اور حلب جیسے مشہور مقامات کی سیر کی۔ مولانا کا طرزِ تحریر بہت شگفتہ ہے، اُن کی نثر میں علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سیّد سلیمان ندوی کا رنگ جھلکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اُن کے اندازِ بیان میں بڑی رعنائی ودلکشی ہے۔ انھوں نے دنیا کے دیگر ممالک کا بھی سفر کیا ہے اور بعض ملکوں کے حالاتِ سفر مضامین کی صورت میں پیش کیے ہیں۔ اِن میں بھی اُن کے طرزِ تحریر کی خصوصیات نمایاں ہیں۔ ان سب کو یکجا کردیا جائے تو ممالک اسلامیہ، یورپ اور امریکہ کے اخلاقی، معاشرتی اور دینی حالات پر مشتمل ایک علمی، ادبی اور تاریخی سفرنامہ مرتب ہوسکتا ہے جو اِس صنف میں اضافہ ہوگااور ادبی اعتبار سے اردو نثر کا اعلیٰ نمونہ شمار ہوگا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی سے پہلے اُن کے والد ماجد مولانا حکیم عبدالحیٔ صاحب ’’گلِ رعنا‘‘ نے ایک سفرنامہ ’’دہلی اور اس کے اطراف‘‘ تحریر کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی اور تاثراتی سفرنامہ ہے، جس میں دہلی کی مشہور عمارات، علماء و صلحاء کے مزارات اور دیگر اسلامی عمارتوں کی تاثراتی مرقع کشی بڑی دردمندی اور حسن عقیدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ مولانا عبدالحیٔ اردو زبان و ادب کے رمزشناس تھے۔ انھوں نے اردو میں کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔
صنفِ سفرنامہ کی ایک قسم مزاحیہ سفرناموں کی ہے۔ اس صنف نے بھی ترقی کی طرف رُخ کیا ہے اور اِس کے بعض دلچسپ نمونے ادبی دنیا کے سامنے آچکے ہیں، جن کا مختصر ذکر ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کرنل محمد خاں کا نام بہت نمایاں ہے۔ انھوں نے ایک فوجی افسر کی حیثیت میں، بیروت سے ایران تک سفر کیا تھا، جس کا حال اپنے مشہور سفرنامہ ’’بجنگ آمد‘‘ میں کیا ہے۔ انھوں نے اپنے حالاتِ سفر ایسے انوکھے مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں لکھے ہیں کہ پڑھنا شروع کرو تو کتاب ختم کیے بغیر ہاتھ سے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ زبان اور اندازِ بیاں بھی نہایت دلکش ہے، ہر جملہ لطف سے خالی نہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد سفرنامہ ہے جو مذکورہ ممالک اور اُن کے باشندوں کی خصوصیات اور معاشرت کا آئینہ دار ہے۔ اس کے بعد مشہور ادیب اور مزاح نگار ابن انشا کا نام اس صنف میں سرفہرست ہے۔ انھوں نے ایک نئے اسلوب و انداز کی بنیاد ڈالی۔ اپنے حالات ایجاز واختصار کے ساتھ، دلچسپ طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں تحریر کیے ہیں۔ وہ اپنے ایک خاص طرز کے موجد ہیں۔ اُن کا سادہ و شگفتہ طرزِ بیان اور ایما و اشارات اور تلمیحات نے اُن کے حالاتِ سفر کو نہایت دلکش بنادیا ہے۔ ان کی تحریروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے قدیم و جدید علوم سے کسی قدر واقف ہونا ضروری ہے تاکہ اُن کے ایما و اشارات سے پورے طور پر لطف اندوز ہوا جاسکے۔ انشا کے اکثر جملوں پر مسکراہٹ کے بجائے قہقہہ کی نوبت آجاتی ہے۔ انھوں نے کوئی مسلسل سفرنامہ نہیں لکھا۔ اپنے ملک کے نمائندہ کی حیثیت سے تقریباً تین چوتھائی دنیا کا سفر کیا اور ہر جگہ اپنے مختصر قیام میں اپنی ذہانت اور وسیع النظری سے پورے ملک کی اہم خصوصیات سے واقفیت حاصل کرلی اور ان کو مختصر مضامین کی صورت میں اپنے مزاحیہ انداز میں تحریر کردیا۔ یہ مضامین اخبارات میں قسط وار شائع ہوتے رہے۔ ان کے مشہور مجموعہ ہائے مضامین میں ’’آوارہ گرد کی ڈائری‘‘، ’’دنیا گول ہے‘‘ اور ’’چین چلو چین‘‘ بہت مشہور اور مقبول ہیں۔
مزاحیہ انداز کے سفرناموں سے قطع نظر اِس صنف میں جدت طرازی کا رجحان بڑھتا رہا ہے۔ نئے اُسلوب و انداز کے دلچسپ سفرنامے نظر آنے لگے ہیں۔ جن کی بدولت سفرناموں کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ اس طرز کا پہلا سفرنامہ ’’جرنیلی سڑک‘‘ ہے جسے رضاعلی عابدی نے مرتب کیا ہے۔ یہ شیرشاہ سوری کی بنوائی سڑک کے کنارے آباد مقامات کا نہایت دلچسپ اور معلوماتی سفرنامہ ہے۔ شیرشاہ نے کلکتہ سے پشاور تک ایک پختہ سڑک تعمیر کرائی تھی جو جرنیلی سڑک اور گرانڈ ٹرنک روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ عابدی صاحب نے بی۔بی۔سی۔لندن کی طرف سے اِس سڑک کے کنارے آباد شہروں اور مشہور مقامات کا سفر کیا۔ جو ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں آباد ہیں۔ تمام مقامات کے تاریخی حالات، تہذیب و معاشرت اور تبدیلیوں کا ذکر تفصیل سے ہے۔ اُن کا اندازِ تحریر نہایت دلچسپ اور مؤثر ہے۔ زبان نہایت دلکش، شگفتہ اور عالمانہ ہے۔ یہ سفرنامہ قسط وار بی۔بی۔سی۔لندن سے نشر کیا گیا۔ اب کتابی صورت میں شائع ہوگیا ہے۔ بعد میں ظفرپیامی، محمود شام، ف۔س۔اعجاز اور مجتبیٰ حسین نے بھی مختلف ممالک کے سفرنامے رقم کیے ہیں جن میں معلومات کے ساتھ نثرنگاری کے معیاری نمونے ملتے ہیں۔
اُردو میں خواتین کی سفرنامہ نگاری کا جائزہ لیں تو اوّلیت کا سہرا نازلی رفیعہ سلطان کے سر ہے۔ نازلی رفیعہ سلطان کا سفرنامہ ’’سیریورپ‘‘ ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ سفرنامہ یورپ کے دوران ہندوستان میں قیام پذیر بزرگوں کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے۔ جب کہ اس سفرنامے کی دوسری نمایاں پہچان نسوانی اندازِ تحریر ہے۔ ’’سیریورپ‘‘ میں ایک مشرقی عورت کی نظر سے یورپی تہذیب کا مشاہدہ جداگانہ لطف کا حامل ہے۔ دوسری سفرنامہ نگار خاتون بیگم سربلند جنگ بہادر کا سفرنامہ ’’دنیا عورت کی نظر میں‘‘ ۱۹۱۰ء میں شائع ہوا۔ اس سفرنامے کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اُس زمانے میں مشرقی عورت یورپ کے تہذیبی مطالعے کو کس قدر اہمیت دے رہی تھی۔
یوں ۲۰ویں صدی عیسوی کے نصف اوّل کی ابتداء خواتین کے سفرناموں میں یورپ کی جانب نظر اُٹھاکر دیکھنے سے ہوئی اور اِسے بھی ایک اتفاق کہہ لیں کہ اردو کی تیسری سفرنامہ نگار خاتون نے سفرنامہ حجاز قلم بند کیا اور یوں دنیا تک رسائی کے جتن میں ہماری خواتین مرد حضرات سے پیچھے دکھائی نہیں دیتیں۔ تیسری سفرنامہ نگار خاتون نواب سلطان جہاں بیگم (شاہ بانو) والیۂ ریاست بھوپال تھیں۔ ان کا سفرنامہ ’’حیات سلطانی‘‘ (سفرنامہ حجاز) ۱۹۱۱ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ یہاں اس حقیقت کی وضاحت ازحد ضروری ہے کہ وسط ہند کی مشہور اسلامی ریاست بھوپال کی مسند حکومت پر یکے بعد دیگرے چارخواتین بیٹھیں، جن میں نواب سلطان جہاں بیگم اپنی انتظامی قابلیت، تعلیم نسواں کی حمایت، تعلیم کے فروغ اور دادودہش کی وجہ سے ازحد مقبول اور مشہور رہی ہیں۔ ان کی دیگر کتب میں گوہراقبال اور کتابِ معیشت قابل ذکر ہیں۔
بیگم ہمایوں مرزا کا سفرنامہ ’’بھوپال و آگرہ و دلّی‘‘ ۱۹۱۸ء میں سامنے آیا۔ ان کا اصل نام صغریٰ تھا۔ یاد رہے کہ اِن ہی صغریٰ ہمایوں مرزا کی سرپرستی میں لاہور سے رسالہ ’’تہذیب نسواں‘‘ کا اجراء ۱۸۹۸ء میں ہوا تھا۔ آزادیٔ نسواں کی حامی خاتون تھیں اور ان کا حلقۂ اثر سارے ہندوستان کے متوسط اُردوداں مسلم گھرانوں تک تھا۔ اُن کا یہ سفر بھوپال، آگرہ اور دہلی کی تہذیبی بہنوں سے رابطے کی ایک صورت تھی۔ ۱۹۲۴ء میں صغریٰ بیگم حیاؔ کا ’’سفرنامہ یورپ‘‘ سامنے آیا اور لگ بھگ اِسی زمانے میں فاطمہ بیگم کا ’’سفرنامہ حجاز‘‘ شائع ہوا۔ لیکن خواتین کی سفرنامہ نگاری کے اوّلین دور میں سب سے زیادہ شہرت نشاط النساء بیگم کے حصے میں آئی۔ نشاط النساء بیگ (حسرتؔ موہانی کی اہلیہ)کے دو سفرنامے ’’سفرنامہ عراق‘‘ (۱۹۳۷ء) اور ’’سفرنامہ حجاز‘‘ (حج نامہ) ازحد مقبول ہوئے۔ نشاط النساء بیگم نے اپنے شوہر نامدار مولانا حسرتؔ موہانی کے ہمراہ ۱۹۳۶ء میں عراق تک کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے سفرنامۂ عراق قلمبند کرتے ہوئے عراق کے طرزِتمدن کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا اور شگفتہ طرزِ بیان اپنایا تھا۔
ساجدہ ذکی کا سفرنامہ’’خیموں کے شہر میں‘‘ اگرچہ حج کے حوالے سے لکھا گیا ہے لیکن بہت مقبول ہوا۔ اِسی طرح ’’گوہر رازِ دوام‘‘ بھی سفرنامہ ہے جس میں کماؤ، گڑھوال کی رودادِ سفر کو قلم بند کیا گیا ہے لیکن اِس کے ذریعہ بھرپور جغرافیائی معلومات فراہم ہوتی ہیں ساتھ ہی ہمالیائی حسن کے صوری و معنوی پہلوؤں کو بھی اُنھوں نے پیشِ نظر رکھا ہے۔
معروف ادیبہ قرۃ العین حیدر نے بنیادی طورپر ایک ناول نگار اور افسانہ نویس کی حیثیت سے شہرت پائی لیکن اُن کے سفرنامے ’’جہانِ دیگر‘‘ اور ’’دکھایئے لے جاکے اُسے مصر کا بازار‘‘ ماضی سے گہری محبت اور حال سے عدم اِطمینان کے مظہر ہیں نیز تاریخی و تہذیبی کوائف سے بھرے ہوئے ہیں، صالحہ عابد حسین کے سفرنامے میں ناول نگاری کی خصوصیات نے سفرنامہ کے اُسلوب کو ناول کے قریب کردیا ہے، اُن کے یہاں سچائی اور بے ساختگی ایک طاقت بن کر اُبھرتی ہے اور نسائی لب و لہجہ متاثر کرتا ہے۔ ’’سفر زندگی کے لیے سوزوساز‘‘ اُن کا ایسا سفرنامہ ہے جن سے اُن کے مزاج و معتقدات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
قدرت اللہ شہاب کے سفرناموں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنھوں نے زمینی حالات و واقعات سے زیادہ باطنی کیفیات و احوال پر توجہ دی ہے، اِس لیے ’’اے بنی اسرائیل‘‘ اور ’’تو ابھی رہگذر میں ہے‘‘ میں وہ کسی ملک کی تاریخ و جغرافیہ یا تہذیب و تمدن سے تعلق کم رکھتے ہیں اور کہیں خودکلامی کے ذریعہ اپنا مافی الضمیر ادا کرتے ہیں تو کہیں تجزیئے و تبصرہ سے کام چلا لیتے ہیں، ممتاز احمد نے ایک سفرنامہ ’’جہاں نُما‘‘ لکھا ہے جو تقسیم ہند کے بعد لکھے جانے والے سفرناموں میں امتیازی حیثیت کا مالک ہے۔
مستنصرحسین تارڑ اُردو سفرنامہ کا اہم نام ہے، اُنھوں نے کئی سفرنامے لکھے جن میں ’’اُندلس میں اجنبی‘‘، ’’خانہ بدوش‘‘ اور ’’ہنزۂ داستان‘‘ جیسے لاجواب سفرنامے شامل ہیں۔
اُردو سفرناموں میں مشاہدے اور تجزیئے کے ساتھ ساتھ مزاحیہ عناصر بھی جابجا ملتے ہیں۔ وزیرآغا کا خیال ہے کہ سفرناموں کا اہم عنصر قوتِ مشاہدہ ہے لیکن کبھی کبھی سفرناموں میں مزاح سے اُس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انورسدید کے بقول سفرنامے میں بیساختہ طنز کا اہم حصّہ ہوتا ہے اور افضل علوی نے اپنے سفرنامہ ’’دیکھ لیا ایران‘‘ میں اِس کا برملا استعمال کیا ہے۔ جب کہ وزیرآغا نے تو اپنا سفرنامہ ’’ایک طویل ملاقات‘‘ کو طنزومزاح کے پیرایہ میں ہی تحریر کیا ہے، اِسی طرح ابن انشا کے سفرناموں میں طنزومزاح کا ایسا بھرپور استعمال ہوا ہے کہ قاری ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے، اُن کا ایک جملے پڑھئے جو ’’ابن بطوطہ کے تعقب میں‘‘ میں استعمال ہوا ہے اور داد دیجئے۔
’’مکہ گئے، مدینہ گئے، کربلا گئے تھے ویسے ہی ہیر پھیر کے آگئے‘‘۔ اِن کے علاوہ کرنل محمد خاں کا ذکر اِس بارے میں گزرچکا ہے، لیکن صدیق ملک، مجتبیٰ حسین، مستنصر حسین تارڑ اور وحید قریشی نے بھی اپنے سفرناموں میں طنزومزاح کی پھلجھڑیاں چھوڑی ہیں۔
اُردوسفرناموں کا ایک اور پہلو اُن کے ذریعہ عالمی امن اور انسان دوستی کا پیغام ہے، سفرنامے لکھنے والوں نے اِس پر بھی توجہ دی ہے، کشمیری لال ذاکر اپنے سفرنامہ ’’یہ صبح زندہ رہے گی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’گولی کی آواز ہمیشہ مرجاتی ہے، صرف ایک ہی آواز کو ابدیت حاصل ہوتی ہے اور وہ ہے امن کی آواز، اِس کا خالق وہی شخص ہوتا ہے جو الفاظ کو جوڑجوڑ کر دھیرے دھیرے اپنی بات کہتا ہے، چیختا ہے مگر دھاڑتا نہیں‘‘۔
سفرنامہ نگاروں میں ابن انشا کا نام سرِفہرست ہے، وہ مزاح نگار بھی ہیں، طنزومزاح کے مخصوص پیرایہ میں سفرناموں کے ذریعہ انسان دوستی، رواداری، خیرسگالی اور عدم تشدد کا سبق دیتے ہیں۔ ’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ میں اِس کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
’’کبھی سفر کا ایک لطف یہ بھی تھا کہ نور کے تڑکے کسی نئے شہر کے دروازے پر پہنچ اور وہاں کا بادشاہ لاولد مرا تو لوگ پکڑ کر سر پر تاج بھی رکھ دیا کرتے تھے… اب تو شہر کا دروازہ کھولنے سے پہلے ویزا دیکھتے ہیں، ہیلتھ سرٹیفکٹ پوچھتے ہیں، مسافر کا بُقچہ کھولتے ہیں کہ پیش کر غافل کوئی عمل اگر دفتر میں ہے‘‘۔
مذہب کے نام پر دنیا میں قتل و غارت گری کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، اُس پر مجتبیٰ حسین بطور طنز اپنے سفرنامے ’’جاپان چلو، جاپان چلو‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ہم نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے، بولے عیسائی ہوں، اُن کی بیوی کے مذہب کے بارے میں پوچھا تو اپنی بیوی کو باورچی خانے سے طلب کرکے پوچھا ’تمہارا مذہب کیا ہے‘، ہماری جستجو اور بے تکے سوالات کے باعث مسٹر ایما مورا کو پہلی بار پتہ چلا کہ اُن کی اہلیہ محترمہ کا مذہب کیا ہے، اگر ہم اُن کے گھر نہ جاتے تو اپنی گھریلو زندگی کے بارے میں اُن کی معلومات ناقص رہتی… وہاں ایک نوجوان لڑکی بیٹھی ہوئی تھی اُن کا مذہب پوچھا تو اپنی بائیں آنکھ کی پُتلی کو نیچے کیا اور دائیں آنکھ کی پُتلی کو اوپر لے جاکر سوچنا شروع کیا۔۔۔۔۔ بولی عجیب سوال ہے، میں نے ابھی اِس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جب مذہب کی ضرورت ہوگی تب سوچا جائے گا‘‘۔
مجتبیٰ حسین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کیسے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے بسنے والے مذہب کے سوال پر بیگانے رہ کر خیرسگالی کے ماحول مین زندگی گزار رہے ہیں، اُن کی ترقی و خوشحالی کا راز شاید اِسی میں پوشیدہ ہے۔
سفرناموں میں انسان دوستی و خیرسگالی کی ایک اور مثال رفعت سروش کے سفرنامہ پاکستان کی روداد میں نظر آتی ہے، وہ رقم طراز ہیں:
’’میرے کرم فرماؤں نے مجھے محبت و خلوص کے آبِ حیات میں نہلادیا، کوئی صبح ایسی نہ تھی جو احباب کی محبت کی خوشبو کے بغیر طلوع ہوئی ہو اور کوئی شام ایسی نہ تھی جب قدردانوں کے خلوص نے میرے گلے میں بانہیں نہ ڈالی ہوں‘‘۔(’یادوں کے چاند ستارے‘ رفعت سروش)
انسان دوستی، عالمی امن، بھائی چارہ اور اتحاد کے تعلق سے مذکورہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ محبت و رواداری کی ترجمان اُردو نے اپنے سفرناموں کے وسیلہ سے بھی انسان دوستی کا پیغام دیا ہے۔
٭٭٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے