कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ
ابھی یہ آیت نگاہ کے سامنے آئی تو دل جیسے اپنے ہی اندر کہیں بیٹھ گیا۔ الفاظ پڑھتا رہا اور آنکھیں بھیگتی رہیں۔ معلوم نہیں قرآن کی اس ایک آیت میں کیسی کسک چھپی ہوئی تھی کہ دل نے اسے اپنے اوپر گزرتا ہوا محسوس کیا۔ *اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ* پڑھتے ہی خیال آیا کہ کہیں ہم بھی تو اسی سوداگری میں مبتلا نہیں؛ کہیں ہم نے بھی تو ہدایت کے چراغ کے مقابل خواہشات کی تاریکی کو پسند نہیں کرلیا؛ کہیں ہم نے دنیا کی چند ساعتوں کے عوض وہ زندگی تو نہیں گنوا دی جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوگا۔
کتنی عجیب حالت ہے کہ جس قرآن نے ہمیں زندگی کا راستہ دکھایا، وہ ہمارے طاقوں میں محفوظ ہے اور ہماری زندگیوں سے دور۔ جس نبیِ رحمت ﷺ نے اپنی امت کی خاطر راتوں کو قیام کیا، آنکھیں اٹھا اٹھا کر رب کے حضور دعائیں مانگیں، طائف کی وادی میں لہولہان ہوئے اور پھر بھی اپنی قوم کے لیے خیر ہی چاہی، ہم انہی کے نام پر محبت کے نعرے تو لگاتے ہیں، ان کی سنت کو اپنی زندگی کا آئینہ بنانے سے گریز کرتے ہیں۔ اللہ نے ہمارے لیے مغفرت کا دروازہ کھلا رکھا، ہم گناہوں کے دروازے پر کھڑے رہے۔ رب نے توبہ کی طرف بلایا، ہم نے اپنے ارادوں کو آنے والے دنوں کے حوالے کردیا۔ آج نہیں تو کل، اس وقت نہیں تو کچھ دیر بعد؛ اسی طرح زندگی گزرتی رہی، دن ڈھلتے رہے، عمریں کم ہوتی رہیں اور گناہوں کی فہرست بڑھتی گئی۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کہ جس *”کل”* کے سہارے ہم توبہ کو مؤخر کرتے رہے، وہ کل کسی کے لیے آیا ہی نہیں۔ پھر آیت کا آخری جملہ دل کو چیر گیا:
*فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ*
*”آگ پر یہ لوگ کیسے صبر کریں گے؟”*
یہ سوال پورے وجود کو ہلا دیتا ہے۔ دنیا کی آگ کی ایک لپٹ سے جسم کانپ اٹھتا ہے، ایک معمولی سا زخم راتوں کی نیند چھین لیتا ہے، ذرا سی تکلیف انسان کو بے قرار کر دیتی ہے؛ پھر اس آگ کا کیا حال ہوگا جس کے سامنے دنیا کی ہر آگ ہیچ ہے؟ جس آگ کا ذکر سن کر دل لرزنا چاہیے، اسی آگ سے بے خوف ہوکر ہم گناہوں کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ہمیں دنیا کے نقصان کا خوف ہے، آخرت کے نقصان کا احساس کیوں مدھم پڑ گیا؟ کاروبار میں معمولی کمی ہو تو فکر گھیر لیتی ہے، کسی دنیاوی معاملے میں ذرا سی پریشانی ہو تو نیند اڑ جاتی ہے، لوگوں کی نظر میں مقام کم ہونے کا اندیشہ دل کو بے چین رکھتا ہے؛ پھر رب کی نظر سے گر جانے کا خوف کہاں ہے؟ جس دن ساری پردہ پوشیاں ختم ہوجائیں گی، جس دن دل کے ارادے بھی سامنے ہوں گے، جس دن انسان اپنے ہی اعمال کو اپنے سامنے کھڑا دیکھے گا، اس دن ہم کس چیز کے سہارے ہوں گے؟
کبھی کبھی دل سوچتا ہے، ہم کتنے خوش نصیب تھے کہ ہمیں قرآن ملا، ایمان ملا، محمد ﷺ کی امت میں جگہ ملی، سجدے کا راستہ ملا، توبہ کی نعمت ملی، آنکھوں کو آنسو دیے گئے؛ پھر بھی ہماری غفلت کی انتہا دیکھیے کہ نعمتوں کے درمیان رہ کر محرومی خریدتے رہے۔ عجیب بات ہے کہ گناہ کرتے ہوئے دل نہیں کانپتا، نماز چھوٹتے ہوئے روح نہیں تڑپتی، کسی کا حق مارتے ہوئے پیشانی پر شکن نہیں آتی، کسی کی غیبت کرتے ہوئے زبان رکتی نہیں، نگاہیں حرام کی طرف اٹھتی ہیں اور ہم انہیں واپس لانے کی کوشش تک نہیں کرتے۔ دل پر زنگ چڑھتا رہتا ہے اور ہم اسے زندگی کی مصروفیت کا نام دے دیتے ہیں۔ آنکھیں خشک ہوتی رہتی ہیں اور ہمیں اس خشکی کی فکر نہیں ہوتی۔ قرآن کے الفاظ زبانوں پر رواں رہتے ہیں؛ دلوں تک اس کی وہ صدا کیوں نہیں پہنچتی جو انسان کو رات کے سناٹے میں اٹھا کر اپنے رب کے سامنے کھڑا کردے؟پھر کسی آیت کے سامنے اچانک آنکھ بھر آتی ہے اور انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے: میں آخر کہاں کھڑا ہوں؟اس کا جواب اپنے نفس سے لینا پڑتا ہے۔
ہم سب کو کبھی نہ کبھی اپنے اندر اترنا ہوگا۔ وہاں جہاں کوئی دوسرا نہیں ہوگا؛ نہ تعریف کرنے والا، نہ عذر قبول کرنے والا، نہ دنیا کی مصروفیات کا سہارا۔ وہاں صرف انسان ہوگا اور اس کا رب، صرف اعمال ہوں گے اور ان کا حساب۔
خداوندِ قدوس ہمارے دلوں کو اس دن سے پہلے جگا دے جس دن بیداری کسی کام نہ آئے۔ ہمیں اس وقت رونے کی توفیق دے جب آنسو ہمارے گناہوں کو دھو سکتے ہوں۔ ہماری آنکھوں کی یہ نمی قبول فرمائے، اسے ہماری توبہ کا آغاز بنا دے۔ ہمارے سینوں میں قرآن کی وہ روشنی اتار دے جو قدموں کو گناہوں کی تاریکی سے واپس لے آئے۔ ہماری لغزشوں پر پردہ ڈال، ہماری کوتاہیوں کو معاف کر، ہمارے دلوں کو زندہ کر، ہماری نسلوں کو ایمان کی دولت دے اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے