कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عاصم وقار کا AIMIM چھوڑنا کیا مسلم سیاست کو جذبات سے آگے سوچنے کا وقت آگیا ہے؟

تحریر:قاری محبوب الحسن مظفرنگری

سیاست میں کسی جماعت کا ایک کارکن، عہدیدار یا ترجمان جب پارٹی چھوڑتا ہے تو اسے عموماً ایک معمول کی سیاسی دل بدلی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، لیکن جب جانے والا شخص برسوں تک اسی جماعت کا قومی ترجمان، میڈیا کا نمایاں چہرہ اور قیادت کے مؤقف کا دفاع کرنے والا اہم شخص رہا ہو تو اس کے فیصلے کو محض ’’پارٹی چھوڑنے‘‘ کی خبر سمجھنا شاید سیاسی حقیقت کو بہت چھوٹا کر دینا ہوگا۔
سید عاصم وقار کا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) سے الگ ہوکر کانگریس میں شامل ہونا اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ 2 ستمبر 2026 کو کانگریس میں شمولیت کے بعد عاصم وقار نے اپنی سابق جماعت کی سیاسی حکمت عملی پر سخت سوالات اٹھائے اور کہا کہ AIMIM بظاہر بی جے پی کو ہٹانے کی بات کرتی ہے، لیکن زمینی سیاست میں وہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر ان لوگوں سے لڑتی ہے جو بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
ان کا یہ بیان محض ایک سابق رہنما کی ناراضی ہے یا اس کے پیچھے AIMIM کے اندر پیدا ہونے والا کوئی گہرا سیاسی اضطراب؟ یہ سوال اب سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔
ترجمان صرف ترجمان نہیں ہوتا:
کسی بھی سیاسی جماعت کا قومی ترجمان محض مائیک کے سامنے کھڑا ہونے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ پارٹی کی پالیسی، نظریے اور سیاسی فیصلوں کا عوامی چہرہ ہوتا ہے۔ وہ مخالفین کے سوالات کا جواب دیتا ہے، پارٹی پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرتا ہے اور عوام کے سامنے جماعت کے مؤقف کو قابلِ فہم انداز میں پیش کرتا ہے۔
اس لیے ایک اہم قومی ترجمان کا اچانک یہ کہنا کہ پارٹی کی زمینی سیاست اس کے اعلان کردہ مقصد سے مختلف ہے، یقیناً ایک سیاسی سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
البتہ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ عاصم وقار کے الزامات کو حتمی سچ قرار دینے کے بجائے انہیں ان کا سیاسی مؤقف سمجھا جائے۔ کسی جماعت کے بارے میں ’’بی ٹیم‘‘ یا ’’ووٹ کٹوا‘‘ ہونے کا فیصلہ صرف سیاسی الزامات سے نہیں بلکہ انتخابی اعداد و شمار، امیدواروں، حلقوں، اتحادوں اور انتخابی نتائج کے مسلسل تجزیے سے ہونا چاہیے۔
کیا مسئلہ صرف عاصم وقار کا ہے؟:
اصل سوال شاید عاصم وقار نہیں بلکہ AIMIM کی سیاسی سمت ہے۔
کیا پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کے لیے اتنی گنجائش موجود ہے کہ ایک اہم ترجمان قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے بھی جماعت کے اندر رہ کر اپنی بات رکھ سکے؟
کیا مرکزی قیادت اور ریاستی سطح کی تنظیم کے درمیان مطلوبہ رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہے؟
کیا سیاسی فیصلے وسیع تر اپوزیشن کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں یا ہر ریاست میں AIMIM کو ایک الگ سیاسی قوت کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش بنیادی ترجیح بن چکی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہیں کہ اترپردیش میں اگلے اسمبلی انتخابات کے لیے AIMIM نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں اسدالدین اویسی نے سماج وادی پارٹی پر بھی شدید حملے کیے ہیں، جبکہ دوسری طرف اتحاد کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ سیاسی مبصرین اسے ایک ’’دو رخی حکمت عملی‘‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
’’ووٹ کٹوا‘‘ سیاست کا پرانا سوال:
AIMIM پر سب سے بڑا سیاسی الزام یہی رہا ہے کہ اس کی انتخابی موجودگی بعض حلقوں میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم کر دیتی ہے، جس کا بالواسطہ فائدہ بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کو پہنچ سکتا ہے۔
یہ الزام نیا نہیں۔
بہار کے 2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی AIMIM کے کردار پر اسی حوالے سے شدید بحث ہوئی۔ ایک تجزیے کے مطابق پارٹی نے 25 نشستوں پر مقابلہ کیا، پانچ نشستیں جیتیں اور متعدد حلقوں میں اس کے ووٹوں نے اپوزیشن امیدواروں کے انتخابی امکانات کو متاثر کیا۔ تاہم اسی تجزیے نے یہ بھی واضح کیا کہ AIMIM کو صرف ’’ووٹ کٹر‘‘ کہنا اس کی مکمل سیاسی تصویر نہیں ہے؛ پارٹی مسلم نمائندگی اور حقوق کے سوال کو بھی سیاسی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔
لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ AIMIM کو انتخاب لڑنے کا حق ہے یا نہیں۔
یقیناً ہر سیاسی جماعت کو اپنے نظریے اور پروگرام کے ساتھ انتخابی میدان میں آنے کا جمہوری حق حاصل ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کسی مخصوص حلقے میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کن سیاسی نتیجہ کیا پیدا کرتا ہے؟
اگر کسی حلقے میں تین یا چار مخالف امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو اور ایک چھوٹی جماعت کے چند ہزار ووٹ نتیجہ بدل دیں، تو کیا اس جماعت کو اپنے فیصلے کے وسیع تر سیاسی اثرات پر غور نہیں کرنا چاہیے؟
یہ سوال صرف AIMIM سے نہیں، ہر چھوٹی اور بڑی سیاسی جماعت سے پوچھا جانا چاہیے۔
اویسی کی سیاست: آواز بھی، سوال بھی:
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسدالدین اویسی ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے مسائل پر سب سے زیادہ واضح، بے خوف اور کھل کر بولنے والی آوازوں میں سے ایک ہیں۔
وہ پارلیمنٹ اور عوامی جلسوں میں شہریت، آئینی حقوق، اقلیتوں کے سیاسی نمائندگی، مذہبی آزادی اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں جیسے موضوعات کو مسلسل اٹھاتے رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بھی وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے بیانات اور پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
یہ کردار اپنی جگہ اہم ہے۔
لیکن کسی سیاسی رہنما کی جرات مندانہ تقریر اور اس کی انتخابی حکمت عملی دو الگ چیزیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جو آواز مسلمانوں کے حقوق کے لیے بلند ہوتی ہے، کیا اس کی انتخابی حکمت عملی بھی مسلمانوں کے وسیع تر سیاسی مفاد کو مضبوط کر رہی ہے؟
یہ سوال اویسی صاحب سے دشمنی نہیں، بلکہ ان سے سیاسی توقع کا اظہار ہے۔
مذہبی شناخت یا ترقیاتی سیاست؟:
مسلمانوں کی سیاست کا مرکز صرف مذہبی شناخت نہیں ہونا چاہیے۔
مسلمان بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور ان کے مسائل بھی وہی ہیں جو کروڑوں دوسرے ہندوستانیوں کے ہیں:
تعلیم، روزگار، کاروبار، مہنگائی، صحت، سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی، چھوٹے کاروبار کا تحفظ، خواتین کی تعلیم، نوجوانوں کا مستقبل، آئینی حقوق اور قانون کی حکمرانی۔
اگر سیاسی جماعتیں صرف مذہبی جذبات کو انتخابی طاقت میں تبدیل کرتی رہیں لیکن تعلیم، روزگار، معاشی ترقی اور سیاسی اداروں میں حقیقی نمائندگی کا مضبوط پروگرام سامنے نہ لائیں تو سوال پیدا ہوگا کہ آخر سیاست کا آخری مقصد کیا ہے؟:
مسلمانوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ’’آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے‘‘۔
انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس ناانصافی کا سیاسی، قانونی، تعلیمی اور معاشی حل کیا ہے؟
جذباتی سیاست سے آگے بڑھنے کا وقت:
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں مذہبی شناخت سیاست کا ایک عنصر ضرور ہوسکتی ہے، لیکن اسے سیاست کا واحد محور بنا دینا خطرناک ہوسکتا ہے۔
مسلمانوں کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو انہیں صرف ایک ’’ووٹ بینک‘‘ نہ سمجھے، بلکہ ایک بااختیار شہری، ووٹر، تاجر، طالب علم، استاد، کسان، مزدور اور پیشہ ور کے طور پر دیکھے۔
ایسی سیاست جو مسلمانوں کو دوسرے طبقات سے کاٹنے کے بجائے انصاف، آئین، جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے وسیع تر پلیٹ فارم سے جوڑے۔
کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل صرف مسلمانوں کے ووٹ سے نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی مجموعی سمت سے بھی وابستہ ہے۔
عاصم وقار کے جانے سے AIMIM کو کیا پیغام ملتا ہے؟:
عاصم وقار کا کانگریس میں جانا AIMIM کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ کوئی غیر معروف کارکن نہیں تھے۔ وہ پارٹی کا قومی چہرہ رہے اور اترپردیش میں بھی پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ نمایاں شخصیت تھے۔ ان کی علیحدگی ایسے وقت ہوئی ہے جب AIMIM اترپردیش میں اپنا سیاسی دائرہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔
اس لیے اسے صرف ’’ایک شخص کے جانے‘‘ کے طور پر دیکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔
اگر یہ واقعہ پارٹی کے اندر موجود وسیع تر اختلافِ رائے کی علامت ہے تو AIMIM قیادت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
اور اگر یہ صرف ایک فرد کا سیاسی فیصلہ ہے تو بھی قیادت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی کو عوام کے سامنے مزید واضح کرے۔
اویسی صاحب کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہوگا:
اسدالدین اویسی کے سامنے شاید اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ AIMIM کو صرف ایک مضبوط مسلم شناخت رکھنے والی سیاسی جماعت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں یا اسے ایک ایسی قومی سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں، پسماندہ طبقات، محروم طبقات، نوجوانوں، خواتین اور دیگر مظلوم طبقات کے مسائل پر بھی وسیع سیاسی اتحاد قائم کرسکے۔
مسلمانوں کی سیاسی خودمختاری ضروری ہے، لیکن سیاسی تنہائی ضروری نہیں۔
اپنی آواز رکھنا ضروری ہے، مگر اپنی آواز کو دوسروں کی آواز سے جوڑنا بھی سیاست ہی کا حصہ ہے۔
اگر اویسی صاحب واقعی ہندوستانی مسلمانوں کو ایک باوقار، بااختیار اور مضبوط سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ سوال ضرور اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ ان کی موجودہ انتخابی حکمت عملی کہیں غیر شعوری طور پر اسی قوت کو تقسیم تو نہیں کر رہی جسے وہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟
مسلم سیاست کو ’’کس کے خلاف‘‘ سے ’’کس کے لیے‘‘ تک آنا ہوگا
یہ شاید آج کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
مسلم سیاست صرف اس بنیاد پر نہ ہو کہ کس کے خلاف ووٹ دینا ہے۔
بلکہ اس کا بنیادی سوال ہونا چاہیے:
کس کے لیے ووٹ دینا ہے؟
کس پروگرام کے لیے ووٹ دینا ہے؟
کون تعلیم دے گا؟
کون روزگار پیدا کرے گا؟
کون آئینی حقوق کی حفاظت کرے گا؟
کون نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت دے گا؟
کون مسلمانوں کو سیاسی فیصلہ سازی میں حقیقی حصہ دے گا؟
جب سیاست ’’خوف‘‘ اور ’’ردعمل‘‘ سے نکل کر ’’پروگرام‘‘ اور ’’کارکردگی‘‘ کی طرف آئے گی تو مسلمان محض ووٹ بینک نہیں رہیں گے بلکہ ایک باخبر اور بااختیار سیاسی قوت بنیں گے۔
عاصم وقار کا AIMIM چھوڑنا ایک سیاسی واقعہ ہے، لیکن اس سے اٹھنے والے سوالات اس واقعے سے کہیں بڑے ہیں۔
یہ سوال صرف اویسی سے نہیں، پوری مسلم سیاسی قیادت سے ہے۔
کیا ہماری سیاست آنے والی نسل کے لیے بہتر تعلیم پیدا کر رہی ہے؟
کیا وہ نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کا راستہ بنا رہی ہے؟
کیا وہ مسلمانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنا رہی ہے؟
کیا وہ ہندوستان کے دوسرے طبقات کے ساتھ اعتماد اور اتحاد پیدا کر رہی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا ہماری سیاست مسلمانوں کو تقسیم کرکے طاقت حاصل کرنا چاہتی ہے یا مسلمانوں کو تعلیم، معیشت، اتحاد، آئینی شعور اور جمہوری شرکت کے ذریعے حقیقی طاقت دینا چاہتی ہے؟
اسدالدین اویسی کی بے باکی اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے ان کی آواز اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، لیکن بڑے سیاسی رہنماؤں کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں ہوتی کہ وہ کتنی بلند آواز میں بولتے ہیں؛ اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ ان کی سیاست ان کے لوگوں کو پانچ، دس اور بیس سال بعد کہاں کھڑا کرتی ہے۔
عاصم وقار کے جانے کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
شاید یہ AIMIM کے لیے محض ایک نقصان نہ ہو، بلکہ اپنی سیاسی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنے کا ایک موقع بھی ہو۔
اور شاید ہندوستانی مسلم سیاست کے لیے بھی یہ وقت ہے کہ وہ جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر تعلیم، روزگار، معیشت، آئین، اتحاد اور باوقار سیاسی نمائندگی کو اپنا اصل ایجنڈا بنائے۔
کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں،
تعلیم، تنظیم، معیشت اور دوراندیش سیاسی فیصلوں سے مضبوط ہوتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے