कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:الہ دین کا ڈیجیٹل چراغ، اے آئی رپورٹر اور جدید صحافت

از :  سید رشید اللہ حسینی ، اطہر کلیم احمد، ناندیڑ (مہاراشٹرا)

          آج کل ہمارے صحافیوں کے چہروں پر جو تازہ دم رونق، چمک اور بے فکری چھائی ہے، اسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید ان کی تنخواہیں اچانک ڈبل ہو گئی ہیں یا میونسپلٹی نے سڑکوں کے سارے گڑھے راتوں رات بھر دیے گئے ہیں۔ لیکن اندر کی خبر یہ ہے کہ ہمارے صحافی بھائیوں کے ہاتھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی شکل میں الہ دین کا ایسا ’ڈیجیٹل چراغ‘ لگ گیا ہے، جس نے مقامی صحافت کو سنسنی خیز کم اور اسٹینڈ اپ کامیڈی زیادہ بنا دیا ہے۔ اب رپورٹر کو خبروں کی کھوج میں دھوپ میں مارے مارے پھرنے اور جوتوں کے تلوے گھسنے کی کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی، وہ بس پریس کلب میں بیٹھا چائے کی چسکیاں لیتا ہے، اے آئی کو ایک پرامپٹ (Prompt) دے مارتا ہے، اور خبر تیار! لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل چراغ کا جن، اردو زبان اور ہمارے مقامی حالات سے اتنا ہی ناواقف ہے جتنا ہمارے لیڈرانِ قوم سچائی سے، اور شہر کی سڑکیں تارکول سے۔ غیر ملکی یا انگریزی خبروں کا ترجمہ تو اب ایک الگ ہی لیول پر جا چکا ہے۔ پچھلے دنوں ایک رپورٹر نے انگریزی کی خبر دی کہ شیئر بازار میں ’’بُل مارکیٹ‘‘ (Bull Market) کا رجحان ہے۔ اے آئی نے اس کا ایسا شاندار اور بے باک لفظی ترجمہ کیا کہ اگلے دن اخبار کی آٹھ کالم کی سرخی تھی: ’’ممبئی کے بازار میں بیل گھس آیا، تاجروں میں بھگدڑ!‘‘ پڑھنے والے حیران کہ بیل نے شیئر مارکیٹ کا کیا بگاڑا ہے اور لوگ اسے پکڑنے کے بجائے سینسیکس کیوں چیک کر رہے ہیں؟ اسی طرح ایک نیوز ایجنسی کی انگریزی خبر آئی کہ شہر میں طوفانی بارش ہو رہی ہے، یعنی ’’It’s raining cats and dogs‘‘۔ اے آئی نے اس کا ایسا من و عن لفظی ترجمہ کیا کہ اگلے دن اخبار میں خبر چھپی: ’’شہر میں آسمان سے کتے اور بلیاں برسنے لگیں، محکمہ موسمیات کا شہریوں کو چھاتے کے بجائے لوہے کا ہیلمٹ پہن کر نکلنے کا مشورہ!‘‘ سیاسی خبروں کا تو حال ہی نہ پوچھئے۔ ایک مقامی کارپوریٹر نے محلے کی ایک نئی کھلی ہوئی نالی اور گٹر کا افتتاح کیا۔ صحافی نے تصویر کے ساتھ اے آئی کو کمانڈ دی کہ اسے ذرا ’اثر دار‘ بنا دو۔ خبر چھپی: ’’شہر کے جولیس سیزر نے آج ایک عظیم الشان تاریخی خندق کا افتتاح کیا، جس کے بعد ان کی سیاسی سلطنت میں غلاظت کا نیا اور شاندار باب رقم ہوا۔‘‘ کارپوریٹر صبح سے سر پکڑ کر بیٹھا ہے کہ اخبار والے نے میری تعریف کی ہے یا میری سیاسی قبر کھودی ہے؟ جرائم کی کوریج اب  مقامی کم اور ہالی ووڈ کی سنسنی خیز فلم زیادہ لگتی ہے۔ ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ بس اسٹینڈ پر ایک جیب کترا پکڑا گیا جس نے ایک مسافر کے سو روپے چرائے تھے۔ اے آئی نے اسے یوں پیش کیا: ’’شہر کے مالیاتی نظام پر سائبر حملہ ناکام! ایک بین الاقوامی ماسٹر مائنڈ نے شہری کی جیب میں دراندازی کر کے معیشت کو 100 روپے کا بھاری نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم عوام کے فوری رسپانس سسٹم (یعنی دھلائی) نے اس عالمی سازش کو ناکام بنا دیا۔‘‘ پولیس والے حیران ہیں کہ اس غریب جیب کترے پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ لگائیں یا سیدھا دیش دروہ کا مقدمہ ٹھوک دیں!
خبروں تک تو پھر بھی غنیمت تھا، اب تو اخبار کے کلاسیفائیڈ اشتہارات بھی اے آئی کے رحم و کرم پر ہیں۔ شہر کے ایک مشہور ہوٹل مالک نے اشتہار کے لیے آپریٹر کو پرچہ دیا: ’’ہمارے پاس لذیذ حلیم اور بریانی دستیاب ہے‘‘۔ اے آئی نے اسے ’پروفیشنل‘ بناتے ہوئے چھاپا: ’’آئیے اور ہمارے مسالوں کی شاندار سمفنی (Symphony) کا تجربہ کیجئے۔ ہماری حلیم کوئی معمولی غذا نہیں، بلکہ ایک ایسا شاہکار ہے جو آپ کے ذائقے کی کلیوں (Taste buds) کو مسحور کر کے آپ کو ابدی سکون فراہم کرے گا!‘‘ گاہک دکان پر آ کر پریشانی سے پوچھ رہے ہیں کہ بھائی صاحب، یہ ’ذائقے کی کلیاں‘ حلیم کے ساتھ پلیٹ میں ملیں گی یا الگ سے پارسل لینی پڑیں گی؟ ایک دندان ساز (Dentist) کا سیدھا سادا اشتہار تھا: ’’یہاں بغیر تکلیف دانت نکالے جاتے ہیں‘‘۔ اے آئی نے اسے اتنی ہمدردانہ اور ادبی اردو پہنائی کہ اشتہار کچھ یوں بنا: ’’کیا آپ اپنے دانتوں کے کربناک عذاب سے نجات چاہتے ہیں؟ آئیے، ہم آپ کے فرسودہ دانتوں کو انتہائی شفقت، محبت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے، تاکہ آپ کی مسکراہٹ دوبارہ جلوہ گر ہو!‘‘ مریض ڈر کر واپس نیم کی مسواک پر آ گئے ہیں کہ یہ محبت اور شفقت سے دانت اکھاڑنا کیسا ہوتا ہے بھئی؟ اور تو اور، ’ضرورت رشتہ‘ کے کالم میں ایک سیدھا سادا پیغام تھا: ’’لڑکے کے لیے گھریلو اور سلیقہ مند لڑکی درکار ہے۔‘‘ اے آئی نے اسے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا جاب انٹرویو بنا دیا: ’’ایک انتہائی متحرک اور باصلاحیت نوجوان کو ایک ایسی خاتون پارٹنر کی تلاش ہے جو نہ صرف کچن مینجمنٹ کی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی مالک ہو، بلکہ جس کا ویژن (Vision) اور مشن (Mission) ہمارے خاندانی اہداف (Family Goals) کے ساتھ سو فیصد ہم آہنگ (Sync) ہو!‘‘ لڑکی والوں نے یہ اشتہار پڑھ کر رشتہ بھیجنے کے بجائے اپنی بیٹی کا سی وی (CV) اور ایکسپیرینس لیٹر بھیج دیا ہے۔
اے آئی کو روزمرہ کے چھوٹے موٹے مسائل کو سائنسی اور فلسفیانہ رنگ دینے کا بھی بہت مرض ہے۔ خبر تھی کہ بارش سے فلاں وارڈ میں سڑک پر گڑھا پڑا اور ایک موٹر سائیکل سوار گر کر معمولی زخمی ہو گیا۔ اے آئی نے اسے اتنا المناک بنا دیا کہ سرخی لگی: ’’ایک اور نوجوان کششِ ثقل سے جنگ ہار گیا، شہری موٹر سائیکل سمیت میونسپلٹی کے کھودے گئے بلیک ہول میں غائب!‘‘ اسی طرح دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر اے آئی نے مضمون لکھ مارا: ’’شہر پر تاریک دور (Dark Ages) لوٹ آیا ہے، روشنی کے فرشتے ہم سے روٹھ گئے ہیں اور عوام غاروں کے زمانے میں واپس چلے گئے ہیں۔‘‘ لیکن اے آئی نے صحافت میں کیسا انقلاب برپا کیا ہے، اس کا اصل اندازہ اس حادثے سے لگائیے جو حال ہی میں ایک موقر اخبار کے ساتھ پیش آیا۔ رات کی شفٹ میں نیند کے جھونکوں اور کاپی پیسٹ کی جلد بازی میں رپورٹر بیچارا اے آئی کا ’معصومانہ‘ ڈسکلیمر ہٹانا بھول گیا۔ اگلے دن اخبار کے صفحہ اول پر خبر چھپی: ’’شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتظامیہ کی نااہلی پر عوام کا شدید احتجاج۔۔۔‘‘ (نوٹ: ایک مصنوعی ذہانت کا لینگویج ماڈل ہونے کے ناطے میں مہنگائی پر ذاتی رائے نہیں دے سکتا ہوں، البتہ آپ مجھ سے حیدرآبادی بریانی کی ترکیب ضرور پوچھ سکتے ہیں!) عوام اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ اس سنسنی خیز خبر پر حکومت کے خلاف ماتم کریں یا اخبار بند کر کے سیدھا کچن میں جا کر بریانی کا مسالاتیار کریں!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے