कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صحافت مشن سے کاروبار تک کا تلخ سفر

ازقلم شیخ عمران ناندیڑ

صحافتی پیشہ بلاشبہ ایک عظیم الشان اور ذمہ دارانہ پیشہ ہے۔ صحافت دراصل عوام کی ترجمانی، مظلوم کی آواز، حق اور سچ کی نشاندہی اور معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحافت کو بھی کہیں نہ کہیں کاروبار بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
آج صحافت کے اصل مقصد پر کام کرنے کے بجائے بعض اوقات ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی، بلیک میلنگ، سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کے آگے پیچھے گھومنے اور مخبری جیسے کاموں میں الجھتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے، مگر اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے بجائے ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔
ایک وقت تھا جب ہمارے اخباری نمائندوں کا بے باک انداز اچھے سے اچھے بااثر شخص کو بھی جوابدہ ہونے پر مجبور کر دیتا تھا۔ صحافی کی قلم کی طاقت سے بڑے بڑے ذمہ داران بھی کانپتے تھے۔ مگر آج ہزاروں اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہونے کے باوجود عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
شہر میں جرائم، داداگیری، عوامی مسائل سے عدم توجہی، کھلے عام جوا، مٹکہ، ریت مافیا اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض معاملات میں انتظامیہ اور پولیس کی خاموشی کے ساتھ ساتھ صحافتی برادری کی خاموشی بھی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بعض صحافی ایک دوسرے کے خلاف اس طرح صف آرا نظر آ رہے ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ دشمن ہوں۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی، بدکلامی، الزام تراشی اور ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نامناسب الفاظ کے استعمال تک لے جانا صحافت کے وقار کے منافی ہے۔
کسی پر الزام ہو تو اس کا فیصلہ عدالت اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ صحافت کا کام کسی کو عدالت سے پہلے مجرم قرار دینا نہیں، بلکہ حقائق کو ذمہ داری اور ثبوت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوام صحافت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ہم خود ہی اپنے قلم اور الفاظ کا وقار ختم کر دیں گے تو صحافت کی ساکھ مزید متاثر ہوگی۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد کو یاد کریں۔ ہمارا قلم کسی فرد، جماعت یا مفاد کا غلام نہیں بلکہ حق، سچ اور عوام کی آواز ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنے معاشرے کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
ممکن ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری کو دوبارہ سمجھیں، اپنے کردار کو درست کریں اور صحافت کے اصل مقصد کی طرف واپس آئیں تو صحافت کا وہ کھویا ہوا مقام، احترام اور اعتماد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ صحافت صرف خبر لکھنے کا نام نہیں، صحافت ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے اور عوام کے اعتماد کا نام ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے