कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قدیم ہندوستان کے طبی مراکز ۔ آیوروید سے اسپتال تک

تحریر: ڈاکٹر مرزا اطیب بیگ
BAMS CCH CSD PGCEMS
پوسد ضلع ایوت محل

آج اگر کسی شخص کو بخار ہو، چوٹ لگ جائے یا کوئی پیچیدہ بیماری لاحق ہو تو ہمارے ذہن میں فوراً اسپتال، ڈاکٹر، لیبارٹری اور جدید مشینوں کا تصور آتا ہے۔ لیکن ایک وقت تھا جب نہ ایکسرے مشین تھی، نہ سی ٹی اسکین، نہ اینٹی بایوٹک اور نہ ہی جدید آپریشن تھیٹر۔ پھر بھی انسان بیمار ہوتا تھا، علاج تلاش کرتا تھا اور صحت یاب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔
قدیم ہندوستان میں صحت اور بیماری کے بارے میں ایک طویل طبی روایت موجود رہی، جسے آج ہم آیوروید کے نام سے جانتے ہیں۔ آیوروید میں صحت کو صرف بیماری کی عدم موجودگی نہیں سمجھا گیا بلکہ غذا، روزمرہ معمول، جسمانی توازن اور طرزِ زندگی کو بھی اہمیت دی گئی۔
قدیم ہندوستانی طبی روایت میں چرک اور سشروت جیسے نام خاص طور پر نمایاں ہیں۔ چرک کا تعلق طب اور بیماریوں کے اصولوں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ سشروت کو جراحی کے قدیم علم کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ سشروت سمہتا میں زخموں، ہڈیوں، جراحی کے طریقوں اور جسمانی ساخت سے متعلق تفصیلات ملتی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قدیم ہندوستان میں باقاعدہ اسپتال بھی موجود تھے؟
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ مختلف ادوار میں بیماروں کے لیے مخصوص طبی مراکز اور علاج گاہیں قائم کی گئیں۔ خصوصاً بدھ مت کے پھیلاؤ کے ساتھ خانقاہوں اور مَٹھوں سے وابستہ ایسی جگہوں کا ذکر ملتا ہے جہاں بیمار راہبوں کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ بعد کے ادوار میں حکمرانوں اور مذہبی اداروں کی سرپرستی سے بھی طبی خدمات کو فروغ ملا۔
قدیم ہندوستان میں صحت کا تصور صرف دوا تک محدود نہیں تھا۔ غذا، صفائی، آرام، روزمرہ معمول اور جسم کی دیکھ بھال کو بھی اہم سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں علاج کے لیے جڑی بوٹیوں، معدنی اجزا اور مختلف نباتاتی اشیا کا استعمال کیا جاتا تھا۔
یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آج جدید طب بھی بیماری سے بچاؤ میں کئی بنیادی عادات کو اہم قرار دیتی ہے—مثلاً صاف پانی، حفظانِ صحت، متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور مناسب نیند۔ البتہ ان اصولوں کی جدید سائنسی تشریح اور قدیم تصورات ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
قدیم طبی مراکز میں علاج کا طریقہ آج کے اسپتالوں سے بہت مختلف تھا۔ نہ ہمارے موجودہ معنی میں جراثیم کی مکمل سمجھ موجود تھی، نہ جدید اینستھیزیا، نہ خون کی منتقلی کے موجودہ محفوظ طریقے اور نہ ہی جدید تشخیصی آلات۔ اس لیے قدیم طب کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حدود کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
وقت کے ساتھ ہندوستانی طب پر مختلف تہذیبوں اور طبی روایات کے اثرات پڑے۔ اسلامی دور میں یونانی طب بھی ہندوستان پہنچی اور مختلف علاقوں میں طبی تعلیم و علاج کے مراکز قائم ہوئے۔ بعد میں یہی خطہ مختلف طبی روایات—آیوروید، یونانی اور پھر جدید مغربی طب—کے باہمی تعامل کا مرکز بنتا گیا۔
آج ہمارے پاس ایسے آلات موجود ہیں جن کا تصور چند سو سال پہلے بھی ناممکن محسوس ہوتا۔ خون کا ایک نمونہ بیماری کے بارے میں اہم معلومات دے سکتا ہے، ایکسرے جسم کے اندر کی تصویر دکھا سکتا ہے اور جدید جراحی کئی ایسی بیماریوں کا علاج ممکن بناتی ہے جو کبھی ناقابلِ علاج سمجھی جاتی تھیں۔
لیکن اس پوری ترقی کے باوجود ایک سبق آج بھی اہم ہے: صحت صرف بیماری کے وقت دوا لینے کا نام نہیں۔
اپنی غذا، صفائی، نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ معمول کا خیال رکھنا ہمیشہ سے صحت مند زندگی کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ قدیم ہندوستانی طبی روایت ہمیں ماضی کی ایک جھلک دکھاتی ہے، جبکہ جدید طب ہمیں سائنسی تشخیص اور مؤثر علاج کی طاقت فراہم کرتی ہے۔
تاریخ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ پرانا علاج ہمیشہ بہتر تھا؛ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان نے صحت کی حفاظت کے لیے مسلسل سیکھا، تجربہ کیا اور اپنے علم کو آگے بڑھایا۔
آج ہمارے پاس ماضی کا تجربہ بھی ہے اور جدید سائنس بھی۔ اس لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ مفید اور محفوظ طرزِ زندگی اپنایا جائے، لیکن بیماری کی صورت میں مستند تشخیص، سائنسی شواہد اور ماہر ڈاکٹر کے مشورے کو ترجیح دی جائے۔
کیونکہ علاج کا سفر ہزاروں سال پرانا ضرور ہے، مگر صحت کی حفاظت کی ذمہ داری آج بھی ہماری اپنی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے