कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محبت و حسنِ سلوک ہی انسان کی کامیابی کا ضامن

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

آج دنیا میں محبتیں کم اور نفرتوں کا غبار اور نفرتوں کا بازار دید کو ملتا ہے۔ محبت اور نفرت یہ دونوں ایک متضاد اور ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ ایک دوسرے سے محبت اور عاجزی میں سکون میسر ہے، جبکہ نفرت میں بے چینی اور نقصان ہے۔ دنیا میں اللہ کے بندوں کے مابین محبت اور نفرت کا یہ سلسلہ ایک زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔ اس positive اور Negative یعنی مثبت سوچ اور منفی سوچ۔ منفی سوچ ہمیشہ انسان کو کسی کی برائی اور نقص پر ابھارتی ہے۔ انانیت فخر اور تکبر کو جنم دیتی ہے۔ جبکہ محبت اور خلوص سے آپ لوگوں کا دل جیت سکتے ہیں۔ کرۂ ارض پر سلطنت اور حکومت لیے ہتھیار، ایٹم کی ضرورت نہیں، محبت الفت اور انسانیت کی ضرورت ہے۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے، تم زمین والوں پر محبت، شفقت اور رحم کا معاملہ کرو، اللہ تم رحم و کرم کا معاملہ فرمائے گا۔ اور یہی حق اور سچ ہے۔ یعنی ہمیشہ نیکی بدی پر غالب آتی، خیر شر پر غالب آتا ہے، سچ جھوٹ پر غالب آتا ہے، انصاف ظلم پر حاوی ہوتا ہے، اور اچھائی برائی پر غالب ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے، پیار اور محبت بھرے الفاظ کسی کے حق میں کہنا صدقہ کے مترادف ہے۔ پیغمبر اسلام نے اخلاقی اقدار محبت، الفت، ہمدردی کو بڑی اہمیت اور فوقیت عطا کی ہے۔ چناں چہ اللہ نے پیغمبر اسلام ﷺکو رحمت اللعالمین کے ساتھ ایک اچھا معلم بھی بناکر اس دنیا میں مبعوث کیا ہے۔ جس نے ساری دنیا کے لوگوں سے بھلائی اور ہمدردی سے پیش آنے کا درس دیا ہے۔ اور ساری دنیا میں انسانیت، بھائی چارگی، اور اخوت کی روشنی کو بکھیر دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ نفرت کرنے والے، ظلم و ستم کرنے والے، اور شہرت، سیاست، اور پیسہ کی طاقت پر اکڑنے والوں کو اللہ نے اس سرزمین سے بے نام کیا ہے۔ سیاست کی بھوک انسان کو وہ سب کراتی جو مذہب اسلام میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمیں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ، سیاست شہرت زر و زمین کی ہوس عہدہ نے فرعون ہامان و شداد کو نفرت اور عناد اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا بنادیا۔ اللہ نے انہیں نیست و نابود کرکے عبرت کا ذریعہ بنایا۔ جو اہل دنیا کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ آج سیاسی غبار غبار جس میں جھوٹے وعدے اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جاتا ہے۔ جس میں انسان مذہبی شناخت اور اس کے اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ اڑاتا ہے خصوصاً یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے حدیث میں ہے، جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، اس کا حشر ان ہی میں ہوگا۔ اچھی بات کرنا اور کسی سے حسن اخلاق سے پیش آنا صدقہ ہے۔ جو محبت و الفت کا شعار ہے۔ قرآن میں ہے، کسی کو برے القاب سے مت پکارو۔ کسی کو برا کہنا اور برے القاب سے پکارنا نفرت کی علامت ہے۔ محبت اور حسن اخلاق سے آپ ساری دنیا فتح کرسکتے ہیں۔ لیکن نفرت اور ظلم سے نہیں۔ اگر کر بھی دیا جائے تو اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔ ظالموں کا شیرازہ بکھرنے اور تباہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ چناں چہ ایک شعر جو اس کی عکاسی کرتا ہے۔ مت کرو ظلم کے محل تعمیر زلزلے بے سبب نہیں آتے وہیں جہاں محبت ہو وہاں راستے خود بن جاتے ہیں اور جہاں نفرت کا بازار ہو وہاں راستے بھی مسدود ہوجاتے ہیں۔ یعنی حق اور باطل میں ہمیشہ ہی سے تضاد رہا ہے۔ لیکن خدا کا یہ فرمان کہ حق ظاہر ہوا، اور باطل ختم ہوا۔ ہمیشہ حق کی جیت ہوتی ہے، اور جھوٹ فنا ہوتا ہے۔ دنیا کے وجود اور بقاء کے لیے محبت و انکساری ضروری ہے۔ اور سب سے پہلے اسلام نے (Violence) تشدد کی مخالفت کی ہے اور عدم تشدد (Non-violence) کی تعلیم اور حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ اور فرمایا لا تفسدوا فی الارض یعنی زمین میں فساد اور تشدد نہ کریں۔ آپ عاجزی اور انکساری سے (Peak of mountain) پہاڑ کی بلندی پر چڑھ سکتے ہیں۔ وہیں آپ اکڑ کر پہاڑ پر دو قدم میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آپ (violence) تشدد کے ذریعہ درخت کو اکھاڑ سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کے ذریعہ درخت کو دوبارہ اگا نہیں سکتے۔ آج اگر ہم محبت، الفت، اور حسن سلوک کی بات کریں تو آج یہ بہت کم دید کو ملتا ہے۔ جس مذہب نے ہمیں یہ تعلیم دی اور یہ کہ پیغمبر اسلام ساری دنیا کے لیے رحمت اور محبت کا پیکر ہیں۔ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مومن بھائی اپنے دوسرے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلام کرتا ہے۔ تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ آج نفرتیں اپنی عروج پر ہیں۔ عداوتیں جگہ جگہ دید کو ملتی ہے۔ انسان انسانیت کا دشمن بنا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ باریش اور کچھ اہل علم میں بھی یہ قباحت پائی جاتی ہے۔ آدمی دیکھ کر سلام کیا جاتا ہے۔ شخصیت کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ یوں کہیے کہ شخصیت پرستی کی جاتی ہے۔ اور یاد رکھو شخصیت پرستی بھی ایک بڑا جرم ہے۔ ایک زمانہ تھا لوگ محبتوں میں جیتے تھے، اور آج کا زمانہ ہے کہ اچھے اچھے ذی اثر لوگ نفرتوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ آج سگا بھائی اپنے بھائی کو بات کرنے تیار نہیں ہے۔ ماضی میں بڑے بھائی کے مشورہ کے بغیر کوئی امور طے نہیں پاتے تھے۔ اور آج اس کے برعکس معاملہ دیکھنے ملتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ محبتوں کا فقدان ہے، اور نفرتوں کا بازار۔ حدیث میں ہے ہر اس شخص کو سلام کیا کرو، جس کو آپ جانتے ہو، اور اس کو بھی سلام کرو جس کو آپ نہیں جانتے۔ یہ اسلام کی اور پیغمبر اسلام ﷺکی تعلیم ہے، جس سے محبتوں کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن آج ہم سلام کا انتظار کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں پہلے سلام کرے۔ جو ایک المیہ ہے۔ اسلام میں رواداری، مساوات، اور اخلاقی اقدار کو بڑی اہمیت ہے، چناں چہ پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا’’ جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا، اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ محبتیں عام ہو تو پھر سرحدوں پر پہرہ، جنگ و جدال، اور آگ زنی نہ ہوتی، اور نہ ہی بارود اور ایٹم بم یہی اسلام انسانیت سے الفت اور محبت کا درس دیتا ہے۔ چناں چہ اللہ کا فرمان ہے۔ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس آیت سے ہم پر یہ آشکارہ ہوتا ہے کہ انسانیت کو فروغ دیں اور نفرتوں کی دیواروں کو منہدم کریں۔ افسوس کہ انسان نے ہی انسانیت کے ہلاکت کی ایجادات کی ہے۔ آج دنیا میں جو بے اطمینانی، بے چینی اور نفسا نفسی کا جو عالم ہے، اس کی وجوہات یہ ہے کہ انسان خود غرض، مطلبی اور مفاد پرست ہوگیا ہے۔ انسان دھندلی آنکھ سے اوروں کو دیکھتا ہے۔ سب اسے ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسا وہ ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنی آنکھ کا غبار دور کریں تو وہ سب سے محبت و الفت کا معاملہ کرے گا۔ اور اس کا حل وہ تعلیم ہے جو اخلاقی اقدار اور حسن سلوک کی ترویج میں معاون ہو۔ تحمل اور برداشت کی طاقت ہو، سچ کو عام کرنے کی ہمت ہو۔ تب ہی ہم ہمارے ارد گرد غبار کو دور کرسکتے ہیں۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے