कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

استاد: علم سے کردار تک کا سفر

از قلم صحافی محمد احسان سر
ملکاپور، ضلع بلڈھانہ، مہاراشٹر.

بسم اللہ الرحمن الرحیم
قابلِ احترام اساتذۂ کرام، والدینِ محترم اور میرے عزیز طلبہ و طالبات و باشعور معززین !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج ہم یہاں یومِ اساتذہ (Teacher’s Day) کے موقع پر ایک ایسے عظیم رشتے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، جس کا تعلق صرف کتاب، قلم اور کلاس روم سے نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار اور مستقبل سے ہے.
استاد وہ ہستی ہے جو ایک بچے کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں دیتا، بلکہ اسے زندگی کا راستہ دکھاتا ہے. وہ صرف حروف کی پہچان نہیں کراتا بلکہ صحیح اور غلط، حق اور باطل، اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے. کہا جاتا ہے:
"ماں بچے کو جنم دیتی ہے، مگر استاد اسے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے.”
آج کے دور میں ہمارے پاس تعلیم کے بے شمار ذرائع موجود ہیں. موبائل ہے، انٹرنیٹ ہے، مصنوعی ذہانت ہے، کتابیں ہیں، جدید ٹیکنالوجی ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معلومات حاصل کرنا ہی تعلیم ہے؟
,نہیں!
معلومات انسان کو باخبر بناتی ہیں، مگر تربیت اسے باکردار بناتی ہے.
آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے پڑھ نہیں رہے، بلکہ یہ ہے کہ کہیں کہیں تعلیم کے شور میں تربیت کی آواز دبتی جا رہی ہے. ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ نمبر اچھے لاؤ، مقابلے میں آگے بڑھو، کامیاب انسان بنو؛ لیکن ہمیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ:
کامیابی وہ نہیں جو صرف انسان کو بلندی تک پہنچا دے، کامیابی وہ ہے جو بلندی پر پہنچ کر بھی انسان کو انسان رکھے. ایک طالب علم اگر بہت بڑا افسر بن جائے لیکن بڑوں کا احترام نہ کرے، غریب کے دکھ کو نہ سمجھے، سچ بولنے کا حوصلہ نہ رکھے اور اپنے فرائض سے غافل ہو تو اس کی ڈگری شاید بڑی ہو، مگر اس کی شخصیت ادھوری ہے.
اسی لیے استاد کا اصل کمال صرف یہ نہیں کہ اس کے شاگرد امتحان میں کامیاب ہوں؛ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے شاگرد زندگی کے امتحان میں بھی سرخرو ہوں.
محترم!
آج ہمیں استاد کے کردار کو بھی سمجھنا ہوگا. استاد معاشرے کا خاموش معمار ہے. وہ اینٹیں نہیں لگاتا، مگر کردار کی عمارت تعمیر کرتا ہے. وہ سڑکیں نہیں بناتا، مگر قوم کے مستقبل کی راہیں بناتا ہے. ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانتا ہے. جہاں دنیا کسی بچے کو ناکام سمجھتی ہے، وہاں ایک مخلص استاد کہتا ہے:
"تم کر سکتے ہو!”
اور کبھی کبھی استاد کا یہی ایک جملہ کسی بچے کی پوری زندگی بدل دیتا ہے.
گیکن یہاں ایک اہم ذمہ داری والدین کی بھی ہے.
والدین اور استاد ایک دوسرے کے مخالف نہیں، ایک ہی مقصد کے دو ساتھی ہیں.
گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے اور استاد اس درسگاہ کو سمت دینے والا رہنما. اگر گھر میں اخلاق ہوں، اسکول میں تربیت ہو اور معاشرے میں اچھا ماحول ہو تو ہماری نسلیں صرف ذہین نہیں بلکہ ذمہ دار، بااخلاق اور باکردار بن سکتی ہیں.
آج کے اس سوشل پروگرام کا مقصد صرف پھول دینا، تحائف پیش کرنا یا چند خوبصورت الفاظ کہنا نہیں ہونا چاہیے.
آئیے آج ہم ایک عہد کریں:
ہم استاد کا احترام کریں گے، مگر صرف ایک دن نہیں؛ ہر دن. ہم تعلیم حاصل کریں گے، مگر صرف ملازمت کے لیے نہیں؛ انسان بننے کے لیے.
ہم اپنے بچوں کو آگے بڑھائیں گے، مگر دوسروں کو پیچھے دھکیل کر نہیں؛ سب کو ساتھ لے کر. ہم جدید علوم سیکھیں گے، مگر اپنی تہذیب، زبان، اقدار اور اخلاق کو فراموش نہیں کریں گے، اور ہم ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کریں گے جو علم میں بلند، کردار میں مضبوط، اخلاق میں خوبصورت اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو.
آخر میں، میں تمام اساتذۂ کرام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں.
اے استاد محترم ! آپ کی محنت شاید آج نظر نہ آئے، مگر کل کسی شاگرد کی کامیابی میں آپ کی محنت ضرور نظر آئے گی.
آپ تخت پر نہیں بیٹھتے، مگر قوموں کی تقدیر لکھتے ہیں.
آپ کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں ہوتا، ایک نسل کا مستقبل ہوتا ہے.
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذۂ کرام کو صحت، عزت، ہمت اور کامیابی عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے اساتذہ کا حقیقی احترام کرنے اور ان کی دی ہوئی تعلیم و تربیت کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
آئیے آج صرف Teacher’s Day نہ منائیں، بلکہ استاد کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں.
بہت شکریہ!
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.

 آپ کا اپنا مخلص
صحافی محمد احسان سر، ملکاپور، ضلع بلڈھانہ، (مہاراشٹر)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے