कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خالد حسین قیصری : چراغِ علم بجھا نہیں، روشنی بانٹ گیا

تحریر:مجیدعارف نظام آبادی
majeedaarif@gmail.com

استاد محض ایک منصب نہیں، ایک مقدس ذمہ داری، ایک روشن روایت اور نسلوں کی تعمیر کا نام ہے۔ وہ اپنے وجود کی حرارت سے ذہنوں کو جِلا، دلوں کو روشنی اور کرداروں کو استحکام عطا کرتا ہے۔ ایک مخلص استاد کی زندگی بسا اوقات اس کی اپنی ذات سے کہیں آگے نکل کر سینکڑوں، ہزاروں زندگیوں میں روشنی بانٹتی رہتی ہے۔
یومِ اساتذہ کے موقع پر جب ہم اپنے محسن اساتذہ کو عقیدت و تشکر کے پھول پیش کرتے ہیں تو مرحوم، ہردلعزیز اور شفیق استاد خالدحسین قیصری کی یاد دل کے نہاں خانوں میں ایک خاص کسک کے ساتھ ابھرتی ہے۔ ان کا ذکر آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی روشن چراغ کے بجھ جانے کے باوجود اس کی روشنی اب بھی اطراف کو منور کیے ہوئے ہو۔
خالد حسین قیصری کو قوم و ملت کے نونہالوں کی غیر معمولی فکر تھی۔ ان کے نزدیک طلبہ محض کتابوں کے اوراق پڑھنے والے بچے نہیں تھے، بلکہ وہ مستقبل کے معمار، معاشرے کی امید اور ملت کا قیمتی سرمایہ تھے۔ ان کی نگاہ طالب علم کے آج سے زیادہ اس کے کل پر ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے شاگرد علم کی روشنی سے منور ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق کی خوشبو، کردار کی پختگی، احساسِ ذمہ داری اور دینی و انسانی اقدار سے بھی آراستہ ہوں۔
ان کی درس گاہ میں تعلیم محض الفاظ کا انتقال نہ تھی وہاں فکر کی آبیاری اور کردار کی تعمیر ہوتی تھی۔ وہ کتاب کے سبق کے ساتھ زندگی کا سبق بھی دیتے تھے، اور نصاب کے ساتھ انسانیت کا شعور بھی بیدار کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں شفقت، لہجے میں خیر خواہی، نصیحت میں اخلاص اور تربیت میں ایک دردمند دل کی دھڑکن محسوس ہوتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی صالح تربیت آج بھی ان کے شاگردوں کے کردار میں ایک زندہ مثال کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ بعض اساتذہ اپنے شاگردوں کو صرف امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں، مگر کچھ ایسے خوش نصیب معلم بھی ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کو زندگی کے امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں۔ خالد حسین قیصری اسی قبیل کے استاد تھے۔
وہ طلبہ کے تعلیمی مسائل سے لے کر ان کی اخلاقی و تربیتی ضرورتوں تک، ہر معاملے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کی فکر کا دائرہ صرف کلاس روم تک محدود نہ تھا وہ گھر، خاندان اور معاشرے میں ایک بہتر انسان کی تشکیل کو بھی اپنی خدمتِ تعلیم کا حصہ سمجھتے تھے۔ اولیائے طلبہ کے ساتھ ان کا تعلق بھی محض رسمی نہ تھا، بلکہ خیر خواہی، اعتماد اور باہمی تعاون پر قائم ایک محبت بھرا رشتہ تھا۔
آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، مگر مخلص استاد جسمانی رخصت کے بعد بھی رخصت نہیں ہوتا۔ اس کی آواز شاگردوں کی یادوں میں باقی رہتی ہے، اس کی نصیحت وقت کے گرد و غبار سے محفوظ رہتی ہے اور اس کی تربیت شاگردوں کے کردار میں زندہ رہتی ہے۔
خالد حسین قیصری بھی اسی معنوی زندگی کے امین ہیں۔ ان کے لگائے ہوئے پودے آج تناور درخت بن چکے ہیں ان کی محنت کے نقوش آج بھی کئی دلوں اور کئی کرداروں پر ثبت ہیں۔ ان کی کمی کا احساس صرف ان کے شاگردوں کو ہی نہیں، بلکہ اولیائے طلبہ اور ان تمام لوگوں کو ہمیشہ رہے گا جنہوں نے ان کے اخلاص، شرافت اور بے لوث خدمت کو قریب سے دیکھا۔
کچھ لوگ وقت کے ساتھ یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر کچھ شخصیات یادوں سے نکل کر روایت بن جاتی ہیں۔ خالد حسین قیصری بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر تعلیم اخلاص کے ساتھ دی جائے اور تربیت دردِ دل کے ساتھ کی جائے تو ایک استاد اپنی زندگی میں وہ کام کر سکتا ہے جس کے اثرات اس کی وفات کے بعد بھی مدتوں باقی رہتے ہیں۔
یومِ اساتذہ پر مرحوم حسین خالد قیصری کو یاد کرنا دراصل تعلیم، تربیت، اخلاص اور خدمت کے اس روشن تصور کو سلام پیش کرنا ہے جسے انہوں نے اپنی عملی زندگی سے زندہ رکھا۔
خالد حسین قیصری آپ کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔مگر آپ کی روشن یاد اور صالح تربیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔آپ نے چراغِ علم ہی نہیں جلایا،بلکہ کردار کے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹی۔
اللہ رب العزت آپ کی بے لوث تعلیمی و تربیتی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، آپ کی قبر کو نور سے منور فرمائے،آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے شاگردوں کو آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور آپ کی تربیت کی روشنی کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے